خیبرپختونخوا میں تحریکِ انصاف کی ناکامی کی اصل وجہ

اس وقت ملک میں خیبرپختونخوا میں جے یو آئی کی بلدیاتی انتخابات میں پہلی پوزیشن کے حوالے سے مختلف قسم کی آرا سامنے آ رہی ہے۔ پنجاب میں زیادہ تر مبصرین اس کو مولانا کی عوامی مقبولیت قرار دے رہے ہیں لیکن یہاں خیبر پختونخوا میں بعض حلقے ان انتخابات کو افغانستان میں آنے والی تبدیلی اور اس حوالے سے خیبرپختونخوا میں ممکنہ اثرات کے لیے گراؤنڈ کی تیاری کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو خیبرپختونخوا میں

Read more

جانی خیل اور عثمان کاکڑ: ریاست کہاں ہے؟

جانی خیل میں جاری موجودہ دھرنے سے پہلے کے دھرنے کے بعد امید پیدا ہو گئی تھی کہ شاید اب ٹارگٹ کلنگ وغیرہ کی مکمل روک تھام کردی جائے گی لیکن کچھ دنوں بعد ہی پچھلے دھرنے کے سب سے اہم ملک یا مشر نصیب خان کو ٹارگٹ بنا دیا جاتا ہے، جس کی لاش لے کر گزشتہ پچیس دنوں سے دھرنا جاری ہے، اور ایک بار پھر مقامی لوگ دھرنا شروع کر دیتے ہیں جو تاحال جاری ہے۔ واقعات سے قطع نظر میرے امیدوں کے ان احساسات کو سخت دھچکا لگا کہ جب ریاستی سطح پر یا حکومتی سطح پر لاش کے ساتھ ہونے والے دھرنے کو لاش کی سیاست کہا جانے لگا اور سرکاری ٹرولز کہنا شروع ہوئے کہ ملک کے ہر علاقے میں لوگ مارے جاتے ہیں اگر اس طرح لاشوں کو لے کر دھرنے شروع کیے جائیں پھر تو ہر جگہ دھرنے ہی دھرنے ہوں گے۔

Read more

وزیرستان میں امن کی مکمل بحالی میں کیا رکاوٹ ہے؟

جنوبی وزیرستان کے علاقے تنگی بدینزائی لدھا میں ایک افسوسناک واقعے میں تین بچے شہید جبکہ دو شدید زخمی ہوتے ہیں تو لواحقین لاشوں سمیت مکین میں دھرنا دینا شروع کر دیتے ہیں، اسی طرح جانی خیل میں مقامی مشر ملک نصیب کو نامعلوم افراد ٹارگٹ کلنگ کا شکار بنا دیتے ہیں اور جانی خیل کے مقامی لوگ لاش سمیت دھرنا شروع کر دیتے ہیں (جو کہ آخری خبریں آنے تک جاری ہے ) ۔ اس سے پہلے بھی جانی خیل میں نوجوانوں کے مارے جانے پر دھرنا دیا جا چکا ہے جو کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا کے ساتھ مذاکرات کے بعد ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا گیا تھا، یاد رہے کہ پچھلے دھرنے میں مرحوم ملک نصیب نے کافی سرگرم کردار ادا کیا تھا۔

Read more

کیا پی ٹی ایم اب پارلیمانی ہو رہی ہے؟

سب سے پہلے ایک بات سمجھنی ضروری ہے کہ پی ٹی ایم بذات خود صرف تین الفاظ پر مشتمل نام ہے لیکن ان تین الفاظ کو تقویت دینے والی بات یہاں فاٹا کے لوگوں پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم ہیں۔ لہذا ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ سب سے اہم ہمارے دکھ ہیں، ہمارے ساتھ ہونے والے مظالم ہیں اور ہمیں حتی الامکان اس پروپیگنڈا سے بچنا پڑے گا جس میں ہمارے دکھوں پر ہماری بربادی پر کسی تحریک تنظیم یا سیاسی جماعت کو فوقیت دینے کی کوشش ہو۔

جب علی وزیر اور محسن داوڑ نے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تو میں کا شکار تھا یہاں تک کہ میں نے دونوں کی مخالفت کی تھی کہ آپ ایک ایسے وقت میں قوم کو توڑ رہے ہیں جب قوم تازہ تازہ اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ شاید اس وقت ان دونوں کی طرف سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ غلط تھا لیکن وقت کے ساتھ مشکلات آئیں سخت حالات آئے اور یہ دونوں چٹان کی مانند اپنے نظریات کے ساتھ کھڑے رہے اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ پی ٹی ایم کی آواز قریباً دب کر رہ گئی اور علی وزیر و محسن داوڑ ان حالات میں قوم کے آواز بن گئے۔

Read more

امریکی آمد مبارک یا بہت بڑا عذاب؟

دو تین دنوں سے خبریں گردش میں ہے کہ مبینہ طور پر امریکہ کو فاٹا کے مختلف علاقوں میں اڈے دیے جا رہے ہیں یا دیے جا چکے ہیں۔ ہمارے ہاں فاٹا میں آج کل عقل والوں کی اتنی بھرمار ہو گئی ہے کہ خود اپنا آپ کافی حقیر سا محسوس ہونے لگتا ہے لیکن جو لوگ امریکی آمد کو مبارک سمجھ رہے ہیں ان کے عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ہم جیسے لوگ جو عملی طور پر اپنے وطن کا حصہ ہیں ان کے لیے ممکنہ امریکی آمد بہت بڑا عذاب ثابت ہو سکتا ہے۔

ڈالر کی ریل پیل بہت سے لوگوں کی زندگیاں چھین لیں گی جیسے کہ نائن الیون کے بعد سے ایک تجربہ ہو چکا ہے، اسی طرح پشتونوں کے لیے امریکہ سے زیادہ خطرناک ملا ازم ہے جن کی تربیت صرف اتنی ہے کہ آپ نے فلسطین اور کشمیر کے مظالم کو رونا ہے اور افغانستان کو دھونا ہے اور ایسے میں جب امریکی یہاں ہوں گے تو ان امریکیوں کو روکنے کے لیے ریاست کے پاس واحد ہتھیار یہی ملا رہ جاتے ہیں اور مجھے خدشہ ہے کہ ان کی لگام مکمل طور پر چھوڑ دی جائے گی اور اگر ایسا ہوا تو پشتون علاقہ بالعموم اور فاٹا بالخصوص سو سال مزید پیچھے چلا جائے گا۔

Read more

مولانا صاحب کے حواس بے قابو کیوں ہو رہے ہیں؟

سنتے آئے تھے کہ سیاست میں جذبات نہیں ہوتے لیکن اس کا عملی مظاہرہ تب دیکھا جب پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان میثاقِ جمہوریت ہوا۔ ویسے تو پی پی پی لیڈر شپ عقل کے حوالے سے خود کو ہمیشہ برتر سمجھتی آئی ہے اور دیکھا جائے تو اس حوالے سے پیپلز پارٹی کو برتری حاصل رہی بھی ہے لیکن سیاست میں موقع پرستی دونوں جماعتوں نے دکھائی ہے۔

Read more

سندھ حکومت، بلاول کے جمہوری سٹانس کے بالکل الٹ جا رہی ہے

پیپلز پارٹی کے حوالے سے ہمیشہ دل میں اچھے احساسات رہے ہیں اور وجہ بھی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے واحد حکمران رہے ہیں جنہوں فاٹا کے لوگوں کو اپنی بساط سے بڑھ کر دینے کی کوشش ہے۔ وزیرستان میں سرکاری انفراسٹرکچر کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو شہید نے رکھی اور اپنے مختصر دور میں جتنا دیا وہ پاکستان کے تمام حکمران مل کر بھی نہ دے سکے۔ مجھے اس بات پر یقین ہے کہ پاکستان میں تھرڈ امپائر سے ملے بغیر حکمرانی ناممکن ہے اور اکثر اوقات طاقتور امپائرز کھیلے بغیر گراؤنڈ سے نکال دیتے ہیں لیکن بینظیر بھٹو شہید کے جانے کے بعد لگا جیسے پیپلز پارٹی کی وہ نظریاتی اور اصولی سیاست، اصول کے بجائے وصول کی طرف زیادہ مائل ہو گئی ہے۔

Read more

بے گناہ افغانوں کا قتل جس پر بات نہیں ہو رہی

آسٹریلوی فوج کے اعلیٰ عہدیدار جنرل آنگس کیمبل نے اعتراف کیا ہے کہ آسٹریلوی فوج نے انتالیس بے گناہ افغانوں کو قتل کیا تھا۔ اس بارے میں مختلف تفصیلات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ ان میں سے اکثر قیدیوں کو مارا گیا اور یہ کہ ایسے فوجیوں نے ان بے گناہوں کا قتل کیا جو پہلی بار کسی کو قتل کرنا چاہتے تھے یعنی انسان کو قتل کر کے سیکھنا چاہتے تھے یا پھر انسانی قتل کا مزہ لینا چاہتے تھے۔

Read more

پشتون تحفظ موومنٹ کیسے ختم کی جا سکتی ہے؟

اس وقت ریاستی فیصلے کرنے والے پشتون تحفظ موومنٹ کے حوالے سے مضطرب نظر آرہے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ ان کو یہ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ ایسا کیوں کر ہورہا ہے؟ کیونکہ گرفتاریوں سمیت کئی سخت حربے استعمال کیے جا چکے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس حوالے بطورِ قبائلی کچھ باتیں عرض کردوں کہ فرق کہاں ہیں اور اور دونوں اطراف میں وہ کون سی غلط فہمیاں ہیں جن کو دور کرکے ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے۔

Read more

بطورِ ریاست ہماری مشکلات انتہائی خطرناک سطح پر

میرا خیال ہے کہ آنے والے آٹھ دس ماہ میں بطورِ ریاست ہماری مشکلات انتہائی خطرناک سطح پر ہوں گی لیکن ہمیشہ کی طرح مثبت رپورٹنگ کے باعث اندازہ تب ہوگا جب پانی سر کے اوپر سے گزر چکا ہوگا۔ اس وقت اقتصادی طور پر مکمل طور پر منجمد ہوچکے ہیں۔ عالمی سطح پر خدمت کے طورپر ملنے والے چیکس بند ہوچکے ہیں بلکہ اب شاید وہ دور قریب ہے کہ جلد ہی حساب کتاب کا تقاضا شروع ہو جائے۔

Read more

وزیرستان میں عید

رمضان المبارک کے آخری دنوں میں سارے کام کاج چھوڑ کر اپنے گاؤں مروبی شابی خیل جنوبی وزیرستان چلا گیا جہاں آج کے جدید دور میں بھی نہ تو موبائل سروس ہے اور نہ ہی باہری دنیا سے رابطہ کرنے کا کوئی اور وسیلہ ہے، بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ورلڈ کپ کے میچز دیکھنے کے لئے بیٹری لگائی تاکہ کم از کم ورلڈ کپ کے میچز سے لطف اندوز ہوا جا سکے۔ بہرحال بیٹری کا ساتھ تب تک ہے جب تک دھوپ ہے اور ہمارے علاقے میں اکثر بادل ہی چھائے رہتے ہیں جس کی وجہ سے بیٹری چارج کے لیے اکثر مطلوبہ چارج میسر نہیں ہوتا جس کی وجہ سے میچ بھی ٹکڑوں میں دیکھنا پڑتا ہے۔

ماشاءاللہ سے ہمارا قومی سپورٹس چینل اتنے ایڈ دکھاتا ہے کہ نا چاہتے ہوئے بھی نیوز چینلز کا دیدار کرنا پڑتا ہے جہاں سکرین پر بریکنگ نیوز کی سرخ لکیروں کے سوا کچھ نہیں دیکھا اور ایک ادنیٰ صحافی کے طورپر اتنا جانتا ہوں کہ کون سی خبر کہاں سے آتی ہے اور یہ خبریں کتنی مصنوعی ہوتی ہیں اس لیے زیادہ پریشانی کا سامنا تو نہیں کرنا پڑتا لیکن جب سے صحافت سے ناتا جڑا ہے حالیہ دور میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس وقت پاکستان میں صحافت مکمل طور پر بارکوں میں قید ہوچکی ہے۔

Read more

محسن داوڑ کی گرفتاری کی پس پردہ کہانی

باخبر ذرائع کے مطابق ایم این اے محسن داوڑ نے جرگہ مشران کے اتفاق رائے سے فیصلے کے بعد اپنی گرفتاری دے دی ہے۔ خڑ کمر واقع کے بعد سے محسن داوڑ کی گرفتاری کی کوششیں جاری تھیں لیکن مقامی لوگوں کے سخت ردعمل کے بعد گرفتاری عمل میں نہ لائی جاسکی اور اس وقت گرفتاری سے حالات سخت کشیدگی کی طرف بھی جا سکتے تھے لیکن گزشتہ دو دونوں کے جرگوں اور بالخصوص شہید ہونے والوں کے گھروں میں نناواتے کے بعد حالات سنبھلنے میں مدد ملی جس کے بعد جرگہ میں فیصلہ کیا گیا کہ دھرنا عید تک ملتوی کردیا جائے گا تب تک حکومت کی طرف سے ان اقدامات کا جائزہ بھی لیا جائے گا جس میں متاثرہ افراد اور قوم کے مشران کو حکومت کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ان افراد کو سخت سزا دی جائے گی جنہوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا ہے

Read more

وزیرستان کا سنگین ہوتا مسئلہ کیسے حل کیا جا سکتا ہے؟

مختلف ذرائع سے آنے والی خبروں کے مطابق شمالی وزیرستان واقعے کے بعد حالات انتہائی خطرناک صورت اختیار کر سکتے ہیں جہاں سے بچا جاسکتا ہے لیکن اس وقت لگتا ہے کہ حکومتی نا اہلی کی وجہ سے فریقین بند گلی میں ہوں گے۔ بعض خبروں کے مطابق شمالی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز نے حالات کو بہتر کرنے کے لئے کچھ اقدامات اٹھانے کی کوشش کی ہے جیسے واقعے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین کے پاس جانے کی کوشش کی وغیرہ لیکن دوسری طرف سے فی الحال کوئی مثبت جواب نہیں ملا جس کی توقع بھی ہونی چاہیے تھی کیونکہ لوگ انتہائی غم میں ہیں اور ایک ایسے ماحول میں جب سب کچھ انہی پر تھوپا گیا اور اب تک نا اہل میڈیا و دیگر سوشل میڈیا سائٹس اس آگ کو ہوا دینے میں مگن ہیں۔

Read more

وزیرستان کے حالات کو ہاتھ سے مت نکلنے دیں

آج علی وزیر کے چچا سے ملاقات ہوئی، خیریت دریافت کرنے کے بعد علی کے پوزیشن کے بارے میں پوچھا کہ کوئی خبر ہے؟ کسی نے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے؟ یا وہ اس وقت کہاں ہو سکتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں کوئی خبر نہیں لیکن سب سے بڑی حقیقت آپ کو بتاتا جاؤں کہ ہم پوچھیں گے بھی نہیں کیونکہ ہمیں جنازے اٹھانے کی عادت ہے۔ پہلے بھی ایک ہی دن ہمارے گھر سے دس لاشیں نکلیں کسی نے جواب دیا؟ ہم نے پوچھنے کی کوشش کی تھی لیکن ہماری آواز دبا دی گئی تب سے ہم ذہنی طور پر ہر چیز کے لیے تیار ہیں، ابھی سننے میں آرہا ہے کہ اس کی حالت اچھی نہیں ہے لیکن ابھی آپ کے صحافی بھائی گوہر وزیر کو اٹھایا گیا ہے کیا آپ پوچھ سکتے ہیں کہ کس قانون کے تحت اٹھایا گیا ہے یا گرفتار کیا گیا ہے؟

Read more

ڈی جی آئی ایس پی آر کے پریس کانفرنس سے امن کو کتنا فائدہ ہوا؟

نائن الیون کے بعد پشتون علاقوں میں بدامنی کی بدترین لہر آئی، بالعموم فاٹا اور بالخصوص وزیرستان میں مظالم کی ایسی ایسی داستان رقم ہوئیں کہ یہاں کے ہر فرد کے منہ سے تلخی کے سوا اس وقت کچھ اور باتوں کا تقاضا کرنا عقل کی بات نہیں ہو سکتی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ایسا ممکن نہیں ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ لوگوں کے دل اور دماغ جیتنے پڑیں گے۔ جب وزیرستان میں طالبانائزیشن کا بدترین دور شروع ہوا تو ابتدا میں حالات ایسے نہیں تھے کہ کنٹرول نہ کیے جاسکتے لیکن ہمارے اقدامات ایسے تھے کہ جیسے جان بوجھ کر موقع پیدا کیا گیا کہ نئے حالات پنپتے رہیں۔

Read more

قبائلی علاقے میں ”بلاول صاحبہ“ کے الفاظ کے اثرات

جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ وزیرستان لہولہان ہیں اور وجوہات سینکڑوں بیان کی جاسکتی ہیں اور نتائج بھی ہمارے سامنے ہیں کہ یہاں کے نوجوان کس حد تک ناراض ہیں اور کتنے خطرات سے کھیلنے کے لیے تیار ہو چکے ہیں لیکن ہمارا موضوع آج عمران خان کا دورہ وزیرستان ہے۔ یہاں کے لوگوں کے ذہنوں میں آج بھی شہید ذوالفقار علی بھٹو کے وزیرستان یا فاٹا کے دیگر علاقوں کے دوروں کی یادیں تازہ ہیں اس لیے وزیراعظم پاکستان کا دورہ ایک تاریخی پیرائے میں دیکھا جارہا تھا۔

آج ہی جنوبی وزیرستان کے علاقے اپر سپلاتوئی سرمشائی میں لینڈ مائنز کے دھماکے میں دو بچے ہمیشہ کے لئے معذور ہوگئے۔ لوگوں کا خیال یہ تھا کہ گزرے پندرہ بیس سالوں میں جو کچھ یہاں ہوا جو مظالم ہوئے اسی کے تناظر میں خان صاحب لوگوں کے لیے ایک مثال قائم کریں گے، جس چیز کی کمی کی وجہ سے یہاں کے بچے بارود بن گئے وہ یقیناً ناخواندگی تھی، جہالت تھی اور ہمارے لوگ خوش فہمی کے بری طرح سے شکار ہوئے تھے کہ وزیراعظم بڑے بڑے اعلانات کرنے والے ہیں شاید کہ ہماری بدبختی ختم ہو، کالجز کے اعلانات ہوں گے یونیورسٹیوں کی برانچیں کھولنے کے اعلانات ہوں گے میڈیکل کالج کم از کم محسود اور وزیر علاقوں میں ایک ایک تو ضرور بنے گا۔

Read more