عمران خان کے خلاف کھڑا ہوتا ہوا متحدہ مذہبی محاذ

مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبر 2019 کو تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف آزادی مارچ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نون نے مولانا فضل الرحمان کو مسلسل اپنا مارچ کم از کم نومبر تک مؤخر کرنے کا مشورہ دیا لیکن مولانا نے تمام مشورے رد…

Read more

بنی گالہ کے بھوت

میں 1972 ماڈل کی ڈاٹسن میں ایک سنسان راستے پر گامزن تھا۔ رات کی سیاہی صبح کے اجالے سے بغل گیر ہو رہی تھی۔ سردی کی شدت ہاتھوں پیروں کا مزاج پوچھ رہی تھی۔ ہر سو دھندلکا پھیلا ہوا تھا۔ سڑک رات کی اوس کے باعث بھیگی ہوئی تھی۔ اچانک گاڑی نے جھٹکے کھانے شروع کر دیے۔ میری نظر پٹرول کی مقدار بتانے والی سوئی پر پڑی تو وہ بالکل نیچے لگ چکی تھی۔ میں نے ایک طویل سانس لیا اور نظریں سڑک پر جما دیں۔ کچھ دور چل کر گاڑی ایک دھچکے سے بند ہو گئی۔ وہ ایک ایسی سنسان سڑک تھی جس کے اطراف درختوں کا سلسلہ دور تک چلا گیا تھا۔

Read more

مسئلہ کشمیر، خیابان کشمیر اور احمقوں کی جنت

پندرہ اگست کو پاکستان نے بھارت کا یوم آزادی، کشمیر کی صورت حال کے پیش نظر یوم سیاہ کے طور پر منایا۔ اس دن توقع یہ تھی کہ کم از کم ایک دن کے لیے پاکستانی قوم بھرپور انداز میں کشمیر اور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کرے گی۔ وہ نوجوان اسی توقع کے…

Read more

ایکسٹینشن

بجلی کی مدد سے چلنے والی اشیا کا روزمرہ استعمال تقریباً ہر گھر میں ہوتا ہے۔ عام طور پر گھر کے ہر کمرے میں بجلی کے پوائنٹ بھی موجود ہوتے ہیں جن میں پلگ کی مدد سے بجلی کے تار لگا کر ہم بجلی سے چلنے والے آلات استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ایسا بھی ہوتا…

Read more

تمھیں کیا بھئی؟

چاند کی روشنی میں ہم نے ڈرتے ڈرتے اپنی ”سری“ کو بلند کر کے نگاہ مرد مومن سے ارد گرد کا جائزہ لیا تو تقدیر بدل چکی تھی۔ مخالف قوتیں پسپائی اختیار کر چکی تھیں۔ مشتعل افراد اپنا محاصرہ اٹھا لے گئے تھے۔ گویا ہم ”پین دی سری“ والی صورت حال سے دوچار ہونے سے…

Read more

پیر و مرشد کے متبرک کلمات کے مہلک اثرات

یہ ان دنوں کی بات ہے جب گذشتہ حکومت کی انتخابی ایکٹ میں ترامیم کے رد عمل کے طور پر فیض آباد پر سڑک نشین دھرنے نے ملک کے اندر ایک ہیجان بپا کر رکھا تھا۔ اس وقت حکومتی آپریشن کے بعد رونما ہونے والے واقعات جہاں پورے پاکستان کے لیے افسوس ناک تھے وہیں اس دھرنے سے یگانگت کا مظاہرہ ہمارے لیے ذاتی طور پر اندوہناک ثابت ہوا۔

بات کچھ یوں ہے کہ عوام کی بے شعور اکثریت میں ہم بھی شامل ہیں چنانچہ جب حکومت کے خلاف یہ دھرنا عمل پذیر ہوا تو ہم نے بھی اس دھرنے کی حمایت کا اعلان کر ڈالا۔ اس حمایت کو پائیدار بنانے کے لیے ہم نے دھرنے کے سرخیل حضرت مولانا خادم حسین رضوی (حال مقیم نامعلوم) کی تقاریر کو سننے کی ٹھانی تاکہ قوت ایمانی کو مہمیز لگاسکیں۔ سوشل میڈیا کے طفیل گھر بیٹھے موصوف کی غیر متحرک مگر متبرک اور مقدس الفاظ پر مشتمل کچھ تقاریر ہاتھ آ گئیں۔

Read more

ایک ملک میں ٹُو مچ فن

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک ملک تھا۔ آپ اس کو اپنی آسانی کے لیے چ سے شروع ہوتا ہوا کوئی بھی نام دے سکتے ہیں۔ ملک کے عوام بھی اسی ملک کے نام سے پکارے اور پہچانے جاتے ہیں جیسے چین میں چینی، ایران میں ایرانی اور پاکستان میں پاکستانی رہتے ہیں۔ چناچہ اس ملک ’چ‘ کے عوام بھی ’چ‘ ہی تھے۔ ملک ’چ‘ میں ہر طرح کی چور ی چکاری، چالبازی، چور بازاری، چاپلوسی اور چیر پھاڑ کادور دورہ تھا۔ عوام بھی ’چ‘ تھے لہٰذا چوری چکاری، چالبازی، چور بازاری، چاپلوسی اور چیر پھاڑ کے نت نئے چکر نہ صرف ایجاد کرتے رہتے بلکہ ان پر چوکس ہو کر چلتے بھی رہتے تھے۔ ’چ‘ عوام کی پسندیدہ غذا چُوری تھی جسے وہ چائے کے ساتھ چسکیاں لے کر کھاتے تھے۔

Read more

زیرو پوائنٹ فائیو: اسلام آباد ماموں

آپ چاند کی مثال لے لیجیے۔چاند ہمارے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے لگ بھگ ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل کی فاصلے پر افق میں عمودی سمت پر واقع ہے۔ یہ ایک نسبتاً گول دکھائی دینے والا ایسا سیارچہ ہے جو وفاقی دارالحکومت سے عموماً صاف دکھائی دیتا ہے۔ یہ اپنے رنگ بدلتا رہتا ہے۔ کبھی یہ سنہرے رنگ کا ہوجاتا ہے کبھی سفید ہو جاتا ہے کبھی اس پر سرخ رنگ غالب آ جاتا ہے تو کبھی یہ معشوق کے تل کی مانندسیاہ دکھائی دیتاہے۔ چاند کو بچپن میں چندا ماموں کہتے ہیں۔

Read more

ایک چسکے باز قوم کا متحرک انٹرنیٹر

مجھ سے ملیے۔ میں ایک چسکے باز قوم کا متحرک انٹرنیٹر ہوں۔ انٹرنیٹر کو انٹرٹینر نہ سمجھ لیجیے گا۔ انٹرنیٹمنٹ اور انٹرٹینمنٹ میں اتنا ہی فرق ہے جتنا نواز شریف اور عمران خان میں فرق ہے۔ یعنی انٹرنیٹمنٹ ایک نشہ ہے جبکہ انٹرٹینمنٹ ایک ضرورت۔ دونوں نامناسب انداز میں استعمال کیے جائیں تو مت مار…

Read more

یوم حقوق نسواں پر عورتوں کا مؤثر ترین ابلاغ

آٹھ مارچ کو پاکستان میں عورتیں گھروں سے نکلیں اور کمال کر دیا۔ یہ عورتوں کے حقوق کا عالمی دن تھا۔ ہر سال یہ دن اسی تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ گذشتہ برس آٹھ مارچ کے دن پاکستان میں عورتوں کے حقوق کی مہم نے ایک نئی کروٹ لی جب دو مختلف انداز کے نعروں نے لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ یہ نعرے ”اپنا کھانا خود گرم کرو“ اور ”میرا جسم میری مرضی“ تھے۔دیکھتے ہی دیکھتے یہ نعرے سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گئے۔ بیشتر مردوں نے جارحانہ طور پر ان نعروں کی مذمت کی تو عورتیں بھی خم ٹھونک کر ان نعروں کا دفاع کرنے پر اتر آئیں اور پھر گویا ایک جنگ چھڑ گئی۔ کافی دن تک یہ بحث چلتی رہی اور پھر بغیر کسی انجام تک پہنچے ختم ہو گئی کیونکہ مارکیٹ میں نئے مسائل آ چکے تھے۔

Read more