نشانیاں تاریخ تھیں ،مٹادی گئیں
جب افتخار ممدوٹ کا گھر توڑا جا رہا تھا۔ میں حبیب اللہ روڈ پر دفتر جاتے ہوئے دیکھتی، قائد اعظم پیپرز صفحہ در صفحہ مٹی میں لپٹے سڑک کنارے پڑے ہوئے تھے۔ میں نے سرکار کے آگے بہت منتیں کیں مگر کون سنے فریاد ہماری۔ سب کچھ ردی کے بھائو بک گیا۔ ہمیں خبر ہی نہیں کہ قائداعظم کے بعد، لیاقت علی خان کا کوئی اپنا گھر تھا۔ البتہ جی ایم سید جنہوں نے پاکستان کی قرارداد سے پہلے سندھ
Read more



