‎دو بھائیوں اور اے ڈی خواجہ کی کہانی ‎

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ دو بھائیوں کی کہانی ہے۔ لیکن رکئے۔ یہ صرف دو بھائیوں کی نہیں بلکہ سندھ کے ہزاروں نوجوانوں کی کہانی ہے۔ ‎یہ دونوں بھائی میرے گاؤں میں پیدا ہوئے۔ سرکاری اسکول میں پڑھے اور وہیں تک پڑھے جہاں تک ان کے باپ کی غربت ان کا پڑھنا برداشت کر سکی۔ بڑا بیٹا کچھ پڑھ لکھ کر بڑا ہوا تو اس کے باپ نے مروجہ نصاب کے مطابق اس کے لئے سرکاری نوکری کے حصول کے لئے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کیا۔ ان دنوں سندھ میں تعلیمی محکمہ میں نوکریوں کا سیلاب آیا ہوا تھا۔ پرائمری اور ہائی اسکول میں استاد بھرتی کئے جا رہے تھے۔ اس کے باپ نے اس کو ماسٹر بنانے کا خواب سجایا اور اس خواب کے پیچھے اس نے اپنا ذریعہ معاش پھونک ڈالا۔ یعنی باپ نے بیٹے کی ماسٹری حاصل کرنے کا ہدیہ پورا کرنے کے لئے اپنی تمام بھینسیں بیچ ڈالیں۔ نوکری ملی۔ پوسٹنگ نہیں ملی۔ بیٹا روز چپل چٹخاتا پھرتا۔ نہ نوکری نہ تنخواہ۔ باپ کا خواب تو کیا پورا ہونا تھا اس کے لئے روزی روٹی کا بندوبست دشوار تر ہوتا گیا۔ پھر خبر نکلی یہ جعلی آرڈر تھے۔ ارے بھائی جعلی آرڈر تو ایک ہوتا ہے یہ ہزاروں آرڈر جعلی؟ کہنے لگے محکمے میں اتنی جگہیں ہی نہیں۔ بھائی جس وقت پوسٹنگ آرڈر دیے جا رہے تھے تب اتنی جگہیں کیسے تھیں؟ ادھر باپ بیچارے کی سمجھ میں یہ نہ آتا تھا کہ اگر نوکری نہیں تو یہ آرڈر کا کاغذ کس لئے ہے؟ مگر بیٹے کو سمجھ آگئی یہ کاغذ ہدیہ مبلغ حاصل کرنے کے لئے تھا، ماسٹری کے لئے نہیں۔ پھر اس کو میں نے دیکھا اس کا تنا ہوا سر جھکنے لگا۔ اس کے اندر جوانی کا رس سوکھتا گیا۔ حتیٰ کہ دیہات میں رہنے سے جو بہادری اور بے فکری جنم لیتی ہے اس سے وہ بھی رخصت ہوگئی۔ ان دنوں میں نے اس باپ کو دیکھا تھا۔ ایسی کیفیت میں چلتا تھا جیسے کوئی خلا میں معلق ہوگیا ہو۔

‎اب چھوٹے بھائی کی کہانی۔

‎دو یا تین سال بعد چھوٹے نے انٹر پاس کیا۔ اب وہ گاؤں کے رواج میں بڑا ہو گیا۔ اس نے باپ کا جھکا سر اور بھائی کی کھوئی شخصیت دیکھی۔ اس نے اِدھر اُدھر سے کچھ ایٹیں کٹھی کیں۔ ان سے ایک چولہا بنایا اور روڈ پر چاول بیچنے لگا۔ کچھ عرصے بعد ریڑھا خریدا۔ پھر ایک دن پولیس میں سپاہی کی بھرتی کا اشتہار آیا۔ وہ ٹیسٹ دینے چلا گیا۔ بھرتی ہونے کا خواب لے کر۔ شاید باپ کو اپنا خواب یاد آگیا ہو۔ باپ کا کہنا تھا بیٹا جو کام کر رہا ہے اس سے دال روٹی ہو جاتی ہے۔ نہیں تو کچھ بچے ہوئے چاول گھر آ جاتے ہیں۔ کہاں جاتا ہے؟ نوکری کا دیکھا نہیں کیسے ملتی ہے۔ مگر وہ چلا گیا۔ بھرتی ہونے کا خواب لیے۔ بھلا خواب پر پابندی کیسے لگ سکتی ہے۔ پہلے اس نے رننگ ٹیسٹ دیا۔ پھر فزیکل۔ پھر تحریری ٹیسٹ پاس کیا اور آخرکار انٹرویو میں کامیاب ہو کر وہ میرٹ پر منتخب ہوا۔ اس کا سہرا اے ڈی خواجہ کے سر سجتا ہے جس نے سندھ بھر سے بلا تفریق دس ہزار سپاہیوں کی بھرتی میں میرٹ مد نظر رکھا اور ہر طرح کے سیاسی دباؤ کو سہا۔ پھر میں نے اسی باپ کا سر اٹھنے کے قابل ہوتے دیکھا جب اس کا بیٹا وردی پہن کر اس کے سامنے آکھڑا ہوا۔

اب چھوٹے بھائی کو میں دیکھتا ہوں وہ وردی میں صبح صبح نوکری پر جا رہا ہوتا ہے۔ ‎ایک دن بات ہوئی۔ کہنے لگا ہم دوسرے پولیس والوں کے قریب نہیں بیٹھتے۔ ہمیں ٹریننگ میں ایس پی صاحب نے کہا تھا تم لوگ میرٹ پر بھرتی ہوئے ہو۔ تمہیں تمہارا حق ملا ہے۔ اب تمہاری ذمہ داری ہے کہ لوگوں کے خادم بنو اور انہیں امن امان کی صورت میں ان کا حق دو۔ اگر تم دوسرے پولیس والوں کے ساتھ بیٹھو گے تو ان جیسے بے کار اور رشوت خور بن جائو گے۔ یہ باتیں کرتے میں نے اسے پرعزم جانا۔ ایسا جو قوم کی حفاظت کے لئے ڈھال بننے کی ہمت رکھتا ہو۔ اب چھوٹا بھائی پوری ایمانداری سے نوکری نبھاتا ہے اور اے ایس آئی بننے کے لئے امتحان کی تیاری بھی کر رہا ہے۔

بڑے بھائی کی سنیے تو وہ اب چاول بیچتے نظر آتا ہے۔ ‎یہ کہانی تو سال دو پرانی ہے۔ آج مجھے یہ اے ڈی خواجہ اور راؤ انوار کے بارے سوچتے یاد آئی۔ راؤ انوار پر عوام کا غصہ اور نفرت اس کے ذاتی کرتوتوں اور ظالمانہ رویہ کی وجہ سے تو ہے ہی ہے مگر اس غصہ میں ایک عنصر پولیس کا عمومی بھیانک تعارف بھی ہے۔ پولیس کو ظالموں کا ایک ٹولہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے راؤ انوار اور اس جیسے افسروں اور سپاہیوں کی کارستانیاں ہیں۔ میرے پاس پولیس کے ہمدرد ہونے کی مثال اے ڈی خواجہ ہے۔ جس نے اپنی روایت برقرار رکھتے انصاف ثابت کرنے کے لئے ایسی کمیٹی بنائی جو حق اور ناحق میں نہ صرف فرق کرنا جانتی تھی بلکہ اس کو ثابت کرنا اور بیان کرنا جانتی تھی۔ مجھے خیال آیا جہاں ایک طرف راؤ انوار جیسے پولیس افسر پائے جاتے ہیں ہیں وہاں اے ڈی خواجہ جیسے انسان بھی ابھی ہیں جو میرٹ پر کام کرنا اور عوام کے حقوق کی حفاظت کرنے کے ارادے رکھتے ہیں ،کمزوروں کے خواب کو تعبیر بنانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ میں نے بھی ایک خواب دیکھنا شروع کیا ہے کہ ہمارے نہیں تو ہماری اگلی نسل کے عہد میں پولیس والے افسر اور سپاہی اے ڈی خواجہ جیسے ہوں جنہیں دیکھ کر تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہو۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).