گلے میں سوزش کا علاج اینٹی بائیوٹک سے مت کریں؛ رائل کالج آف پریکٹیشنرز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسی لینس نے زور دیا ہے کہ ڈاکٹرز گلے کی سوزش کے زیادہ تر مریضوں کو قیمتی اینٹی بائیوٹک تجویز کرنا بند کردیں اور انہیں پیراسیٹامول جیسی دوائیں تجویز کریں۔

انسٹی ٹیوٹ کی نئی گائیڈ لائنز میں کہا گیا کہ گلے میں سوزش کے زیادہ تر وجہ وائرل انفیکشنز ہیں جن کا اینٹی بائیوٹکس سے علاج نہیں کیا جا سکتا۔

ایک ریسرچ میں پتہ چلا ہے کہ60فیصد گلے کی سوزش کے کیسز میں اینٹی بائیوٹکس تجویز کی گئیں این آئی سی ای (ناٹس) کے مطابق یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ دوائیں اس وقت استعمال کی جانی چاہئیں جب وہ کسی تکلیف میں موثر ثابت ہوں کیونکہ اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے۔

اینٹی بائیوٹکس ڈرگس کے زیادہ استعمال کی وجہ سے انفیکشنز ٹریٹمنٹ مشکل تر ہوتے جا رہے ہیں اور اس کے ڈرگ ریز سسٹینس سپربگس پیدا ہو رہے ہیں۔

ٹانسلز اور گلے کے دیگر امراض بیکٹیریا یا وائرل انفیکشن کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

پبلک ہیلتھ انگلینڈ اور ناٹس کے نئی گائیڈ لائنز جاری کی ہیں جس کامقصد اینٹی بائیوٹکس ڈرگس کے استعمال کو محدود کرنا ہے ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز انتہائی شدید ضرورت میں اینٹی بائیوٹکس تجویز کریں۔

لوگوں کو زیادہ تر دردکش دوائیں مثلاً اسپرین آئیبو بروفین وغیرہ استعمال کرنی چاہئے۔ گلے کی سوزش کے لئے مختلف لوزنجز کے علاوہ پانی کا زیادہ استعمال کرنا چاہئے اور آرام کرنا چاہئے۔

پروفیسر سلیوڈنا میکن ٹلے نے کہا کہ اینٹی بائیوٹکس قیمتی وسائل ہیں اس لئے ضروری ہے کہ ان کو انتہائی شدید کیسز میں استعمال کیا جانا چاہئے۔ اگر گلے میں سوزش کی وجہ سے تکلیف ہے تو اس کو کنٹرول کرنے کے اور کئی ذرائع موجود ہیں۔

رائل کالج آف جنرل پریکٹیشنرز کا کہنا ہے کہ مریضوں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اینٹی بائیو ٹکس ہر بیماری کا علاج نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •