نیب کا محمد بن قاسم کے خلاف بے رحمانہ استعمال

محمد بن قاسم جب سندھ فتح کر کے فارغ ہی ہوئے تھے تو ادھر عراق میں ان کے چچا حجاج بن یوسف کا انتقال ہو گیا۔ کچھ عرصے بعد ہی خلیفہ ولید بن عبدالملک بھی نہ رہے اور سلیمان بن عبدالملک خلیفہ بن گئے۔ یہ بہت ہی سخت خلیفہ تھے۔ ولید نے ان کی بجائے اپنے بیٹے کو ولی عہد بنانے کی کوشش کی تھی مگر سلیمان نے ولی عہدی چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ اس کشمکش میں فاتح سندھ و عراق و مکہ حجاج بن یوسف اور فاتح خراسان و وسطی ایشیا قتیبہ بن مسلک نے ولید کا ساتھ دیا اور سلیمان بن عبدالملک کی ولی عہدی کی مخالفت کی۔
اب دو روایات ہیں۔ پہلی چچ نامہ کی روایت ہے کہ محمد بن قاسم نے جب سندھ سے بے شمار شریف عورتیں کنیز بنا کر دربار خلافت میں بھیجی تھیں تو ان میں راجہ داہر کی دو بیٹیاں بھی شامل تھیں جو خلیفہ کو نذر کی گئیں۔ جب خلیفہ نے اس کنیز شہزادی پر تصرف کرنا چاہا تو اس نے عذر پیش کیا کہ وہ خلیفہ کے قابل نہیں رہی کیونکہ محمد بن قاسم اس پر متصرف ہو چکا ہے۔ قومی خزانے کے مال میں اس خیانت پر خلیفہ آگ بگولہ ہو گیا اور اس نے محمد بن قاسم کو بیل کی کچی کھال میں سل کر اپنے دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا۔ محمد بن قاسم نے فوراً حکم کی تعمیل کی اور کھال میں سلنے کے سبب جلد ہی وہ فوت ہو گیا۔ جب یہ لاش خلیفہ کو پیش کی گئی تو کنیز شہزادی نے انکشاف کیا کہ اس نے محمد بن قاسم سے بدلا لینے کے لئے جھوٹا الزام لگایا تھا ورنہ وہ تو اس کے لئے باپ اور بھائی جیسا تھا۔ اس نے مزید یہ بھی کہا کہ اگر ابن قاسم دانشمند ہوتا تو سندھ سے ہی کھال میں سل کر دمشق پہنچنے کی بجائے دمشق کے قریب پہنچ کر کھال چڑھاتا اور اگر خلیفہ میں عقل ہوتی تو ملزم کو صفائی پیش کیے بغیر یک طرفہ بیان پر سزا نہ دیتا۔ اس پر خلیفہ نے دونوں شہزادیوں کو دیوار میں زندہ چنوا دیا۔
دوسری روایت کہتی ہے کہ خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے جہاں حجاج بن یوسف اور قتیبہ بن مسلم کے دیگر رشتے داروں کو ٹھکانے لگایا تھا وہیں محمد بن قاسم کو بھی زنجیروں میں جکڑ کر سندھ سے واپسی کا حکم دیا تھا اور وہ کئی ماہ تک واسط کے بندی خانے میں قید کی صعوبتیں بھگتنے کے بعد انتقال کر گئے۔
سچائی شاید کہیں بین بین ہو گی کیونکہ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ فاتح اندلس موسی بن نصیر کے معاملے میں خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے اس سے مال اگلوانے میں کافی محنت کی تھی۔ موسی بن نصیر کا حال ہم اگلے مضمون میں پڑھیں گے کہ کیسے نیب نے اس سے مال نکلوا کر اسے حجاز کی گلیوں میں بھیک مانگنے پر مجبور کر دیا تھا۔

