دیوبندی ایک مرتبہ پھر کٹہرے میں


دہشت گردی کی حالیہ لہر کے نتیجے میں اور خاص طور پر لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر خودکش دھماکے کے بعد سوشل میڈیا پر دیوبندیت کے خلاف اور اس کے دفاع میں ایک جنگ چھڑی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ دیوبندیوں کے مخالف ان پر الزام لگا رہے ہیں کہ مانا کہ سارے دیوبندی دہشت گردی نہیں مگر سارے دہشت گرد دیوبندی کیوں نکلتے ہیں؟ اسی طرح دیوبندیت کے نمایاں ترین چہرے مولانا طارق جمیل صاحب کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ انہوں نے آج تک نام لے کر دہشت گردوں کی مذمت نہیں کی ہے اور دو سال بعد سانحہ آرمی پبلک سکول کے بعد ان کے ویڈیو بیان کو بھی دوبارہ بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے کہ بارہ منٹ کی اس ویڈیو میں ایک مرتبہ بھی انہوں نے دہشت گردوں کی مذمت نہیں کی بلکہ الٹا والدین کو یہ تسلی دی ہے کہ بچوں کے مارے جانے پر وہ صبر شکر کریں گے تو جنت میں ان کو محل ملے گا خواہ یہ بچے آرمی پبلک سکول کی دہشت گردی میں مارے جائیں یا ریلوے پھاٹک پر ٹرین حادثے کے نتیجے میں۔

ایک دوسری ویڈیو بہت شیئر کی جا رہی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ

’میں دھماکوں سے اتنا پریشان نہیں ہوں کہ جو مر رہے ہیں شہید ہو رہے ہیں۔ اور جو ظالم ہیں اگر یہاں نہ پکڑے گئے تو ایک دن اللہ نے رکھا ہے انہیں پکڑ کے دکھائے گا۔ اس سے میرا ملک تباہ نہیں ہو گا۔ اس سے میرے ملک میں طاقت آئے گی۔ کیونکہ قربانی سے چیز بڑھتی ہے۔ بکریاں روزانہ ذبح ہوتی ہیں۔ ریوڑ کے ریوڑ نظر آتے ہیں کہ نہیں؟ کبھی کم نظر آتی ہیں؟ کتے نہیں ذبح ہوتے۔ کبھی کتوں کا ریوڑ نظر آیا کہ یار دو سو کتے جاندے پئے نیں؟ کد کلا بیٹھا ہوندا اے ٹاؤں ٹاؤں کردا۔ کدی دو بیٹھے ہوندے نیں (کبھی کتوں کا ریوڑ نظر آیا ہے کہ یار دو سو کتے جا رہے ہیں۔ کبھی اکیلا بیٹھا ہوتا ہے ٹاؤں ٹاؤں کرتا کبھی دو بیٹھے ہوتے ہیں)۔ قربانی سے نہیں گھبرانا چاہیے۔ قربانی آگے بڑھنے کا ذریعہ ہے۔ جو چیز مجھے رلاتی بھی ہے تڑپاتی بھی ہے پر میں فریاد بن کر بھنتا ہوں مجھے پتہ ہے کہ میں یہ آگ نہیں بجھا سکوں گا‘۔

\"\"

مولانا سے بس یہی گزارش ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمان کی تقلید کریں۔ اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ آپ کی آواز پر کوئی کان نہیں دھرتا ہے تو پھر تبلیغ بھی ترک کر دیں کہ آپ کے الفاظ کا تو اثر ہی نہیں ہے۔ ورنہ قوم کو بھیڑ بکری بننے کا سبق مت دیں اور کھل کر ان کی مذمت کریں جو آپ کو رلاتے ہیں۔ ورنہ پھر جس طرح مسلح افواج میں آپ کی تبلیغ پر پابندی لگا دی گئی ہے تو وہ پابندی باقی جگہوں پر بھی پھِیلنے لگے گی۔

دیوبندیت کے مخالفین کا اعتراض یہ ہے کہ دیوبندی علما کھل کر شدت پسندوں کے خلاف کیوں نہیں بولتے اور دہشت گردوں کی نام لے کر مذمت کیوں نہیں کرتے ہیں۔ ایسا کہتے ہوئے وہ مولانا حسن جان، مولانا معراج الدین، مولانا محسن شاہ، مولانا نور محمد، مولانا انیس الرحمان درخواستی، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار اور مولانا عبد السمیع سمیت متعدد دیوبندی علما کو طالبان کی عسکریت پسندی اور تشدد پسندی کی مخالفت کی وجہ قتل کیے جانے کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

مگر بہرحال حقیقت یہی ہے کہ دیوبندی علما کی موجودہ صف میں اس طرح کھل کر مسجد و منبر سے طالبان دہشت گردوں کی مخالفت کرتا کوئی نہیں دکھائی دے رہا ہے جس طرح جاوید احمد غامدی صاحب اور مولانا طاہر القادری صاحب کر رہے ہیں۔

تاریخی طور پر دیوبندیت ایک معتدل مسلک رہی ہے اور جذباتیت اور انتہاپسندی سے دور رہی ہے۔ حتی کہ تحریک پاکستان میں دیوبندیوں علما کی غالب اکثریت نے اس بنیاد پر مسلم لیگ کی بجائے کانگریس کا ساتھ دیا کہ پاکستان کے الگ ہونے کی صورت میں بھارت میں رہ جانے والے مسلمان کمزور ہو جائیں گے حالانکہ مسلمانوں کی غالب تعداد کا موقف قیام پاکستان کے حق میں تھا۔ آزادی کے بعد بھارت میں شدت پسندی اور علیحدگی کی کئی مسلح تحریکیں اٹھیں لیکن کسی میں بھی دیوبندیوں کا بحیثیت مسلک کوئی رول دیکھنے میں نہیں آیا حالانکہ وہاں مسلمانوں کی حالت تعلیم، ملازمت اور معیشت کے میدان میں نہایت پتلی ہے۔

بدقسمتی سے اس وقت بھارت میں دیوبندی علما کی فکر سے پاکستانی دیوبندیت بہت دور ہو چکی ہے۔ پاکستان میں دیوبندی کارکنوں پر اب کلاسیکی دیوبندی فکر کی بجائے اہل حدیث اور مولانا مودودی کی تعلیمات کا زیادہ اثر دکھائی دینے لگا ہے۔

دیوبندی علما کو مسجد اور مدرسے کی سطح پر اب دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف دہشت گردوں کا نام لے کر بات کرنی ہو گی۔ جن معاملات پر جان کے خوف سے وہ خود فتاوی دیتے ہوئے گھبراتے ہیں ان پر وہ دارالعلوم دیوبند بھارت کے علما سے فتاوی لیں اور ان فتاوی پر اپنی مہر تصدیق ثبت کریں۔ اپنے خطباتِ جمعہ و عید میں واضح طور پر وہ جمہوریت کی حمایت کریں اور انتہاپسندوں کی اس فکر کی نفی کریں کہ جمہوریت کفر ہے۔

\"\"

اس موضوع پر جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا سنہ 2014 کا حامد میر کو دیا گیا ایک انٹرویو دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ مولانا کو دہشت گردوں نے کئی مرتبہ نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے مگر پھر بھی وہ دلیری سے اپنا موقف بیان کرتے ہیں۔ مولانا سے ہمیں ہرگز یہ شکایت نہیں ہے کہ وہ دہشت گردوں کا نام لے کر ان کی مخالفت نہیں کرتے مگر بہرحال یہ بھی حقیقت ہے کہ مساجد سے دہشت گردوں کے خلاف اس طرح صدا بلند نہیں ہو رہی ہے جیسے ہونی چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان لاکھ کہتے رہیں کہ علما کا اجماع ہے کہ پاکستان کا دستور اسلامی ہے مگر مدرسے کے طالب علم یا اساتذہ سے پوچھا جائے تو وہ یہی بتاتا ہے کہ جمہوریت کفر ہے۔

آئیے مولانا فضل الرحمان کے اس انٹرویو کے اقتباسات پڑھتے ہیں اور دیوبندی سیاسی لیڈرشپ کا موقف جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔


حامد میر: جو ٹی ٹی پی ہے تحریک طالبان پاکستان، وہ یہ تو کہتے ہیں کہ ہم پاکستان میں شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں۔ لیکن ان مذاکرات میں انہوں نے شریعت کے نفاذ کی شرط نہیں لگائی۔ لیکن مولانا عبدالعزیز جن کو طالبان نے اپنی مذاکراتی کمیٹی میں شامل کیا وہ اس لئے سارے عمل سے علیحدہ ہو گئے کہ پہلے شریعت نافذ کرو۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کا آئین غیر اسلامی ہے۔ بہت سے لوگ مولانا فضل الرحمان کا موقف جاننا چاہتے ہیں کہ پاکستان کا آئین اسلامی ہے یا غیر اسلامی؟

مولانا فضل الرحمان: آپ نے کیوں ہائی لائٹ کیا اس کو؟ ایسے غیر ضروری چیزوں کو آپ ہائی لائٹ کر لیتے ہیں لوگوں میں سوال پیدا ہو جاتا ہے۔

حامد میر: مولانا عبدالعزیز غیر ضروری آدمی ہیں؟

مولانا فضل الرحمان: ظاہر ہے۔ ان کی جو عقل و خرد ہے اس کے نتیجے میں یہ جو لال مسجد کا معاملہ جس نتیجے پر پہنچا اور جو تباہ کاریاں ہوئیں اس کے بعد بھی آپ اگر قومی معاملات میں ان جیسے جذباتی لوگوں کو شریک کریں گے تو پھر یہی ہو گا ناں جی۔ میں ایک بات آپ کو واضح کر دینا چاہتا ہوں جی۔ دو ہزار دس میں، غالباً 2010 تھا جی، لاہور کے اندر تمام مکاتب فکر کی تنظیمیں اورتمام مکاتب فکر کی اہم شخصیات کا اجلاس ہوا۔ نشانی بتلا دوں کہ شہید سرفراز نعیمی صاحب اس اجلاس میں موجود تھے۔ یعنی ان کی شہادت سے پہلے کا واقعہ ہے۔ سب نے اس بات پر اتفاق کیا اور یہ وہ دن تھے جب سوات میں صوفی محمد صاحب کی تحریک اور یہ لوگ نکلے ہوئے تھے اور وہ یہ کہہ رہے تھے کہ جی جمہوریت کو ہم نہیں مانتے اور آئین کو ہم نہیں مانتے اور یہ تو انگریزوں کے زمانے کا ہے تو اس وقت ایک متفقہ قرار داد تمام مکاتب فکر نے منظور کی جس میں کہا گیا کہ ہمارے اکابرین نے پاکستان میں جن تمام امور پر اتفاق کیا ہے، ہم اپنے اکابرین کے متفقات کو دوبارہ زیربحث لانے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں۔ اور یہ آئین جو طے ہوا ہے، آئین کے اندر جو اصول طے ہوئے ہیں ملکی معاملات کو چلانے کے لئے، وہ سب کے سب متفقہ ہیں لہذا اکابرین کے متفقات کو دوبارہ زیربحث لانا یہ ملک کو ایک ایسی گمبھیر پوزیشن کی طرف لے جانے کا باعث بنے گا کہ جس سے پھر ہم نکل نہیں سکیں گے۔

جمیعت علمائے اسلام نے اپنی سطح پر پشاور میں پچیس ہزار علمائے کرام کو دعوت نامے کی بنیاد پر جمع کر کے ان سے قرارداد لی جس میں ان سے تمام اکابرین جو دارالعوم دیوبند کے فضلا بھی تھے پرانے اکابر اکابر علما، اور جو اس وقت بھی مدارس میں بڑے شیخ الحدیث کی حیثیت رکھتے ہیں وہ اس میں موجود تھے جی۔ دس ہزار علمائے کرام دعوت نامے کی بنیاد پر کوئٹہ میں جمع ہوئے تھے جی، جس میں یہ قرارداد لائی گئی کہ ہم آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے شریعت کے لئے جدوجہد کرنے کے پابند ہیں اور اس قسم کی کسی عسکریت پسندی اور یہ جو کچھ ہو رہا ہے اس سے ہمارا واسطہ تعلق نہیں ہو گا ہم نظریاتی لحاظ سے اس بات کا اعلان کرتے ہیں۔

اس کے بعد ایک سوال اٹھایا گیا اور آج کل بھی کہیں کہیں جو بدنیتی کی بنیاد پر باتیں کرتے ہیں وہ بھی کبھی کہہ دیتے ہیں کہ جی ’دیوبندی اسلام‘ اور ’دیوبندی مکتب فکر‘۔ تو تمام دیوبندی مکتب فکر، گلگت چترال سے لے کر کوئٹہ خضدار کراچی بدین تک تمام علمائے کرام، ایسے علمائے کرام جو اپنی ذات میں بھی ایک مضبوط قسم کے علما تھے اور ان کی شخصیت بھی وہاں کے علاقے اور عوام میں شہرت یافتہ تھی اس حوالے سے، ڈیڑھ سو علمائے کرام کو اکٹھا کیا گیا۔ ان علمائے کرام نے جو آٹھ یا نو نکات تیار کیے ان میں ایک نکتہ یہ بھی تھا کہ پاکستان کے اندر مسلح جدوجہد کرنا غیر شرعی ہے۔ یہ لفظ اس کے اندر لکھے گئے تھے اور تمام علمائے کرام نے اس پر اتفاق کیا۔ دارالعلوم حقانیہ نے بھی اس پر اتفاق کیا ہے۔ دارالعلوم کراچی نے کیا ہے۔ بنوری ٹاؤن نے کیا ہے بنوریہ نے کیا ہے دارالعلوم کراچی نے کیا ہے جامعہ اشرفیہ نے کیا ہے۔ جامعہ اشرفیہ تو میزبان تھا اس کا۔ یہ سارے اکابر علمائے کرام ملک کے ایک بات پر متفق ہوں پھر مجھے تردد ہونا چاہیے اپنی سوچ میں۔ یہ اجماع نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ تو جس پر علمائے کرام کا اجماع ہو جائے، تو میں نے اعلان کیا کہ میں علما کے اجماع کے ساتھ ہوں۔ اور یہ تینوں دستاویزات میں نے پارلیمنٹ کے اندر تقریر کی اور پارلیمنٹ کی کارروائی کا حصہ بنا کر سپیکر کو پیش کیا۔ اس کے باوجود ہائی لائٹ نہیں کیا جا رہا اور روزانہ پراپیگنڈے کیے جا رہے ہیں کہ مذہبی لوگ یہ ہیں مذہبی انتہا پسند ہیں۔ اب اگر پچانوے اٹھانوے فیصد لوگ پاکستان کے اندر بارہا اتفاق رائے کر کے اجماع قائم کرتے ہیں تو تب بھی اسلام کے نمائندے وہ ایک فیصد دو فیصد تین فیصد چار فیصد لوگ ہیں جی۔ ان کو ہائی لائٹ کیا جاتا ہے۔ ان کو واپس لایا جانا چاہیے اور ان کی عزت نفس کا خیال رکھا جانا چاہیے۔ حالانکہ میرے اوپر تو حملے کر چکے ہیں۔ اسی اعلان کے بعد تو میرے سے ناراض ہوئے جی۔

حامد میر: اچھا تو آپ پر حملے طالبان نے کیے؟

مولانا فضل الرحمان: تو فرشتوں نے کیے؟ یار عجیب آدمی ہیں آپ۔ میں فوج پر دعویدار تو نہیں ہوں۔ میرے ساتھ جو سیکیورٹی ہے تو میں فوج سے یا پولیس سے تو نہیں ڈر رہا۔

حامد میر: لیکن مولانا انہوں نے ذمہ داری تو قبول نہیں کی ناں۔

مولانا فضل الرحمان: اصل میں ہوا یہ کہ ان کی صفوں کے اندر ایک شدید ردعمل آ گیا ہے جی۔ کچھ لوگ نکلے بازار میں اور کہا کہ ہم منتظر ہیں کہ کون قبول کرتا ہے۔ مولانا حسن جان کو کیوں شہید کیا گیا؟ یہی کہا تھا ناں کہ خودکش حملے جائز نہیں ہیں۔ مولانا نور محمد صاحب استاذ الاساتذہ تھے وزیرستان کے۔ کیوں شہید کیا کس نے شہید کیا، خودکش حملہ کیا ان پر؟ مولانا معراج الدین کو بھی انہوں نے شہید کیا۔ مولانا محسن شاہ کو کس نے شہید کیا جی۔ میرے بیٹے کی گاڑی پر حملہ ہوا۔ اڑا دیا اس کی گاڑی کو۔ وہ بچ گئے۔ اللہ نے بچایا۔ مولانا عطا الرحمان کے گھر پر راکٹ مارا گیا۔ میرے گھر پر راکٹ مارا گیا۔ دو حملے میرے اوپر ہوئے یکے بعد دیگرے جس میں بارہ بارہ چودہ چودہ لوگ شہید ہوئے۔

میں اس ذہن کو جانتا ہوں۔ پاکستانی طالبان اکیلے نہیں ہیں۔ بہت لوگ ہیں۔ اس میں عرب ہیں۔ اس میں تاجک ہیں اس میں ازبک ہیں اس میں وہ لوگ ہیں جو ہمارے ساتھ کوئی عقیدت نہیں رکھتے، ہماری کوئی استادی شاگردی میں نہیں آتے، وہ اپنے طور پر کام کر رہے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 633 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar