امریکہ کی یقینی تباہی کا وقت آ گیا


بزرگوں کی پیش گوئیوں پر کان دھرنے والا ہر ذی شعور شخص اس وقت دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ کو خوب غور سے دیکھ رہا ہے۔ آج سے ساڑھے چھے سو برس پہلے حضرت شاہ نعمت اللہ ولی کرمانی کشمیری نے ناقابل یقین پیش گوئیاں کی تھیں جو آج تک حرف بہ حرف درست ثابت ہوتی آ رہی ہیں۔ خوش قسمتی سے ہمیں یہ نادر پیش گوئیاں ایک معتبر ویب سائٹ پر مل گئی ہیں جن کی مدد سے ہم قلوب کو گرما دینے والا ایک بہترین تجزیہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ شاہ صاحب نے کئی سو برس بعد پیدا ہونے والے خاندان مغلیہ کے بادشاہوں کے نام تک بتا دیے تھے۔ ان کے دیوان میں سکھ قوم اور بابا نانک کا ذکر بھی ملتا ہے۔ انہوں نے انگریزوں کے ہندوستان پر قبضے کی پیش گوئی کر دی، پہلی اور دوسری جنگ عظیم کا ذکر کیا اور پھر قیام پاکستان اور سقوط ڈھاکہ کا ذکر کچھ یوں کیا:

دو حصص چوں ہند گردد، خوں آدم شد رواں
شورش و فتنہ فزوں از گماں پیدا شود​
ترجمہ:جب ہندوستاں دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا۔ انسانوں کا خون بے دریغ جاری ہو گا۔ شورش و فتنہ انسانی سوچ سے بعید ہو گا۔

مومناں یابند اماں در خطہء اسلاف خویش
بعد از رنج و عقوبت بخت شاں پیدا شود​
ترجمہ: مسلمان اپنے اسلاف کے علاقے (پنجاب، سندھ، سرحد، بلوچستان) میں پناہ حاصل کر لیں گے۔ اس رنج اور مصیبت کے بعد ان میں بخت آوری ظاہر ہو گی۔

نعرہء اسلام بلند شد بست وسہ ادوار چرخ
بعد ازاں بار دگر یک قہرشاں پیدا شود​
ترجمہ: اسلام کا نعرہ تئیس سال (1947ء تا 1970ء) تک بلند رہے گا۔ اس کے بعد دوسری بار ان پر ایک قہر ظاہر ہو گا۔

اس کے بعد وہ اکتوبر 2005 کے قیامت خیز زلزلے کے بارے میں بتاتے ہیں
یک زلزلہ کہ آید چوں زلزلہ قیامت
آں زلزلہ بہ قہر در ہند سند ہیانہ​
ترجمہ: قیامت کے زلزلوں کی مثل ایک زلزلہ آئے گا اور وہ زلزلہ ہندوستان اور سندھ میں قہر بن کر نمودار ہو گا۔

اور پھر تیسری جنگ عظیم چھڑ جائے گی جس کے نتیجے میں ایک الف کو رے تباہ کر دے گا۔ اپنی گزشتہ پیش گوئیوں میں شاہ صاحب روس کو رے اور امریکہ اور انگلستان کو الف کہتے رہے ہیں۔
چوں ہند ہم بہ مغرب قسمت خراب گردد
تجدید یاب گردد جنگ سہ نوبتانہ​
ترجمہ: ہندوستان کی طرح مغرب یعنی یورپ کی تقدیر بھی خراب ہو جائے گی۔ تیسری جنگ عظیم شروع ہو جائے گی۔

آں دو الف کہ گُفتم الفے تباہ گردد
را حملہ ساز باید بر الف مغربانہ​
کاہد الف جہاں کہ یک نقطہ رونماند
الا کہ اسم و یادش باشد مؤرخانہ​
ترجمہ: دو الف (انگلستان اور امریکہ) جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں، ان میں سے ایک الف تباہ ہو جائے گا۔ رے الف پر حملہ کر دے گا۔ الف اتنا تباہ ہو گا کہ اس کا ایک نقطہ بھی باقی نہ رہے گا سوائے یہ کہ اس کا نام اور تذکرہ تاریخ کی کتابوں میں باقی رہ جائے گا۔

چترال، ناگا پربت، باسین، ملک گلگت
پس ملک ہائے تبت گیر نار جنگ آنہ​
یکجا چوں عثمان ہم چینیاں و ایراں
فتح کنند ایناں کُل ہند غازیانہ​
ترجمہ: چترال، نانگا پربت، چین کے ساتھ گلگت کا علاقہ مل کر تبت کا علاقہ میدان جنگ بنے گا۔ ترکی، چین اور ایران والے باہم یکجا ہو جائیں گے۔ یہ سب تمام ہندوستان کو غازیانہ طور پر فتح کر لیں گے۔ نوٹ کریں کہ شاہ صاحب کی روشن ضمیری کا یہ حال تھا کہ وہ ساڑھے چھے سو برس پہلے نہ صرف مستقبل کے حکمرانوں اور بادشاہوں کے نام تک جانتے تھے، بلکہ ان کو پہاڑوں اور علاقوں تک کے وہ نام بھی معلوم تھے جو آج مستعمل ہیں۔

یعنی آپ ان پیش گوئیوں کے ذریعے جان چکے ہیں کہ نہ صرف ہندوستان کی فتح نزدیک ہے جو ہم چین، ترکی، افغانستان اور ایران کی مدد سے کریں گے، بلکہ امریکہ بھی صفحہ ہستی سے ایسا مٹے گا کہ اس کا نام ہی تاریخ کی کتابوں میں باقی بچے گا۔

اب آپ اس وقت موجودہ بین الاقوامی صف بندی پر نگاہ دوڑائیں۔ افغانستان میں روس کے بعد امریکہ بھی شکست کھا چکا ہے۔ روس اور چین پاکستان کے اتحادی بن چکے ہیں۔ چین سی پیک تعمیر کر رہا ہے جس کے سڑک اور ریل کے روٹ کے ذریعے جنگ کی صورت میں تیزی سے فوجی نقل و حرکت ممکن ہو گی۔ مگر اس سب سے بڑھ کر آپ امریکہ کے حالات پر نظر ڈالیں۔

امریکہ پر پہلے ٹرمپ حکمران بنا یعنی اس کی آدھی تباہی ہو گئی۔ ادھر نسلی ہنگامے پھوٹ پڑے۔ ادھر کے لبرل دب گئے۔ اور پھر کل وہاں مکمل سورج گرہن ہی لگ گیا۔ سورج گرہن کو زمانہ قدیم سے ہی ہر ذی شعور اور منطقی اندازِ فکر رکھنے والا شخص شدید نحوست اور تباہی کی علامت سمجھتا ہے۔ کیا آپ نے نوٹ کیا ہے کہ اس گرہن کے فوراً بعد ٹرمپ نے ایٹمی طاقت پاکستان کو دھمکیاں دی ہیں اور بھارت کی تباہی کا سامان کرتے ہوئے اس کو افغانستان میں بڑا رول دے رہا ہے؟ یعنی اپنی تباہی کا آخری سامان بھی کر لیا اور ہندوستان کی بھی۔ دوسری طرف آپ نے یہ بھی نوٹ کیا ہو گا کہ پاکستان میں سورج گرہن نہیں ہوا کیونکہ خدا نے ایسی رحمت کی کہ جس وقت سورج گرہن ہونا تھا، اس وقت پاکستان میں رات کا وقت تھا اور یوں پاکستان اس نحوست سے بچ گیا جس نے امریکہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

امریکہ میں مکمل سورج گرہن کے بعد دن کے وقت بھی رات کی سی تاریکی چھائی تو اگلے دن ہی امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی نئی افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کو دھمکیاں دے ڈالیں۔ امریکہ شاید یہ بھول گیا تھا کہ دنیائے اسلام کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان پر بزرگوں کا سایہ ہے اور اسی نے عظیم اور مہیب سپر پاور سوویت یونین کو بھی شکست فاش دے کر نیست و نابود کر دیا تھا۔ امریکہ کا بھی وہی انجام ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ہمیں یہ بھی دکھائی دے رہا ہے کہ سی پیک بنتے ہی تیسری عالمی جنگ چھڑ جائے گی جس کے بعد امریکہ کا نام صرف کتابوں میں ہی باقی رہے گا۔

اب امریکہ کا بچنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ امریکہ کو رتی برابر بھی اندازہ نہیں ہے کہ وہ تباہی کے کس قدر قریب پہنچ چکا ہے کیونکہ اس نے ہماری طرح حضرت شاہ نعمت اللہ ولی کی پیش گوئیاں نہیں پڑھ رکھی ہیں۔ امریکہ اپنے مال و دولت، ہتھیاروں، مصنوعی سیاروں، ڈرونوں اور فیس بک پر اتراتا رہے، وہ ہمارے بھوکے اور بے سر و سامان مجاہدین کے آگے بے بس ہو گا۔ ہمارے جوتے بھی اس کے ڈرون گرا دیں گے۔ حضرت اقبال فرما گئے ہیں
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
(ختم شد)

اسی بارے میں

شاہ نعمت اللہ ولیؒ کی ہندوستان کی فتح کی پیش گوئی


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 667 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar