نشانیاں تاریخ تھیں ،مٹادی گئیں

جب افتخار ممدوٹ کا گھر توڑا جا رہا تھا۔ میں حبیب اللہ روڈ پر دفتر جاتے ہوئے دیکھتی، قائد اعظم پیپرز صفحہ در صفحہ مٹی میں لپٹے سڑک کنارے پڑے ہوئے تھے۔ میں نے سرکار کے آگے بہت منتیں کیں مگر کون سنے فریاد ہماری۔ سب کچھ ردی کے بھائو بک گیا۔ ہمیں خبر ہی نہیں کہ قائداعظم کے بعد، لیاقت علی خان کا کوئی اپنا گھر تھا۔ البتہ جی ایم سید جنہوں نے پاکستان کی قرارداد سے پہلے سندھ

Read more

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کی

پتا نہیں ہماری دوست شیریں مزاری کو اتنی ہمت کیسے ہوئی کہ اُنہوں نے کہہ دیا کہ پاکستان میں پورنوگرافک فلمنگ کی شرح سارے ملکوں سے زیادہ ہے ’’کیا نہ بیچو گے جو مل جائیں صنم پتھر کے‘‘، یہ وہ اعداد و شمار ہیں کہ جو اندازے کے مطابق ہیں۔ ابھی تک گھروں میں ایسی باتوں کو دبا دیا جاتا ہے۔ یہ وہ باتیں جو ظلم کی پاداش میں ظاہر ہو جاتی ہیں۔ ہر چند میڈیا میں تربیتی اشتہار آنے

Read more

کرکٹ کا بخار ختم!

اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت، کہ ہر چینل ہر اخبار، گلی محلے کا ہر فرد اور ریڑھی والا، تبریٰ بھیج رہا ہے اپنے کھلاڑیوں پر، یہ زمانہ ٹیکس لگانے کا ہے بلکہ زمانہ نہیں موسم ہے جو ’’ٹیکسیریا‘‘ ملیریا اور ایچ آئی وی کی طرح پھیل رہا ہے۔ ہم ادیب تجویز کرینگے کہ کرکٹ میچ ہارنے پر بھی لازمی ٹیکس لگایا جائے مگر مجھے اندازہ ہے کہ چونکہ کرکٹ وزیراعظم کی جان ہے، اسلئے اس پر

Read more

بلاژیو میں سب کچھ تھا، ٹی وی نہیں تھا

60سال پہلے کی بات ہے، وہی محل جو سر بولانی وِلا کہلاتا تھا، جہاں مسولینی اور کلارا کو ولیریو نے گولیوں کا نشانہ بنایا تھا۔ یہ محل میلانو کے 48سالہ شہزادے کی 20سالہ ماریہ سے بیاہ کی نشانی کے طور پر موجود ہے۔ آج یعنی 60سالوں میں راکا فیلر فائونڈیشن کی طرف سے ادیبوں، دانشوروں، موسیقاروں اور سائنسدانوں کیلئے 6ہفتوں کیلئے مہمان بننے اور کوئی نئی تحریر وجود میں لانے کے لئے ایک وقت میں 20مہمانوں کو دعوت دی جاتی

Read more

تہذیب اور خوشحالی۔ کس چڑیا کا نام ہے

پرانا بوسیدہ محاورہ ہے کہ الٹے بانس بریلی کو۔ کیوں یاد آیا کہ پٹرول کی قیمتیں دیکھ کر رکشہ چلانے والوں نے انجن نکال کر گدھے کے گلے میں رسی باندھ کر رکشے چلانا شروع کردئیے ہیں۔ ویسے تو اب شہر اندرون کے علاوہ تمام سڑکوں پر تانگوں کو چلنے کی بھی آزادی دے دینا چاہئے کہ اورنج ٹرین اور دوسری ٹرین چلانے سے عوام کو فائدہ کم ہی ہوا ہے۔ اپنی عوامی سواری تو اب تک تانگہ ہے۔ ہم

Read more

گھونگھٹ، دوپٹہ اور حجاب

قائم علی شاہ صاحب نے ایک دفعہ کہاتھا کہ تھرکی عورتیں گھونگھٹ ہی نہیں اٹھاتی ہیں اس لیے پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ عورت جوان ہے کہ بوڑھی۔ مجھے انکی بات سن کر افسوس بھی ہوا کہ جدی پشتی سندھی ہونے کے باوجود وہ ناآشنا تھے کہ تھری عورتیں جھالر لگا دوپٹہ اوڑھے اور گھونگھٹ نکالے اس وقت بھی رہتی ہیں جب صرف عورتیں کمرے میں ہوں۔ میں نے اسکا سبب پوچھا تو کچھ نے بتایا کہ الٹے ہاتھ

Read more

سرکار کا عملی ڈھانچہ کہاں ہے؟

مجھ جیسا کوئی بابا، حکیم کے پاس گیا، پیٹ کے درد کی دوائی مانگی۔ پوچھا کیا کھایا تھا؟ کہا کھائی تو روٹی تھی مگر وہ ذرا جلی ہوئی تھی۔ حکیم نے اس کو آنکھوں میں ڈالنے کے لئے قطرے دیئے۔ بابا بولا ’’میرے پیٹ میں درد ہے اور آپ مجھے آنکھوں کی دوائی دے رہے ہیں‘‘۔ حکیم صاحب نے کہا آنکھیں ٹھیک ہوتیں تو تم جلی ہوئی روٹی نہ کھاتے۔ بس اب ہماری اسمبلیوں کے ممبران کو بھی آنکھوں میں

Read more

سوشل میڈیا کا مثبت اور منفی استعمال

اسے آپ فیس بک کہیں کہ سوشل میڈیا، اس کو استعمال کرنے کے ہولناک نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ گزشتہ دنوں کرائسٹ چرچ میں حملہ آور نے گولیاں چلاتے ہوئے سوشل میڈیا آن رکھا، پوری دنیا کے وہ لوگ جو سوشل میڈیا ہی کو زندگی، شوق اور مصروفیت سمجھتے ہیں، وہ سب لوگ حیران اور خوفزدہ ہونے کے باوجود، دنیا بھر میں اس دہشت گردی اور دو مساجد پر حملہ آور کو قابو کرنے کے لئے ایک حرف بھی نہ لکھ

Read more

خیرہو تیری لیلائوں کی

اس دفعہ سرکاری سطح پر تو معلوم نہیں مگر سول سوسائٹی نے پورے پاکستان میں بڑے جوش وخروش کے ساتھ عورت راج کہہ کر جلوس نکالے ، بہت بینرز اور پوسٹرز دل کا غبار نکالنے کیلئے نوجوان بچیوں نے بنائے اور لہرائے، کچھ ایسے تھے جن پر تنگ نظر تو کیا ہر ہوش مند کو اعتراض ہوسکتا تھا میں نے ان کے پرنٹ آئوٹ ان بچیوں کو دکھا کر شرمندہ کرنے کی کوشش کی مگر ایک لہر ہے جوش اور

Read more

آداب ِطریقت کیا ہیں؟

وہ مالاکنڈ سے آئی تھی۔ کالج میں فزکس پڑھاتی اور پشتو میں شاعری کرتی ہے۔ متن یہ تھا کہ جو کچھ ظلم تم عورتوں پر کرتے ہو، اُن سب پر لعنت۔ وہ جس اعتماد کے ساتھ برقعہ اوڑھے ہوئے، بول رہی تھی۔ موجود سب سامعین، اُس کی شاعری کے ہر بند کے بعد تالیاں بجاتے تھے۔ یہ کہاں ہو رہا تھا۔ لوک ورثہ کے ہال میں، مادری زبانوں کا عالمی دن منانے کیلئے سندھی این جی او نے پاکستان کی

Read more

جسٹس کاٹجو اور ارون دھتی رائے، بولو

منٹو صاحب! آپ نے نئے پاکستان کا نقشہ منگو کوچوان کے ذریعہ کھینچا تھا۔ اس نے ہنٹر لے کر گورے صاحب کو پیٹا تھا۔ وہ منگو کوچوان ابھی زندہ ہے، اس نے انڈین پائلٹ ابھی نندن کو بھی گورے صاحب کی طرح سبق سکھانے کا ارادہ کیا تھا۔ وہ تو ہماری روایتی مہمان نوازی نے اسے بچا لیا، مگر منٹو صاحب! آج آپ ہوتے تو کشمیری نوجوان بچے بچیوں کے جذبے کو دیکھ کر، آپ کو بھی میری طرح یاد

Read more

گڑیا کا کھیل

دنیا بھر میں موسم بدل رہا ہے۔ ابھی کچھ سال پہلے گلگت میں ایک گلیشیر اتنا نیچے سرک آیا کہ پوری آبادی ڈوب گئی اور وہاں جھیل بن گئی۔ جسے عطا آباد جھیل تسلیم کر لیا گیا ہے۔ اب پھر شہشیر گلیشیر شاہراہ قراقرم کے قریب آبادی کے اس قدر قریب آگیا ہے کہ آبادی وہاں سے کوچ کر رہی ہے۔ اسی طرح اس سال پورے یورپ، امریکہ، انگلینڈ اور کینیڈا میں وہ برف باری ہوئی ہے جو گزشتہ چالیس

Read more

بھٹو کے نفسیاتی اور سیاسی تضادات

ایک ماں نے 5؍جنوری 1925ء کو اپنا ایک بیٹا پیدا کیا۔ گھرانہ تھا شاہنواز بھٹو کا، جس گھر میں پہلی بیوی اور اس کے دو بیٹوں کا حکم چلتا تھا۔ ماں لکھی بائی عرف خورشید کو محسوس ہوتا تھا کہ جس محبت سے خان آف قلات کے محل میں جاکر شاہنواز بھٹو نے دیوانگی کے عالم میں 16سال کی لڑکی سے شادی کی تھی۔ خاندان میں کسی کو بھی ایک آنکھ نہ بھائی۔ انہی رنجشوں کے درمیان وہ بچہ جب

Read more

اٹلی میں اردو شاعری کا تذکرہ

جب لوگوں نے سنا کہ میں دسمبر میں یورپ جارہی ہوں تو سب نے یک زبان کہا ’’بائولی ہوئی ہو، لوگ گرمیوں میں وہاں جاتے ہیں۔ تمہارے سر میں پھوڑا نکلا ہے۔ ‘‘ میں نے ہنس کے کہا کیا کروں اٹلی کے یونیورسٹی اساتذہ نے مل کر میری نظموں کا اطالوی زبان میں ترجمہ کیا۔ اس کو شائع کیا اور اس کے باقاعدہ افتتاح اور سات یونیورسٹریز میں پڑھنے اور مکالمہ کرنے کے لئے مجھے بلایا جارہا ہے۔ اس سےپچھلے

Read more

مزاروں پر کیا ہوتا ہے؟

میں جن دنوں داتا صاحب کی جہیز کمیٹی کی رکن تھی، اس زمانے میں بہت سے بھید کھلے تھے۔ داتا صاحب پہ جو چادریں چڑھائی جاتی تھیں۔ ان میں سے بہت سی چادریں واپس دکان پر آکر دوبارہ فروخت کر دی جاتی تھیں بالکل اسی طرح جیسے کہ ہم لوگوں نے اجمیر شریف میں بھی دیکھا تھا۔ خیر پھر بھی اتنی چادریں، ہر دو مہینے بعد بچ جاتی تھیں کہ خواتین کا ایک گروپ ان کے جہیز کے جوڑے بنا

Read more

بھیک مانگنا قومی اور انفرادی شعار ہے؟

لاہور جائو تو دریا کے کنارے اور نہر کے کنارے لوگ پلاسٹک کے تھیلوں میں گردے، پھیپھڑے لئے کھڑے ہوتے ہیں اور چیلوں، کوّوں کو ڈال رہے ہوتے ہیں۔ پہلے یہ لوگ گلیوں، محلّوں میں سائیکل پر یہ آواز لگا کر بیچ رہے ہوتے تھے، چیلوں کے واسطے گوشت۔ اب جبکہ محلّہ داریاں، وہ گلیاں ہی نہیں رہیں تو لوگ اب نہر اور دریا کے کنارے، گاڑیوں سے بھری سڑک کے کنارے ہوا میںیہ گوشت اچھال رہے ہوتے ہیں اور

Read more

کوتوال کو للکارتی فہمیدہ ریاض

یارو بس اتنا کرم کرنا/پسِ مرگ نہ مجھ پہ ستم کرنا/ مجھے کوئی سند نہ عطا کرنا دینداری کی /مت کہنا جوشِ خطابت میں/دراصل یہ عورت مومن تھی/مت اٹھنا ثابت کرنے کو ملک و ملت سے وفاداری/مت کوشش کرنا اپنالیں حکام کم از کم لاش ہی۔یہ میری جانے والی دوست فہمیدہ ریاض کی نظم کا ایک بندہے۔ وہ کب سے جانے کا انتظار کررہی تھی۔ ہاں سچ مچ 1979میں ’’آواز‘‘ رسالے میں اس نے لکھا’’ آج بھٹو کو نہیں،جمہوریت کو

Read more

دھند اور دھرنوں کے درمیان سفر

تو دن تھا جمعہ کا، بس سروس بھی بند تھی۔ اللہ کا نام لے کر گاڑی آگے بڑھائی، خیر سے دس کلومیٹر لاہور کی جانب باقی تھے کہ بچّوں کا ایک ریلا آیا، ہاتھ میں درختوں سے توڑی ہوئی شاخیں تھیں۔ جتنی گاڑیاں تھیں ان کے اوپر ڈنڈے رکھ کر کھڑے ہو گئے۔ ان میں ایک بھی تو مولوی نہیں تھا۔ بہت کہا ہمیں ضروری جانا ہے مگر جواب تھا ’’جا کے تو دکھائیں۔ دیکھیں اس جلی ہوئی گاڑی کی

Read more

مجھے قبر کی نہیں ، گھر کی چھت چاہئے!

عالمی فنڈز اور دیگر قوتیں کہے جارہی ہیں کہ ہمسایوں سے تعلقات استوار کرو، تجارت بڑھائو۔ یہ بھی کہ گزشتہ20برس میں پاکستان کی درآمدات سو فی صد بڑھی ہیں اور برآمدات 50فیصد کم ہوئی ہیں۔ یہ بھی کہہ رہی ہیں کہ پاکستان جب تک پیداواری ذرائع کو فروغ نہیں دیگا کہ لٹیا…اللہ نہ کرے ڈوبے، مگر اقدامات جیسے سرکاری ملازموں کو گھر دینے کی سہولت اور پاجی! یہ سہولت تو زیادہ چھوٹے سرکاری ملازمین کو اس دن سے حاصل ہے

Read more

چند مفید مشورے

ہمارے وزیر اعظم کو تو خوب پتہ ہے کہ 10ڈاوئننگ اسٹریٹ پر برطانیہ کے وزیر اعظم کا گھر ہے، کوئی آئے کوئی جائے، وہ کوئی بھی وزیر اعظم ہو، یہ جگہ وہ ہے جہاں امن کے نام پر معاہدے ہوتے ہیں، استقبالئے بھی دیئے جاتے ہیں، کوئی بھی سیاسی جماعت آئے، یہ کوئی نہیں کہتا، یہ بیچ دو، یہ عیاشی کی جگہ ہے، پی ایم، ہائوس عزت کی جگہ ہوتی ہے۔ افتخار کی جگہ ہوتی ہے۔ تمام ملکوں کے سربراہوں

Read more

آیئے کوئٹہ چلیں

کوئٹہ اورکابل میں بس ایک چیز کامن ہے۔ بڑے ہوٹل میں ٹھہرو تو واپسی پہ پیٹ پکڑ کر آئو اور یوں مچھلی کا ذائقہ آپ کئی دن تک بھول نہیں سکتے ہیں۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا کہ مقطع میں آپڑی ہے سخن گسترانہ بات‘‘ ورنہ کوئٹہ تو دوستوں کا دوست ہے۔ کوئٹہ میں سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی میں یوں تو بین الاقوامی دو روزہ خواتین کانفرنس تھی۔ البتہ معلوم نہیں پروفیسرز کی خواہش تھی کہ بچیوں کی۔

Read more

پاکستان کی نوجوان مگر نابلد کابینہ

ہم سب بڈھے یک زبان یہ کہتے رہتے تھے کہ ان سیاست دانوں کی شکلیں اور کرتوت دیکھ دیکھ کر تنگ آئے ہوئے ہیں۔ اللہ میاں ہمیں ان سے بچا اور کوئی نوجوان قیادت عطا کر۔ شاید قبولیت کی گھڑی تھی یا پھر بشریٰ بی بی کے وظیفوں کا اثر تھا کہ آخر اگست میں نئی کابینہ بننی شروع ہوئی۔ سوائے چند کے باقی سب نوجوان چاق و چوبند چہرے نظر آنے لگے۔ صرف ایک ماہ کے تجربے نے بتایا

Read more

تیرے دل میں تو بہت کام رفوکا نکلا

کہتے ہیں کہ پوت کے پاوں پالنے ہی میں نظر آتے ہیں۔ بقول کہ جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں۔ یہ حکومت آئی تو ہم نے شکر کیا کہ سیاسی گدی نشینوں سے (سوائے بلاول) نجات ملی۔ اب وہ ہو گا جس کے انتظار میں پہلے مارکس نے خواب دکھائے، پھر ماوزے تنگ نے، پھر ہوچی منھ نے، پھر نیلسن منڈیلا نے، تھوڑے سے خواب بھٹو صاحب نے بھی اور 1976ء میں ظالمانہ قانونی تبدیلیاں بھی کیں (پھر اس کے

Read more

شیریں مزاری، کیسے سناؤں درد بھرا افسانہ

میرا خیال ہے تم وہی شیریں مزاری ہو جوکہ ہمارے ساتھ 20برس تک سڑکوں پر نا انصافیوں، عورتوں کے ساتھ زیادتیوں اور جمہوری آزادی کے لئے، بھری دوپہروں میں احتجاج کرتی ہوئی چلتی تھیں، اس وقت بھی تم اپنے بالوں کو قوس قزح کے رنگ دے لیتی تھیں، ہم دوستوں کو یقین ہے کہ اس بے عدل معاشرے میں تم کچھ قوانین کو بدل پائو گی اور کچھ پر عملدرآمد کے لئے اس سفاک مردانہ بیورو کریسی کو نکیل ڈال

Read more

تبدیلی کے خدوخال سامنے لائیں

رات کو عمران خان صاحب کی تقریر سننے کے بعد صبح بڑی خوش و خرم میرے جوتے کا تلا اکھڑ گیا تھا، سوچا تھا مائی کو دے دوں گی ، نیا خرید لوں گی، فوراً سر میں نقارہ بجا ’’سادگی‘‘۔ گھر سے نکل کر موچی کے پاس گئی۔ جوتا سینے کو دیا، موچی سے چونکہ کوئی بیس، پچیس سال سے واقفیت تھی، مجھے دیکھ کر ہنس کر بولا، باجی اب اس کے تلے میں جان نہیں ہے۔ میں نے، تم

Read more

کلدیپ نائر، امن پسند آپ کو یاد کرتے ہیں

اس دفعہ14؍اگست کو واہگہ بارڈر کے دونوں طرف موم بتیاں جلاتے ہوئے امن کے نعرے لگانے والے موجود نہیں تھے۔ دونوں طرف کے سپاہی ہزار منع کرتے، مگر دیوانے تھے کہ پہنچ جاتے، آزادی اور امن کے نعرے لگاتے، تقریریں کرتے، ان کو دیکھا دیکھی ادھر سارا امرتسر جمع ہوجاتا اور ادھر لاہور کے نوجوان، بوڑھے اور خواتین جھنڈے اٹھائے ہوئے موجود ہوتے تھے۔ پر اس سال کیا ہوا۔ اس دفعہ امن لانے والوں کے سربراہ کلدیپ نائر، اسپتال میں

Read more

عمران خان اور قائد اعظم کی11اگست کی تقریر

ایسی کونسی قیامت آجاتی، اگر عمران خان 11اگست کو بھی ایک تقریر کرلیتے۔ یہ وہ تاریخ ہے جب قائد اعظم نے کہا تھا کہ ’’پاکستان میں نہ کوئی مسلم ہے، نہ ہندو نہ سکھ نہ پارسی یا عیسائی،مذہبی حوالے سے نہیں بلکہ سیاسی حوالے سے، سب پاکستانی ہیں‘‘ ۔ یہی نقطہ نظر سامنے رکھ کر عمران کو تقریر اس لئے کرنی چاہئے کہ اول تو ان کے بارے میں ، ابھی بھی کچھ لوگوں میں بعض شکوک و شبہات ہیں۔

Read more

غریبوں کے مری سے ملاقات

یوں تو مجھے سیر کرانے اور میرا سیاسی موڈ بدلوانے کے لئے ڈاکٹر بگھیو اورحارث خلیق فیملیز، مری لے گئے تھے، وہی آج سے 50برس پہلے کا سا مال روڈ، پلاسٹک کے برتن اور کھلونے، چمچماتے کپڑے پہنے نوبیاہتا، آوارہ گردی کرتے نوجوانوں کے گروپ اور پھرسائیڈ بنچ پہ بیٹھے ہوئے مجھ جیسے بزرگ۔ میں یہ منظر دیکھ دیکھ کر بوڑھی ہوئی تھی۔ سوچا چلو ذرا غریب خوانچہ فروشوں، چھلیاں بھونتے بابوں اور ہتھ گڈی میں بیٹھے بچوں اور بوڑھوں

Read more

سیاسی پارٹیاں اور الیکشن کمیشن بتائیں

بار بار کہا گیا کہ ہر پارٹی 5فیصد سیٹیں خواتین کو دے گی۔ ہم اس دن سے تماشائے اہلِ کرم دیکھنے کے منتظر تھے کہ آخر حشر کی وہ گھڑی آگئی کہ جب تمام سیاسی پارٹیوں کے نامہ اعمال کھول دیئے گئے۔ پھر وہی گنی بوٹیاں اور نیا شوربہ، وہ جو 5 فیصد کی تنبیہ تھی وہ کیا ہوئی۔ سنا ہے کہ جہاں کہیں پارٹیوں کو کوئی امیدوار نہیں مل رہا تھا۔ وہاں خواتین کو نامزد کر کے 5فیصد کی

Read more

اپنے نام کی تختی لگانےکی دوڑ

کوئی چالیس سال ہوئے، لاہور کارپوریشن نے سڑکوں کے نام مشہور لوگوں سے منسوب کرنےشروع کئے تھے۔ سمن آباد سے چھوٹا سا بازار نکلتا تھا۔ اس میں ایک اور چھوٹی گلی تھی، جس میں قتیل شفائی اور احمد ندیم قاسمی صاحب کے مکانات تھے۔ کافی دن گزر گئے اور ان کی گلی پر نیم پلیٹ نہیں لگی تو قتیل صاحب نے خود ہی اپنے نام کی پلیٹ لگائی اور ہم لوگوں کو دیکھنے بلایا تھا۔ یہ واقعہ مجھے اب کیوں

Read more

شکوہ اللہ سے ہے

انگریزوں نے 1926 میں کوئلے کی کانوں کے بارے میں قانون میں لکھا تھا کہ ہر مزدور کو ایک ماسک دیا جائے گا جس کے ساتھ پشت پر آکسیجن بیگ لگا ہوگا۔ ہر کان میں دو سوراخ ہوں گے کہ ہوا کے گزرنے کا اہتمام ہو۔ ہر چار فٹ پر دروازہ ہوگا اور اوپر ایک تختہ لگا ہو گا کہ کان کھدائی کے دوران بیٹھ نہ جائے۔ پرانے زمانے میں خاص کر حبیب اللہ مائنز میں اب تک ٹرین کوئلہ اکھٹا کرنے جاتی ہے۔ میں

Read more

سچ+سچ=جھوٹ

یہ میںنے مسئلہ فیثا غورث کو الٹاکر بیان نہیں کیا آج کل کے مروج بیانیے کی ترسیل کرنا چاہتی ہوں۔میں عمر میں چوہدری شجاعت سے بڑی ہوں۔اس لئے اپنی یادداشت اور سنی سنائی باتوں کی تصدیق معزز چوہدری صاحب سے چاہتی ہوں۔آپ نے اپنے والد کا مختصر تذکرہ کیاہے۔میری ان سے کئی ملاقاتیں‘ کئی دفاتر میں ہوئیں کہ میں لوکل گورنمنٹ کے ادارے میں کام کررہی تھی۔سنا تھا کہ قبلہ چوہدری صاحب نے شاید پولیس میں سپاہی کی نوکری چھوڑ

Read more

مئی اور ایٹمی کہانی

شمالی کوریا نے مزید ایٹمی دھماکہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ خبر کم از کم دشمن ملک امریکہ کو بہت خوش آئند لگی ہو گی۔ مجھے بیس برس پہلے کا مئی کامہینہ یاد آگیا۔ پہلے انڈیا نے پھر پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے اور پاکستان مسلم امہ کا پہلا مسلمان ملک بن گیا، جس نے ایٹمی دھماکہ کیا تھا۔ بات آئی گئی نہیں ہوئی۔ جیسے کم جونگ دھمکی دیتا تھا کہ میرے پاس ایٹمی بٹن ہے، وہ کسی

Read more

چچا سام کا نیا جال

کیا قرب قیامت کی نشانیاں ہیں۔ 1979میں امریکیوں نے افغانستان میں لڑنےکے لئےکروڑوں، اربوں ڈالر دیئے ہمارے ملک ہماری سرزمین پر چیچنیا سے لے کر سارے مسلمان ممالک سے جنگجو بلائے ان کو خودکش جیکٹ بنانے سے لے کر، خودکش دھماکے کرنے اور بم بنانے کی تربیت دینے کے علاوہ، باقاعدہ وزیرستان کے علاقوں میں آباد کیا۔ دو نسلوں کی اس تباہی کے لئے تیاری کروائی، بعد میں جب خود امریکی فوجیں افغانستان میں اتریں تو انہیں بھی جب خودکش

Read more

مدیحہ تم غریب کی جھگیوں میں زندہ رہو گی

کیا لکھوں اور کیسے کہوں، کیسے دل کو سمجھائوں اور نوحہ کروں کہ مدیحہ گوہر نہیں رہی۔ وہ خاتون جس نے ضیا الحق کے پھانسیوں کے دور میں رجزگائے، سنائے اور دکھائے۔ وہ جس نے انڈیا پاکستان کو باربار یاد دلایا کہ کس جنون میں مبتلا ہو۔ اپنے وسائل ضائع مت کرو۔ دونوں ملکوں میں کروڑوں بچوں کے ہاتھوں میں کتابیں نہیں، تن پر کپڑے نہیں، منہ میں نوالہ نہیں، سونے کو چھت نہیں اور رشتہ نام کی وہ دنیا

Read more

کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

آج کل چونکہ عالمی سطح پر رشوت لینے اور دینے کے موضوعات اتنے گرم ہیں کہ کبھی کوئی سربراہoutتو کوئی سربراہ جیل میں۔ یوں آج کی سیاست کی نئی بوطیقا، کبھی فیس بک کے حوالے سے تو کبھی بے نام کمپنیوں کے نام سے پکڑی جاتی ہے مگر سب سے انوکھا تجربہ گوئٹے مالا جیسے چھوٹے سے غریب اور پسماندہ ملک نے کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ سب کرپٹ افسروں اور سیاست دانوں کو سزا دی گئی ہے کہ

Read more

سیکولر انڈیا اور پاکستان

شکر ہے کہ انڈیا میں جاوید اختر، ممتا بینرجی اور مایاوتی بھی بول اٹھے ہیں کہ ہمارا سیکولر انڈیا کہاں گیا۔ وہ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ کہنے کو واجپائی بھی بی جے پی سے تعلق رکھتے تھے مگر ان کا دور بہت روشن اور بہت مختلف تھا۔ وہ تو پاکستان بھی آئے تھے اور مینار پاکستان دیکھنے بھی گئے تھے۔ جاوید اختر اردو کے بڑے شاعر اور یہ دونوں خواتین انڈیا کی رانی جھانسی ہیں۔ ان کو بھی

Read more