یوم حقوق نسواں پر عورتوں کا مؤثر ترین ابلاغ

آٹھ مارچ کو پاکستان میں عورتیں گھروں سے نکلیں اور کمال کر دیا۔ یہ عورتوں کے حقوق کا عالمی دن تھا۔ ہر سال یہ دن اسی تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ گذشتہ برس آٹھ مارچ کے دن پاکستان میں عورتوں کے حقوق کی مہم نے ایک نئی کروٹ لی جب دو مختلف انداز کے نعروں نے لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ یہ نعرے ”اپنا کھانا خود گرم کرو“ اور ”میرا جسم میری مرضی“ تھے۔دیکھتے ہی دیکھتے یہ نعرے سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گئے۔ بیشتر مردوں نے جارحانہ طور پر ان نعروں کی مذمت کی تو عورتیں بھی خم ٹھونک کر ان نعروں کا دفاع کرنے پر اتر آئیں اور پھر گویا ایک جنگ چھڑ گئی۔ کافی دن تک یہ بحث چلتی رہی اور پھر بغیر کسی انجام تک پہنچے ختم ہو گئی کیونکہ مارکیٹ میں نئے مسائل آ چکے تھے۔

Read more

امی کا کمرہ

میرے بچپن کی تلخ و شیریں یادوں میں ایک سنہری یاد ”امی کا کمرہ“ بھی ہے۔سب والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے دینی اور دنیاوی دونوں لحاظ سے اچھے طور طریقوں کو اپنانے والے بنیں اور اخلاقی طورسے بلند مقام حاصل کرنے والے ہوں۔ دینی تعلیم تو مساجد اور دین دارلوگوں کی صحبت میں بیٹھ کر حاصل ہوجاتی ہے۔ دنیاوی اخلاقیات کی تربیت کے لیے مگر امی کا کمرہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ویسے تو اس کمرے کے کئی نام اور بھی ہو سکتے ہیں جیسے کہ ”زیر مرمت بچوں کی تجربہ گاہ“ یا پھر ”اخلاقی مدرسہ“ وغیرہ۔ مگر جو لطف امی کا کمرہ کہنے میں ہے وہ لطف کسی اور نام میں ہرگز نہیں ہے۔یہ کمرہ دیکھنے میں گھر کے تمام کمروں کی مانند ایک عام سا کمرہ تھا۔ نہ تو اس میں کسی لسانی سیاسی جماعت کے مبینہ زیر زمین عقوبت خانوں کی طرح اذیت رسانی کے کوئی آلات لٹکے ہوتے تھے اور نہ ہی اس میں وطن عزیز کے جوہری اثاثوں جیسے کوئی مہلک ہتھیار پوشیدہ رکھے جاتے تھے۔ حتیٰ کہ کوئی خطرناک اوزار مثلاً قصائی کا بغدہ، تیز دھار کلہاڑا یا بھاری بھرکم ہتھوڑا بھی نہیں پائے جاتے تھے۔ پھر بھی یہ کمرہ اپنی کچھ نہاں خصوصیات کی بنا پر اطفال گھرانہ میں پراسراریت اور خوف و دہشت کا ایک نشان بن کر ابھرا تھا۔

Read more

سوشل میڈیا کی دوست اور ویہلا ٹائم ڈے

ہم پیدائشی عاشق ہیں اور ہمارا نام بھی عاشق ہے۔ اماں حضور فرماتی ہیں کہ ہم نے پیدا ہوتے ہی ایک خوبصورت نرس کو آنکھ ماری تھی۔
ممکن ہے یہ بیان مبالغہ آرائی پر مبنی ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ لاعلمی کی بنیاد پر اماں نے یہ تہمت ہم پر دھری ہو کیوں کہ اکثر وبیشتر بچے پیدا ہوتے ہیں تو چندھی چندھی آنکھوں سے گرد وپیش کا جائزہ لیتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس موقع پر خاکسار کی ایک آنکھ چندھیا جانے کی بجائے موندی گئی ہو اور نرس نے ازراہ حسرت یہ سمجھا ہو کہ نومولود نے اسے چھیڑ دیا ہے۔ بہرحال وجہ تسمیہ جو بھی رہی ہو اماں کے ہاتھ تو ابا کے خصائل پر انگلی اٹھانے کا موقع آ گیا تھا چناچہ یہ کہ کر انہوں نے ایک قہقہہ لگایا اور فرمایا تھا کہ کمبخت بالکل اپنے باپ پر گیا ہے۔

باپ بے چارے کو اپنے زمانے میں کھل کھیلنے کا زیادہ موقع نہیں مل پایا تھا اور اکیسواں برس لگتے ہی کان سے پکڑ کر مولوی صاحب کے سامنے بٹھا دیے گئے تھے۔ چاروناچار منمناتی آواز میں اماں کو قبول فرما کر ہی جاں خلاصی ہو سکی تھی۔ اماں اس وقت جاگتی آنکھوں سے ٹین ایج کے خواب بننے میں مصروف تھیں مگر ان کی آنکھوں سے بنے ہوئے خوا ب چھین کر جہیز میں انہیں اون سلائی تھما دی گئی تھی تاکہ وہ حقیقت میں بُنائی کر سکیں۔ چنانچہ انہوں نے بُننا شروع کر دیا اور پھر ساری عمر تانے بانے بُنتی ہی چلی گئیں۔

Read more

کتوں والی

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ہمارے محلے میں ایک گھر تھا۔ ویسے تو ہر محلے میں ہی گھر ہوتے ہیں مگر اس گھر کی ایک خاص بات تھی۔ وہ خاص بات یہ تھی کہ اس گھر کی خاتون خانہ کو کتے پسند تھے۔ اپنے شوق کی تسکین کے لیے اس نے اعلیٰ نسلوں…

Read more

تو نشان عزم عالی شان ارض نیا پاکستان

تین موقر اخبارات کے صفحہ اول میرے سامنے ہیں۔ شہ سرخی افغانستان سے امریکہ کی واپسی کی خبر سنا رہی ہے جبکہ تین کالمی خبر میں طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی سفارتی کامیابی کے دعوے موجود ہیں۔ چار کالمی خبر میں ادھار پر ساڑھے چار ارب ڈالر کا تیل ملنے کی نوید ہے۔ نیچے دو کالموں پر مشتمل خبر میں پیٹرولیم مصنوعات کے دس روپے تک سستا ہونے کے امکانات کو ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عدالت کی جانب سے سول اپیلوں کو تین ماہ میں نمٹانے کا عزم ہے اور صفحے کے درمیان میں 51 فیصد عوام کی جانب سے عمران خان کی حکومت کی کارکردگی پر اطمینان ظاہر کرنے کے سروے نتائج ہیں۔ سب کچھ بہت اچھا نظر آ رہا ہے۔ آج کا اخبار دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان بلکہ نیا پاکستان اچانک چھلانگ لگا کر مسائل کے گڑھے سے باہر نکل آیا ہے اور اب ہر طرف ستے خیراں ہو رہی ہے۔

Read more

جہیز اور لڑکے کا معاشی استحکام – کیا واقعی یہ ضروری ہے؟

آج کل سوشل میڈیا پر لڑکے والوں کی جانب سے اصرار کر کے جہیز وصول کرنے اور لڑکی والوں کی طرف سے لڑکوں کی معاشی حیثیت پرکھنے پر گرما گرم بحث چل رہی ہے۔ فریقین موافقت اور مخالفت میں تند و تیز دلائل دے رہے ہیں۔ جہاں لالچی لڑکے والوں کو لعن طعن کی جا…

Read more

سانحات پر نئی نسل کے جذبات

میں آپ کی طرح ایک عام پاکستانی ہوں۔ بالکل ویسا ہی جیسے کہ آپ ہیں۔ کل سے میں ایبٹ آباد میں ہوئے واقعہ بلکہ سانحہ پر سوشل میڈیا دیکھ رہا ہوں۔ ہر کوئی اپنے غم اور غصے کا اظہار کر رہا ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ مجھے بھی کچھ کرنا چاہیے۔ پھر میں نے یاد کرنے کی کوشش کی کہ ماضی میں کیا کیا کرتا رہا ہوں۔

جب سولہ دسمبر 2014 کو آرمی پبلک اسکول میں 136 بچوں کو مارا گیا تھا تو میں تین دن تک روتا رہا تھا۔ فیس بک پر سیاہ ڈی پی بھی لگائی تھی۔ پھر چوتھے دن میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ پکنک منائی اور اپنا غم غلط کیا۔

اور جب سیالکوٹ میں دو بھائیوں کو مشتعل ہجوم نے مار مار کر مار ڈالا تھا اور اس سارے واقعے کی ویڈیو بنائی تھی تب بھی میں وہ دیڈیو دیکھ کر دو دن بہت تکلیف میں رہا تھا۔ تیسرے دن رمضان کا نائٹ کرکٹ ٹورنامنٹ شروع ہو گیا تھا تب کہیں جا کر میرے ذہن پر سے بوجھ اترا تھا۔

Read more

اب میں ہوں اور ماتم یک شہر آرزو

میں ایک قلم کار ہوں۔ میں جو محسوس کرتا ہوں وہ لکھ دیتا ہوں۔ لکھنے والا حساس ہوتا ہے۔ وہ ایک عام انسان کی نسبت کسی بھی واقعے کو گہرائی میں دیکھتا اور سوچتا ہے۔ یہ حساسیت بعض اوقات عذاب بن جاتی ہے۔

میں نے جب لکھنا شروع کیا تھا تو محسوس کیا تھا کہ لوگ عموماً دکھی ہیں۔ ہمارے ملک میں گذشتہ کچھ عرصہ سے دکھوں نے راستہ بنا لیا ہے اور جب جی چاہے منہ اٹھا کر چلے آتے ہیں۔ چناچہ میری کوشش ہوتی ہے کہ ہلکی پھلکی تحریر لکھوں۔ لوگ میری تحریر پڑھ کر مسکرائیں اور بجائے ذہن پر بوجھ محسوس کرنے کے لطف محسوس کریں۔ میں بھی مگر اسی ملک میں رہتا ہوں۔ اس ملک کے دکھ میرے بھی دکھ ہیں۔ میں ان دکھوں کو فصیلِ جاں میں چھپائے رکھتا ہوں۔ مگر ہر سال سولہ دسمبر کو ایک عظیم دکھ میری تمام دفاعی فصیلیں عبورکرکے جارحانہ انداز میں باہر نکل آتاہے اور اک حشر اٹھا دیتا ہے۔

Read more

عورتیں بھی کم عمر لڑکوں کو ہراساں کرتی ہیں

زمانہ بہت تبدیل ہو گیا ہے۔ جو باتیں پہلے اشاروں کنایوں میں کی جاتی تھیں اب وہ بے دھڑک کی جاتی ہیں۔ گذرتے زمانے کے ساتھ خواتین میں اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے کا خوش کن رویہ نمایاں ہو رہا ہے۔ یہ خاص طور پر پاکستانی معاشرے کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔ ایک…

Read more

شکوہ ابا سے خاکم بدہن ہے مجھ کو

نوٹس کے الفاظ کے مطابق ”اگر کسی طالبہ کے ہاتھ پر مہندی لگائی گئی تو جب تک وہ مہندی اتر نہیں جاتی یا اتار نہیں دی جاتی، روزانہ طالبہ کو سزا کا سامنا کرنا پڑے گا“۔ نوٹس کے الفاظ واضح ہیں کہ اگر مہندی لگائی گئی تو سزا ملے گی۔

اب والد صاحب کی پوسٹ کو دیکھتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ انہیں رائے چاہیے۔ ان کی چھ سالہ بیٹی، جو پہلی جماعت کی طالبہ ہے، کو 11 ربیع الاول والے دن ہاتھوں پر مہندی لگانے کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر اسکول میں سزا دی جا رہی ہے۔ بچی کو اسمبلی میں نہیں حصہ لینے دیا جا رہا، بچی کو دوسری طرف کھڑا رکھا جاتا ہے جبکہ باقی بچے دوسری طرف بیٹھے ہوتے ہیں۔ اس کو اپنی جماعت میں جانے سے پہلے سرزنش کر کے ذہنی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔

اس کو بریک نہیں دی جاتی۔ روزانہ کی بنیاد پر اسے زبانی اور تحریری نوٹس دیے جا رہے ہیں جو ڈائری میں لکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ بچی جب اسکول سے گھر آتی ہے تو وہ کچھ نہیں بتاتی اور جب ہم اس کی ڈائری دیکھتے ہیں تو اس کے چہرے کے تاثرات یکسر تبدیل ہو جاتے ہیں اور وہ رونا شروع کر دیتی ہے کہ وہ دوبارہ اس اسکول میں نہیں جانا چاہتی۔

Read more