پاکستانی والدین سے ایک عاجزانہ التجا

پہلے میں سمجھتا تھا کہ ہم یعنی پاکستانی ایک دلچسپ قوم ہیں۔ مگر گزشتہ ایک ڈیڑھ ماہ میں میری یہ سوچ ایک سو اسی درجے کا یو ٹرن لے چکی ہے۔ اب میں سمجھتا ہوں کہ ہم یعنی پاکستانی ایک ”شاندار“ قوم ہیں۔

کورونا وائرس کی عالمی وبا تقریباً پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے اور پاکستان بھی اس وبا کو بھگت رہا ہے۔ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اب تک پاکستان میں اس وبا نے وہ تباہی نہیں مچائی جو تباہی اس عالمی وبا کے باعث امریکہ اور یورپ کے کچھ ملکوں میں دیکھنے میں آئی ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں کہ پاکستان میں حالات بہت اچھے ہیں۔

Read more

خوف کے کالے سمندر سے کتنے فٹ فاصلہ؟

صبح میری آنکھ کھلی، تو کچھ کسل مندی محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے بستر میں لیٹے لیٹے ہی ہاتھ پاؤں پھیلا کر ایک طویل انگڑائی لی اور بستر سے اٹھ کھڑا ہوا۔ کھڑکی کے سامنے موجود پردوں کی وجہ سے کمرے میں ملگجا اندھیرا تھا۔ پردے ہٹا کر باہر جھانکا تو وہ ایک نہایت…

Read more

آزادی اظہار رائے کی قدر کیجیے

عقل مند انسان کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اسے کب اور کس موقعے پر کیا بات کرنی چاہیے۔ اور وہ بات کرنے سے پہلے وہ اس بات کے ردعمل کا اندازہ بھی لگا چکا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی عقل مند آدمی منہ کھولتا…

Read more

مجھے نواز شریف پر ترس نہیں آتا

دو سال پہلے کی بات ہے کہ جنوبی پنجاب کے ایک ضلع کے گاؤں میں ایک بااثر زمیندار گھرانے کے ایک مرد پر توہین مذہب  کا مقدمہ درج کروایا گیا۔ مجھ تک یہ واقعہ میرے ایک جاننے والے کے توسط سے پہنچا۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ زمیندار گھرانہ ایک اقلیتی عقیدے سے تعلق رکھتا…

Read more

عمران خان کے خلاف کھڑا ہوتا ہوا متحدہ مذہبی محاذ

مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبر 2019 کو تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف آزادی مارچ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نون نے مولانا فضل الرحمان کو مسلسل اپنا مارچ کم از کم نومبر تک مؤخر کرنے کا مشورہ دیا لیکن مولانا نے تمام مشورے رد…

Read more

بنی گالہ کے بھوت

میں 1972 ماڈل کی ڈاٹسن میں ایک سنسان راستے پر گامزن تھا۔ رات کی سیاہی صبح کے اجالے سے بغل گیر ہو رہی تھی۔ سردی کی شدت ہاتھوں پیروں کا مزاج پوچھ رہی تھی۔ ہر سو دھندلکا پھیلا ہوا تھا۔ سڑک رات کی اوس کے باعث بھیگی ہوئی تھی۔ اچانک گاڑی نے جھٹکے کھانے شروع کر دیے۔ میری نظر پٹرول کی مقدار بتانے والی سوئی پر پڑی تو وہ بالکل نیچے لگ چکی تھی۔ میں نے ایک طویل سانس لیا اور نظریں سڑک پر جما دیں۔ کچھ دور چل کر گاڑی ایک دھچکے سے بند ہو گئی۔ وہ ایک ایسی سنسان سڑک تھی جس کے اطراف درختوں کا سلسلہ دور تک چلا گیا تھا۔

Read more

مسئلہ کشمیر، خیابان کشمیر اور احمقوں کی جنت

پندرہ اگست کو پاکستان نے بھارت کا یوم آزادی، کشمیر کی صورت حال کے پیش نظر یوم سیاہ کے طور پر منایا۔ اس دن توقع یہ تھی کہ کم از کم ایک دن کے لیے پاکستانی قوم بھرپور انداز میں کشمیر اور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کرے گی۔ وہ نوجوان اسی توقع کے…

Read more

ایکسٹینشن

بجلی کی مدد سے چلنے والی اشیا کا روزمرہ استعمال تقریباً ہر گھر میں ہوتا ہے۔ عام طور پر گھر کے ہر کمرے میں بجلی کے پوائنٹ بھی موجود ہوتے ہیں جن میں پلگ کی مدد سے بجلی کے تار لگا کر ہم بجلی سے چلنے والے آلات استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ایسا بھی ہوتا…

Read more

تمھیں کیا بھئی؟

چاند کی روشنی میں ہم نے ڈرتے ڈرتے اپنی ”سری“ کو بلند کر کے نگاہ مرد مومن سے ارد گرد کا جائزہ لیا تو تقدیر بدل چکی تھی۔ مخالف قوتیں پسپائی اختیار کر چکی تھیں۔ مشتعل افراد اپنا محاصرہ اٹھا لے گئے تھے۔ گویا ہم ”پین دی سری“ والی صورت حال سے دوچار ہونے سے…

Read more

پیر و مرشد کے متبرک کلمات کے مہلک اثرات

یہ ان دنوں کی بات ہے جب گذشتہ حکومت کی انتخابی ایکٹ میں ترامیم کے رد عمل کے طور پر فیض آباد پر سڑک نشین دھرنے نے ملک کے اندر ایک ہیجان بپا کر رکھا تھا۔ اس وقت حکومتی آپریشن کے بعد رونما ہونے والے واقعات جہاں پورے پاکستان کے لیے افسوس ناک تھے وہیں اس دھرنے سے یگانگت کا مظاہرہ ہمارے لیے ذاتی طور پر اندوہناک ثابت ہوا۔

بات کچھ یوں ہے کہ عوام کی بے شعور اکثریت میں ہم بھی شامل ہیں چنانچہ جب حکومت کے خلاف یہ دھرنا عمل پذیر ہوا تو ہم نے بھی اس دھرنے کی حمایت کا اعلان کر ڈالا۔ اس حمایت کو پائیدار بنانے کے لیے ہم نے دھرنے کے سرخیل حضرت مولانا خادم حسین رضوی (حال مقیم نامعلوم) کی تقاریر کو سننے کی ٹھانی تاکہ قوت ایمانی کو مہمیز لگاسکیں۔ سوشل میڈیا کے طفیل گھر بیٹھے موصوف کی غیر متحرک مگر متبرک اور مقدس الفاظ پر مشتمل کچھ تقاریر ہاتھ آ گئیں۔

Read more