کوفی عنان‘ اقوامِ متحدہ اور عالمی امن


کوفی عنان وہ بین الاقوامی شہرت یافتہ امن کے پیامبر ہیں جنہیں دسمبر2001 ءمیں اقوامِ متحدہ اور عالمی امن کی خدمات کے صلے میں امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ یہ انعام انہیں 11 ستمبر 2001 ء کے سانحے کے چند ہفتوں کے بعد ملا۔ اپنے امن کے خطبے میں کوفی عنان نے فرمایا کہ ’ ہم نئی صدی میں آگ کے دروازے سے داخل ہوئے ہیں۔ 11 ستمبر کے المیے کے بعد ہم سب پر واضح ہو گیا ہے کہ اب دنیا کے ہر طبقے‘ ہر قوم اور ہر مذہب کے انسان غیر محفوظ ہیں۔ اب ہمیں ایسے رشتے تعمیر کرنے ہیں جو انسانیت کے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔‘
کوفی عنان نے 1962ء میں اقوامِ متحدہ میں کام کرنا شروع کیا تھا۔ وہ اپنی محنت شاقہ سے ترقی کرتے ہوئے اس ادارے کے سیکرٹری جنرل بن گئے۔ کوفی عنان وہ پہلے افریقی نژاد تھے جنہیں یہ مقام اور احترام ملا۔ انہوں نے اپنی سیاسی سوانح عمری INTERVENTIONS: A LIFE OF WAR AND PEACE میں اپنے خوابوں اور آدرشوں ‘ مسائل اور ان کے حل کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ انہوں نے مختلف ممالک کے ان سیاسی رہنماﺅں سے اپنی ملاقاتوں کا ذکر بھی کیا ہے جن کے اعصاب پر جنگ سوار تھی اور ان کا بھی جو امن کے پیمبر تھے۔ انہوں نے اپنی کتاب میں اپنی سیاسی بصیرتیں بھی پیش کی ہیں اور قارئین کو بتایا ہے کہ کس طرح چند امیر اور طاقتور ممالک کے رہنما بہت سے غریب ممالک کے عوام کی زندگیوں کے فیصلے کرتے ہیں۔ کوفی عنان اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ سیاسی حلقوں میں وہ ’امن کی فاختہ‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں کیونکہ ان کا ایمان ہے کہ ساری دنیا کے دشمن جنگ کی بجائے مکالمے سے اپنے سیاسی مسائل کا حل تلاش کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر وہ امن کا مکالمہ جسے طاقتور رہنماﺅں کی پشت پناہی حاصل ہو۔ کوفی عنان امن کے حق میں ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ عالمی امن قائم کرنے کے لیے ہمیں نہ صرف سیاسی رہنماﺅں میں امن کا شعور پیدا کرنا ہوگا بلکہ ساری دنیا کے عوام کے وہ معاشی‘ سماجی اور سیاسی مسائل بھی حل کرنے ہوں گے جن کی کوکھ سے شدت‘ وحشت اور دہشت پیدا ہوتے ہیں۔

کوفی عنان اپنی کتاب میں وہ درس بیان کرتے ہیں جو انہوں نے اقوامِ متحدہ میں پچاس سال کام کرنے‘ یورپ‘ ایشیا‘ افریقہ اور یورپ میں گھومنے اور مختلف ممالک کے رہنماﺅں سے مل کر سیکھے۔ کوفی انان امن قائم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانے‘ حتیٰ کہ دشمن سے ہاتھ ملانے‘ کے لیے بھی تیار رہتے تھے۔

کوفی عنان امن کے مختلف محاذوں پر کام کرتے رہے۔ انہوں نے اپنے امن کے مکالموں سے بہت سی جنگوں کو روکا۔ ان کی زندگی میں کئی ایسے مواقع بھی آئے جب وہ بہت حیران و پریشان ہوئے۔اس کی ایک مثال پاکستان میں ان کی ملاقات افغانی وزیر خارجہ احمد متوکل سے تھی۔ جب کوفی عنان نے احمد متوکل سے کہا کہ وہ اسامہ بن لادن کو اقوامِ متحدہ کے حوالے کر دیں تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ وہ ان کے معزز مہمان ہیں۔ کوفی عنان نے جب احمد متوکل کو یہ دھمکی دی کہ اگر افغانی رہنما اسامہ بن لادن کو اقوامِ متحدہ کے حوالے نہیں کریں گے تو ان کے عالمی سفر پر پابندیاں عاید کر دی جائیں گی۔ کوفی عنان کی دھمکی سن کر غصہ ہونے کی بجائے احمد متوکل مسکرائے اور کہنے لگے’ آپ کی پابندیوں کا ہم پر کوئی اثر نہ ہوگا۔ ہم افغانستان میں خوش ہیں۔ ہمیں کہیں نہیں جانا‘۔ اس جواب نے کوفی انان کو لاجواب کر دیا۔ اس دن کوفی عنان کو اندازہ ہوا کہ مشرق اور مغرب کی سوچ میں کتنا بعد ہے۔
کوفی عنان اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود 11 ستمبر 2001ء کے سانحے کو نہ روک سکے۔ جہاں کوفی عنان اپنی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہیں وہیں وہ اپنی ناکامیوں کا ذکر کرتے ہوئے بھی نہیں گھبراتے۔ انہوں نے کھل کر لکھا ہے کہ اقوامِ متحدہ روانڈا مین مثبت کردار ادا نہ کر سکا۔

کوفی عنان کی روانڈا کی کہانی پڑھتے ہوئے مجھے کنیڈین فوجی جنرل LIEUTENANT GENERAL ROMEO DELLAIRE کی کہانی یاد آگئی جو انہوں نے اپنی کتاب SHAKE HANDS WITH THE DEVIL: THE FUTURE OF HUMANITY IN RAWANDA میں لکھی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے روانڈا میں امن قائم کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ سے مدد مانگی تھی لیکن انہیں بر وقت مدد نہ ملی اور خانہ جنگی میں ہزاروں معصوم جانیں ضائع ہو گئیں۔

کوفی عنان نے جب بھی کسی جنگ کا ذکر تو انہوں نے غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کیا اور دونوں فریقوں کو جنگ کا ذمہ دار ٹھہرایا۔جب وہ لبنان کے حزب اللہ پر اعتراض کرتے ہیں کہ انہوں نے اسرائیل پر حملہ کر کے جنگ کا آغاز کیا تو یہ بھی کہتے ہیں کہ اسرائیل کا ردِ عمل حد سے زیادہ جارحانہ تھا۔ انہوں نے جب اسرائیلی رہنما EHUD OLMERT سے درخواست کی کہ وہ لبنان پر جارحانہ اقدامات کم کردیں تو انہوں نے حملے کم کرنے کی بجائے بڑھا دیے۔ کوفی عنان ان تمام اسرائیلی‘ برطانوی اور امریکی رہنماﺅں سے اختلاف کرتے ہیں جو جنگ کو معاشی‘ سماجی‘ مذہبی اور سیاسی مسائل کا حل سمجھتے ہیں۔
کوفی عنان عراق کی جنگ کا تفصیلی تجزیہ کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ اقوام، متحدہ صدام حسین سے پر امن مکالمہ کر رہی تھی لیکن امریکہ نے بے صبری کا مظاہرہ کیا اور عراق پر حملہ کر دیا۔ جب کوفی عنان صدام حسین سے ملنے گئے تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا ’ہم جانتے ہیں کہ بعض طاقتیں نہیں چاہتیں کہ آپ ہم سے ملیں‘۔کوفی عنان کا موقف ہے کہ اگر امریکہ کچھ انتظار کرتا تو وہ جنگ روکی جا سکتی تھی۔ اسی طرح کوفی عنان نے معمر قذافی سے ملاقات کا بھی ذکر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی بعض کوششیں کامیاب رہیں بعض ناکام لیکن وہ پھر بھی کوشش کرتے رہے۔ ان کا خیال ہے کہ ناکام کوشش کرنا بالکل کوشش نہ کرنے سے بہتر ہے۔

کوفی عنان صدام حسین کو عراق کی جنگ کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں لیکن وہ اس جنگ کی شدت اور بربریت کا صدام حسین سے بھی زیادہ برطانیہ اور امریکہ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ کوفی انان کا کہنا ہے کہ وہ جب بھی کسی جنگ سے پہلے برطانوی اور امریکی رہنماﺅں سے پوچھتے تھے AFTER THE BOMBING THEN WHAT? تو ان کے پاس کوئی تسلی بخش جواب نہ ہوتا تھا۔

کوفی عنان اس حقیقت سے بھی پردہ اٹھاتے ہیں کہ برطانوی اور امریکی پالیسی عراق کے لیے کچھ اور تھی اور اسرائیل کے لیے کچھ اور۔ وہ اسرائیل کی غلطیوں سے درگزر کرتے رہے لیکن عراق کو اس کی غلطیوں کی سزا دیتے رہے۔ کوفی عنان اپنی کتاب میں برطانوی لیڈر ٹونی بلیئر اور امریکی لیڈر جارج بش کی جارحیت کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔ کوفی عنان کی زندگی میں ایک لمحہ ایسا بھی آیا جس میں انہوں نے سچ بولا اور وہ اقوامِ متحدہ کی ملازمت سے بر طرف کر دیے گئے۔ بی بی سی کے ایک انٹرویو کے دوران صحافی نے پوچھا ’کوفی عنان! کیا امریکہ کا عراق پر حملہ غیر قانونی تھا؟‘

کوفی عنان نے جواب دیا ’ ہاں‘

اس انٹرویو کے بعد کوفی عنان کے امریکی دوست TED SORENSON نے‘ جو صدر کینیڈی کی تقریریں لکھا کرتے تھے‘ کوفی عنان کو ایک ای میل لکھا جس میں اس نے کوفی عنان کو پہلے سچ کہنے کی مبارکباد دی اور پھر یہ پیش گوئی کی کہ ایک سچے لفظ ’ہاں‘ کہنے کی وجہ سے وہ دوبارہ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری نہیں بنیں گے۔ سورنسن کی پیش گوئی صحیح ثابت ہوئی۔ کوفی عنان کو سچ بولنے کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔

کوفی عنان اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ القاعدہ‘ صدام حسین اور حزب اللہ عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں لیکن وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ القاعدہ‘ حزب اللہ اور صدام حسین سے کہیں بڑا خطرہ اسرائیل‘ امریکہ اور برطانیہ ہیں کیونکہ وہ زیادہ طاقتور ہیں۔

کوفی عنان اقوامِ متحدہ کی پالیسی میں یہ تبدیلی لائے کہ اقوامِ متحدہ کی وفاداری حاکموں سے نہیں عوام سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومت کی بجائے معصوم عوام کے حقوق کا احترام کرتے ہیں۔ کوفی عنان کی سیاسی سوانح عمری ایک حساس دل کی لکھی ہوئی کتاب ہے جس میں سیاسی بصیرت بھی ہے اور دانائی بھی۔ اس کتاب کے آئینے میں بیسویں صدی کا چہرہ صاف دکھائی دیتا ہے۔ وہ کتاب عالمی امن قائم کرنے کے لیے ایک اہم دستاویز اور عالمی امن کے ادب میں ایک گرانقدر اضافہ ہے۔ میری نگاہ میں یہ کتاب عالمی سیاست کے ہر سنجیدہ قاری کو ضرور پڑھنی چاہیے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔