زینب کا نوحہ


 

بابا! آج آپ میری پھولوں سے بھری قبر پہ

گر کر بے ہوش ہو گئے تھے

بابا! میں بھی بے ہوش ہو گئی تھی

جب انہوں نے میری باریک/ ننھی ننھی

انگلیوں کو مروڑا

اور میری چیخوں کو

اپنے بدبودار منہ سے

ڈھانپنا چاہا

خوف میرے جسم سے

نہ جانے کہاں کہاں سے نکل رہا تھا

میرے منہ سے بھی فوارہ پھوٹا تھا

بابا!

آپ نے بتایا تھا درختوں کو

مشین سے کاٹتے ہیں

ان کا جسم بھی مشین تھا

جس نے مجھے چیر کے رکھ دیا تھا

بابا!

وہ جہاں مجھے لے گیا تھا

وہاں وہ اکیلا نہیں تھا

میں نے سایوں کی شکل میں

کئی ٹانگیں چلتی دیکھی تھیں

بابا!

مجھے کوڑے کے ڈھیر سے اٹھانے والوں نے

تمہیں بتایا تو ہو گا

میری نیلی نیلی آنکھیں

جو میری ماں کو بہت پسند تھیں

باہر آچکی تھیں

میرا سب کچھ باہر آیا ہوا تھا

اٹھانے والوں نے کیسے سمیٹا ہو گا

بابا!

ابھی کچھ دن تک

موت کا میلہ دیکھنے

اپنی دکان چمکانے

بہت لوگ آئیں گے

تم ان کی مصنوعی باتوں پر

رونا مت!

بابا!

میری ایک گزارش ہے

میرا بستہ اور میری کاپی

جس میں ، میں نے اپنے ہاتھ سے لکھا

میں زینب ہوں

وہ سنبھال کے رکھنا

تاریخ بھی میرا حساب لینے تمہارے پاس

آئے گی

بابا!

مجھے فرشتوں نے بتایا ہے

دنیا بھر میں میری تصویر مشہور ہو گئی ہے

بابا میں زینب تھی

بابا زینب تو کل عالم کے لیے

بصیرت والا نام ہے

میرا کلنک اس نام کو کیوں لگے

 

Facebook Comments HS