نوٹس کے الفاظ کے مطابق ”اگر کسی طالبہ کے ہاتھ پر مہندی لگائی گئی تو جب تک وہ مہندی اتر نہیں جاتی یا اتار نہیں دی جاتی، روزانہ طالبہ کو سزا کا سامنا کرنا پڑے گا“۔ نوٹس کے الفاظ واضح ہیں کہ اگر مہندی لگائی گئی تو سزا ملے گی۔
اب والد صاحب کی پوسٹ کو دیکھتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ انہیں رائے چاہیے۔ ان کی چھ سالہ بیٹی، جو پہلی جماعت کی طالبہ ہے، کو 11 ربیع الاول والے دن ہاتھوں پر مہندی لگانے کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر اسکول میں سزا دی جا رہی ہے۔ بچی کو اسمبلی میں نہیں حصہ لینے دیا جا رہا، بچی کو دوسری طرف کھڑا رکھا جاتا ہے جبکہ باقی بچے دوسری طرف بیٹھے ہوتے ہیں۔ اس کو اپنی جماعت میں جانے سے پہلے سرزنش کر کے ذہنی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔
اس کو بریک نہیں دی جاتی۔ روزانہ کی بنیاد پر اسے زبانی اور تحریری نوٹس دیے جا رہے ہیں جو ڈائری میں لکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ بچی جب اسکول سے گھر آتی ہے تو وہ کچھ نہیں بتاتی اور جب ہم اس کی ڈائری دیکھتے ہیں تو اس کے چہرے کے تاثرات یکسر تبدیل ہو جاتے ہیں اور وہ رونا شروع کر دیتی ہے کہ وہ دوبارہ اس اسکول میں نہیں جانا چاہتی۔
Read more