پرانے کپڑوں کا نیا بنڈل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک پرانی کہانی ہے شیخ چلی ایک دفعہ سڑک کے کنارے بجلی کے کھمبے کے نیچے کچھ تلاش کررہے تھے۔ کسی نے اُن سے پوچھا ”شیخ کیا تلاش کررہے ہو۔ “ انہوں نے تلاش جاری رکھی اور بولے ”بھائی میں سوئی کوڈھونڈ رہا ہوں جوگھر میں کھو گئی ہے۔ “ پوچھنے والے نے ایک بار پھر پوچھ لیا ”گھر میں گم شدہ سوئی سڑک پر کیوں ڈھونڈی جارہی ہے۔ “ شیخ چلی نے ترنت جواب دیا ”گھر میں روشنی جو نہیں۔ “ بس کچھ ایسا ہی معاملہ ہماری حاضر سرکار کا ہے۔ وہ پاکستان کو بدلنے کے لیے خوب جتن کررہے ہیں۔ کچھ کچھ بدل بھی رہا ہے۔ اب جمہوریت قومی اسمبلی میں بھرپور نظرآرہی ہے۔ جمہوریت نظام کی صورت تو کسی ملک میں نظر نہیں آتی اور اپنے ہاں تو جمہوریت تو منی کی طرح سینٹ میں بدنام ہوتی نظر آرہی ہے۔

جمہوریت کا سب سے زیادہ فائدہ ہمارے سابق صوبے دار بہادر پنجاب کو ہوا ہے۔ نیب جیسا با اختیار ادارہ بھی ان کے سامنے بے بس نظرآتا ہے۔ پھر جمہوریت کی وجہ سے سپیکر صاحب کو قائد حزب اختلاف کواسمبلی کے اجلاس میں بلانا پڑا اور خادم اعلیٰ نے بھی جمہوریت کے نام کو بھرپور عزت دی اور خوب گرجے اور برسے۔ اگرچہ ان کا بھاشن ماضی کے سنہرے دنوں کی یاد اور اپنی صفائی پرزیادہ تھا مگر وہ اپنی صفائی پیش کرنے میں ناکام ہی رہے۔ ان کا کوئی ایسا کارنامہ نظر نہیں آتا جس سے ان کی پہچان ہوسکے۔ وہ اپنے زمانہ میں زیادہ انحصار نوکر شاہی پر کرتے تھے۔ نوکر شاہی ہی ان کی مشیر تھی۔ وہ ہی منصوبہ بندی کرتی اور صوبے دار کے لیے ایسے ایسے قصیدے بیان کیے جاتے تھے جس کے بعد نوکر شاہی خود احتسابی سے آزاد ہوگئی۔

بات شیخ چلی سے چلی تھی جواپنی گم شدہ سوئی کو گھر میں تلاش سے مایوس ہوکر باہر بجلی کے کھمبے کے نیچے تلاش کر رہا تھا کیونکہ گھر میں بجلی نہ تھی۔ کچھ ویسا ہی حال ہمارے بھی ہے۔ جمہوریت کی چمک دمک نے ملک بھر کو مزید اندھیرے میں دھکیل دیا ہے اور ہماری بے چاری سرکار ترقی اور تبدیلی کے پردے کورفو کرنے کے لیے سوئی کو گھر میں تلاش کررہی ہے اور گھر میں روشنی بھی نظر نہیں آتی۔ اب دوستوں سے اُمید لگا رہی ہے کہ وہ جز وقتی طور پر روشنی ہی دے دیں۔

آج کل ملک پر تحریک انصاف کی سرکار ہے اور خوب انصاف کا بول بولا ہورہا ہے۔ انصاف کے معاملہ میں نوکر شاہی کی خودسری میں کوئی کمی نظر نہیں آئی پھر حزب مخالف اور ہمارا میڈیا اس نوکر شاہی کا ہمدرد اور غم گسار بن گیا ہے۔ کوئی تبادلہ ہو فوراً نوکر شاہی سازش میں ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ سابق سرکار جو مسلم لیگ نواز یا شہباز کی تھی وہ ہی نوکر شاہی تسلسل مسلسل ہے اور ابھی تک اس کو یقین نہیں آیا۔ ملک میں شامل ہو جاتی ہے۔

تبدیلی اور ترقی کے لیے جمہوریت کے دعویدار بے بس نظر آرہے ہیں۔ جمہوریت کے دعویدار سب کے سب ہمارے سیاسی نیتا ہیں۔ اگرچہ ان کی جماعتوں میں جمہوریت رائج نہیں ہے۔ ملک کی دو بڑی جماعتوں کو ہی لے لیں۔ پیپلزپارٹی بھٹو خاندان کا ورثہ ہے اور اب اس پر قبضہ زرداری پریوار کا ہے۔ پیپلزپارٹی کے پرانے لوگ در بدر ہیں۔ سنیٹر رضا ربانی ہوں یا اعتراز احسن سب ہی بے بس اور شرمندہ ہیں اور ان کی آصف زرداری اور بلاول کے سامنے ایک نہیں چلتی۔ اگرچلتی ہے تو زرداری کی چلتی ہے جو سب پر بھاری ہے۔

ملک کی دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ ن اور شین ہے۔ پنجاب پرایک عرصہ سے قبضہ تھا نام تو کمایا مگر نیک نامی میں خسارہ ہی رہا۔ پنجاب کی ترقی میں صوبیدار صاحب کی سپرسپیڈ کا بڑا ذکر ہوتا ہے اور کچھ ہمارے چینی دوست بھی متاثر لگتے ہیں مگر ترقی کا سارا خرچ بڑے قرضوں کا مرہونِ منت ہے۔ ملک پر قرضے تو ناقابل یقین ہیں کہ اتنے قرضوں کے بعد غربت اور بے بسی میں اضافہ ہی ہوا۔ پنجاب میں سڑکوں کا جال ہی سابق صوبیدار بہادر شہباز شریف کے حق میں جاتا ہے۔

راستے بن گئے اور فاصلے گھٹ گئے مگر عوام رل گئے۔ قصبوں اور شہروں کی حالت ویسی کی ویسی ہے۔ ان میں نہ سکولوں کی کوئی حیثیت ہے اور نہ ہی صحت کے حوالہ سے ہسپتالوں کی بہتری ہے۔ تعلیم اور صحت کے معاملات کی حالت بہت ہی خراب ہے اور اب کپتان کی سرکار ان پرتوجہ تودے رہی ہے مگرآئین کی 18 ویں ترمیم ان کا راستہ روک رہی ہے اور وہ کچھ زیادہ نہیں کرسکیں گے۔ مسلم لیگ اپنی بقا کی جنگ جمہوریت کے نام پر لڑ رہی ہے وہ بھی شریف پری وار کے لیے ہے نا حیرانگی کی بات۔

اس وقت ہماری قومی اسمبلی اور سینٹ چند نئے کپڑوں کا پرانا بنڈل سا نظر آرہی ہے۔ اس میں حیرانگی والی کوئی بات نہیں۔ ہمارا سیاسی نظام ناکارہ کپڑوں کا پرانا بنڈل ہے۔ چند خاندان، چالاک اشرافیہ اور نوکر شاہی اس بنڈل میں استعمال شدہ اور پرانے ہی لوگ بھرتی کرتے رہتے ہیں اور وہ ہی جمہوریت کے راگ کو الاپتے رہتے ہیں اور عوام کو جمہوریت کے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر رکھتے ہیں۔ اب کی بار اسمبلی میں کچھ نئے لوگ بھی نظرآرہے ہیں۔

اگرچہ طرفین اس وقت بھی وقت گزارتے نظر آرہے ہیں دونوں بڑی جماعتوں کے اہم لوگ نیب کے نشانے پر ہیں اور جمہوریت پسند لوگ اب نیب سے خوفزدہ ہیں اور نیب قانون کو بدلنا چاہتے ہیں اور کوشش بھی ہو رہی ہے۔ پرانے کپڑوں کا نیا بنڈل عوام کی تقدیر بدلنے کی مصنوعی کوشش میں لگا ہے۔ پاکستان کی مالی حالت ابھی مخدوش ہے۔ آئی ایم ایف سے علاج کا سوچا جا رہا ہے۔ امید ہے علاج ان کا ہوگا اور صحت کی یقین دہانی نہیں۔ پاکستان کو کرپشن سے پرہیز کرنا ہوگا جو ابھی ممکن نظر نہیں آتا۔ اگر کپتان عمران خان نے کرپشن کے جن کو قابو کرلیا تو خیر ہی خیر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •