قائد کا پاکستان، عاطف میاں کا پاکستان ہے


ایدھی صاحب نے کہا تھا ۔ مقدس کتاب روح میں کھلنی چاہئے ، گود میں نہیں۔ کاش ہم نے اپنی مقدس کتاب اپنی روح میں کھولی ہوتی تو آج قائد کے پاکستان میں عاطف میاں کے لئے جگہ کم نہ پڑتی۔ آپ نے مقدس کتاب اپنی گود میں کھولی ہے یا روح میں؟ اگر آپ اپنی مقدس کتاب صرف گود میں کھول کر اس کے الفاظ کا رٹا لگاتے ہیں یا بنا سمجھے پڑھتے ہیں تو یقینا آپ کی نظر میں عاطف میاں ایک معیشت دان کے بجائے ایک عام انسان ہے جس کا ایک خاص مسلک ہے اور اس مسلک سے نفرت کی بنا پر آپ کو اس سے بھی نفرت ہے۔ لہذا وہ اس ملک کی معیشت کو درست کر نے قابل نہیں۔ لیکن اگر قرآن آپ کی روح میں کھلتا ہے۔ تو دنیا کے کسی بھی مسلک سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی ذہین معیشت دان آپ کی معیشت ٹھیک کرنے کے قابل ہو گا اور آپ کو اس کے انتخاب پر کوئی اعتراض نہ ہو گا۔

یقین مانئے ایک عاطف میاں نے ہم سب کو شکست دے دی۔ چاروں خانے چت کر دیا آپ سب کو۔ ایک شخص کے خلاف ماشاللہ ، کمر کس لی سب نے ۔کیا ہمارا ایمان اور عقائد اتنے نازک ہیں یا وہ اتنا بڑا انسان ہے؟ ایک آدمی نے ایک قوم کو شکست دے دی؟ ایک انتہائی ذہین وفطین شخص کو ملک کی معیشت درست کرنے کے لئے منتخب کیا کیا گیا کہ سب کے سروں کے سینگ باہر آگئے۔ اب ہر کوئی یہ سینگ اٹھائے مذہب کی چھڑی ہاتھ میں پکڑے ان لوگوں کو مرنے مارنے پر تلا ہے جو عقل کی بنیاد پر اس انتخاب کی داد دے رہے ہیں۔ گذشتہ چالیس برس سے جو قوم لمبی تان کر سوئی ہوئی تھی۔ خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی ۔ عاطف میاں نے اس قوم کو جھنجھوڑ کر جگا دیا۔

سب سے پہلے وزیراعظم صاحب کے انتخاب کی داد دینا بنتا ہے۔ ان کے بارے میں مخالفین کے تعصب سے لبریز اندازے پارہ پارہ ہوتے نظر آرہے ہیں ۔ وہ ایک کے بعد ایک ایسا فیصلہ کر رہے ہیں جس نے ان مخالفین کے منہ بند کر دئے ہیں جو انھیں شدت پسند سوچ کا کا طعنہ دیتے تھے۔ وزیراعظم نے بنا رنگ و نسل تفریق اس شخص کو اکنامک ایڈ وائزری کونسل کے لئے منتخب کیا جس کی ذہانت اور قابلیت کی دنیا داد دیتی ہے۔ جس شخص سے دنیا کی بڑی معیشتیں مشورے مانگتی ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے ملک کی معیشت کی درستی کے لئے اسی شخص کا انتخاب کیا۔ا گر پی پی نے کسی ایسے شخص کا انتخاب کیا ہوتا تو روشن خیال لوگوں کی جانب سے تعریف کے ڈونگرے برسائے جاتے، لیکن عمران خان صاحب کے معاملے میں روشن خیالوں کو ایک خاص پرخاش ہے۔ سیلوٹ ہے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری کو جنھوں اتنے نازک مسئلے پر دو ٹوک موقف اپنایا۔ ببانگ دہل کہا کہ کہ عاطف میاں دنیا کے مانے ہوئے معیشت دان ہیں لہذا ہمیں معیشت درست کرنے کے لئے ان سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ انھوں نے کیا زبردست بات کہی کہ :

قائداعظم نے سر ظفراللہ کو وزیرخارجہ بنایا تھا ہم محمد علی جناح کے اصولوں کی پیروی کریں گے، شدت پسندوں کے اصولوں کی نہیں۔ کیا پاکستان سے اقلیتوں کو اٹھا کر باہر پھینک دیں۔ دنیا عاطف میاں کو نوبل پرائز دینے والی ہے۔ ہم نے معاشی مشیر لگایا ہے اسلامی نظریاتی کونسل کا ممبر نہیں بنایا۔ پاکستان اقلیتو ں کا بھی اتنا ہی ہے جتنا اکثریتوں کا۔ اعتراض کرنے والے انتہا پسند ہیں۔ انتہا پسندوں کے آگے نہیں جھکیں گے۔ پاکستان میں اقلیتوں کا تحفظ صرف حکومت کا نہیں ہر مسلمان کا مذہبی فریضہ ہے۔

 اس سے پہلے کسی وزیر یا مشیر کی جانب سے اتنے حساس موضوع پر کبھی بھی کھل کر ایسا بیان نہیں آیا۔ ہمارے جیسی جذباتی قوم کے سامنے یہ موقف اپنانا بڑے دل جگرے کا کام ہے۔ فواد چودھری یقینا ایک بہادر انسان ہیں۔ جب سب چپ ہوں اور ایک شخص بولے تو وہ دلیر ہی کہلاتا ہے۔ اس بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت اس ملک کی صرف معیشت ہی نہیں بلکہ بیانیہ بھی در ست کرنے میں کس قدر سنجیدہ ہے ۔معیشت کی بحالی کے ساتھ شدت پسند بیانیے کو شکست دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔فوج اور حکومت بہت عرصے کے بعد ایک ہی پیج پر نظر آرہے ہیں۔ یہی بہترین وقت ہے کہ دونوں مل کر اس قوم کو شدت پسند بیانیے سے باہر نکالیں۔

رسول پاک نے فرمایا تھا ۔۔۔ علم حاصل کرو چاہے چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔

اب ظاہر ہے اگر آپ چین علم حاصل کرنے جائیں گے تو آپ کو کسی دوسرے مسلک یا مذہب کے اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنا ہو گی۔ اگر آپ کسی دوسرے فرقے سے تعلق رکھنے والے کو اپنا استاد بنا سکتے ہیں تو اس سے اپنی معیشت درست کیوں نہیں کر وا سکتے۔؟

ایک طرف اس قوم کوقائداعظم سے بے پناہ محبت ہے ۔ قائداعظم کے جائے پیدائش پر ہر روز ٹھٹ کے ٹھٹ جمع ہوتے ہیں ۔ نوجوان سیلفیاں اتار کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتے ہیں۔ بڑی عقیدت سے وہاں فاتحہ پڑھنے جاتے ہیں ۔ قائداعظم کو کوئی برا بھلا کہہ دے تو مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں لیکن جناح کے ان احکامات پر غور کرنے کو ہرگز تیار نہیں جن کی رو سے عاطف میاں کو ایک معیشت دان کے طور پر اکنامک ایڈ وائزری کونسل کا حصہ بنانے پر کوئی پہاڑ نہیں ٹوٹ پڑتا۔ ایسے وقت میں ہمارے نوجوانوں کو اور علما کوقائداعظم اچھے نہیں لگتے ہیں۔ جو لوگ عاطف میاں کی مخالفت کر رہے ہیں ان سے عرض یہ کرنا ہے کہ کیا آپ محمد علی جناح سے زیادہ ذہین یا ان سے زیادہ فرشتہ صفت اور مہان ہیں ؟ اگر نہیں تو ان کے اقوال کی رو سے تو اس انتخاب میں کوئی خرابی نہیں۔ آپکی یہ غلط فہمی بھی دور کیے دیتے ہیں کہ آپکو قائداعظم سے شدید محبت و عقیدت ہے۔ ایسا ہر گز نہیں ۔ نوجوانوں کی یہ محبت صرف مزار قائد پر سیلفیوں تک محدود ہے۔ یا پھر ان کے جائے پیدائش پر چھٹی منانے سے۔

قائداعظم نے فرمایا تھا: آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لئے، آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لئے۔ آپ آزاد ہیں اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لئے۔ اس مملکت پاکستان میں آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا عقیدے سے ہو مملکت کا اس سے کوئی سروکار نہیں۔ انصاف اور غیر متعصابانہ رویے سے ہم اس قوم کو عظیم قوم بنائیں گے۔

نبی پاک کی عظیم ترین شخصیت تو ہے ہی سب کی آئیڈیل۔ یہ دونوں شخصیات یعنی ایدھی اور جناح بھی بیشتر پاکستانیوں کے لئے آئیڈیل کا درجہ رکھتے ہیں لیکن میری آپ سے گزارش ہے کہ یا تو ان دونوں کے افکار کی عزت کیجئے یا منافقت چھوڑ دیجئے ۔ براہ مہربانی یہ نہ کریں دونوں کا جو قول پسند آئے اس پر ان کی پوجا شروع کر دیں اور جو بات آپ کی روایت پرستی، مذہبی تعصب، کم نظری، سے ٹکرائے اس کو رد کر کے برا بھلا کہنا شروع کر دیں۔ ایک بار فیصلہ کر لیں کہ ایدھی صاحب اور قائداعظم آپ کے آئیڈیل ہیں یا نہیں ۔ ہم کو ایک مفرور اشتہاری بطور وزیر خزانہ قبول تھا لیکن ایک شخص جس کو معیشت کے شعبے میں کمال حاصل ہے وہ ہمیں قبول نہیں۔ جو لوگ عاطف میاں کو اکسا رہے ہیں کہ وہ اس سب کے بعد یہ عہدہ قبول نہ کرے ان سے گزارش ہے کہ آپ اپنی ذات کے گنبد میں قید اس قدر خود غرض ہو گئے ہیں کہ کسی بھی صورت اس ملک کی معیشت کو پھلتے پھولتے نہیں دیکھ سکتے۔ آپ عاطف میاں کو یہ مشورہ اس لئے دے رہے ہیں کیونکہ آپ کو ڈر ہے کہ کہیں وہ سچ مچ اس ملک کی معیشت کو ٹھیک نہ کر دے۔

عاطف میاں کو دنیا کے بیس بہترین معیشت دانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی کتاب House of Debt کو معیشت کی بائبل کا درجہ ملنے والا ہے۔ انھوں نے پی ایچ ڈی اکنامکس اور S.B Mathematics with computer science کر رکھا ہے۔ وہ پرنسٹن یونیورسٹی میں پروفیسر آف اکنامکس ، پبلک پالیسی آف فنانس ، پبلک افیئرز، پڑھاتے ہیں۔ وہ سنٹر فار پبلک پالیسی اینڈ فنانس کے ڈائرکٹر ہیں۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ، برکلے میں پروفیسر آف اکنامکس اینڈ فنانس رہے۔ رئیل اسٹیٹ اینڈ اربن اکنامکس کی چیئر کو ہیڈ کیا۔ یونیورسٹی آف شکاگو میں پڑھایا۔ وہ امپیریکل ماکرو فنانس، میکرو اینڈ فنانشل پالیسی، رئیل اسٹیٹ فنانس ، انٹرنیشنل فنانس، ایمرجنگ مارکیٹ فنانس، اینڈ کارپوریٹ فنانس پڑھاتے ہیں۔ ان کے لکھے ہوئے پیپرز کی تعداد لکھنے بیٹھ جائیں تو یہاں پر جگہ کم پڑ جائے۔ وہ تمام خواتین و حضرات جو عاطف میاں کا ایک تعصب کی بنا پر مقاطعہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اپنے بودے دلائل سے ان کی تعلیمی اسناد کی نفی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ ذرا اپنی تعلیمی اسناد اور قابلیت کا موازنہ عاطف میاں کی تعلیمی اسناد اور قابلیت سے کر لیں۔ شائد آپ کو محسوس ہو کہ علم، عقل ، توازن، دلیل، قابلیت، ذہنی استعداد، اعلی ظرفی میں عاطف میاں نے آپ کو پچھاڑ دیا ہے۔ اگر آپ کو لگے کہ عاطف میاںنے آپ کو مات دے دی ہے۔ تو تعلیم اور عقل کے میدان میں آپ بھی ان کو شکست دینے کی کوشش کریں۔ اور قائداعظم سے مصنوعی محبت کا اظہار کرنا بند کر دیں۔ ہمارے نبی پاک نے علم جہاں سے بھی ملے حاصل کر لو، کا مشورہ دیا ہے۔ جبکہ ہم اس کے بر خلاف خرافات میں پڑ گئے ہیں۔ شاید اسی بنا پر علامہ اقبال نے کہا تھا ۔۔۔حقیقت خرافات میں کھو گئی ۔ یہ امت روایات میں کھو گئی۔

Facebook Comments HS

عالیہ شاہ

On Twitter Aliya Shah Can be Contacted at @AaliyaShah1

alia-shah has 45 posts and counting.See all posts by alia-shah