میں آ گیا ہوں اب فکر کی کوئی بات نہیں: مولانا محمد احمد لدھیانوی


ادارہ ’ہم سب‘ بڑھتی ہوئی انتہاپسندی اور رواداری میں کمی کے بارے میں مختلف سیاسی و مذہبی راہنماؤں سے ان کے تاثرات لینے کا ایک سلسلہ شروع کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں مولانا محمد احمد لدھیانوی صاحب سے ’ہم سب‘ کی ٹیم کے وصی بابا اور عدنان کاکڑ نے گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ایک ملاقات کی۔ ملاقات نہایت خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ مولانا اپنے بارے میں عمومی تاثر کے برعکس نہایت خوشدلی سے دوستانہ انداز میں بات کرتے ہیں، اپنا موقف واضح کرتے ہیں اور مشکل سوالات کا تحمل سے جواب دیتے ہیں اور ایسے سوالات کرنے پر اکساتے بھی ہیں۔ ہم اس ملاقات سے ان کی کچھ منتخب باتیں ان کی اجازت سے آپ کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔


مولانا محمد احمد لدھیانوی

جھنگ میں بدامنی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ پہلے مسلک کے نام پر جھنگ کے مقامی سیاستدان شیعہ سنی فسادات کرواتے تھے۔

دونوں مسالک کے جذبات کو مشتعل کرنے کے لئے حرکات کیا کرتے تھے۔ شیعہ برادری کو یہ لگتا تھا کہ ہم ان کے دشمن ہیں اور وہی سیاستدان ان کے تحفظ کے ضامن ہیں مگر پھر انہوں نے یہ چیز نوٹ کی کہ یہ سیاستدان ان کے ووٹوں کے بارے میں یہ سوچتے ہیں کہ وہ ہر صورت میں انہیں ہی ملیں گے اس لئے وہ ان کے کام نہیں کراتے ہیں جبکہ ہماری جماعت کے راہنما وہاں سے ایم این اے بنے تو انہوں نے واضح اعلان کیا کہ میں ان کا بھی ایم این اے ہوں جنہوں نے مجھے ووٹ دیا اور ان کا بھی جنہوں نے نہیں دیا۔ سب کے کام بلا امتیاز ہوں گے۔ انسانوں کی بنیادی ضروریات و سہولیات فراہم کرنے میں نہ تو فرقہ واریت ہو سکتی ہے نہ اس پر کوئی اختلاف ہے۔ روڈ سب کے لیے بنتا ہے گیس بجلی سب کو ملتی ہے کسی کو فرقے کی وجہ سے ان سہولیات سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔

جھنگ آج ایک پر امن شہر ہے جہاں اب امن ہے۔ کبھی یہاں گاڑیاں بموں سے اڑا دی جاتی تھیں، راکٹ چلتے تھے لیکن اب وہاں مکمل امن اور سکون ہے جس کے لئے میں نے بہت زیادہ کوشش کی ہے۔ پچھلے برس محرم کے موقعہ پر حکومت کو بہت ٹینشن تھی کہ فسادات نہ ہو جائیں۔ میں شہباز شریف صاحب سے ملنے گیا تو وہ فکرمند تھے۔ پوچھنے لگے کہ جھنگ کے کیا حالات ہیں۔ میں نے کہا کہ سب ٹھیک ہے۔ میں مرکزی امام باڑوں کے علاقے سے گزر کر ہی آپ سے ملنے آیا ہوں، اسی سے آپ وہاں امن و امان کی بہتری کا اندازہ لگا لیں۔

ہم کسی کا فرقہ تبدیل نہیں کرانا چاہتے ہر کوئی اپنے عقائد پر عمل کرے۔ ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ پیغمبرؐ اسلام، صحابہ کرامؓ اور اہل بیتؓ عظام کا احترام کیا جائے۔

میں نے اپنی جماعت کے جذباتی لوگوں کو سمجھایا کہ توڑ پھوڑ اور فسادات سے کسی کو کیا ملتا ہے۔ ہم نے کافر کافر کے نعرے بند کرائے۔ ان نعروں نے ہمیں کچھ نہیں دیا۔ قتل و قتال کی راہ پر جانے والوں کو بھی کچھ نہیں ملا۔ سوائے اس کے کہ ہم سب کا نقصان ہوا۔ اصل چیز یہ ہے کہ اپنا ہدف حاصل کیا جائے۔ اس کے لئے سب سے بہتر راستہ قانون کا ہے۔ صحابہ کرام کے احترام کے سلسلے میں قانون بن جائے تو ہمارا ہدف حاصل ہو جاتا ہے۔

امن کی بات کرنا ہر گز آسان نہیں ہے۔ آپ تصور کریں کہ لاشیں پڑی ہوں انہیں ابھی اٹھایا بھی نہ گیا ہو اور آپ جا کر وہاں لوگوں کو پر امن رہنے کا کہیں۔ میں نے ہر جگہ تصادم روکنے میں ہی کردار ادا کیا ہے۔ کراچی میں جب ہمارے ایک بڑے لیڈر کو قتل کیا گیا تو کارکنوں کے جذبات نہایت مشتعل تھے۔ گورنر عشرت العباد نے مجھ سے بات کی کہ حالات اچھے نہیں ہیں۔ میں نے انہیں کہا کہ میں آ گیا ہوں اب فکر کی کوئی بات نہیں۔ حکومت فسادات کے واضح امکانات سے خوفزدہ تھی۔ میں گیا اور میں نے کارکنوں کے جذبات کو ٹھنڈا کیا۔ بعد میں گورنر عشرت العباد ملے تو انہوں نے حیرت ظاہر کی کہ ایسے مشتعل ماحول کو میں نے کیسے ٹھنڈا کر دیا ہے۔ میں نے انہیں کہا کہ لیڈر کا تو کام ہی یہی ہے کہ اپنے کارکنوں کے جذبات کو کنٹرول کرے اور انہیں سیدھا راستہ دکھائے۔

پچھلے الیکشن میں جب ہمیں ہروایا گیا تو خواتین تک گھروں سے نکل آئیں اور لوگوں نے انتظامی دفاتر کو گھیر لیا۔ میں نے لوگوں کی منتیں کیں، جھولیاں پھیلا کر ان سے پر امن رہنے کو بولا انہیں واپس اپنے گھروں میں بھیجا۔ قانونی راستہ اختیار کیا۔

راولپنڈی کے راجہ بازار میں جامعہ دارالعلوم تعلیم القرآن کا سانحہ بہت دلخراش تھا۔ وہاں مقامی آبادی اور ہمارے کارکنان نہایت مشتعل تھے۔ حکومت نے مجھے سے رابطہ کیا کہ اب تین دن بعد جمعہ آنے والا ہے، اس کی نماز کے اجتماع کے بعد مشتعل ہجوم سے سخت اندیشہ ہے۔ میں نے انہیں جواب دیا کہ میں آ گیا ہوں اب فکر کی کوئی بات نہیں۔ جمعے کی نماز میں نے ہی پڑھانی ہے۔ ان کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ کوئی شخص حالات کو کنٹرول کر سکتا ہے اور مشتعل نوجوانوں کے جذبات کو قابو میں لا سکتا ہے۔ میں نے جمعے کا خطبہ دیا اور نماز پڑھائی۔ میرے الفاظ نے مرہم کا کام دیا۔ الحمدللہ فسادات کی آگ بجھ گئی۔

چودھری نثار سے میری ملاقات کو بہت اچھالا جا رہا ہے۔ حکمرانوں سے ملنا جرم نہیں ہے۔ میرے خلاف پورے پاکستان میں دہشت گردی کی کوئی ایف آئی آر نہیں ہے بلکہ دہشت گردی کو روکنے میں میرا اہم کردار ہے جس کا اعتراف ریاست بھی کرتی ہے۔ ساری ہی سیاسی پارٹیاں ہم سے حمایت مانگتی رہی ہیں۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، متحدہ اور اے این پی تک کو ہم نے ان کی درخواست پر سیاسی حمایت فراہم کی ہے۔

توہین رسالت کے قانون کی تبدیلی بارے بات کرنا میرا منصب نہیں ہے اس کے لیے آپ سینئیر علما سے بات کریں۔ البتہ میں یہ کہتا ہوں کہ توہین رسالت کے قانون کو غلط استعمال کرنے والوں کے لیے بھی سخت قانون ہونا چاہیے۔ غلط الزام لگانے والوں کو سخت ترین سزا دے کر عبرت کا نشان بنا دیا جانا چاہیے تاکہ آیندہ کوئی ایسی حرکت کرنے کا سوچے بھی نہ۔

مشال خان کے ساتھ زیادتی ہوئی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ آپ اس کے محلے کے ملا کو یہ الزام نہ دیں کہ اس نے جنازہ نہیں پڑھایا۔ ہم مولوی تو حرام موت مرنے والوں کے جنازے پڑھاتے ہیں ان کی بخشش کی دعا کرتے ہیں۔ وہ مولوی گھبرا گیا ہو گا کیونکہ غلط فیصلہ کرنے پر اس کی اپنی جان بھی خطرے میں پڑ سکتی تھی۔ توہین رسالت کا الزام ایسا ہے کہ مسلمان اس حوالے سے بہت حساس ہیں۔ اس کی جگہ میں ہوتا تو صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کرتا، معلومات لیتا، حواس قائم رکھتا اور لوگوں کو پرامن رکھتا۔

ہم لوگ پاکستان کے آئین کو مانتے ہیں جمہوری نظام کی حمایت کرتے ہیں اور جمہوری اقدار کا فروغ چاہتے ہیں۔ہم انتہا پسند نہیں ہیں۔ ہم انتہا پسندی کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔

میں نے لشکر جھنگوی کے اقدامات کی ہمیشہ مخالفت کی۔ پنجاب حکومت کی درخواست پر ملک اسحاق سے جیل میں جاکر ملاقات کی اور اسے ہتھیار پھینکنے پر آمادہ کیا۔ مجھے افسوس ہے کہ میری یہ کوشش ناکام ہوئی مگر مجھے جیسے ہی احساس ہوا کہ ہماری یہ کوشش ناکام ہورہی ہے تو ہم نے ملک اسحاق اور اس کے ساتھیوں سے علی الاعلان علیحدگی اختیار کرلی۔ آپ چودھری نثار سے ہماری ملاقات پر اعتراض کرتے ہیں۔ آپ یہ نہیں دیکھتے کہ ہماری حکومت اور اپوزیشن کے سیاستدانوں سے یہ ملاقاتیں امن و امان کے قیام کے لئے ریاست کو کتنی مدد دیتی ہیں۔

ریاست ملک کے باغیوں، بھارت، ایران اور دیگر ممالک کے ہاتھوں استعمال ہوکر اپنے ملک کو نقصان پہنچانے والوں کے ساتھ مذاکرات کرتی تو ہمارے ساتھ کیوں نہیں کرتی؟

ہم ملک میں امن چاہتے ہیں، فرقہ واریت اور فرقہ وارانہ فسادات سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم تمام ریاستی اقدامات کی تائید کرتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔