پیپلز پارٹی اور بھٹو صاحب: آئی اے رحمان کے مشاہدات

آئی اے رحمان ممتاز صحافی اور دانش ور ہیں۔ انسانی حقوق کے لیے ان کی توانا آواز کئی عشروں سے گونج رہی ہے جس کے بانکپن میں مرور زمانہ سے کمی نہیں آئی۔ لکھنے کے ہنر میں طاق، تجزیہ میں مشاق۔ موضوع کیسا بھی دقیق ہو اسے پانی کر دیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کو بنتے دیکھا اور اس زمانے کا مشاہدہ بھی کیا جب ذوالفقار علی بھٹو کے پاؤں تلے سے زمین کھینچی جارہی تھی۔ بھٹو کے سیاسی اتار چڑھاؤ

Read more

پاکستانی فلمی صنعت کے ہونہار فلم ساز اور ہدایت کار محمد طارق کے ساتھ ایک نشست

داکار محمد علی سمیت اردو اور پنجابی فلموں کے سپر اسٹارز کا بادشاہوں والا انداز ہوتا تھا کہ ہمیں شاہانہ پروٹوکول ملے کوئی ٹوکنے والا نہ ہو۔ میں اس بات کے خلاف تھا۔ پہلے دن میں نے محمد علی صاحب کو مکالمے وغیرہ بتلائے تو کہنے لگے کہ یہ مکالمہ منہ پر نہیں آ رہا اس کو بدل دیں۔ میں نے کہا کہ جناب یہ تو بڑا سوچ سمجھ کے کام کیا گیا ہے۔ پھر آپ تو بڑے اداکار ہیں آپ اسے یاد کر کے منہ پر چڑھائیں۔ یہ کہہ کر لائٹ آف کرا دی۔ ان کو آج تک کسی نے روکا نہیں تھا۔ وہ سناٹے میں آ گئے۔ میں نے کہا کہ میں اس فلم (بگڑی نسلیں 1983) کا فلم ساز بھی ہوں۔ سوچ لیں کہ کام کریں گے یا نہیں۔ پانچ منٹ سوچنے کے بعد کہا کہ میں آپ کے کام میں نہیں بولوں گا۔

Read more

’میں سب سے بڑے ایڈونچر کے لیے تیار ہوں‘ – مستنصر حسین تارڑ کا انٹرویو

کچھ خواتین و حضرات چہل قدمی کر رہے تھے، کچھ بھاگ رہے تھے اور کچھ موٹی توندوں والے بابو ٹائپ حضرات وہاں لگے بینچوں پر سویرے سویرے ملکی سیاست پر تبصرے کرنے میں مصروف تھے۔

لیکن ماڈل ٹاؤن پارک کے اس جاگنگ ٹریک پر ہماری نظریں صرف مستنصر حسین تارڑ صاحب کو تلاش کر رہی تھیں، سچ پوچھیے تو میں اپنے بچپن کے ’چاچا جی‘ کی تلاش میں تھا، جن کی آواز کے ساتھ ہماری صبح ہوتی تھی۔

آنکھوں کی چمک آج بھی ویسی ہی تھی، جیسی پچیس برس پہلے ہوا کرتی تھی، لیکن بڑھاپے کی چار دیواری میں گھری ان آنکھوں میں ہلکی سرخ ڈوریاں ماضی کی ان گنت جاگتی راتوں کا پتا دے رہی تھیں۔ ’پانامہ ہیٹ‘ کے نیچے سے سفید بال چمک رہے تھے، نیلے ٹراؤزر کے اوپر کیسری رنگ کی فلیس کی شرٹ، اپر نارتھ فیس کا تھا، پاؤں میں جاگنگ شوز اور گلے میں سرمئی رنگ کا مفلر۔

Read more

فہمیدہ ریاض کا ریڈیو پاکستان سے آخری انٹرویو (2)

  س۔ آپ نے سات سال کا طویل عرصہ ہندوستان میں جلا وطنی میں گذارا اور پھر بینظیر بھٹو کی شادی کے دن پاکستان واپس لوٹ کر آئیں تو واپسی پر کیسا ماحول پایا؟ ج۔ جب واپس آئی تو پھر ایک بہت لمبی کہانی ہے۔ بالکل ایک بڑا جوش تھا بڑا جذبہ تھا۔ ہمیں لگتا تھاکہ طویل جدوجہد کامیاب ہوئی ہے اور اب ملک میں ایک جمہوری دور شروع ہو رہا ہے اس زمانے میں نیشنل بک فاﺅنڈیشن ایک ادارہ

Read more

(فہمیدہ ریاض کا ریڈیو پاکستان سے آخری انٹرویو (نومبر 2016

فہمیدہ ریاض کا جنم 28 جولائی 1945ء کو ہندوستان کی تاریخی فوجی چھاؤنی میرٹھ میں ایک علمی و ادبی گھرانے میں ہوا۔ ان کے والد ریاض الدین احمد ماہر تعلیم تھے۔ یہ ذکر قیام پاکستان سے کوئی 17 سال قبل کا ہے جب سندھ کے معروف ماہر تعلیم نور محمد نے حیدر آباد میں ایک اسکول قائم کیا تو اپنے اسکول کے لئے انہوں نے ایک مسلمان استاد کے لئے علی گڑھ یونیورسٹی کی انتظامیہ سے درخواست کی اور یوں

Read more

حسین نقی سے باتیں (2)

حسین نقی ایسی صحافت اور صحافیوں کے ناقد ہیں، جو حکومتیں گرانے کے لیے Campaigner بن جائیں۔ اس بابت وہ دو ٹوک بات کرتے ہیں۔ ”ایک میڈیا گروپ کہتا رہا کہ ہم فیصلہ کریں گے کہ حکومت رہے گی یا نہیں۔ تین سال وہ حکومت گرانے میں لگے رہے، اور جس حکومت کے خلاف تھے، وہ سب سے زیادہ عرصہ نکال گئی۔ صحافت سے وابستہ ایک شاہین پیپلز پارٹی حکومت کے بارے میں Partisan سے بڑھ کر باقاعدہ Campaigner بن

Read more

رکن سندھ اسمبلی تنزیلہ حبیب شیدی کا انٹرویو

مقبول ترین تاریخی نعرے ’مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈے سوں‘ کے خالق ہوشو شیدی کے قبیلے سے تعلق رکھنے والی تنزیلہ شیدی، اپنی قوم کی پہلی خاتون ہیں، جو رُکن سندھ اسمبلی ہیں۔ جنگ آزادی کے جنگ جو امر روپلو کوہلی کی برادری کی کرشنا کوہلی اور جرنیل ہوشو شیدی کے قبیلے کی اس خاتون کی ایوانوں تک رسائی پر، عوامی حلقوں میں پیپلز پارٹی کے اقدام کو سراہا جا رہا ہے۔ تنزیلہ حبیب سے ملاقات کے دوران ہونے والی

Read more

اسد محمد خاں سے چند باتیں

پار سال اسد محمد خاں ایک ادبی تقریب میں شرکت کے لیے لاہور تشریف لائے، پہلی بار ملاقات ہوئی، بہت شفیق اور وضع دار شخصیت، نہایت اطمینان سے گفتگو کرتے اور اس گفتگو میں اُن کی آنکھیں اور چہرے کے تاثرات ایسے مزے سے شامل رہتے کہ ہم مسلسل اِسی دبدھا میں رہے کہ اُن کو دیکھیں یا اُن سے بات کریں۔ باتوں باتوں میں خیال آیا کہ کیوں نہ اِن باتوں کو آپ سب کے واسطے محفوظ کر لیا

Read more

نوجوان صحافی علم اللہ کے سفرنامے پر ان سے خصوصی مکالمہ

اردو میں سفرناموں کی روایت گرچہ نئی نہیں ہے، لیکن معیاری سفرناموں کی کمی ہمیشہ محسوس ہوئی ہے۔ ہمیں حسرت ہی رہی کہ ہمارے یہاں چند درجن اس پائے کے سفرنامے ہوتے، مثلا؛ شبلی، مستنصر حسین تارڑ، ابن انشا، اے حمید وغیرہم نے لکھا۔ ہندی کا بھی معاملہ کچھ ایسا ہی رہا۔ ایک راہل سانکرتیاین ضرور ہیں، انھوں نے اس صنف کو نئی جلا بخشی۔ موجودہ دور میں جب کہ نئے لکھاریوں پر فکشن نگاری بلکہ منٹو بننے کا بھوت سوار

Read more

پٹیالہ گھرانے کے نامور گائیک استاد حامد علی خان سے ایک گفتگو

یہ ذکر ہے ڈیئر بورن، مشی گن (امریکہ) کی ایک یادگار رات کا جب برصغیر کے ایک نامور کلاسیکی موسیقار و گلوکار سُروں کی ادائیگی کا فریضہ عبادت کی طرح ادا کررہے تھے۔ سامعین محفل ہمہ تن گو ش تھے۔ فضا میں سُروں کا فسوں سر چڑھ کر بول رہا تھا اور لاگی رے توسے لاگے نجر سیاں لاگے کے خوبصورت بول کی تکرار جاری تھی۔ روح پرور موسیقی کی اس محفل کو سجانے والے فنکار پٹیالہ گھرانے کے وہ

Read more

مولانا فضل الرحمن سے انتہا پسندی کے اسباب پر گفتگو (پہلا حصہ)

جمعیت علمائے اسلان کے سربراہ اور پاکستان کے ممتاز سیاسی رہنما مولانا فضل الرحمن صاحب نے ہم سب کی ٹیم کی درخواست پر 4 مئی 2017 کو اسلام آباد میں عدنان خان کاکڑ، فرنود عالم اور وسی بابا سے ملاقات کی۔ عام تاثر یہ ہے کہ مولوی کسی فکری مخالف کو برداشت نہیں کرتے۔ مگر مولانا سے مل کر یہ تاثر دور ہوتا ہے۔ وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ انٹرویو کرنے والے لبرل اور سیکولر خیالات کے حامل افراد

Read more

ممتاز دانشور اور بائیں بازو کے عظیم رہنما عابد حسن منٹو کا خصوصی انٹرویو (1)

آٹھ دہائیوں پر مشتمل بھرپور تحریکی زندگی گزارنے والے اس شخص سے مل کر لگتا ہے کہ بڑھاپے نے ان کا کچھ نہیں بگاڑا۔ وہ استوار لہجے میں دلیل کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ مکالمے کے دوران وقفے وقفے سے ان کے چہرے پر پھیلتی شگفتہ مسکراہٹ ماحول میں تازگی کا احساس دلاتی ہے۔ یہ عابد حسن منٹو ہیں۔ پاکستان کے ممتاز وکیل اور بائیں بازو کے نمایاں سیاست دان۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سبھی نشیب وفراز انہوں نے

Read more