کارٹون بنانے سے نفرتیں پھیلانے تک کا سفر؛ بال ٹھاکرے کی کہانی


فن و ادب کا رسیا کوئی شخص عام طور پہ نفرتوں کا بیوپار پسند نہیں کرتا لیکن بال ٹھاکرے نے ایسا کرکے دکھایا۔

کم ہی لوگ جانتے ہوں گے کہ شیوسینا کے بانی بال ٹھاکرے جوانی میں ایک کارٹونسٹ تھے اور اخبارات میں کام کرتے تھے نیز فن وادب کے شوقین تھے۔

بال ٹھاکرے ایک متوسط طبقہ کے مراٹھی خاندان میں 23 جنوری 1926 کو بمبئی کے علاقے پونا میں بال کیشو سیتا رام ٹھاکرے کے گھر پیدا ہوئے ۔ ان کے باپ ایک پندرہ روزہ رسالے سے منسلک تھے۔ وہ سماجی راہنما اور ذات پات کے مخالف تھے۔

1950ء کے عشرے میں وہ ادبی متحدہ مہاراشٹر تحریک کے روح رواں تھے اور چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بھارت میں سیکولر نظام کا حامی ہو۔

بال ٹھاکرے اپنے والد کے خواب اور نظریوں سے متفق نہ ہو سکے۔ اور انہوں نے کارٹونوں کو اپنا ہتھیار بنا کر نفرت پھیلانا شروع کردی۔

بال ٹھا کرے نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ممبئی کے ایک رسالے میں مزاحیہ خاکے (کارٹونز) بنانے سے کیا۔ ان کے بعض خاکے ٹائمز آف انڈیا میں بھی شائع ہوئے۔ انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر مارمیک نامی ہفت روزہ کارٹون رسالہ نکالا۔ اس میں بال ٹھاکرے نے غیر مراٹھی گجراتیوں خصوصاً مسلمانوں اورجنوبی ہندوستان سے روزگار کے حصول کے لئے آئے لوگوں کو نشانے کی زد پر رکھا اور یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ممبئی صرف مراٹھی ہندوستانیوں کا ہے۔ انہوں نے کارٹون بنا کر مسلمانوں کی تضحیک شروع کی اور یہیں سے بعد ازاں باقاعدہ سیاست میں آنے اور مسلمانوں کے خلاف ہندووں کی عسکری تنظیم بنانے کافیصلہ کیا ۔

انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے قتل عام سے لیکر ان کے معاشی قتل اور اسلامی تمدن پر حملے کئے۔

واضح رہے کہ شیو سینا کٹر ہندو  تنظیم ہے جو بھارت میں دوسرے مذاہب کو پسند نہیں کرتی ۔شیو سینا ان  کے مرنے کے بعد بھی اپنا مذموم کاروبار جاری رکھے ہوئے ہے۔

Facebook Comments HS