مائنس ون فارمولا: اپنے اعلیٰ آدمی کو قتل کرنے کا رواج


لفظ ’ فارمولا ‘ کو گوگل کریں، آپ کو Relativity اور CalculusسےFormula one ریس تک درجنوں فارمولاز نظر آئیں گے، مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سب سے معروف فارمولا ’Minus one formula‘ کہیں نظر نہیں آئے گا۔ گوگل کی اس بے خبری کا ماتم کرنے کی بجائے مائنس ون نامی اس انتہائی مقامی جانور کو ٹٹولنا چاہیے تاکہ اس کاحدود اربعہ دریافت کیا جا سکے۔

سادہ لفظوں میں اس فارمو لے کا مطلب ہے کہ جو شخص آپ کی جماعت کا روح رواں ہے ، آپ کا سب سے اعلیٰ آدمی ہے اور عوام میں سب سے زیادہ مقبول ہے وہ ہمیں قبول نہیں ہے لہذا آپ اگر اُسے جماعت سے مائنس کر دیں تو ہمیں آپ کی جماعت قبول ہے ۔

 یہ کیا بوا لعجبی ہے !

یعنی انہیں جسم قبول ہے، روح قبول نہیں، پاکستان قبول ہے، قائد اعظم قبول نہیں، کربلا قبول ہے، حُسین قبول نہیں!

مائنس ون کی اصطلاح غالباً پہلی مرتبہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت (1988-1990) کے دوران سننے میں آئی مگر در حقیقت یہ فارمولا لگ بھگ پاکستان کا ہم عمر ہے۔

قا ئدا عظم کا آخری سفر جس خستہ حال ایمبولنس میں ہوا وہ قضیہ تو چھوڑئیے، پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان سے شروع کر لیتے ھیں۔ کیا وہ قائد اعظم کے سب سے معتمد ساتھی اور عوام میں سب سے مقبول رہنما نہیں تھے؟ بالکل تھے، اور انہیں اپنی اس حیثیت کا اندازہ بھی تھا، یعنی ان میں وہ سب کوائف موجود تھے جو ’مائنس ون‘ کے امیدوار میں ہونے چاہیں۔ لہذا 16 اکتوبر 1951ء کے دن ہزاروں آنکھوں کے سامنے انہیں مائنس ون کر دیا گیا۔ ہم نے اپنے اعلیٰ آدمی کو قتل کرنے کا رواج یہیں سے آغاز کیا۔ لیاقت علی خان کے قتل سے وہ تمام اثرات ہماری قومی زندگی پہ مرتب ہوئے جو اپنے اعلیٰ آدمی کو غیر فطری طریقے سے منظر سے ہٹانے سے ہوتے ہیں، یعنی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ کمزور ہوئی، فیڈریشن کمزور ہوئی اور 1958 تک چھ ’شوکت عزیز‘ مل کر بھی لیاقت علی خان کا خلا پر نہ کر سکے۔

آگے چلئے۔ قائد اعظم کے بعد پاکستان کے عوام کے لئے سب سے محترم اور مقبول شخضیت مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح تھیں۔ قائد اعظم کی وفات کے فوراً بعد ہی مادر ملت کو قومی زندگی سے علیحدہ کر دیا گیا او ر انہیں عوام سے دور رکھنے کی مسلسل کوشش کی گئی، یعنی ارباب بست و کشاد نے انہیں ’نا اہل‘ قرار دے دیا۔ لیکن مادر ملت آخری سانس تک باز نہ آئیں اور نتیجتاً 9جولائی 1967 کو ’حرکت قلب‘ بند ہو جانے سے ان کے انتقال کے بعد ان کے جسد خاکی کو غسل دینے والے کلو غسّال نے بتایا کہ محترمہ فاطمہ جناح کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے جن سے خون رس رہا تھا اور ان کا لباس لہو میں ترتھا۔ یعنی سادہ لفظوں میں انہیں ’مائنس ون ‘ کر دیا گیا تھا۔ مدعی تھا، شہادت تھی، لیکن حساب پاک ہوا۔

اسکے بعد دو سیاست دان ملک میں مقبول ٹھہرے، مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو اور مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان اور 1970ء کے انتخابات نے یہ ثابت کر دیا کہ دونوں ’مائنس ون ‘ کے بہترین امیدوار تھے۔ مجیب کو مائنس کرنے میں اندیشہ تھا کہ اس کے ساتھ آدھا ملک بھی مائنس ہو جائے گا، مگریہ کڑوا گھونٹ بھی بھر لیا گیا اور مجیب اور اس کی مقبولیت سے جان چھڑا لی گئی، ہرچند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے۔

اس کے بعد بھٹو صاحب کی باری تھی۔ وہ اپنے دور اقتدار کی متعدد غلطیوں کے باوجود بھی ملک کے مقبول ترین عوامی راہ نما رہے، لہذا آخرکار انہیں ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے ’مائنس ون‘ کر دیا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل آج تک قوم کی اجتماعی نفسیات میں رڑکتا ہے۔ بھٹو خاندان کی خون میں لتھڑی ہوئی تاریخ بھی بے نظیر بھٹو کو جمہوریت کے سفر سے نہ روک سکی اور وہ عمر بھر زندانوں اور جلاوطنیوں کے خارزاروں میں سرگرداں رھیں، مگر باز نہ آئیں۔ ان کی ناقابل رشک حکومتیں بھی انھیں عوام میں غیر مقبول نہ کر سکیں، لہذا بے نظیر بھٹو کا بھی فقط ایک ہی علاج تھا کہ انہیں مائنس ون کر دیا جائے، سو کر دیا گیا، اللہ اللہ خیر سلا۔

اس فارمولے کا اگلا شکار نواز شریف ہی کو ہونا چاہیے تھا، یہ ان کا حق تھا، سو حق بہ حق دار رسید۔ انہیں بھی جیل اور جلا وطنی کا مزا چکھایا گیا لیکن وہ باز نہیں آ رہے۔ اور طرفہ ستم یہ کہ مائنس ون والے بھی باز نہیں آ رہے۔ ’نہ تم باز آﺅ نہ ہم باز آئیں‘ کا یہ کھیل کیا گل کھلائے گا؟ اس دو طرفہ ضد کا کیا انجام ہو گا؟

ایک آدمی اپنے گدھے پر سامان لاد کر کہیں جا رہا تھا، چوراھے میں پہنچ کر گدھے نے چلنے سے انکار کر دیا، اس کے مالک نے بہت کوشش کی مگر گدھا ٹس سے مس نہ ہوا۔ مالک کا غصہ بڑھتا چلا گیا، اس نے ایک لکڑی سے گدھے کو مارنا شروع کیا لیکن گدھے نے اپنے کھروں کی مٹی نہ چھوڑی، مالک مارتے مارتے ہانپنے لگا، گدھا خونم خون ہو گیا مگر اپنی جگہ سے نہ ہلا، اور پھر یکایک گدھے نے گردن موڑی اوراپنے مالک سے کہا ”ویسے توں وی بہت ڈھیٹ ایں“۔

آج ہماری قومی زندگی بھی لگ بھگ ایسا ہی منظر پیش کر رہی ہے۔ اب یہ فیصلہ آپ خود کیجئے کہ ان دونوں میں زیادہ ڈھیٹ کون ہے۔