مرنے والی کی ایک معصوم شرارت
چار سال پہلے برطانیہ سے تعلق رکھنے والے معمر شخص نائیجل کی اہلیہ نکول کینسر کے باعث دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ ہنس مکھ نکول نے موت سے قبل اپنے شوہر سے وعدہ لیا کہ وہ ان کے بعد ان کے پودوں کا ہمیشہ خیال رکھیں گے۔ نائیجل نے وعدہ کیا اور پھر جب ان کی اہلیہ دنیا سے رخصت ہو گئیں تو اس وعدے کو خوب نبھایا بھی۔
وہ ان پودوں کو گزشتہ چار سال سے باقاعدگی کے ساتھ پانی دیتے رہے، لیکن حال ہی میں ایک ایسا انکشاف سامنے آیا کہ بوڑھے نائیجل اپنی آنجہانی اہلیہ کی شرارت پر بے اختیار مسکرانے پہ مجبور ہو گئے۔
میل آن لائن کے مطابق اس دلچسپ واقعے کا احوال نائیجل کی بیٹی انٹونیا نے ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان کیا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ان کی والدہ کی دنیا سے رخصتی کے بعد ان کے والد پودوں کو اپنی اہلیہ کی نشانی جان کر ان کا بے حد خیال رکھتے تھے۔ وہ کسی مذہبی فریضے کی طرح باقاعدگی سے انہیں پانی دیتے تھے اور یہ سلسلہ گزشتہ چار سال سے جاری تھی۔
حال ہی میں انہوں نے گھر سے ایک اولڈ ہاﺅس میں منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تو پودے بھی ساتھ لے جانے کا فیصلہ کیا۔ تب جا کر پہلی بار انہیں پتا چلا کہ جن پودوں کو وہ گزشتہ چار سے پانی دے رہے تھے وہ دراصل پلاسٹک سے بنے مصنوعی پودے تھے۔
انٹونیا کا کہنا ہے کہ ان کے والد کمزور بصارت کے باعث کبھی یہ محسوس نہ کر پائے کہ پودے مصنوعی تھے۔ اتفاق سے کسی اور نے بھی کبھی ان پودوں کو اتنی توجہ سے نہیں دیکھا تھا کیونکہ یہ ان کے کمرے کی کھڑکی کی اندر رکھے ہوئے تھے، جہاں کم ہی کوئی جھانکتا تھا۔
حقیقت معلوم ہونے پر نائیجل بہت حیران ہوئے اور اپنی آنجہانی اہلیہ کی شرارت پر مسکرا اٹھے۔ انٹونیا کا کہنا تھا کہ اس موقع پر انہیں محسوس ہوا کہ ان کی آنجہانی والدہ بھی اپنے شوہر کو الو بنانے پر مسکرا رہی ہوں گی۔
پودوں کی اصل حقیقت معلوم ہونے کے باوجود نائیجل نے انہیں اپنے ساتھ لے جانے کا فیصلہ کیا، البتہ اب وہ انہیں پانی نہیں دیتے۔



