راؤ انوار کی زرداری ہاؤس اسلام آباد میں پناہ کی اطلاعات

جب نظام کے ڈھیر ہونے کے خطرات پیدا ہوتے ہیں تب لوگ غفلت سے بیدار ہوتے ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ اس ملک میں اکثر فیصلے دماغ سے نہیں دل سےکیے جاتے ہیں اور دل یقیناً غلط فیصلے کرواتا ہے۔ اگر آپ ملک کے مستقبل اور مضبوطی کو مدنظر رکھ کر فیصلے کریں گے تو آپ کا دل آپ کو روکے گا کیونکہ دل وہ چاہتا نہیں جس میں دل کو سکون نہ ہو۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ قبائل میں اپنے حوالے سے کافی حد تک بے چینی پائی جاتی ہے اور نائن الیون کے بعد گزشتہ ایک دو سال میں لوگوں کے جذبات آسمان کو چھونے لگے ہیں، اور وجہ ہماری یہی کوتاہیاں ہیں، آپ نے آج تک کسی کو خاطر میں نہیں لایا کہ قبائلی عوام کے ساتھ غیر دانستہ زیادتیوں بعد ان کو کیسے راضی کیا جانا چاہیے، کبھی یہ بتانے کی کوشش نہیں کی کہ بھائی ان ان وجوہات کی بنا پر آپ کو فلاں نقصان پہنچا ہے آئندہ اس طرح کی احتیاطی تدابیر اختیارکی جائیں گی، جس کا اثر آپ نقیب شہید معاملے میں لوگوں کے جذبات میں موجود شدت سے لگا سکتے ہیں۔

آپ ہمیشہ کہتے ہیں کہ جمہوریت کے دعویدار جھوٹے اور کرپٹ ہوتے ہیں اس لئے آپ کے پاس ایک جواز موجود رہتا ہے کہ ملک کی باگ دوڑ اگر مکمل طور پر ایسے نا اہل لوگوں کے ہاتھوں میں چھوڑ دیا جائے تو یہ ملک کو نقصان پہنچائے گا، بیشک آپ درست کہہ رہے ہیں جناب لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں لگتا ہے کہ آپ نے ان کو تب نہیں روکا جب بات براہ راست عوام پر آتی ہے، ایسا کیوں لگتا ہے کہ یہی چور اور ڈاکو اس وقت بالکل ایماندار لگتے ہیں جب آپ کے ساتھ ان کا مسئلہ نہیں ہوتا؟

نقیب اللہ محسود شہید کے مسئلے کو عام پاکستانی ایک افسوسناک واقعے کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور پاکستانی عوام کی جدوجہد ہی کا ثمر ہے کہ یہ معاملہ یہاں تک آیا لیکن قبائل اس کو پندرہ بیس سالہ حالات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں، قبائلی آواز میں ان دکھوں اور تکالیف کے جذبات محسوس کیے جاسکتے ہیں جو قبائل نے سہے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ نقیب اللہ محسود کیس میں وہ اپنے ساتھ ہوئی تمام زیادتیوں کا ازالہ دیکھ رہے ہیں۔ ایک قبائلی کے طور پر مجھے محسوس ہورہا ہے کہ اس بار یہ قبائلی اس معاملے کو ہر طریقے سے منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پرعزم ہیں اور سمجھنے لگے ہیں کہ اب نہیں یا کبھی نہیں۔

تو کہنا یہ ہے کہ ایک ہی معاملے کے ذریعے آپ قبائل کو جیت لیں گے ایک ہی فیصلے سے بنا ہوا بہت بڑا خلا ختم کردیں گے۔ قبائل کو لگے گا کہ اس ملک میں ہمیں بھی انصاف ملے گا۔ اگر آپ دیکھ سکتے ہیں تو اس وقت راؤ انوار براہ راست نظام پر تھوک رہا ہے، کیونکہ عدالت قانون اور اپنے اداروں کو بیک وقت جوتے کی نوک پر رکھا ہوا ہے۔ اگر آپ اس معاملے میں مداخلت کرتے ہیں تو پورے ملک میں استحکام آئے گا عوام کو محسوس ہوگا کہ ہمیں بھی انصاف مل سکتا ہے۔ ہم بھی اس ملک میں باعزت شہری ہیں، ہمیں بھی تحفظ حاصل ہے، اور سب سے بڑی بات یہ ثابت ہوجائے گی کہ اگر آپ مداخلت نہ کریں تو یہ اشرافیہ ملک کو کہاں لے جانا چاہتی ہے، ان سرداروں اور چوہدریوں وڈیروں کی دال لاقانونیت میں گلتی ہے وغیرہ۔

میرے نہایت معتبر ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر راؤ انوار اس وقت زرداری ہاؤس اسلام آباد میں موجود ہے اور وہاں سے میڈیا وغیرہ سے مخاطب رہتا ہے۔ جناب والا، آج ایک بار پھر جنوبی وزیرستان میں ایک معصوم عورت مائن کی شکار ہوئی ہے۔ ہمیں احساس ہے کہ آپ بھی قربانیاں دے چکے ہیں اور دے رہے ہیں لیکن ہمارے لوگوں کا جذبہ قربانی جواب دے رہا ہے، آپ صاحب فاٹا کو خصوصی توجہ دیں کیونکہ مستقبل میں دشمن جب مکمل طور پر سامنے ہوگا تو آپ کو فاٹا کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش کریگا اور اس کے لئے ہماری تیاری نہ ہونے کے برابر ہے ہماری تیاری یہ ہونی چاہیے کہ ہم فاٹا کے لوگوں کے دلوں کو جیتیں ان کو احساس دلائیں کہ آپ کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ جان بوجھ کر نہیں تھا اور یہ ان الفاظ کو ثابت کرنے کے لئے اللہ نے ہمیں بہترین موقع دیا ہے، راؤ انوار کی گرفتاری اور سزا سے اس کی بہت پائیدار ابتدا ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words