قطب شمالی اور قطب جنوبی ہماری زمین کی دو انتہائیں ہیں اور جب بعد عظیم کی مثال دینا ہو تو قطبین کے فاصلے کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ اور دوسری طرف اگر اسی کرہ ارض کو کہکشاں کے نقشے میں دیکھا جائے تو ایک نقطہ رہ جاتا ہے جسے ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ اور یہ تو ہم جانتے ہیں کہ نقطوں کے قطبین نہیں ہوتے، نہ کوئی نارتھ پول نہ ساؤتھ پول۔ یعنی نظر اور نظارے کا درمیانی فاصلہ سارا منظر ہی بدل دیتا ہے۔
بالکل اسی طرح پاکستان کو دور سے دیکھیں تو ایک دھندلا سا نقطہ ہی نظر آتا ہے، فوج، عدالت، سیاست، عوام، سب ایک نقطے میں گم ہو جاتے ہیں، نہ کوئی ساؤتھ پول نہ نارتھ پول، نہ میاں صاحب نہ خان صاحب، نہ باجوہ صاحب نہ حافظ صاحب، بس ایک نقطہ سا رہ جاتا ہے، صبح شام نوع بہ نوع تازیانے سہتے عوام، مگرمچھوں کے جبڑوں میں جکڑے ہوئے وسائل، لاقانونیت، بد امنی، انتہا پسندی، جہالت اور بیماری اور باقی سب زیب داستاں۔
Read more