سفاک رویے

حقیقی غلاموں کا یہ المیہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ آزاد ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی انھیں (اپنی سمجھ کے مطابق) حقیقی آزادی کا پیغام دے تو وہ غصے میں آ جاتے ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ستر سال سے وہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے وہ اب خود کو آزاد ہیں۔ جن کی کوئی بات اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے بغیر نہیں ہوتی تھی اب وہ اسٹیبلشمنٹ کی

Read more

سوشل میڈیا کی دوست اور ویہلا ٹائم ڈے

ہم پیدائشی عاشق ہیں اور ہمارا نام بھی عاشق ہے۔ اماں حضور فرماتی ہیں کہ ہم نے پیدا ہوتے ہی ایک خوبصورت نرس کو آنکھ ماری تھی۔
ممکن ہے یہ بیان مبالغہ آرائی پر مبنی ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ لاعلمی کی بنیاد پر اماں نے یہ تہمت ہم پر دھری ہو کیوں کہ اکثر وبیشتر بچے پیدا ہوتے ہیں تو چندھی چندھی آنکھوں سے گرد وپیش کا جائزہ لیتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس موقع پر خاکسار کی ایک آنکھ چندھیا جانے کی بجائے موندی گئی ہو اور نرس نے ازراہ حسرت یہ سمجھا ہو کہ نومولود نے اسے چھیڑ دیا ہے۔ بہرحال وجہ تسمیہ جو بھی رہی ہو اماں کے ہاتھ تو ابا کے خصائل پر انگلی اٹھانے کا موقع آ گیا تھا چناچہ یہ کہ کر انہوں نے ایک قہقہہ لگایا اور فرمایا تھا کہ کمبخت بالکل اپنے باپ پر گیا ہے۔

باپ بے چارے کو اپنے زمانے میں کھل کھیلنے کا زیادہ موقع نہیں مل پایا تھا اور اکیسواں برس لگتے ہی کان سے پکڑ کر مولوی صاحب کے سامنے بٹھا دیے گئے تھے۔ چاروناچار منمناتی آواز میں اماں کو قبول فرما کر ہی جاں خلاصی ہو سکی تھی۔ اماں اس وقت جاگتی آنکھوں سے ٹین ایج کے خواب بننے میں مصروف تھیں مگر ان کی آنکھوں سے بنے ہوئے خوا ب چھین کر جہیز میں انہیں اون سلائی تھما دی گئی تھی تاکہ وہ حقیقت میں بُنائی کر سکیں۔ چنانچہ انہوں نے بُننا شروع کر دیا اور پھر ساری عمر تانے بانے بُنتی ہی چلی گئیں۔

Read more

یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج مانگا

تھی خبر گرم لہو کے چلیں گے قطرے دینے ہم بھی گئے پہ تماشا نہ ہوا آج ایک فیس بک گروپ میں کسی خاتون نے سوال نما پوسٹ داغی کہ ”کیا آپ نے کبھی بلڈ ڈونیٹ کیا؟“ چونکہ سوال ایک خاتون کی طرف سے داغا گیا تھا چنانچہ اس کا جواب از خود ہم پر دینا واجب ہو گیا۔ جتنی دیر میں چند دیگر احباب نے خاتون کی اردو ٹھیک کرواتے ہوئے انہیں سمجھایا کہ بلڈ ڈونیٹ کرنا کچھ نہیں

Read more

پی ڈی ایم جلسوں پر کیوں مصر ہے؟

صورت حال عجیب سی ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی دوسری لہر آ چکی ہے۔ اس مرتبہ متاثرین میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو شہرہ آفاق ہیں۔ عام لوگوں کا تو ذکر ہی کیا۔ پاکستان میں سیاست دان، مذہبی رہنما، شوبز سے متعلق افراد، کھلاڑی، بیوروکریٹ، جج، وکیل، فوجی، سرکاری اور نجیملازم، کاروباری اور عام لوگ سبھی اس کی لپیٹ میں ہیں۔ اس مرتبہ پھیلاؤ کی رفتار پہلے کے مقابلے میں تیز ہے اوراس کی ہلاکت خیزی کی شرح

Read more

شکر ہے کہ جانوروں کا مذہب نہیں ہوتا

یادش بخیر ہمارے ملک کا ایک آئین ہوتا ہے جسے ازراہ عقیدت دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ یہ آئین سن 1973 میں بنا اور نافذ ہوا تھا اسی لیے آپ لوگ اکثر تہتر کے آئین کے تناظر میں کہی گئی باتیں سنتے رہتے ہیں۔

اسی آئین کی ایک شق نمبر 41 ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا ایک صدر ہوگا جو مملکت کا سربراہ ہوگا اور جمہوریہ کے اتحاد کی نمائندگی کرے گا۔ تہتر کے آئین کے تناظر میں آج کل پاکستان کے جمہوریہ کے ”اتحاد“ کی نمائندگی کے فرائض جناب عارف علوی سرانجام دے رہے ہیں جو صدر پاکستان ہیں۔

Read more

نیو خان

پاکستان اور بالخصوص پنجاب کے رہنے والے کسی اور سے واقف ہوں یا نہ ہوں، ”نیو خان“ سے ضرور واقف ہوتے ہیں۔ ویسے تو پاکستان میں بندو خان سمیت کئی دیگر خانوں کو بھی لوگ جانتے ہیں لیکن جو شہرت پاکستان میں نیو خان کو نصیب ہوئی، دیگر خان اس کے قریب قریب بھی نہیں پہنچ سکے۔

نیو خان بنیادی طور پر ایک ٹرانسپورٹ کمپنی ہے جو مسافر بسیں چلاتی ہے۔ ویسے تو پاکستان میں کئی سیاست دان بھی یہ کام کرتے ہیں لیکن نیو خان صرف بسیں چلاتا ہے۔

Read more

میں نے تین عورتوں کی عزت کیسے بچائی؟

آج بازار سے گھر واپس آ رہا تھا، تو راستے میں ایک منظر نے توجہ کھینچ لی۔ بازار سے ہمارے علاقے کی جانب ایک وسیع ڈبل روڈ آتی ہے، جس کے بیچوں بیچ گھاس پر مشتمل قطعوں کا ساٹھ فٹ چوڑا فٹ پاتھ ہے اور سڑک کے اطراف گھر بنے ہوئے ہیں۔ اسی ڈبل روڈ کے بائیں ٹکڑے پر تین چادر پوش خواتین مجھ سے کچھ فاصلے پر خراماں خراماں چلی جا رہی تھیں۔ میرا اور ان کا فاصلہ پچاس گز کا رہا ہو گا۔

کچھ ہی دیر میں ایک سست رفتار موٹر سائیکل پر سوار دو مرد میرے عقب سے نمودار ہوئے اور ان خواتین کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ موٹر سائیکل کی سست رفتار اور موٹر سائیکل پر سوار مردوں کے انداز نے مجھے شک میں مبتلا کر دیا۔ ویسے بھی آج کل ملک میں زیادتی اور ہراسانی کے یکے بعد دیگرے واقعات ہو رہے ہیں، جن کی وجہ سے مجھے اب ہر راہ چلتی عورت زیادتی کا متوقع شکار اور ہر راہ چلتا مرد جنسی درندہ لگنے لگا ہے۔

Read more

ٹوں ٹوں۔۔۔ ٹک ٹکا ٹک۔۔۔

ٹوں ٹوں۔ ۔ ۔ ٹک ٹکا ٹک۔ ۔ ۔ یہ عجیب نامانوس سی آواز سن کر وہ چونک اٹھا۔ رات کا کھانا اس نے ضرورت سے کافی زائد کھا لیا تھا جس کے بعد اسے بدہضمی ہونا ہی تھی۔ چنانچہ کھٹی ڈکاریں لیتا ہوا وہ رات کے بارہ بجے چھت کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک دھیمے دھیمے قدموں سے چل رہا تھا۔ بدہضمی ہونے کی ایک وجہ اور بھی تھی۔ رات اس کے والد سے ملنے ایک مہمان

Read more

کورونا وائرس کے ایک مریض کا سنجیدہ تجزیہ

جب سے کورونا وائرس کی وبا شروع ہوئی ہے اس سے متاثر ہونے والے مریضوں پر دنیا بھر میں تحقیقات جاری ہیں کہ یہ بیماری انسانوں کو کیسے متاثر کر رہی ہے، کتنا عرصہ رہتی ہے، بیمار ہونے والوں کی کیا کیفیت ہوتی ہے اور کتنے دنوں میں یہ بیماری ختم ہو جاتی ہے۔ ایک عمومی ٹرینڈ جو سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ جس شخص کے جسم میں یہ موذی وائرس سرایت کر جائے اس متاثرہ شخص میں

Read more

سزائے موت کا منتظر ناکردہ جرم

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ کال کوٹھڑی میں محصور ہوئے سزائے موت کے منتظر کسی قیدی کے کیا احساسات ہوتے ہوں گے؟ وہ کیا سوچتا ہو گا؟ اس کے شب و روز کیسے گزرتے ہوں گے۔ آنے والا وقت کا تصور کیسے اس کو گہن کی طرح چاٹتا ہو گا۔ کیسے اس کی صحت روز بروز گرتی جاتی ہو گی۔ عام طور پر ہر ملزم اپنے آپ کو بے گناہ قرار دیتا ہے لیکن کوئی ایسا مجرم جس کو

Read more

پاکستانی والدین سے ایک عاجزانہ التجا

پہلے میں سمجھتا تھا کہ ہم یعنی پاکستانی ایک دلچسپ قوم ہیں۔ مگر گزشتہ ایک ڈیڑھ ماہ میں میری یہ سوچ ایک سو اسی درجے کا یو ٹرن لے چکی ہے۔ اب میں سمجھتا ہوں کہ ہم یعنی پاکستانی ایک ”شاندار“ قوم ہیں۔

کورونا وائرس کی عالمی وبا تقریباً پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے اور پاکستان بھی اس وبا کو بھگت رہا ہے۔ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اب تک پاکستان میں اس وبا نے وہ تباہی نہیں مچائی جو تباہی اس عالمی وبا کے باعث امریکہ اور یورپ کے کچھ ملکوں میں دیکھنے میں آئی ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں کہ پاکستان میں حالات بہت اچھے ہیں۔

Read more

خوف کے کالے سمندر سے کتنے فٹ فاصلہ؟

صبح میری آنکھ کھلی، تو کچھ کسل مندی محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے بستر میں لیٹے لیٹے ہی ہاتھ پاؤں پھیلا کر ایک طویل انگڑائی لی اور بستر سے اٹھ کھڑا ہوا۔ کھڑکی کے سامنے موجود پردوں کی وجہ سے کمرے میں ملگجا اندھیرا تھا۔ پردے ہٹا کر باہر جھانکا تو وہ ایک نہایت خوش گوار دن تھا۔ آسمان پر ہلکے بادل موجود تھے اور ہوا دُلکی چل رہی تھی۔ بے سبب میرا دل چاہا، کہ میں باہر کا

Read more

آزادی اظہار رائے کی قدر کیجیے

عقل مند انسان کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اسے کب اور کس موقعے پر کیا بات کرنی چاہیے۔ اور وہ بات کرنے سے پہلے وہ اس بات کے ردعمل کا اندازہ بھی لگا چکا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی عقل مند آدمی منہ کھولتا ہے تو اس کی بات کا ایک اثر پیدا ہوتا ہے اور لوگ اس کی بات پر کان دھرتے ہیں۔ چونکہ ردعمل کا اندازہ پہلے

Read more

مجھے نواز شریف پر ترس نہیں آتا

دو سال پہلے کی بات ہے کہ جنوبی پنجاب کے ایک ضلع کے گاؤں میں ایک بااثر زمیندار گھرانے کے ایک مرد پر توہین مذہب  کا مقدمہ درج کروایا گیا۔ مجھ تک یہ واقعہ میرے ایک جاننے والے کے توسط سے پہنچا۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ زمیندار گھرانہ ایک اقلیتی عقیدے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس مرد کا اٹھنا بیٹھنا ایک مذہبی گھرانے کے فرد کے ساتھ ہو گیا۔ ہم اقلیتی عقیدے کے فرد کا نام الف اور مذہبی

Read more

عمران خان کے خلاف کھڑا ہوتا ہوا متحدہ مذہبی محاذ

مولانا فضل الرحمان نے 27 اکتوبر 2019 کو تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف آزادی مارچ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نون نے مولانا فضل الرحمان کو مسلسل اپنا مارچ کم از کم نومبر تک مؤخر کرنے کا مشورہ دیا لیکن مولانا نے تمام مشورے رد کردیئے اور اکتوبر میں ہی اپنا مارچ شروع کرنے پر اصرار کیا۔ اپنی پریس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی کہا کہ مارچ

Read more

بنی گالہ کے بھوت

میں 1972 ماڈل کی ڈاٹسن میں ایک سنسان راستے پر گامزن تھا۔ رات کی سیاہی صبح کے اجالے سے بغل گیر ہو رہی تھی۔ سردی کی شدت ہاتھوں پیروں کا مزاج پوچھ رہی تھی۔ ہر سو دھندلکا پھیلا ہوا تھا۔ سڑک رات کی اوس کے باعث بھیگی ہوئی تھی۔ اچانک گاڑی نے جھٹکے کھانے شروع کر دیے۔ میری نظر پٹرول کی مقدار بتانے والی سوئی پر پڑی تو وہ بالکل نیچے لگ چکی تھی۔ میں نے ایک طویل سانس لیا اور نظریں سڑک پر جما دیں۔ کچھ دور چل کر گاڑی ایک دھچکے سے بند ہو گئی۔ وہ ایک ایسی سنسان سڑک تھی جس کے اطراف درختوں کا سلسلہ دور تک چلا گیا تھا۔

Read more

مسئلہ کشمیر، خیابان کشمیر اور احمقوں کی جنت

پندرہ اگست کو پاکستان نے بھارت کا یوم آزادی، کشمیر کی صورت حال کے پیش نظر یوم سیاہ کے طور پر منایا۔ اس دن توقع یہ تھی کہ کم از کم ایک دن کے لیے پاکستانی قوم بھرپور انداز میں کشمیر اور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کرے گی۔ وہ نوجوان اسی توقع کے ساتھ گھر سے باہر نکلا تھا۔ اسلام آباد میں ایک آبادی جموں اینڈ کشمیر ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام سے موجود ہے۔ اس آبادی کو خیابان

Read more

ایکسٹینشن

بجلی کی مدد سے چلنے والی اشیا کا روزمرہ استعمال تقریباً ہر گھر میں ہوتا ہے۔ عام طور پر گھر کے ہر کمرے میں بجلی کے پوائنٹ بھی موجود ہوتے ہیں جن میں پلگ کی مدد سے بجلی کے تار لگا کر ہم بجلی سے چلنے والے آلات استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض اوقات گھر میں موجود کچھ الیکٹرانک اشیا کو استعمال کرنے کے لیے ایکسٹینشن کی ضرورت ناگزیر ہو جاتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل

Read more

تمھیں کیا بھئی؟

چاند کی روشنی میں ہم نے ڈرتے ڈرتے اپنی ”سری“ کو بلند کر کے نگاہ مرد مومن سے ارد گرد کا جائزہ لیا تو تقدیر بدل چکی تھی۔ مخالف قوتیں پسپائی اختیار کر چکی تھیں۔ مشتعل افراد اپنا محاصرہ اٹھا لے گئے تھے۔ گویا ہم ”پین دی سری“ والی صورت حال سے دوچار ہونے سے بال بال بچ گئے تھے۔ (اس داستان کے لیے ہمارا گذشتہ کالم ”پیر و مرشد کے متبرک کلمات کے مہلک اثرات“ ملاحظہ فرمایئے۔ ) ہم

Read more

پیر و مرشد کے متبرک کلمات کے مہلک اثرات

یہ ان دنوں کی بات ہے جب گذشتہ حکومت کی انتخابی ایکٹ میں ترامیم کے رد عمل کے طور پر فیض آباد پر سڑک نشین دھرنے نے ملک کے اندر ایک ہیجان بپا کر رکھا تھا۔ اس وقت حکومتی آپریشن کے بعد رونما ہونے والے واقعات جہاں پورے پاکستان کے لیے افسوس ناک تھے وہیں اس دھرنے سے یگانگت کا مظاہرہ ہمارے لیے ذاتی طور پر اندوہناک ثابت ہوا۔

بات کچھ یوں ہے کہ عوام کی بے شعور اکثریت میں ہم بھی شامل ہیں چنانچہ جب حکومت کے خلاف یہ دھرنا عمل پذیر ہوا تو ہم نے بھی اس دھرنے کی حمایت کا اعلان کر ڈالا۔ اس حمایت کو پائیدار بنانے کے لیے ہم نے دھرنے کے سرخیل حضرت مولانا خادم حسین رضوی (حال مقیم نامعلوم) کی تقاریر کو سننے کی ٹھانی تاکہ قوت ایمانی کو مہمیز لگاسکیں۔ سوشل میڈیا کے طفیل گھر بیٹھے موصوف کی غیر متحرک مگر متبرک اور مقدس الفاظ پر مشتمل کچھ تقاریر ہاتھ آ گئیں۔

Read more

ایک ملک میں ٹُو مچ فن

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک ملک تھا۔ آپ اس کو اپنی آسانی کے لیے چ سے شروع ہوتا ہوا کوئی بھی نام دے سکتے ہیں۔ ملک کے عوام بھی اسی ملک کے نام سے پکارے اور پہچانے جاتے ہیں جیسے چین میں چینی، ایران میں ایرانی اور پاکستان میں پاکستانی رہتے ہیں۔ چناچہ اس ملک ’چ‘ کے عوام بھی ’چ‘ ہی تھے۔ ملک ’چ‘ میں ہر طرح کی چور ی چکاری، چالبازی، چور بازاری، چاپلوسی اور چیر پھاڑ کادور دورہ تھا۔ عوام بھی ’چ‘ تھے لہٰذا چوری چکاری، چالبازی، چور بازاری، چاپلوسی اور چیر پھاڑ کے نت نئے چکر نہ صرف ایجاد کرتے رہتے بلکہ ان پر چوکس ہو کر چلتے بھی رہتے تھے۔ ’چ‘ عوام کی پسندیدہ غذا چُوری تھی جسے وہ چائے کے ساتھ چسکیاں لے کر کھاتے تھے۔

Read more

زیرو پوائنٹ فائیو: اسلام آباد ماموں

آپ چاند کی مثال لے لیجیے۔چاند ہمارے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے لگ بھگ ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل کی فاصلے پر افق میں عمودی سمت پر واقع ہے۔ یہ ایک نسبتاً گول دکھائی دینے والا ایسا سیارچہ ہے جو وفاقی دارالحکومت سے عموماً صاف دکھائی دیتا ہے۔ یہ اپنے رنگ بدلتا رہتا ہے۔ کبھی یہ سنہرے رنگ کا ہوجاتا ہے کبھی سفید ہو جاتا ہے کبھی اس پر سرخ رنگ غالب آ جاتا ہے تو کبھی یہ معشوق کے تل کی مانندسیاہ دکھائی دیتاہے۔ چاند کو بچپن میں چندا ماموں کہتے ہیں۔

Read more

ایک چسکے باز قوم کا متحرک انٹرنیٹر

مجھ سے ملیے۔ میں ایک چسکے باز قوم کا متحرک انٹرنیٹر ہوں۔ انٹرنیٹر کو انٹرٹینر نہ سمجھ لیجیے گا۔ انٹرنیٹمنٹ اور انٹرٹینمنٹ میں اتنا ہی فرق ہے جتنا نواز شریف اور عمران خان میں فرق ہے۔ یعنی انٹرنیٹمنٹ ایک نشہ ہے جبکہ انٹرٹینمنٹ ایک ضرورت۔ دونوں نامناسب انداز میں استعمال کیے جائیں تو مت مار کر رکھ دیتے ہیں۔ آپ کو شاید ایسے سمجھ نہ آئے۔ چلیے میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ میرے پاس ہمہ وقت انٹرنیٹ کا پیکج

Read more

یوم حقوق نسواں پر عورتوں کا مؤثر ترین ابلاغ

آٹھ مارچ کو پاکستان میں عورتیں گھروں سے نکلیں اور کمال کر دیا۔ یہ عورتوں کے حقوق کا عالمی دن تھا۔ ہر سال یہ دن اسی تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ گذشتہ برس آٹھ مارچ کے دن پاکستان میں عورتوں کے حقوق کی مہم نے ایک نئی کروٹ لی جب دو مختلف انداز کے نعروں نے لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ یہ نعرے ”اپنا کھانا خود گرم کرو“ اور ”میرا جسم میری مرضی“ تھے۔دیکھتے ہی دیکھتے یہ نعرے سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گئے۔ بیشتر مردوں نے جارحانہ طور پر ان نعروں کی مذمت کی تو عورتیں بھی خم ٹھونک کر ان نعروں کا دفاع کرنے پر اتر آئیں اور پھر گویا ایک جنگ چھڑ گئی۔ کافی دن تک یہ بحث چلتی رہی اور پھر بغیر کسی انجام تک پہنچے ختم ہو گئی کیونکہ مارکیٹ میں نئے مسائل آ چکے تھے۔

Read more

امی کا کمرہ

میرے بچپن کی تلخ و شیریں یادوں میں ایک سنہری یاد ”امی کا کمرہ“ بھی ہے۔سب والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے دینی اور دنیاوی دونوں لحاظ سے اچھے طور طریقوں کو اپنانے والے بنیں اور اخلاقی طورسے بلند مقام حاصل کرنے والے ہوں۔ دینی تعلیم تو مساجد اور دین دارلوگوں کی صحبت میں بیٹھ کر حاصل ہوجاتی ہے۔ دنیاوی اخلاقیات کی تربیت کے لیے مگر امی کا کمرہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ویسے تو اس کمرے کے کئی نام اور بھی ہو سکتے ہیں جیسے کہ ”زیر مرمت بچوں کی تجربہ گاہ“ یا پھر ”اخلاقی مدرسہ“ وغیرہ۔ مگر جو لطف امی کا کمرہ کہنے میں ہے وہ لطف کسی اور نام میں ہرگز نہیں ہے۔یہ کمرہ دیکھنے میں گھر کے تمام کمروں کی مانند ایک عام سا کمرہ تھا۔ نہ تو اس میں کسی لسانی سیاسی جماعت کے مبینہ زیر زمین عقوبت خانوں کی طرح اذیت رسانی کے کوئی آلات لٹکے ہوتے تھے اور نہ ہی اس میں وطن عزیز کے جوہری اثاثوں جیسے کوئی مہلک ہتھیار پوشیدہ رکھے جاتے تھے۔ حتیٰ کہ کوئی خطرناک اوزار مثلاً قصائی کا بغدہ، تیز دھار کلہاڑا یا بھاری بھرکم ہتھوڑا بھی نہیں پائے جاتے تھے۔ پھر بھی یہ کمرہ اپنی کچھ نہاں خصوصیات کی بنا پر اطفال گھرانہ میں پراسراریت اور خوف و دہشت کا ایک نشان بن کر ابھرا تھا۔

Read more

کتوں والی

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ہمارے محلے میں ایک گھر تھا۔ ویسے تو ہر محلے میں ہی گھر ہوتے ہیں مگر اس گھر کی ایک خاص بات تھی۔ وہ خاص بات یہ تھی کہ اس گھر کی خاتون خانہ کو کتے پسند تھے۔ اپنے شوق کی تسکین کے لیے اس نے اعلیٰ نسلوں کے چھ سات کتے مختلف سائزوں میں پالے ہوئے تھے۔ ان کتوں کی وجہ سے وہ خاتون محلے میں کتوں والی کے نام سے مشہور

Read more

تو نشان عزم عالی شان ارض نیا پاکستان

تین موقر اخبارات کے صفحہ اول میرے سامنے ہیں۔ شہ سرخی افغانستان سے امریکہ کی واپسی کی خبر سنا رہی ہے جبکہ تین کالمی خبر میں طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی سفارتی کامیابی کے دعوے موجود ہیں۔ چار کالمی خبر میں ادھار پر ساڑھے چار ارب ڈالر کا تیل ملنے کی نوید ہے۔ نیچے دو کالموں پر مشتمل خبر میں پیٹرولیم مصنوعات کے دس روپے تک سستا ہونے کے امکانات کو ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عدالت کی جانب سے سول اپیلوں کو تین ماہ میں نمٹانے کا عزم ہے اور صفحے کے درمیان میں 51 فیصد عوام کی جانب سے عمران خان کی حکومت کی کارکردگی پر اطمینان ظاہر کرنے کے سروے نتائج ہیں۔ سب کچھ بہت اچھا نظر آ رہا ہے۔ آج کا اخبار دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان بلکہ نیا پاکستان اچانک چھلانگ لگا کر مسائل کے گڑھے سے باہر نکل آیا ہے اور اب ہر طرف ستے خیراں ہو رہی ہے۔

Read more

جہیز اور لڑکے کا معاشی استحکام – کیا واقعی یہ ضروری ہے؟

آج کل سوشل میڈیا پر لڑکے والوں کی جانب سے اصرار کر کے جہیز وصول کرنے اور لڑکی والوں کی طرف سے لڑکوں کی معاشی حیثیت پرکھنے پر گرما گرم بحث چل رہی ہے۔ فریقین موافقت اور مخالفت میں تند و تیز دلائل دے رہے ہیں۔ جہاں لالچی لڑکے والوں کو لعن طعن کی جا رہی ہے وہیں لالچی لڑکی والوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا جا رہا ہے۔ پاکستانی معاشرہ رسوم و رواج اور لالچ و اسراف میں گردن

Read more

سانحات پر نئی نسل کے جذبات

میں آپ کی طرح ایک عام پاکستانی ہوں۔ بالکل ویسا ہی جیسے کہ آپ ہیں۔ کل سے میں ایبٹ آباد میں ہوئے واقعہ بلکہ سانحہ پر سوشل میڈیا دیکھ رہا ہوں۔ ہر کوئی اپنے غم اور غصے کا اظہار کر رہا ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ مجھے بھی کچھ کرنا چاہیے۔ پھر میں نے یاد کرنے کی کوشش کی کہ ماضی میں کیا کیا کرتا رہا ہوں۔

جب سولہ دسمبر 2014 کو آرمی پبلک اسکول میں 136 بچوں کو مارا گیا تھا تو میں تین دن تک روتا رہا تھا۔ فیس بک پر سیاہ ڈی پی بھی لگائی تھی۔ پھر چوتھے دن میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ پکنک منائی اور اپنا غم غلط کیا۔

اور جب سیالکوٹ میں دو بھائیوں کو مشتعل ہجوم نے مار مار کر مار ڈالا تھا اور اس سارے واقعے کی ویڈیو بنائی تھی تب بھی میں وہ دیڈیو دیکھ کر دو دن بہت تکلیف میں رہا تھا۔ تیسرے دن رمضان کا نائٹ کرکٹ ٹورنامنٹ شروع ہو گیا تھا تب کہیں جا کر میرے ذہن پر سے بوجھ اترا تھا۔

Read more

اب میں ہوں اور ماتم یک شہر آرزو

میں ایک قلم کار ہوں۔ میں جو محسوس کرتا ہوں وہ لکھ دیتا ہوں۔ لکھنے والا حساس ہوتا ہے۔ وہ ایک عام انسان کی نسبت کسی بھی واقعے کو گہرائی میں دیکھتا اور سوچتا ہے۔ یہ حساسیت بعض اوقات عذاب بن جاتی ہے۔

میں نے جب لکھنا شروع کیا تھا تو محسوس کیا تھا کہ لوگ عموماً دکھی ہیں۔ ہمارے ملک میں گذشتہ کچھ عرصہ سے دکھوں نے راستہ بنا لیا ہے اور جب جی چاہے منہ اٹھا کر چلے آتے ہیں۔ چناچہ میری کوشش ہوتی ہے کہ ہلکی پھلکی تحریر لکھوں۔ لوگ میری تحریر پڑھ کر مسکرائیں اور بجائے ذہن پر بوجھ محسوس کرنے کے لطف محسوس کریں۔ میں بھی مگر اسی ملک میں رہتا ہوں۔ اس ملک کے دکھ میرے بھی دکھ ہیں۔ میں ان دکھوں کو فصیلِ جاں میں چھپائے رکھتا ہوں۔ مگر ہر سال سولہ دسمبر کو ایک عظیم دکھ میری تمام دفاعی فصیلیں عبورکرکے جارحانہ انداز میں باہر نکل آتاہے اور اک حشر اٹھا دیتا ہے۔

Read more

عورتیں بھی کم عمر لڑکوں کو ہراساں کرتی ہیں

زمانہ بہت تبدیل ہو گیا ہے۔ جو باتیں پہلے اشاروں کنایوں میں کی جاتی تھیں اب وہ بے دھڑک کی جاتی ہیں۔ گذرتے زمانے کے ساتھ خواتین میں اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے کا خوش کن رویہ نمایاں ہو رہا ہے۔ یہ خاص طور پر پاکستانی معاشرے کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔ ایک ایسے معاشرے کے لیے جہاں تعلیم اور شعور کی بے حد کمی ہے۔ جہاں جہالت کا نہ صرف رواج ہے بلکہ معاشرے کی اکثریت کے

Read more

شکوہ ابا سے خاکم بدہن ہے مجھ کو

نوٹس کے الفاظ کے مطابق ”اگر کسی طالبہ کے ہاتھ پر مہندی لگائی گئی تو جب تک وہ مہندی اتر نہیں جاتی یا اتار نہیں دی جاتی، روزانہ طالبہ کو سزا کا سامنا کرنا پڑے گا“۔ نوٹس کے الفاظ واضح ہیں کہ اگر مہندی لگائی گئی تو سزا ملے گی۔

اب والد صاحب کی پوسٹ کو دیکھتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ انہیں رائے چاہیے۔ ان کی چھ سالہ بیٹی، جو پہلی جماعت کی طالبہ ہے، کو 11 ربیع الاول والے دن ہاتھوں پر مہندی لگانے کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر اسکول میں سزا دی جا رہی ہے۔ بچی کو اسمبلی میں نہیں حصہ لینے دیا جا رہا، بچی کو دوسری طرف کھڑا رکھا جاتا ہے جبکہ باقی بچے دوسری طرف بیٹھے ہوتے ہیں۔ اس کو اپنی جماعت میں جانے سے پہلے سرزنش کر کے ذہنی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔

اس کو بریک نہیں دی جاتی۔ روزانہ کی بنیاد پر اسے زبانی اور تحریری نوٹس دیے جا رہے ہیں جو ڈائری میں لکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ بچی جب اسکول سے گھر آتی ہے تو وہ کچھ نہیں بتاتی اور جب ہم اس کی ڈائری دیکھتے ہیں تو اس کے چہرے کے تاثرات یکسر تبدیل ہو جاتے ہیں اور وہ رونا شروع کر دیتی ہے کہ وہ دوبارہ اس اسکول میں نہیں جانا چاہتی۔

Read more

امید کا قتل

میں اکیس گھنٹے پہلے پیدا ہوئی ہوں۔ میری ماما نے میرا نام امید رکھا ہے۔ میرے بابا نے میرے کان میں اذان دی تھی۔ میرے دوسرے کان میں بابا نے کہا تھا کہ وہ مجھے پاکستان کے اچھے مسقتبل کی امید سمجھتے ہیں۔

اکیس گھنٹے پہلے جب میں نے پہلی مرتبہ آنکھ کھولی تھی تو ایک سفید کپڑوں والی پیاری سی آنٹی نے مجھے دیکھ کر کہا تھا کہ پاکستان میں بہت خوبصورت بچے پیدا ہوتے ہیں۔ جبھی ساتھ کھڑی دوسری آنٹی نے کہا تھا کہ اس لڑکی کے لیے دنیا میں آنا ایک عذاب ہے۔ اس پر پہلی والی آنٹی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے۔ اس وقت مجھے سمجھ نہیں آئی تھی کہ ایسی کون سی بات ہو گئی تھی کہ وہ آنٹی رو پڑی تھیں۔ مگر مجھے وہ دوسری والی آنٹی اچھی نہیں لگی تھیں۔

Read more

کیا واقعی عمران خان دنیا کو اسلام کا پرامن چہرہ دکھانا چاہتے ہیں؟

پاکستان کی سپریم کورٹ نے توہین رسالت کے مقدمے میں ماخوذ ملزمہ آسیہ نورین عرف آسیہ بی بی کو اس الزام سے بری کرتے ہوئے اس کی رہائی کا فیصلہ کیا سنایا، تحریک انصاف کی نوزائیدہ حکومت کو گویا ایک مسلسل آزمائش میں مبتلا کر دیا۔

اس فیصلے کے خلاف تحریک لبیک یا رسول اللہ پاکستان نے سخت احتجاج کرتے ہوئے ملک گیر دھرنوں کی کال دی اور تحریک لبیک کے قائدین لاہور میں پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔

Read more

نیل آرم اسٹرونگ کا چاند پر پہنچنا اور میرا سفر

یہ دو ایسی مہمات کی داستان ہے جو آپس میں ایسی مشابہت رکھتی ہیں جو نہیں ہونی چاہیئے تھی۔ اپالو 11 ایک امریکی خلائی مشن تھا جو امریکہ کے کینیڈی اسپیس سینٹر، فلوریڈا سے 16 جولائی 1969 کے دن امریکی وقت کے مطابق دوپہر 1 بج کر 32 منٹ پر روانہ ہوا۔ اس میں تین خلاباز شامل تھے جن کا مشن چاند کو تسخیر کرنا تھا۔ مشن کی کامیابی غیر یقینی تھی۔ اس سے پہلے بھی کئی خلائی مشن تسخیر

Read more

ایک فلاپ فلم کاآخری سین

یہ ایک فلاپ فلم کا سین تھا جس میں پولیس نےطویل تعاقب کے بعد اس کو ایک بند گلی میں گھیر لیا۔

سپر ہٹ فلموں والے سین کے برعکس پولیس والے اسمارٹ نہیں تھے۔ ان کے پیٹ بڑھے ہوئے تھے اور چہروں پر وہی کچھ برس رہا تھا جو اکثر پولیس والوں کے چہروں پر برس رہا ہوتا ہے بلکہ فلموں میں بھی بھرپور طریقے سے برس رہا ہوتا ہے۔ آپ ذہین لوگ ہیں۔ اگر میں لکھ بھی دوں کہ نور برس رہا تھا تب بھی آپ نے وہی سمجھناتھا جو آپ سمجھ چکے ہیں۔ لہٰذا آگے چلتے ہیں۔

جس کا تعاقب پولیس والے کر رہے تھے اس میں بھی کسی سپرہٹ فلم کےکسی ایکٹر جیسا کوئی تاثر نہیں تھا۔ ایک عام سا نوجوان تھا۔ دبلا سا بدن، ہلکی بڑھی ہوئی شیو، بدن پر سستے سے کپڑے اور پاؤں میں جوگرز تھے شاید اسی لئے اس نے پولیس والوں کی اچھی خاصی دوڑ لگوادی تھی۔ دوڑ لگانے سے اس کے بال بکھر گئے تھے لیکن اس کے باوجود وہ بالکل بھی کسی فلمی ہیرو جیسا نہیں لگ رہا تھا۔ بلکہ کسی فلم کے ولن، کامیڈین، ہیرو کے دوست، ہیروئین کے منگیتر یا کسی آئٹم سانگ میں ناچنے والے ایکسٹرا جیسا بھی نہیں لگ رہا تھا۔

Read more

قوت نصف ایمانی کی اجتماعی کمزوری

صفائی نصف ایمان ہے۔ یہ حدیث ہم بچپن سے پڑھتے اور سنتے آئے ہیں۔ اساتذہ اور والدین نے یہی سکھایا اور بتایا کہ اپنا آپ اور اپنے ارد گرد کو صاف ستھرا رکھنا ایک مومن کی ذمہ داری ہے۔ اگر صفائی ستھرائی کی عادت اپنا لی تو آدھا ایمان مکمل ہو جائے گا۔ بچپن میں سیکھی ہوئی باتیں ذہن کے کسی کونے میں جم کر بیٹھ جاتی ہیں اور بچہ غیر شعوری طور پر ان باتوں کو اپنی عملی زندگی

Read more

قدم بڑھاؤ نواز شریف! چابی والا کھلونا تمہارے ساتھ ہے

زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ یہی کوئی سات ماہ پرانی بات ہے جب وطن عزیز میں ایوان بالا کے انتخابات منعقد کیے گئے تھے۔ سینیٹ کے انتخابات کا آخری مرحلہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب تھا۔ سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے بعد نواز شریف نے بیان دیا تھا کہ ”چابی والے کھلونے ایک ہی جگہ سجدہ ریز ہو گئے۔ بنی گالا اور بلاول ہاؤس والے جھوٹے اور منافق ہیں۔ “ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ

Read more

شیر، بلی اور ڈائنوسار – نئے زمانے کی نئی کہانی

اگلے زمانوں میں بزرگ ہمیں ایک کہانی سنایا کرتے تھے جس میں ایک جنگل ہوتا تھا۔ اس جنگل کا ایک عدد بادشاہ بھی تھا۔ اس بادشاہ کو شیر کہتے تھے۔ وہ شیر اصلی اور نسلی ہوتا تھا۔ پھر ایک بلی بھی ہوتی تھی جو شیر کی خالہ لگتی تھی اور شیر کو مختلف داؤسکھاتی پھرتی تھی۔ یہ سکھائے گئے داؤ کون کون سے تھے ان کی تفصیل میں ہمارے بزرگ کبھی نہیں گئے۔ بس اتنا کہ کر قصہ آگے بڑھا

Read more

حنوط شدہ الو، حجام اور پرندوں کا ایک ماہر نوجوان

اس نوجوان کا اضطراب دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ کچھ دیر قبل وہ قصبے کے واحد حجام کی دکان میں داخل ہوا تھا۔ براؤن نامی حجام گاہک کی شیو بنانے میں مصروف تھا اور اس کے ہاتھ ماہرانہ انداز میں استرے کی دھار کو گاہک کے گالوں پر چلا رہے تھے۔ دکان میں پہلے سے موجود دو تین گاہک اپنی باری کے انتظار میں مختلف اخبارات کے مطالعے میں محو تھے۔ نوجوان کبھی ایک پہلو بدلتا تو کبھی دوسرا۔ اسے

Read more

ایک بے ٹکٹے سے ملاقات

ریل گاڑی کا سفر میرا بچپن کا شوق ہے اسی لیے جب گرین لائن ٹرین راولپنڈی جنکشن کا پلیٹ فارم چھوڑ رہی تھی تو میں کھڑکی کے شیشے سے ناک ٹکائے محو نظارہ تھا۔ اس کیبن میں میرے علاوہ اور کوئی مسافر موجود نہ تھا اور یہ بات میرے لیے خوشی کے ساتھ ساتھ باعث تعجب بھی تھی کیونکہ مجھے تو یہ بتایا گیا تھا کہ ریل گاڑی میں کوئی سیٹ میسر ہی نہیں ہے۔ پچھلے کالم میں ذکر کیا

Read more

ڈیم فنڈ کو 830 روپے کا جبری عطیہ

اچانک کراچی کا سفر درپیش ہوا تو نظر انتخاب ریل گاڑی پر جا ٹھہری۔ سوچا موقع اچھا ہاتھ آ گیا ہے۔ لگے ہاتھوں پاکستان ریلوے کی کارکردگی کا جائزہ بھی ہو جائے گا اور گرین لائن ٹرین جو پاکستان ریلوے کی بہترین ٹرین تصور کی جاتی ہے، میں سفر کرنے کا شوق بھی پورا ہو جائے گا۔ چونکہ سفر کا منصوبہ یکایک طے پایا تھا چناچہ امکان تھا کہ ایک دن کے نوٹس پر گرین لائن ٹرین کا ٹکٹ نہیں

Read more

سحر سگ گزیدہ

کراچی میں ہم لوگ پیر الٰہی بخش کالونی جس کو پیر کالونی یا اب پی آئی بی کالونی کہا جاتا ہے، میں رہتے تھے۔ ہمارا گھر متحدہ قومی موومنٹ کے فاروق ستار سے تین چار گلیوں کی دوری پر ہر دل عزیز تکہ ہاؤس کے بالکل سامنے والی سڑک کی پہلی گلی میں دائیں جانب واقع تھا۔ وہ ایک منزلہ وسیع گھر تھا جس کے بالمقابل وہ تین منزلہ عمارت تھی جس کے سامنے والی طرف حبیب بنک واقع تھا۔

Read more

احمدی، شعائر اسلام کی خلاف ورزی کا قانون اور جعلسازی

الحمدللہ پاکستان کے مسلمان آج نئے پاکستان کی پہلی عید، عید الاضحیٰ منا رہے ہیں۔ مسلمان یہ عید حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیش کی گئی قربانی کی یاد میں مناتے ہیں۔ آج کے دن پاکستان کے رہنے والے مسلمان حسب توفیق بکرے، دنبے، بیل یا اونٹ وغیرہ کی قربانی اللہ کے حضور پیش کرتے ہیں۔ مگر جہاں مسلمان پوری مذہبی عقیدت سے یہ قربانی کرتے ہیں وہیں پر پاکستان میں ایک ایسی مظلوم اقلیت

Read more

عمران شاہ کا تھپڑ اور مرتضیٰ عباسی کی بے لگام زبان

ہم ایک جذباتی قوم ہیں۔ آئے دن کے جھگڑے ہمارا معمول ہیں۔ معمولی باتوں پر تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ہمارا قومی شعار بن چکا ہے۔ آپ کسی دن کسی مصروف شاہراہ پر ایک گھنٹے کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ آپ کو ایک گھنٹے میں متعدد لوگ گالیاں بکتے، معمولی باتوں پر لڑتے جھگڑتے اور غصے میں منہ سے جھاگ اڑاتے دکھائی دے جائیں گے۔ عوام میں یہ فرسٹریشن یہ غصہ برسوں سے لاوے کی طرح پک رہا ہے اور

Read more

پاکستان کے پرچم کو عزت دیں

زوں کی پرشور آواز کے ساتھ ہی ایک تیز رفتار موٹر سائیکل میرے بالکل قریب سے گذرا اور میرا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔ اپنے خطا ہوتے اوسان سنبھال کر جب میں نے نظر اٹھائی تو دور جاتے موٹر سائیکل کے کیریئر پر پاکستان کا قومی پرچم نصب تھا جو بالکل اسی طرح پھڑپھڑا رہا تھا جس طرح میرے اعصاب اس موٹر سائیکل کے گذرنے کے بعد پھڑپھڑا رہے تھے۔ اسی اثنا میں یکے بعد دیگرے دل دہلا

Read more

صرف مرد نہیں لڑکیاں بھی شکاری ہوتی ہیں

یہ 2006 کے ماہ رمضان کی بات ہے۔ مجھے راولپنڈی میں رہائش اختیار کیے ہوئے تین برس ہو گئے تھے۔ ملازمت کے ابتدائی سال تھے۔ ماہ رمضان میں دفتری اوقات مختصر کر دیے جاتے ہیں تاکہ ایک تو کام کا بوجھ نہ پڑے اور دوسرا یہ کہ روزے دار دنیاوی سلسلوں کو مختصر کر کے اپنا وقت عبادات اور یاد الٰہی میں گزار سکے۔ چناچہ ہمارے دفتر کی چھٹی بھی اڑھائی بجے ہو جایا کرتی تھی۔ لیکن جوانی کے اپنے

Read more

نئے پاکستان کے پرانے باسی

27 جولائی 2018: آج صبح آنکھ کھلی تو طبیعت بہت ہلکی پھلکی محسوس ہوئی۔ اور کیوں نہ ہوتی۔ آج میری آنکھ نئے پاکستان میں جو کھلی تھی۔ میں دھیمے سروں میں گنگنا رہا تھا ”بنے گا نیا پاکستان بنے گا نیا پاکستان“۔ پرسوں 25 جولائی تھی۔ بدھ کا دن تھا اور پاکستان میں عام انتخابات تھے۔ میں صبح پونے آٹھ بجے شیر کی طرح گھر سے نکلا۔ تیر کی طرح پولنگ اسٹیشن پر گیا۔ بیلٹ پیپر حاصل کر کے لبیک

Read more

آج فوج اور عدلیہ کی فتح کا دن ہے

یادداشت کی تازگی کے لیے عرض کرتا چلوں کہ ساڑھے چار ماہ پہلے وطن عزیز میں سینیٹ نام کے ایوان بالا کے لیے انتخابات منعقد کیے گئے تھے۔ افواہوں اور تجزیوں کا ایک شور تھا جو اس وقت برپا تھا۔ ان افواہوں اور تجزیات کا لب لباب یہ تھا کہ ملک میں سینیٹ کے انتخابات نہیں ہو سکیں گے اور بالآخر ملک میں عام انتخابات ملتوی ہو جائیں گے۔ ان افواہوں میں شدت پانامہ کیس کے دوران اور اس عدالت

Read more

کاش عدالت اللہ کے نام پر فیصلہ مؤخر کر دے

 آپ کو اکثر اس کا مشاہدہ ہوا ہو گا۔ کسی بازار میں یا کسی سڑک پر بند سگنل پر یا پھر اپنے ہی گھر کے دروازے پر۔ ایک بے بسی کی تصویر بنا شخص ہاتھ میں ایک گندا سا کاغذ تھامے آپ کے سامنے آکھڑا ہوتا ہے اور رقت آمیز انداز میں ایک فریاد شروع کر دیتا ہے۔ ”اللہ کے نام پر میری مدد کریں۔ میری بیوی بیمار ہے۔ میرے بچے چھوٹے ہیں۔ میری بیٹی جوان ہے۔ میں بے روزگار

Read more

اے جبر کرم! اب اتنا برس۔۔۔

ہم ایک بہت شاندار قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک ایسی قوم سے جو یہ سمجھتی ہے کہ بحیثیت مجموعی ہم تنزلی کا شکار ہیں۔ ہمیں ہر طرف خرابی ہی خرابی نظر آتی ہے کیونکہ ہماری قومی عینک کا نمبر خرابی بٹا خرابی ہے۔ ہم یہ علم رکھتے ہیں کہ ہمارے تمام ریاستی ادارے اپنا اپنا کام سرانجام نہیں دے رہے۔ ہمیں سرکاری دفتروں میں کام نہ ہونے یا رشوت کے بغیر کام نہ ہونے کی شکایت ہے۔ ہمیں اپنے

Read more

کاش عمران خان اپنی سمت کا تعین خود کرتے

رشتہ ازدواج میں بندھنے سے پہلے ہمارا ایک مغالطہ تھا۔ اور وہ مغالطہ یہ تھا کہ شادی کے بعد مرد اپنی مرضی کرنے میں آزاد ہوتا ہے۔ چالیس برس تک ہم نے اس مغالطے کے ساتھ زندگی بسر کی اور پھر ناگہانی آن ٹھہری۔ یعنی آسمانوں میں جس عفیفہ سے ہمارا جوڑا ڈالا گیا تھا وہ زمین میں تلاشِ بسیار کے بعد بالآخر ہمارے عقد مسنونہ میں تشریف لے آئی اور وہ شعر سچ ثابت ہو گیا کہ ؎ عقد

Read more

فلتھ جنریشن وار

آج کل ہائی برِڈ وار یا ففتھ جنریشن وار کا بہت چرچا ہے۔ اب سنجیدہ اور غیر سنجیدہ حلقوں میں بھی اس جنگ پر سنجیدہ باتیں شروع ہو گئی ہیں۔ میرا ذاتی خیال مگر یہ ہے کہ یہ ففتھ جنریشن وار کی بجائے فلتھ جنریشن وار ہے۔ اس میں گندی ذہنیت رکھنے والے گند اچھالتے پھرتے ہیں۔ وہ عمران خان ہوں، وہ بلاول بھٹو زرداری اور آصف زرداری ہوں، وہ نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز وغیرہ ہوں، وہ

Read more

کیا آپ میری طرف بڑھتے دستِ قضا کو روک سکتے ہیں؟

ایک زوردار ضرب نے میرے پورے وجود کو ہلا ڈالا۔ ضرب کی شدت اتنی تھی کہ مجھے اپنا پورا وجود شل ہوتا محسوس ہوا۔ تکلیف کے ساتھ ساتھ مجھےحیرت بھی محسوس ہو رہی تھی اور اپنے وجود کے اندر گرتے آنسوووں کا نمکین ذائقہ بھی میرے اندر گھلتا جا رہا تھا۔ مجھے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا، میں نے کسی کا کیا بگاڑا تھا کہ مجھ پر اچانک ایسا جان لیوا حملہ کر دیا گیا۔ ہر چند کہ ابھی

Read more

چوں چوں کرتا ہجرتی پرندہ

بہت نازک صورت حال ہے۔ تحریک انصاف میں اڑ اڑ کر آنے والے ہجرتی پرندوں کا ہجوم بڑھتا جا رہا ہے۔ سیاسی دانے دنکے کی تلاش میں جوق در جوق پرندے بنی گالہ کی منڈیروں پر اتر رہے ہیں۔ دانہ دنکا چگنے کی لگن میں لگ بھگ اڑھائی ماہ قبل ایک ایسا پرندہ بھی بنی گالہ کی منڈیر پر آن براجا تھا جو چوں چوں کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ چوں چوں مسلسل جاری رہے تو کبھی کبھار ایک

Read more

شیطان اور عامر لیاقت دونوں جکڑے گئے

ہم سب جانتے ہیں کہ جب رمضان آتا ہے تو شیطان جکڑ دیا جاتا ہے۔ اس مرتبہ انوکھی یہ ہوئی کہ شیطان کے ساتھ عامر لیاقت حسین کو بھی جکڑ دیا گیا۔ جی ہاں یہ انوکھی بات ابھی کچھ دن قبل ہی ہوئی جب پاکستان میں شیطان کے نامزد جانشین عامر لیاقت حسین بول چینل پر رمضان ٹرانسمیشن کے دوران اپنے مذہبی جذبات کو مشتعل ہونے سے نہ روک پائے اور اسی اشتعال میں انہوں نے فرقہ وارانہ فساد کو

Read more

جو درد سسکتے ہوئے حرفوں میں ڈھلا ہے!

ننھا مبارک خوشی خوشی اپنے گھر کی گلی میں تیز تیز قدموں سے بازار کی جانب دوڑا جا رہا تھا۔ اس کی امی نے اسے بازار سے بیسن لانے کا کہا تھا۔ بیسن سے پکوڑے بننے تھے جو مبارک کو بہت پسند تھے۔ اور اسی پسند کی وجہ سے وہ ہر سال رمضان کا انتظار کیا کرتا تھا کیونکہ رمضان کے مہینے میں گھر میں ہر روز پکوڑے بنتے تھے۔ ماہ رمضان اگلے دن سے شروع ہو رہا تھا اور

Read more

روزہ کا اصل مقصد کیا ہے؟

اللہ تعالیٰ انسان سے جو سب سے بڑی توقع رکھتا ہے اس میں سر فہرست انسان کی جانب سے اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بنی نوع انسان کو مخاطب کر کے تقویٰ کی طرف توجہ دلائی۔ سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 283 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ترجمہ ”اور اللہ سے ڈرو جبکہ اللہ ہی تمہیں تعلیم دیتا ہے۔ “ اسی طرح سورۃ النسا کی آیت نمبر 2 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ترجمہ

Read more

تو کون؟ میں ایویں خواہ مخواہ!

بعض اوقات بڑی مضحکہ خیز صورت حال سے پالا پڑ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جب آپ کے دفتری ساتھی اس بات کا علم رکھتے ہوں کہ آپ کالم لکھتے ہیں مگر سوائے پانچ چھ کے باقی کسی نے کبھی آپ کا لکھا ہوا پڑھنے کی زحمت نہ کی ہو۔ ایسے میں کوئی خاتون کولیگ آپ سے یہ سوال کردے کہ آج کیا لکھا؟ تو قدرتی طور پر خوشی کا احساس ہوتا ہے کہ آپ کی لکھی تحاریر پڑھی

Read more

نواز شریف کا بیان اور قربت کے لمحات

پال جوزف گوئبلز گذشتہ صدی میں جرمنی کا ایک صحافی اور سیاست دان گذرا ہے۔ یہ ہٹلر کا پروپیگنڈا منسٹر تھا۔ اس عہدے کو پاکستان میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کہا جاتا ہے۔ گوئبلز نے ایک بڑی زبردست تکنیک بیان کی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ جو جھوٹ ایک بار بولا جائے وہ جھوٹ ہی رہتا ہے مگر جو جھوٹ ایک ہزار مرتبہ بولا جائے وہ سچ بن جاتا ہے۔ اگر جھوٹ کو تواتر سے دوہرایا جائے تو

Read more

آنے والا وقت کچھ ثابت نہیں کرے گا

"آنے والا وقت ثابت کر دے گا”۔ یہ وہ جملہ ہے جو بارہا سننے اور پڑھنے کو ملتا ہے۔ خاص طور پر آج کل کے پاکستان کے سیاسی حالات میں جہاں گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے۔ ویسے تو قیام پاکستان کے بعد سے لے کر اس مضمون کے لکھنے تک پاکستان کی سیاست قابل رشک رحجانات اور عنوانات سے عبارت نہیں رہی ہے لیکن پچھلے تقریباً تیس برس میں پاکستان کی سیاست میں جو ہنگامہ آرائی اور ہیجان خیزی

Read more

فالٹ لائن پر تعمیر کیا گیا شہر

زمین کی تہہ ”کرسٹ“ کہلاتی ہےجس کو ارضیاتی زبان میں ”اوشیانک (بحری)کرسٹ“ اور ”کانٹی نینٹل (بری)کرسٹ“ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ کرسٹ کے نیچے زیر زمین کا تقریباً چوراسی فیصد حصہ مینٹل کہلاتا ہے اور مینٹل سے نیچے زمین کی کور ہے۔ زمین کی تہہ (کرسٹ) اور پگھلی ہوئی دھاتوں پر مشتمل مینٹل کی اوپری سطح کو ”پلیٹ“ کہا جاتا ہے۔ زمین کی سطح سات بڑی اور دس چھوٹی پلیٹوں سے بنی ہوئی ہے۔ ہر بڑی پلیٹ کا رقبہ بیس

Read more

احمدیوں کی "جنت دوزخ” میں ابھی کچھ جگہ باقی ہے؟

تقریباً بائیس سو اکسٹھ مربع میل پر پھیلا ہوا پاکستان کا تیسرا بڑا شہر اور ضلع فیصل آباد میری جائے پیدائش ہے۔ فیصل آباد کی وجہ شہرت میری جائے پیدائش ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کا ایک بڑا کاروباری شہر ہونا بھی ہے۔ اس شہر میں کپڑا بنانے کے سب سے زیادہ کارخانے موجود ہیں جو کبھی دن رات چلتے تھے مگر اب نہ جانے کیوں مرجھائے مرجھائے سے رہتے ہیں۔ فیصل آباد کو 1979 میں کلمہ پڑھوا کر اسلام

Read more

فائزہ سمرا سے بڑی شکاری نکلی

وہ بھی بہت سے دنوں کی طرح ایک عام دن تھا۔ نہ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اور نہ ہی ہوا میں خوش گوار مہک تھی۔ نہ ہی باد صبا گلوں سے اٹھکیلیاں کر رہی تھی۔ نہ جھرنا مترنم شور مچا رہا تھا اور نہ ہی افق پر سرخی چھائی ہوئی تھی۔ چلچلاتی گرمی تھی اور سر کے بالوں سے پاؤں کی انگلیوں تک پسینے کی دھاریں بہ رہی تھیں۔ سمرا اپنی ترقی کا پروانہ ہاتھ میں تھامے تھکے

Read more

کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے

جب سے عمران خان نے پاکستان کی سیاست میں قدم رکھا ہے پاکستان کی سیاست دلچسپ ہو گئی ہے۔ 2011 کے بعد جب عمران خان کو سیاسی رہنما کے طور پر کامیابی حاصل ہوئی اور تحریک انصاف میں بڑے ناموں کی شمولیت شروع ہوئی تب سے پاکستانی سیاست میں نئی نئی تراکیب اور نعرے متعارف ہوتے چلے گئے۔ عمران خان کرکٹ کا پس منظر رکھتے ہیں چنانچہ ان کی زبان سے سیاست میں بھی کرکٹ کی اصطلاحات ادا ہونے لگیں۔

Read more

کچھ حضرات عورتوں کی ہراسانی پر خوش نہیں ہوتے!

اگلے روز "ہم سب” کے توسط سے بی بی سی اردو پر چھپنے والا ایک کالم نظر سے گذرا جس کا عنوان تھا "انسان بنیں مرد نہ بنیں!"۔ یہ کالم محترمہ آمنہ مفتی صاحبہ نے تحریر کیا ہے۔ محترمہ آمنہ مفتی صاحبہ ایک کہنہ مشق مصنفہ اور مستند کالم نگار ہیں نیز وہ ایک قابل احترام معلم اور صحافی بھی ہیں۔ بی بی سی پر لکھے گئے ان کے کالم شوق سے پڑھے جاتے ہیں۔ میری البتہ بدقسمتی ہے کہ

Read more

ضمیر بڑی کُتی چیز ہے۔ سالا کبھی بھی جاگ جاتا ہے

ضمیر کیا ہے؟ اس کا جواب نہایت مشکل ہے۔ ہمارے ایک عالم (جو کہ آن لائن نہیں ہیں) دوست کے گمان کے مطابق ضمیر ممکنہ طور پر انسانی جسم کے اندرپیدائشی طور پر چھپا ہوا ایک ایسا درندہ ہے جو وقت پڑنے پر ویسے تو لمبی تان کر سویا رہتا ہے مگر اکثر وقت گزرنے کے بعد اور کافی امثال میں برسوں بعد ہڑبڑا کر جاگ جاتا ہے۔ اور پھر تماشے لگوانا شروع کر دیتا ہے۔ ان کی یہ رائے

Read more

مستقبل کے مذہبی راہنماؤں کا لرزا دینے والا حال

اس کے چہرے کا رنگ سرخ ہونا شروع ہو گیا تھا۔ لہجے میں تپش اور آنکھوں سے شعلے لپک رہے تھے۔ میں اس کی اس حالت سے خوفزدہ ہو گیا۔ مجھے یوں لگا جیسے اگر میں نے مزید ایک لفظ بھی کہا تو وہ مجھ پر ہاتھ چھوڑ بیٹھے گا۔ حالانکہ وہ عمر میں مجھ سے کئی برس چھوٹا تھا۔ بات تقریباً بیس منٹ پہلے شروع ہوئی تھی۔ یہ آج سے تقریباً پندرہ برس قبل کا واقعہ ہے۔ میں اپنے

Read more

مستقبل کے مذہبی رہنماؤں کا لرزا دینے والا حال

اس کے چہرے کا رنگ سرخ ہونا شروع ہو گیا تھا۔ لہجے میں تپش اور آنکھوں سے شعلے لپک رہے تھے۔ میں اس کی اس حالت سے خوفزدہ ہو گیا۔ مجھے یوں لگا جیسے اگر میں نے مزید ایک لفظ بھی کہا تو وہ مجھ پر ہاتھ چھوڑ بیٹھے گا۔ حالانکہ وہ عمر میں مجھ سے کئی برس چھوٹا تھا۔ بات تقریباً بیس منٹ پہلے شروع ہوئی تھی۔ یہ آج سے تقریباً پندرہ برس قبل کا واقعہ ہے۔ میں اپنے

Read more