بطورِ ریاست ہماری مشکلات انتہائی خطرناک سطح پر

میرا خیال ہے کہ آنے والے آٹھ دس ماہ میں بطورِ ریاست ہماری مشکلات انتہائی خطرناک سطح پر ہوں گی لیکن ہمیشہ کی طرح مثبت رپورٹنگ کے باعث اندازہ تب ہوگا جب پانی سر کے اوپر سے گزر چکا ہوگا۔ اس وقت اقتصادی طور پر مکمل طور پر منجمد ہوچکے ہیں۔ عالمی سطح پر خدمت کے طورپر ملنے والے چیکس بند ہوچکے ہیں بلکہ اب شاید وہ دور قریب ہے کہ جلد ہی حساب کتاب کا تقاضا شروع ہو جائے۔

Read more

وزیرستان میں عید

رمضان المبارک کے آخری دنوں میں سارے کام کاج چھوڑ کر اپنے گاؤں مروبی شابی خیل جنوبی وزیرستان چلا گیا جہاں آج کے جدید دور میں بھی نہ تو موبائل سروس ہے اور نہ ہی باہری دنیا سے رابطہ کرنے کا کوئی اور وسیلہ ہے، بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ورلڈ کپ کے میچز دیکھنے کے لئے بیٹری لگائی تاکہ کم از کم ورلڈ کپ کے میچز سے لطف اندوز ہوا جا سکے۔ بہرحال بیٹری کا ساتھ تب تک ہے جب تک دھوپ ہے اور ہمارے علاقے میں اکثر بادل ہی چھائے رہتے ہیں جس کی وجہ سے بیٹری چارج کے لیے اکثر مطلوبہ چارج میسر نہیں ہوتا جس کی وجہ سے میچ بھی ٹکڑوں میں دیکھنا پڑتا ہے۔

ماشاءاللہ سے ہمارا قومی سپورٹس چینل اتنے ایڈ دکھاتا ہے کہ نا چاہتے ہوئے بھی نیوز چینلز کا دیدار کرنا پڑتا ہے جہاں سکرین پر بریکنگ نیوز کی سرخ لکیروں کے سوا کچھ نہیں دیکھا اور ایک ادنیٰ صحافی کے طورپر اتنا جانتا ہوں کہ کون سی خبر کہاں سے آتی ہے اور یہ خبریں کتنی مصنوعی ہوتی ہیں اس لیے زیادہ پریشانی کا سامنا تو نہیں کرنا پڑتا لیکن جب سے صحافت سے ناتا جڑا ہے حالیہ دور میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس وقت پاکستان میں صحافت مکمل طور پر بارکوں میں قید ہوچکی ہے۔

Read more

محسن داوڑ کی گرفتاری کی پس پردہ کہانی

باخبر ذرائع کے مطابق ایم این اے محسن داوڑ نے جرگہ مشران کے اتفاق رائے سے فیصلے کے بعد اپنی گرفتاری دے دی ہے۔ خڑ کمر واقع کے بعد سے محسن داوڑ کی گرفتاری کی کوششیں جاری تھیں لیکن مقامی لوگوں کے سخت ردعمل کے بعد گرفتاری عمل میں نہ لائی جاسکی اور اس وقت گرفتاری سے حالات سخت کشیدگی کی طرف بھی جا سکتے تھے لیکن گزشتہ دو دونوں کے جرگوں اور بالخصوص شہید ہونے والوں کے گھروں میں نناواتے کے بعد حالات سنبھلنے میں مدد ملی جس کے بعد جرگہ میں فیصلہ کیا گیا کہ دھرنا عید تک ملتوی کردیا جائے گا تب تک حکومت کی طرف سے ان اقدامات کا جائزہ بھی لیا جائے گا جس میں متاثرہ افراد اور قوم کے مشران کو حکومت کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ان افراد کو سخت سزا دی جائے گی جنہوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا ہے

Read more

وزیرستان کا سنگین ہوتا مسئلہ کیسے حل کیا جا سکتا ہے؟

مختلف ذرائع سے آنے والی خبروں کے مطابق شمالی وزیرستان واقعے کے بعد حالات انتہائی خطرناک صورت اختیار کر سکتے ہیں جہاں سے بچا جاسکتا ہے لیکن اس وقت لگتا ہے کہ حکومتی نا اہلی کی وجہ سے فریقین بند گلی میں ہوں گے۔ بعض خبروں کے مطابق شمالی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز نے حالات کو بہتر کرنے کے لئے کچھ اقدامات اٹھانے کی کوشش کی ہے جیسے واقعے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین کے پاس جانے کی کوشش کی وغیرہ لیکن دوسری طرف سے فی الحال کوئی مثبت جواب نہیں ملا جس کی توقع بھی ہونی چاہیے تھی کیونکہ لوگ انتہائی غم میں ہیں اور ایک ایسے ماحول میں جب سب کچھ انہی پر تھوپا گیا اور اب تک نا اہل میڈیا و دیگر سوشل میڈیا سائٹس اس آگ کو ہوا دینے میں مگن ہیں۔

Read more

وزیرستان کے حالات کو ہاتھ سے مت نکلنے دیں

آج علی وزیر کے چچا سے ملاقات ہوئی، خیریت دریافت کرنے کے بعد علی کے پوزیشن کے بارے میں پوچھا کہ کوئی خبر ہے؟ کسی نے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے؟ یا وہ اس وقت کہاں ہو سکتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں کوئی خبر نہیں لیکن سب سے بڑی حقیقت آپ کو بتاتا جاؤں کہ ہم پوچھیں گے بھی نہیں کیونکہ ہمیں جنازے اٹھانے کی عادت ہے۔ پہلے بھی ایک ہی دن ہمارے گھر سے دس لاشیں نکلیں کسی نے جواب دیا؟ ہم نے پوچھنے کی کوشش کی تھی لیکن ہماری آواز دبا دی گئی تب سے ہم ذہنی طور پر ہر چیز کے لیے تیار ہیں، ابھی سننے میں آرہا ہے کہ اس کی حالت اچھی نہیں ہے لیکن ابھی آپ کے صحافی بھائی گوہر وزیر کو اٹھایا گیا ہے کیا آپ پوچھ سکتے ہیں کہ کس قانون کے تحت اٹھایا گیا ہے یا گرفتار کیا گیا ہے؟

Read more

ڈی جی آئی ایس پی آر کے پریس کانفرنس سے امن کو کتنا فائدہ ہوا؟

نائن الیون کے بعد پشتون علاقوں میں بدامنی کی بدترین لہر آئی، بالعموم فاٹا اور بالخصوص وزیرستان میں مظالم کی ایسی ایسی داستان رقم ہوئیں کہ یہاں کے ہر فرد کے منہ سے تلخی کے سوا اس وقت کچھ اور باتوں کا تقاضا کرنا عقل کی بات نہیں ہو سکتی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ایسا ممکن نہیں ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ لوگوں کے دل اور دماغ جیتنے پڑیں گے۔ جب وزیرستان میں طالبانائزیشن کا بدترین دور شروع ہوا تو ابتدا میں حالات ایسے نہیں تھے کہ کنٹرول نہ کیے جاسکتے لیکن ہمارے اقدامات ایسے تھے کہ جیسے جان بوجھ کر موقع پیدا کیا گیا کہ نئے حالات پنپتے رہیں۔

Read more

قبائلی علاقے میں ”بلاول صاحبہ“ کے الفاظ کے اثرات

جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ وزیرستان لہولہان ہیں اور وجوہات سینکڑوں بیان کی جاسکتی ہیں اور نتائج بھی ہمارے سامنے ہیں کہ یہاں کے نوجوان کس حد تک ناراض ہیں اور کتنے خطرات سے کھیلنے کے لیے تیار ہو چکے ہیں لیکن ہمارا موضوع آج عمران خان کا دورہ وزیرستان ہے۔ یہاں کے لوگوں کے ذہنوں میں آج بھی شہید ذوالفقار علی بھٹو کے وزیرستان یا فاٹا کے دیگر علاقوں کے دوروں کی یادیں تازہ ہیں اس لیے وزیراعظم پاکستان کا دورہ ایک تاریخی پیرائے میں دیکھا جارہا تھا۔

آج ہی جنوبی وزیرستان کے علاقے اپر سپلاتوئی سرمشائی میں لینڈ مائنز کے دھماکے میں دو بچے ہمیشہ کے لئے معذور ہوگئے۔ لوگوں کا خیال یہ تھا کہ گزرے پندرہ بیس سالوں میں جو کچھ یہاں ہوا جو مظالم ہوئے اسی کے تناظر میں خان صاحب لوگوں کے لیے ایک مثال قائم کریں گے، جس چیز کی کمی کی وجہ سے یہاں کے بچے بارود بن گئے وہ یقیناً ناخواندگی تھی، جہالت تھی اور ہمارے لوگ خوش فہمی کے بری طرح سے شکار ہوئے تھے کہ وزیراعظم بڑے بڑے اعلانات کرنے والے ہیں شاید کہ ہماری بدبختی ختم ہو، کالجز کے اعلانات ہوں گے یونیورسٹیوں کی برانچیں کھولنے کے اعلانات ہوں گے میڈیکل کالج کم از کم محسود اور وزیر علاقوں میں ایک ایک تو ضرور بنے گا۔

Read more