آیا ساون جھوم کے!! 

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گرمی کے رمضان میں روح افزا کے بعد جس بات کی سب سے زیادہ خوشی ہوتی ہے وہ ہے برسات۔ شمالی پنجاب میں یوں تو ہفتے میں ایک دن جھلا پڑ ہی جایا کر تا ہے مگر کل سے خوب آندھی بھی چل رہی ہے اور دھواں دھار بارش بھی ہوئی ہے ۔ یہ ہے ساون سے پہلے ہاڑ کا موسم، پکوان کا موسم۔ جو جیٹھ کے بعد آتا ہے۔ پری مون سون۔ سمجھ نہیں آتا کہ ساون کے جھولے ڈال کے افطاری کے پکوان بنا کے دل کو باغ باغ کر لوں یا بادلوں کو گرجتا دیکھ کے خوف سے کانپنا شروع کر دوں۔ جی ہاں خوف سے۔ مگر قارئین، میری مراد قطعی طور پہ گرج چمک کے خوف سے نہیں ہے۔ جانتے ہیں پھر کیا ہے وہ خوف؟ تو آگے پڑھیے۔

سارے کاموں سے نمٹ کے ساڑھے پانچ بجے صبح سوچا کہ اب سویا جائے تو شدید بارش شروع ہو گئی۔ بجلی غائب۔ مگر فکر نہ کریں پھر سے بجلی کا رونا نہیں شروع ہونے والا۔ بس تھوڑا سا احوال۔ گھر کی اوپری منزل کے کمرے گرمی میں تندور بنے ہوتے ہیں۔ پنکھے بھی کام نہیں آتے ۔ پسینے سے صبح ہی سے نمکیات کی کمی لگنے لگی۔ خیر اس آس پہ نوکری سدھارے کہ واپسی میں بجلی ہو گی تو نیند پوری کی جائے گی۔ واپس آ کے بجلی کو گھر میں دیکھ کے خوشی سے ناچ گانے کا دل چاہا۔ ابھی آدھ گھنٹہ بھی نہ گزرا تھا کہ اندھیری چھا گئی۔ انتہائی گرمی اور 46 درجہ حرارت کے بعد اللہ مہربان ہوا تھا۔ ابھی ہوا چلنی شروع بھی نہ ہوئی تھی کہ بجلی پھر سے غائب۔ سوچا کہ احتیاطی تدابیر کے طور پہ بند کی گئی ہو گی مگر ہائے ری معصومیت۔ آندھی آئی اور گزر بھی گئی۔ خوب کھل کے بارش برسی اور گزر گئی۔ افطاری بھی اسی طرح گزر گئی۔ رات ہو گئی۔ برسات میری شروع سے کمزوری رہی ہے۔ ایک زندگی سی بھر جاتی ہے بادلوں کے آنے سے، ایک توانائی کا احساس جنم لیتا ہے۔ صحن میں چلتی سوندھی سوندھی ہوا اچانک سے دل اڑا لے گئی۔ اماں میرے باوا کو بھیجو ری کہ ساون آیا۔ مگر نہ اماں رہیں اور نہ ہی باوا اتنے شارٹ نوٹس پہ آ سکتے ہیں۔ دل خو د ہی کراچی کی گلیوں میں اڑتا چلا گیا۔ وہ بکھری ہوئی شرارتیں، وہ بوندوں کا جشن، وہ کچے پکے وعدے، پکوان کی فرمائشیں، سہیلیوں کے ساتھ لمبی واک، ایک دوسرے پہ پانی اچھالنا، بے فکری کا راج ہی راج، مجھے اڑائے ہی لیے جا رہا ہے، لگتا ہے کہ کراچی میں میرے محلے میں جا کے ہی دم لے گا۔

امی امی ۔ ذرا سنیں بھئی ، اتنی لمبی لسٹ نہیں ہوتی پوری مجھ سے۔ ایک تو یہ بڑا مسئلہ ہے گھر والوں کا۔ جہاں دو بوندیں برسیں، وہاں پکوڑوں، بیسن کی روٹی، آلو کے پراٹھوں اور میٹھی ٹکیوں کی فرمائشیں شروع۔ یہ میری بہن کی تنگ آئی ہوئی آواز تھی جن کی ککنگ خاندان بھر میں مشہور ہے۔ ہم کراچی والے ذرا ساون کے زیادہ ہی رسیا ہوتے ہیں جبکہ یہاں پنجاب کے اس حصے میں تو لوگ بارش کے عادی ہوا کرتے ہیں۔ تو پنجاب میں جب کبھی بارش ہونے پہ خوشی سے پاگل ہو جاﺅ تو لوگ عجیب حیرت بھری نظروں سے دیکھتے ہیں کہ اس میں اتنا کیا کمال ہے۔ بارش ہی تو ہے( لیکن لاہور میں زندگی کے کافی رنگ ہیں ابھی بھی)شایدایسا اس لیے بھی ہو کہ پنجاب میںبارش کے بعد جس طرح پانی فوراً غائب ہو جاتا ہے اسی طرح بجلی۔ سڑکیں صاف۔ اب اس میں کیا مزہ۔ ہم تو پہلے گھر بھر کے لوگ بلکہ سارا کراچی بارش میں چھپا چھپ کرتا ہے، بچے کیا، بوڑھے کیا۔ پھر گیلے کپڑوں کا گھر میں انبار لگا دیتے ہیں اور بننے شروع ہوتے ہیں پکوان۔ ہر ایک کی الگ فرمائش۔ خوشی اور زندگی سے بھر پور ساون کا دن، بیسن کی روٹی اور اچار سے مہکتا ہوا الگ ہی رنگ پیش کرتا ہے۔ آنکھوں آنکھوں میں بوندوں میں تھرکتے لفظوں کا تبادلہ ہوتا ہے جو رومانوی اعتبار سے بھی ہر دل عزیز ہے۔ پھر ایک دوسرے کے علاقوں میں بارش ناپنے کا مقابلہ کرتے ہیں۔ گلیوں کے ابلتے سمندر میں سے جان بوجھ کے گزرتے ہیں۔ گھٹنوں تک پانی بھر جاتا ہے اور اس میں کشتی چلاتے ہیں اور ہاں یہ میں کسی کچی بستی کا حال نہیں لکھ رہی۔ بھئی پانی کا بھر جانا تو اب بڑے سے بڑے علاقوں کی شان بن چکا ہے چاہے وہ ڈیفنس ہو کہ گلشن۔ خوب مشہوری ملتی ہے۔ منچلے ایسے میں بھی سمندر تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں موٹر سائیکلوں پر اور دیوانہ وار ناچتے گاتے پھرتے ہیں، جگہ جگہ رقص کرتے ہیں، اور جناب پھر ہوتی ہے شام۔ اوہو یاد آیا۔ ایک ضروری چیز تو ہے ہی نہیں جو اچانک یاد آنے پہ ساری خوشی اڑا کے لے گئی۔ جی جناب۔ بجلی۔ ایک طرف موم بتی پہ پروانے، حبس اور دوسری طرف دن کی دلفریب اندھیری تبدیل ہو گئی رات کے چبھتے ہوئے اندھیرے میں اور ساری خوشی بھپارا بن کے اڑ گئی۔ ساون کی خوشی سورج کے ساتھ ڈھل گئی اور کوسنے شروع ہو گئے۔ جیسے کہ بوند پڑنے کی دیر ہوتی ہے بس، اللہ غارت کرے بجلی والوں کو۔ تھوڑٰی ہی دیر میں ہم بھی پنجاب کے لوگوں کے ساتھ ان کے دکھ میں برابر کے شریک ہوئے کھڑے تھے۔

دونوں جگہ ہی آندھی اور بارش کے بعد بجلی کا انتظار تھا شدت سے۔ اب کراچی کی خوشی بھی تھکن میں بدل رہی تھی جبکہ یہاں کبھی کبھار ہی بارش ہوتی ہے اور اس طرح پنجاب کا دکھ صاف نظر آرہا تھا جہاں ہفتے میں دو دفعہ تو بارش ہو ہی جایا کرتی ہے۔ چوبیس گھنٹے بھی مکمل ہو گئے مگر بجلی نہ آئی۔ پھر بجلی آئی مگر شاید اس پہ دس منٹ کا الارم لگا ہوا تھا۔ ہر دس منٹ پھر اگلے دس منٹ۔ ارے بھئی بہت ہو گیا بجلی بجلی اور بجلی کا رونا۔ مگر مجھے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ تار کیا موم کے بنے ہیں یا ٹرانسفارمر کاغذ کے؟ پانی بھر کیوں کر جاتا ہے گلیوں میں؟ یا یہاں کا موسم نیا ہو گیا ہے بدل گیا ہے کہ جس سے سارے بلدیاتی ادارے نا آشنا ہیں۔ آخر کس طرح کی مرمت ہوتی ہے مون سون سے پہلے۔ یہ کیسا تحفہ ملتا ہے ہمیں ابر رحمت کا۔ کیوں ان چوروں اور کام چوروں سے نجات نہیں ملتی ہمیں اور کراچی میں تو جناب ان آرام طلبوں کو تو یہ زحمت ہی کم کم ملا کرتی ہے کہ یہاں بارش نہیں ہوتی زیادہ۔ مگر سالوں سے وہی شور کہ برسات سے پہلے اقدامات نہیں ہوئے۔ چلیں صفائی تو درکنار، آپ تاروں کی مضبوطی ، ٹرانسفارمر اور گٹر ہی دیکھ لیا کریں۔ آخر کیوں اتنے اذیت پسند اور بے ایمان ہیں؟ میرا کراچی تہس نہس کر کے کچرا گھر تو بنا ہی چکے ہیں، اب جس نام کے اعتبار سے مشہور ہے اس سے وہ بھی چھین لیا گیا ہے۔ ’روشنیوں کا شہر‘ ۔ میں پھر جب کسی باہر کے ملک کی مثال لکھتی ہوں تو سوئی ہوئی روحیں تڑپ اٹھتی ہیں۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ میں ساون کے بارے میں لکھ رہی تھی تو اپنا دل کھول کے لکھتی۔ موسم کا احوال، بوندوں کا احوال جیسے کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے احمد نگر جیل سے اپنے خط میں لکھا تھا۔ کس خوبصورتی سے ایک ایک موسم کا بتایا لیکن سردی کے رسیا تھے ، اس کے بارے میں خوب لکھتے ہیں، کہتے ہیں افسوس یہ ہے کہ ہندوستان کا موسم سرما اس درجہ تنک مایہ ہے کہ ابھی آیا نہیں اور جانا شروع کر دیتا ہے۔ جب تک وہ آتا نہیں اس کے انتظار میں دن کاٹتا ہوں، جب آتا ہے تو اس کی آمد کی خوشیوں میں محو ہو جاتا ہوں لیکن اس کا قیام اتنا مختصر ہوتا ہے کہ ابھی اس کی پذیرائیوں کے سرد برد سے فارغ نہیں ہوا کہ اچانک ہجراں و وداع کا ماتم سر پر آ کھڑا ہوتا ہے۔

یہ سب پڑھ کے اپنا آپ عجیب ذہنی مریض لگتا ہے جو آٹے ، دال، بجلی ، مہنگائی کے تماشوں سے نکل ہی نہیں پاتا، کیا کھل کے لکھیں اور کیا خوش ہوں۔ سچ کہوں تو شکر ہی ہے کہ کراچی میں برسات مختصر ہی ہے۔ ورنہ کیا ساون جھومتا اور کیا جھولے پڑتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •