گھونگھٹ، دوپٹہ اور حجاب

قائم علی شاہ صاحب نے ایک دفعہ کہاتھا کہ تھرکی عورتیں گھونگھٹ ہی نہیں اٹھاتی ہیں اس لیے پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ عورت جوان ہے کہ بوڑھی۔ مجھے انکی بات سن کر افسوس بھی ہوا کہ جدی پشتی سندھی ہونے کے باوجود وہ ناآشنا تھے کہ تھری عورتیں جھالر لگا دوپٹہ اوڑھے اور…

Read more

سرکار کا عملی ڈھانچہ کہاں ہے؟

مجھ جیسا کوئی بابا، حکیم کے پاس گیا، پیٹ کے درد کی دوائی مانگی۔ پوچھا کیا کھایا تھا؟ کہا کھائی تو روٹی تھی مگر وہ ذرا جلی ہوئی تھی۔ حکیم نے اس کو آنکھوں میں ڈالنے کے لئے قطرے دیئے۔ بابا بولا ’’میرے پیٹ میں درد ہے اور آپ مجھے آنکھوں کی دوائی دے رہے…

Read more

سوشل میڈیا کا مثبت اور منفی استعمال

اسے آپ فیس بک کہیں کہ سوشل میڈیا، اس کو استعمال کرنے کے ہولناک نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ گزشتہ دنوں کرائسٹ چرچ میں حملہ آور نے گولیاں چلاتے ہوئے سوشل میڈیا آن رکھا، پوری دنیا کے وہ لوگ جو سوشل میڈیا ہی کو زندگی، شوق اور مصروفیت سمجھتے ہیں، وہ سب لوگ حیران اور خوفزدہ…

Read more

خیرہو تیری لیلائوں کی

اس دفعہ سرکاری سطح پر تو معلوم نہیں مگر سول سوسائٹی نے پورے پاکستان میں بڑے جوش وخروش کے ساتھ عورت راج کہہ کر جلوس نکالے ، بہت بینرز اور پوسٹرز دل کا غبار نکالنے کیلئے نوجوان بچیوں نے بنائے اور لہرائے، کچھ ایسے تھے جن پر تنگ نظر تو کیا ہر ہوش مند کو…

Read more

آداب ِطریقت کیا ہیں؟

وہ مالاکنڈ سے آئی تھی۔ کالج میں فزکس پڑھاتی اور پشتو میں شاعری کرتی ہے۔ متن یہ تھا کہ جو کچھ ظلم تم عورتوں پر کرتے ہو، اُن سب پر لعنت۔ وہ جس اعتماد کے ساتھ برقعہ اوڑھے ہوئے، بول رہی تھی۔ موجود سب سامعین، اُس کی شاعری کے ہر بند کے بعد تالیاں بجاتے…

Read more

جسٹس کاٹجو اور ارون دھتی رائے، بولو

منٹو صاحب! آپ نے نئے پاکستان کا نقشہ منگو کوچوان کے ذریعہ کھینچا تھا۔ اس نے ہنٹر لے کر گورے صاحب کو پیٹا تھا۔ وہ منگو کوچوان ابھی زندہ ہے، اس نے انڈین پائلٹ ابھی نندن کو بھی گورے صاحب کی طرح سبق سکھانے کا ارادہ کیا تھا۔ وہ تو ہماری روایتی مہمان نوازی نے…

Read more

گڑیا کا کھیل

دنیا بھر میں موسم بدل رہا ہے۔ ابھی کچھ سال پہلے گلگت میں ایک گلیشیر اتنا نیچے سرک آیا کہ پوری آبادی ڈوب گئی اور وہاں جھیل بن گئی۔ جسے عطا آباد جھیل تسلیم کر لیا گیا ہے۔ اب پھر شہشیر گلیشیر شاہراہ قراقرم کے قریب آبادی کے اس قدر قریب آگیا ہے کہ آبادی…

Read more

بھٹو کے نفسیاتی اور سیاسی تضادات

ایک ماں نے 5؍جنوری 1925ء کو اپنا ایک بیٹا پیدا کیا۔ گھرانہ تھا شاہنواز بھٹو کا، جس گھر میں پہلی بیوی اور اس کے دو بیٹوں کا حکم چلتا تھا۔ ماں لکھی بائی عرف خورشید کو محسوس ہوتا تھا کہ جس محبت سے خان آف قلات کے محل میں جاکر شاہنواز بھٹو نے دیوانگی کے…

Read more

اٹلی میں اردو شاعری کا تذکرہ

جب لوگوں نے سنا کہ میں دسمبر میں یورپ جارہی ہوں تو سب نے یک زبان کہا ’’بائولی ہوئی ہو، لوگ گرمیوں میں وہاں جاتے ہیں۔ تمہارے سر میں پھوڑا نکلا ہے۔ ‘‘ میں نے ہنس کے کہا کیا کروں اٹلی کے یونیورسٹی اساتذہ نے مل کر میری نظموں کا اطالوی زبان میں ترجمہ کیا۔…

Read more

مزاروں پر کیا ہوتا ہے؟

میں جن دنوں داتا صاحب کی جہیز کمیٹی کی رکن تھی، اس زمانے میں بہت سے بھید کھلے تھے۔ داتا صاحب پہ جو چادریں چڑھائی جاتی تھیں۔ ان میں سے بہت سی چادریں واپس دکان پر آکر دوبارہ فروخت کر دی جاتی تھیں بالکل اسی طرح جیسے کہ ہم لوگوں نے اجمیر شریف میں بھی…

Read more