یہ بھائی کیا ہوتا ہے؟
آج کے مضمون میں ہم بھائی پر بات کریں گے۔ بھائی کیا ہوتا ہے؟ شاید ہم سب جانتے ہیں یا شاید ہم سب نہیں جانتے۔ ہم سب جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں مگر کچھ ایسے لوگ ہیں جو آج بھی یہ سوال کر رہے ہیں کہ یہ بھائی کیا ہوتا ہے۔ آیئے پھر دیکھتے ہیں کہ یہ بھائی کیا ہوتا ہے۔
بھائی کی کئی اقسام ہیں۔ ایک بھائی تو وہ ہوتا ہے جو ماں جایہ ہوتا ہے یعنی سگا خونی رشتہ۔ یہ بھائی کی سب سے عام اور مقبول عام قسم ہے۔ یہ بھائی ہر ملک، ہر شہر، ہر گلی، ہر گھر اور ہر کمرے میں مل جاتے ہیں۔ ان بھائیوں کے چھوٹے یا بڑے بھائی بہن ہوتے ہیں۔ اگر تو یہ چھوٹے بھائی ہوں تو بے چارے شامت اعمال کے مارے ہی رہتے ہیں۔ ان کا ہر بڑا بھائی بہن ان کو اپنے کاموں کے لیے دوڑائے رکھتا ہے۔ کسی چھوٹے بھائی نے ایسی ہی کسی صورت حال میں پھنسنے کے بعد کہا تھا کہ خدا انسان کو کتا بنا دے مگر چھوٹا بھائی نہ بنائے۔ یہی چھوٹے بھائی مگر اکثر ضرورت پڑنے پر بڑے بلکہ بہت بڑے ثابت ہوتے ہیں۔ بھائی اپنے بہن بھائیوں کے لیے ہر مشکل اٹھاتے ہیں۔ مشکل وقت میں اپنے بھائی بہنوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بھی ثابت ہوتے ہیں اور بعض اوقات کچھ بھائی انہی دیواروں میں سوراخ بھی نکال دیا کرتے ہیں۔ بھائیوں کی غیرت اکثر اپنی بہنوں کے معاملے میں جوش میں آ جاتی ہے مگر یہی غیرت کسی دوسرے کی بہن کو چھیڑتے وقت لمبی تان کر سوئی ہوتی ہے۔ ہم اکثر بھائیوں کی غیرت کے واقعات سنتے رہتے ہیں جن میں وہ اپنی سگی بہنوں کو پسند کی شادی پر موت کے گھاٹ اتارتے نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ مخصوص روایات کے اسیر بھائی اپنی بہن کی "غلطی” کا بدلہ دوسروں کی بہن سے اجتماعی طور لیتے ہیں۔ ماں باپ عام طور پر بھائیوں کی غلطیوں سے چشم پوشی کرتے ہیں جس کے نتیجے میں بھائی بگڑتے رہتے ہیں اور پھر کسی راؤ انوار کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔
بھائیوں کی ایک قسم عام طور پر سوشل میڈیا پر بھی پائی جاتی ہے۔ یہ وہ "عظیم” بھائی ہوتے ہیں جو کسی لڑکی کو فرینڈ ریکوئسٹ بھیجتے ہیں اور ساتھ ہی بہن کہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ بہن کی گالی پر یقین رکھنے والے یہ بھائی رفتہ رفتہ برادرانہ چولا اتارتے جاتے ہیں۔ اور آخر کار بوائے فرینڈ کے درجے پر فائز ہو جاتے ہیں۔ اسی سے ملتے جلتے بھائی وہ ہوتے ہیں جنہیں لڑکیاں اپنی حفاظت کے پیش نظر خود بھائی کہ دیتی ہیں۔ ظاہر ہے اس منہ بولے رشتے پر نہ تو اس "بھائی” کو یقین ہوتا ہے اور نہ ہی ازخود بہن کا نوٹس لینے والی لڑکی کو ۔ یعنی "ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن۔ دل کے خوش رکھنےکو غالب یہ خیال اچھا ہے”۔ اس طرح کے بھائیوں سے ہوشیار رہنا چاہیئے۔
ہمارے معاشرے میں بھائی کا لفظ اچھے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ہم کسی کو احترام سے مخاطب کرتے ہیں تو بھائی کہ دیتے ہیں۔ اب یہ اور بات ہے کہ جس کو ہم بھائی کہیں کبھی کبھار وہ واقعی بھائی بننے پر تل جاتا ہے۔ شاید لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بھائی وہ ہوتا ہے جو ہر معاملے میں اپنی ٹانگ اڑانا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ چناچہ وہ اپنی ٹانگ ہر وقت ہاتھ میں لیے پھرتے ہیں اور جہاں بھی ضرورت نہیں ہوتی وہاں اٹکا دیتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جہاں واقعی ٹانگ اڑانے کی ضرورت ہو وہاں بھائی لاتعلقی اختیار کر لیتے ہیں۔ آپ نے سڑکوں پر اکثر بھائیوں کو دیکھا ہو گا جو کسی حادثے کی صورت میں کان لپیٹے وہاں سے گذر جاتے ہیں۔ کچھ بھائی تماشہ دیکھنے کی غرض سے رک جاتے ہیں۔ بہت کم بھائی ایسے ہوتے ہیں جو جائے حادثہ پر اپنی اصل ذمہ داری نبھائیں۔
ان اقسام کے علاوہ ایک اور بھائی ہوتے ہیں۔ اور وہ "بھائی ” ہوتے ہیں۔ ہندی فلموں کے توسط سے متعارف ہونےوالا یہ بھائی عرف عام میں بدمعاش کہلاتا ہے۔ دنیا کا ہر الٹا کام یہ کرتے ہیں مگر کہلاتے بھائی ہیں۔ اس سلسلے میں منا بھائی ایم بی بی ایس کی مثال بھی دی جا سکتی ہے۔ مگر وہ تو لاکھوں میں ایک بھائی تھا۔ عموماً اس طرح کے بھائی اتنے اچھے نہیں ہوا کرتے۔ یہ بھائیوں کی وہ قسم ہے جن سے ہر شریف آدمی بچنے کی کوشش کرتا ہے۔
پاکستان میں ایک علاقائی اور لسانی سیاست کرنے والی ایک جماعت میں بھی بھائی کلچر رائج ہے۔ بڑے سے بڑا اور چھوٹے سے چھوٹا کارکن ایک دوسرے کو بھائی کہ کر مخاطب کرتا ہے۔ گذشتہ برس تک ایک بہت بڑے بھائی نے تھرتھلی مچا رکھی تھی مگر "جوش خطابت” میں کچھ زیادہ ہی بڑے بھائی ہو گئے نتیجتاً ان کا بھائی کا منصب ان سے چھوٹے اور بظاہر چھوٹے دکھائی دینے والی بھائی کو مل گیا۔ آج چیف جسٹس صاحب نے اسی جماعت کے کراچی میئر کو وسیم بھائی کہ کر پکارا۔ پھر کہا کہ آپ لوگ ایک دوسرے کو بھائی کہتے ہیں نا؟ یہ بھائی کیا ہوتا ہے؟
بھائی ایک نہایت پیارا اور بااعتماد رشتہ ہے۔ ماں اور بچوں کے پیار کے بعد یہ بھائی بہن کا رشتہ ہی ہے جس سے زندگی خوبصورت ہوتی ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ بھائی کا نقاب اوڑھ کر لوگ اس رشتے کو پامال کرتے ہیں اور ان کی ان حرکتوں کی وجہ سے حقیقی بھائی شرمندگی سے منہ چھپائے پھرتے ہیں۔ ہماری درخواست صرف اتنی ہے کہ بھائی کے پر تقدس اور باوقار رشتے کو تقدس اور وقار کے ساتھ ہی نبھائیں۔ کوشش کریں کہ آپ کی وجہ سے آپ کے بھائی بہن سر اٹھا کر چل سکیں نہ کہ سر جھکا کر۔


