چینی قونصل خانے پر حملہ ناکام بنانے والی پولیس افسر سہائی عزیز


صبح صبح جب موبائل فون پر میسجز کی بھرمار دیکھی تو ٹیلی ویژن کو کھولنے کے لئے دوسرے کمرے کا رخ کیا، کیوں کہ میری سوا سال کی اکلوتی بیٹی جس کی رات بھر طبیعت کچھ ناساز تھی کو سوتا دیکھ کر ہی دوسرے کمرے کا رخ کیا۔

ٹیلی ویژن پر بریکنگ نیوز چل رہی تھی کہ چینی قونصل خانے پر دہشتگردوں نے حملہ کیا ہے، یہ بہت بڑی خبر تھی، ٹویٹر اور سوشل میڈیا کے ساتھ تمام پاکستانی میڈیا پر اس حملے بارے خبریں چل رہی تھیں، اسی اثناء میں خبر آئی کہ پولیس نے تینوں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا ہے فائرنگ کے تبادلے میں دو پولیس اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا ہے، ساتھ دو افراد بھی شہید ہوئے ہیں جن کا تعلق کوئٹہ سے تھا جو اپنے ویزہ لگوانے کراچی آئے تھے۔ اس حملے میں ٹوٹل 7 لوگ ہلاک ہوئے ۔

کچھ ہی دیر میں پتا کہ چینی قونصل خانہ جو کہ انتہائی حساس علاقے میں ہے جس کی سکیورٹی کی ذمہ داری رینجرز اور ایف سی کی ہے، لیکن حملہ کے ابتدا میں سب سے پہلے سندھ پولیس پہنچ کر دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے انہیں قونصل خانے میں جانے سے روکتی ہے، اور پھر انہیں ٹھکانے بھی لگاتی ہے ۔

پولیس کی پارٹی کی قیادت اندرون سندھ کی پہلی سی ایس ایس پاس پولیس آفیسر سہائی عزیر تالپر کررہی تھیں، جن کی بہادری نے پاکستان کی تاریخ کے ایک اور بدترین حملے کو ناکام بنایا، دہشت گرد جو نہ صرف جدید اسلحہ سے لیس تھے، بلکہ بارود سے بھری گاڑی بھی لائے تھے، اسی طرح کا حملہ میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں بھی کیا گیا تھا، اس حملے میں بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوا تھا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب چینی قونصل خانے پہنچتے ہیں، آئی جی سندھ اپنی بریفنگ میں بتاتے ہیں کہ آج کے حملے کو ناکام بنانے میں سندھ کی بہادر پولیس آفیسر ایس ایس پی ساؤتھ سہائی عزیز تالپور نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا، نہ صرف دہشت گردوں کو قونصل خانہ کے اندر جانے سے روکا بلکہ انہیں ٹھکانے بھی لگایا، اس پر چینی قونصل جنرل، وزیراعلیٰ سندھ اور تمام افسران کھڑے ہوکر سہائی عزیز تالپور کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، خاص طور پر چینی قونصل جنرل سہائی عزیز کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

سہائی عزیز تالپور حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی اندرون سندھ کی پہلی سی ایس ایس آفیسر ہیں، جن کے والدین کا تعلق شعبہ تعلیم سے ہے۔

سہائی عزیز تالپور نے 2013 میں سی ایس ایس پاس کیا اور پولیس میں بطور اے ایس پی بھرتی ہوئیں، ابتدائی طور پر سندھ کے جامشورو، بدین اور دیگر اضلاع میں اپنی خدمات انجام دیں، اپنی قابلیت اور محنت سے بہت نام کمایا، آج کل ترقی کرتے ہوئے بطور ایس ایس پی ضلع ساؤتھ میں تعینات ہیں، آج کے حملے کو ناکام بنانے پر پورا پاکستان ان کی بہادری پر انہیں سلام پیش کرتا ہے، حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایس ایس پی سہائی تالپور کو ملک کے اعلیٰ اعزاز سے نوازا جائے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں