تمھارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا

خط بنام صدر مملکت منجانب جسٹس قاضی فائز عیسی، یا اس سے پہلے خط (ریفرنس) بنام جسٹس قاضی فائز عیسی منجانب صدر مملکت۔ یہ معاملہ کھڑکی توڑ ہفتے کے بعد اب ایک تحریک کی صورت اختیار کرنے جا رہا ہے۔ خط کا مخاطب کوئی اور ہے اور پیغام کسی اور کے نام ہے۔ اشارہ کہیں اور ہے اور مفہوم کسی اور کو سمجھایا جا رہا ہے۔ دونوں ہی ایک دوسرے سے باز پرس کر سکتے ہیں کہ ”تمھارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا، نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا؟“

احتساب ہو اور سب کا ہو۔ اوپر سے نیچے تک ہو۔ صرف غریب کا کیوں امیر کا بھی ہو۔ صرف سیاستدانوں کا کیوں جرنیل کا بھی ہو۔ یہ سنتے سنتے کان پک گئے تھے کہ آرمی چیف نے جنرل اور بریگیڈئیر کی سخت سزاؤں پر دستخط کر کے یہ اشارہ دیا کہ اب احتساب ہو گا تو سب کا ہو گا۔ گو کہ اس فیصلے کی ٹائمنگ خاصی معنی خیز ہے۔ ابھی تو ہم چئیرمین نیب کے سر سے پاوں تک احتساب سے ہی نہ نکل پائے تھے۔ کہ جسٹس عیسی کے خلاف ریفرنس بھی دائر ہو گیا۔

Read more

سیاست کے بازار میں بے ہودہ گوئی کا گرم حمام

کسی بھی معاشرے میں اشرافیہ سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ان کی سوچ بھلے جیسی ہو لیکن زبان و بیان عامیانہ نہ ہوں گے۔ لیکن اکیسویں صدی میں جہاں اظہار کی آزادی نے سر اٹھایا وہیں اس آزادی کی آڑ میں نہ صرف عوام بلکہ مفکر اور فلسفی سے لے کر ایوان بالا…

Read more

ففتھ جنریشن وار فئیر اور میڈیا کی آزادی

عالمی منظر نامے میں پاکستان اس مقام پر کھڑا ہے جہاں دہشت گردی کی طویل اور کٹھن جنگ سے نبرد آزما رہنے ستر ہزار سے زائد پاکستانیوں کی جانوں کی قربانی دینے اور کامیابی سے دشمن کو اپنے ملک سے مار بھگانے کے بعد اب گوادر اور سی پیک کے ذریعے اس خطے کو پوری دنیا کا مرکز و محور بنا چکا ہے۔ عالمی طاقتیں جہاں گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرنے اور پاکستان کی معاشی راہداری میں اپنی شمولیت کی متمنی ہیں وہیں پاکستان کے دشمن گھات لگائے بیٹھے ہیں کہ خطے کی اس اہم طا قت کو کیسے ایک مرتبہ پھر پیچھے دھکیل کر اپنے لئے جگہ بنائی جا سکے۔

یہی وجہ ہے کہ بھارت نے ایک بار پھر ڈرامہ رچا کر پلوامہ حملے کا قضیہ پاکستان کے سر تھوپنے کی کوشش کی۔ سعودی ولی عہد کا دورہ رکوانے کی بھر پور کوششیں کی گئیں۔ حتی کہ بھارت نے امریکہ سے اجازت مانگی کہ پاکستان پر حملے کی صورت میں امریکہ ان کا ساتھ دے۔ کوشش یہ تھی کہ محدود حملہ کیا جائے تاکہ مودی الیکشن میں کامیابی حاصل کر لے اور قوم کے سامنے رسوائی بھی نہ ہو اور اپنے جاسوس کلبھوشن کے لئے عالمی عدالت میں راہ ہموار کی جائے۔

Read more

قائد کا پاکستان، عاطف میاں کا پاکستان ہے

ایدھی صاحب نے کہا تھا ۔ مقدس کتاب روح میں کھلنی چاہئے ، گود میں نہیں۔ کاش ہم نے اپنی مقدس کتاب اپنی روح میں کھولی ہوتی تو آج قائد کے پاکستان میں عاطف میاں کے لئے جگہ کم نہ پڑتی۔ آپ نے مقدس کتاب اپنی گود میں کھولی ہے یا روح میں؟ اگر آپ…

Read more

تخت لاہور کی جنگ – کون بنے گا وزیر اعلٰی؟

تخت لاہور کی جنگ آج کی نہیں، گیارہویں صدی سے قبل بھی زمین کے اس لاجواب اور قدرتی وسائل سے مالا مال ٹکڑے کے لئے جنگیں لڑی جاتی رہیں۔ غزنوی عہد سے آغاز کریں تو محمود غزنوی نے گیارہویں صدی میں تخت لاہور کے لئے ایسی خونخوار جنگ لڑی جس میں طویل محاصرے اور معرکے…

Read more

گیارہ اگست- قائداعظم کی تقریر اور عمران خان کی حلف برداری

لوگ اس پر ہنستے تھے اسے پاگل نادان سمجھتے تھے۔ اس کیہر بات کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ اس کے اعلی آدرشوں کو دیوانے کے خواب کا نام دیا جاتا تھا۔ جیسے جیسے اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا گیا ویسے ویسے مخالفین کے تیر و نشتر اور زبانیں تند ہوتی چلی گئیں۔ ایک دفعہ…

Read more

بزبان یوسفی: بارے موت کا کچھ بیاں اور منکر نکیر

آخر ہم جی کڑا کر کے مر ہی گئے۔ ظاہر ہے ہم کوئی سیاستدان تو تھے نہیں کہ ہر صورت مرنے کے بجائے شہید ہوتے اور ہر الیکشن پر دھوم دھام سے ہمارا جشن منایا جاتا۔ کم از کم ہم اس درمیانی کیفیت سے نکل گئے جو موت اور زندگی دونوں سے زیادہ تکلیف دہ…

Read more
––>