ڈی جی آئی ایس پی آر کے پریس کانفرنس سے امن کو کتنا فائدہ ہوا؟

نائن الیون کے بعد پشتون علاقوں میں بدامنی کی بدترین لہر آئی، بالعموم فاٹا اور بالخصوص وزیرستان میں مظالم کی ایسی ایسی داستان رقم ہوئیں کہ یہاں کے ہر فرد کے منہ سے تلخی کے سوا اس وقت کچھ اور باتوں کا تقاضا کرنا عقل کی بات نہیں ہو سکتی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ایسا ممکن نہیں ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ لوگوں کے دل اور دماغ جیتنے پڑیں گے۔ جب وزیرستان میں طالبانائزیشن کا بدترین دور شروع ہوا تو ابتدا میں حالات ایسے نہیں تھے کہ کنٹرول نہ کیے جاسکتے لیکن ہمارے اقدامات ایسے تھے کہ جیسے جان بوجھ کر موقع پیدا کیا گیا کہ نئے حالات پنپتے رہیں۔

Read more

قبائلی علاقے میں ”بلاول صاحبہ“ کے الفاظ کے اثرات

جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ وزیرستان لہولہان ہیں اور وجوہات سینکڑوں بیان کی جاسکتی ہیں اور نتائج بھی ہمارے سامنے ہیں کہ یہاں کے نوجوان کس حد تک ناراض ہیں اور کتنے خطرات سے کھیلنے کے لیے تیار ہو چکے ہیں لیکن ہمارا موضوع آج عمران خان کا دورہ وزیرستان ہے۔ یہاں کے لوگوں کے ذہنوں میں آج بھی شہید ذوالفقار علی بھٹو کے وزیرستان یا فاٹا کے دیگر علاقوں کے دوروں کی یادیں تازہ ہیں اس لیے وزیراعظم پاکستان کا دورہ ایک تاریخی پیرائے میں دیکھا جارہا تھا۔

آج ہی جنوبی وزیرستان کے علاقے اپر سپلاتوئی سرمشائی میں لینڈ مائنز کے دھماکے میں دو بچے ہمیشہ کے لئے معذور ہوگئے۔ لوگوں کا خیال یہ تھا کہ گزرے پندرہ بیس سالوں میں جو کچھ یہاں ہوا جو مظالم ہوئے اسی کے تناظر میں خان صاحب لوگوں کے لیے ایک مثال قائم کریں گے، جس چیز کی کمی کی وجہ سے یہاں کے بچے بارود بن گئے وہ یقیناً ناخواندگی تھی، جہالت تھی اور ہمارے لوگ خوش فہمی کے بری طرح سے شکار ہوئے تھے کہ وزیراعظم بڑے بڑے اعلانات کرنے والے ہیں شاید کہ ہماری بدبختی ختم ہو، کالجز کے اعلانات ہوں گے یونیورسٹیوں کی برانچیں کھولنے کے اعلانات ہوں گے میڈیکل کالج کم از کم محسود اور وزیر علاقوں میں ایک ایک تو ضرور بنے گا۔

Read more