زینب کو انصاف نہ سہی جواب تو دو
پیاری سہیلی! کتنے دن گزرے میں اسکول نہیں آ سکی۔ میں تمہیں بتانا چاہتی ہوں کہ اب میں نہیں آ پاؤں گی۔ پلیز مجھ سے ناراض مت ہونا اور ہر روز کی طرح میرے لیے اب بنچ پر جگہ بھی نہ رکھنا کیوں کہ اب میں کبھی اسکول نہیں آؤں گی۔ سنو، اگر تم اداس ہو جاؤ تو کسی اور کو سہیلی بنا لینا۔
میڈم! آپ بھی پلیز ناراض مت ہونا۔ میں نے سارا ہوم ورک مکمل کر لیا تھا۔ ٹیسٹ کی تیاری بھی پوری تھی۔ سوچا تھا کہ پورے نمبر لوں گی۔ سوری میڈم، میں اب ٹیسٹ بھی نہیں دے سکوں گی۔ میں نے بڑا امتحان دے دیا ہے۔ اب میں کبھی اور کوئی امتحان نہیں دے پاؤں گی۔
میں نے سوچا تھا کہ جب اماں واپس آئیں گی تو ٹیسٹ کی کاپی دکھا کر محلے والی دکان سے لال کپڑوں والی گڑیا خریدوں گی۔ مجھے وہ بہت پسند آئی تھی۔ اماں کے جانے سے پہلے جب دکان پر گئے تھے، تب میں نے وہ دیکھی تھی۔ تب ہی اماں نے کہا تھا کہ واپس آ کر دلا دوں گی۔ اماں، مجھے اب گڑیا نہیں لینی۔ اور ابا! آپ بھی اب مت سوچو کہ میں دروازے سے دوڑی آؤں گی اور آپ کے گلے سے لگ جاؤں گی۔ میں نہیں آؤں گی ابا۔ میرا انتظار مت کرنا۔
مجھے کسی سے کوئی شکوہ نہیں ہے۔ ہاں مگر میرے کچھ سوالات ضرور ہیں۔ مجھے انصاف نہیں دے سکتے تو میرے سوالوں کے جواب ہی دے دو۔
اماں کہتی ہے کہ ابا نے میرا نام زینب رکھا اور ہمیشہ یہی کہا کہ اس کو کچھ نہ کہو یہ میری زینب ہے۔ کیوں ابا؟ کیوں مجھے اتنا پیار دیا کہ مجھے گلاب کے ساتھ لگے کانٹے کبھی نظر ہی نہ آئے۔ میں تو سمجھی مجھے سب ابا کی طرح پیار کرتے ہیں۔ تم نے کیوں میرا نام زینب رکھا؟ کاش میرا نام مریم، بختاور یا آصفہ رکھ دیتے تاکہ میری بھی چادر اور چار دیواری کی حفاظت کرنے والے آگے پیچھے ہوتے۔ میرے بھولے ابا تمہیں معلوم ہی نہ تھا۔
ابا تمہیں یاد ہے نا ایک دن جب میرے کانوں میں آواز پڑی تھی کہ ”عدالت ہماری چادر اور چاردیواری کا خیال رکھے اور ہمارے گھر کی عورت کو کورٹ نہ بلائے“ تو میں یہ عجیب سے الفاظ سن پوچھنے لگی تھی کہ ابا یہ چار دیواری اور چادر کیا ہے؟ اس پر سب گھر والے ہنس دیے تھے اور کہا تھا کہ ابھی تو بہت چھوٹی ہے ابھی سمجھ نہیں پائے گی۔ دیکھو ابا۔ میں کتنی بڑی ہو گئی ہوں۔ اس دنیا کے گلاب میں لگے کانٹے بھی نظر آ گئے اور چادر اور چار دیواری بھی بولنا سیکھ گئی۔
لیکن ابا تم تو کہتے تھے کہ تم ابھی بہت چھوٹی ہو۔ ننھی گڑیا ہو تمہیں سمجھ نہیں آئے گا۔ ایسا کیوں کہتے تھے ابا؟ ابا جب تم سو جاتے تھے تو میں سب کو کہتی تھی خاموش میرے ابا سو رہے ہیں لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ میری ہی وجہ سے ساری رات تمہیں جاگنا پڑے گا۔ کیوں کہ میرے افسوس کے لیے صبح چار بچے آنے والوں کے لیے تیاریاں جو کرنی تھیں۔ ان کو یہی کہ دیتے ابا کہ زینب کہتی ہے اس ملک کی ہر بیٹی کا نام مریم ہے۔
اماں تم کیوں پریشان ہو؟ سو کیوں نہیں جاتی؟
میرا بستہ اور میرا یونیفارم پھینک دو اماں۔ اور وہ جو سنہری والی چوڑیاں جو تم نے فون پر بتایا تھا کہ مکہ مکرمہ سے خریدی ہیں وہ میں نہیں پہن پاؤں گی۔ وہ میری سہیلی کو دے دو اماں۔ اور جو لال سوٹ میرے لیے خریدا تھا وہ بھی نہیں پہن پاؤں گی۔ کیوں کہ اب تیری زینب نے سفید پوشاک پہن لی ہے۔ اور اب اسے اسی سفید پوشاک میں رہنا ہے۔
میری پیاری اماں۔ تم مجھ سے ناراض تو نہیں؟ میں تو صرف دکان پر گئی تھی اپنی گڑیا دیکھنے کہ کسی اور نے تو نہیں خرید لی۔ گڑیا تو واقعی موجود تھی مگر اس کی چادر جانے کیسے دکان سے باہر جا گری تھی۔ مجھے بہت دکھ ہوا۔ اماں ایک بات مانو اس گڑیا کو خرید لاؤ اور اس کی چادر اس کے سر پر رکھ دینا۔
اماں میرے دکھ میں گھر نہ بیٹھی رہنا۔ شیر، بلے یا تیر پر انگوٹھا ضرور لگانا کیوں کہ سب کا احسان ہے کہ وہ تیری بیٹی کے لیے افسردہ تھے۔ الیکشن والے دن ضرور جانا اور ساتھ نعرہ بھی لگانا ”تم کتنی زینب مارو گے۔ ہر گھر سے زینب نکلے گی۔ “
ابا تم محلے کے پولیس والوں کو دس ہزار روپے بھی انعام میں ضرور دے دینا کیوں کہ انہی کی بدولت تمہیں تمہاری ننھی زینب واپس ملی تھی۔
اماں سب کو بتا دو کہ زینب کو کسی سے کوئی شکوہ نہیں ہے۔ بس کچھ سوال تھے جن کو پوچھنے کی مہلت نہ مل سکی۔ اس لیے بے قرار تھی کہ پوچھ سکوں کہ آخر کیوں ہمارے ملک میں زینب کی چادر کی حفاظت کرنے والا کوئی نہیں لیکن اب سب سمجھ گئی ہوں۔
غلطی میرے ابا کی تھی جس نے میرا نام زینب رکھا۔ اماں تم میری گڑیا کا نام بھی زینب مت رکھنا۔ اور سب کو بتا دینا کہ زینب کو روٹی کپڑا اور مکان نہیں چاہیے تھے۔ زینب کو چادر اور اس کی حفاظت چاہیے تھی۔
فقط: زینب امین


