میری امریکا یاترا

آرزو سیکم سفر نصیب ہوتا ہے، سو جب بھی موقع ملے کوشش ہوتی ہے کہ ضائع نہ ہونے پائے۔ تو بس یوں ہوا کہ کچھ اصحاب اور تنظیموں نے امریکا آنے کی دعوت دی اور ہم نے بنا کسی حیل و حجت کے قبول کر لی۔ امریکا شریف کی زیارت کا شرف تو پہلے بھی کئی بار حاصل ہوا مگر یہ دعوت بہ وجوہ اپنی نوع کی پہلی تھی یعنی ہمیں بہ طور شاعر مختلف تقریبات کیلئے مدعو کیا جا

Read more

اگلی پاک بھارت جنگ کب ہوگی؟

کرکٹ میچ ہو یا جنگ، جب کوئی ملک ہار جاتا ہے تو عوام اربابِ بست و کشاد سے ناراض ہو جاتے ہیں اور انہیں اپنا غصہ نکالنے کیلئے کوئی سیدھا سیدھا ہدف درکار ہوتا ہے، ایسے میں فیصلہ ساز افراد اور ادارے ہار کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈالنے کیلئے ایک داخلی جنگ آغاز کرتے ہیں، اپنا مستقبل، اپنی سیاست بچانے کیلئے یا اپنے ادارے کی حُرمت بچانے کیلئے۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد ہم نے یہ تماشا دیکھ رکھا ہے۔

Read more

میں امریکا نہیں جاؤں گی

میری پیاری بیٹی محور سیّدزادی بچپن سے کہا کرتی تھی کہ میں بڑی ہو کر امریکا میں پڑھوں گی اور امریکا میں ہی رہوں گی۔ چشمِ شعور وا ہونے سے بہت پہلے ہی وہ اس نتیجے تک کیوں کر پہنچی؟ غالباً گھر کے بڑوں کی گفتگو سُن کر جس کا مرکزہ ہوا کرتا تھا، پاکستان کی ہانپتی کانپتی جمہوریت، آمریت کا ہتھوڑا، انتہا پسندی کی دلدل، عدم برداشت کا عفریت، انسانی حقوق کاجنازہ، اور میرٹ کا قتلِ عام۔ محور اپنے

Read more

پاک بھارت ’’نیو نارمل‘‘

ہمارے ایک دوست ہیں، انتہائی شائستہ، مہذب، دھیمے مزاج کے۔ ان کی بیگم صاحبہ ’’ذرا‘‘ مختلف طبیعت کی ہیں، تُند خُو اور آتش مزاج۔ بہرحال دونوں سال ہا سال سے ’’ہنسی خوشی‘‘ اکٹھے رہ رہے ہیں، دونوں میں ان بن ہوتی رہتی ہے، مگر میاں صاحب کی صلح جوئی بات بڑھنے نہیں دیتی، منٹوں نہیں تو گھنٹوں میں حالتِ امن لوٹ آتی ہے۔ پچھلے دنوں مگر کچھ مختلف ہوا، دوست سے ملاقات ہوئی تو بتانے لگے کہ تمہاری بھابھی سے

Read more

بھارت مذاق بن گیا

اب ہمیں مطالعہ پاکستان کی کتابوں میں جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں رہی، دس مئی 2025 کو پاکستان نے بھارت کو جنگ میں شکست دی ہے، یہ منظر ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، ساری دنیا اس کی گواہی دے رہی ہے، پاکستان کی برتری تسلیم کر رہی ہے۔ یہ احمقانہ جنگ آغاز کرنے والے مودی جی اب بھی اس کوشش میں ہیں کہ اس حوالے سے ابہام پیدا کر سکیں مگر اب ان کے افسانوں پر ان کی

Read more

مودی کا پاگل پن

ایک شخص نے دو ارب افراد کی زندگی خطرے میں ڈال دی، نریندر مودی کے بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا، انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ایٹمی طاقت نے دوسری ایٹمی طاقت پر براہِ راست میزائل برسا دیے، پاکستان بھارت تنازعات کی تاریخ میں یہ پہلی دفعہ ہے جب ساری دنیا متفق ہے کہ ہندوستان نے لڑائی میں پہل کی ہے، بھارت جارح ملک ہے، بھارت نے پہلگام واقعہ کو بہانہ بنایا مگر دنیا کے سامنے اس واقعہ

Read more

شوقِ شمشیر زنی

پاپولسٹ سیاسی راہ نما خِرد دشمنی کے فن میں ماہر ہوتے ہیں، پاسبانِ عقل کو معزول کر دیتے ہیں، کوئی بھی مسئلہ درپیش ہو اسے تعصب اور نفرت کی عینک سے دیکھتے اور دکھاتے ہیں، فرضی دشمن تخلیق کرتے ہیں جو آپ کے خون کا پیاسا ہے، دشمن کا خوف بیدار کرتے ہیں اور پھر اس دشمن سے نفرت کی بنیاد پر اپنے قصرِ سیاست کی تعمیر کرتے ہیں۔ یہ ایک سیدھا سادہ، طے شدہ فارمولا ہے جس کوہم رو

Read more

سیٹ 1-C کا مسافر

ہم پانچ دوست سیر و سیاحت کی غرض سے گلگت گئے، یہ اگست 1989 کی بات ہے، ایک ہفتہ قیام رہا،خوب سیر کی، بہت لطف آیا۔ واپسی کی ہوائی ٹکٹیں 24 اگست کی تھیں، صبح ہوائی اڈے پہنچے تو خبر ملی کہ اس جہاز پر تین سیٹیں مل سکتی ہیں۔ فیصلہ یہ ہوا کہ تین دوست آج ہی چلے جائیں اور دو اگلے دن آ جائیں۔ لہٰذا، شہباز شیخ، عماداللہ شیخ اور برادرِ بزرگ سیّد جنید غزنوی، اُس پرواز پر

Read more

تیسری جنگِ عظیم

ہمیں فوجی آمروں سے اتنا خوف نہیں آتا جتنا پاپولسٹ لیڈرز سے آتا ہے، فوجی آمر آئین کو روند کر اقتدار میں آتا ہے اور ایک مسلمہ آئین شکن ہوتا ہے، کوئی شک کی گنجائش نہیں ہوتی، کوئی ابہام نہیں ہوتا، سیاست دانوں سے فطری نفرت رکھتا ہے، انہیں مسائل کی جڑ سمجھتا ہے اور خود کو مسیحا گردانتا ہے، جب کہ پاپولسٹ لیڈر آئین کے تحت اقتدار کے ایوان میں داخل ہوتا ہے اور پھر اندر سے سیند لگاتا

Read more

سچ مرحوم کی یاد میں

پاکستان میں انگریزی کے ایک موقر روزنامے کی خبر کا عکس سوشل میڈیا پر نظر سے گزرا جس میں ایک ایسی ایپ کا تذکرہ تھا جو کرپٹو کرنسی سے پیسے کمانے کی مشین ہے، دنوں میں کروڑ پتی بننے کا نادر اور آسان ترین نسخہ، چاہے آپ کو اس کاروبار کا کچھ علم ہے یا نہیں، ایپ کی مصنوعی ذہانت خود طے کرتی ہے کہ کس کرنسی میں کتنے پیسے کی سرمایہ کاری کرنا ہے، اور ایپ چند گھنٹوں میں

Read more

ایک یرغمالی کی ڈائری

یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب ہمارے ہاں اسکول صرف سرکاری ہوا کرتے تھے، ہم سنٹرل ماڈل اسکول لاہور میں پڑھتے تھے جو ہر لحاظ سے صوبے کا ایک رفیع الشان تعلیمی ادارہ تھا، اسکول کی عمارت پُر شکوہ، کمرے کُشادہ، اسمبلی گرائونڈ وسیع، اور اساتذہ طلباء کی تعلیم و تربیت میں یک سُو ہوا کرتے تھے۔ بورڈ کے امتحان میں میٹرک کی پہلی دس پوزیشنوں میں سے اگر کوئی ایک آدھ کسی اور اسکول کا طالبِ علم ’’چُرا‘‘

Read more

مریم نواز کے ’’فوری انصاف‘‘ کا فوری نتیجہ

اگر سوکھے ہوئے راوی کے کنارے کوئی کتا پیاس سے مر جائے تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟ صوبے کا وزیرِ اعلیٰ، لاہور کا ناظم، علاقے کے منتخب نمائندے یا محکمہ انسدادِ بے رحمی حیوانات ؟ پیاسے کتّے کی مثال صرف اس لئے دی گئی ہے کہ اسلامی تاریخ میں یہ فقرہ معروف ہے اور اس کا حوالہ سربراہِ حکومت کی کڑی ذمہ داریوں پر دال سمجھا جاتا ہے۔ آج کی دنیا میں اس جملے کا ایک ہی

Read more

چودھری اور کمی کمین

جُرمِ ضعیفی کی معافی نہیں ہوتی۔ ہمارے ایک دوست ہوا بازی اور پی آئی اے کے وفاقی وزیر ہوا کرتے تھے، ایک مرتبہ وہ وزیرِ اعظم کے ہم راہ ایک متمول ریاست کے دورے سے لوٹے تو ’’کام یاب‘‘ دورے کی روداد سناتے ہوئے ان کا چہرہ متغیر ہونے لگا، کہنے لگے کہ ’’برادر‘‘ ملک میں ہماری باقاعدہ ’’عزت افزائی‘‘ کی گئی، ہم سے ایسا سلوک کیا گیا جیسا وڈیرا اپنے کمّی سے کرتا ہے، اور کمّی کمین بھی وہ

Read more

ہاکی سے کرکٹ تک

اپنے آس پاس سب ’’نارمل‘‘ بچوں کی طرح ہم بھی کرکٹ کھیلا کرتے تھے، جون جولائی کی تپتی دوپہروں میں، دسمبر کی منجمد شاموں میں، اسکول میں، گلی محلے میں، ویہڑے میں، جہاں دائو لگ جاتا ہم شروع ہو جاتے، ٹیپ بال ابھی ایجاد نہیں ہوئی تھی اور گلی کی کرکٹ بھی سرخ گیند سے کھیلی جاتی تھی، پیڈز، گلوز کی عدم موجودگی میں چوٹ لگنا معمول کی بات سمجھی جاتی تھی، انگلی پر گیند لگی تو ناخن نیلا ہو

Read more

نو گز کی قبر

آج کل اپنے منتخب کالمزکو کتابی شکل میں چھپوانے کے مراحل سے گزرا جا رہا ہے، کون سی تحریر شامل کی جائے اور کسے نظر انداز کر دیا جائے، اس سلسلے میں مشاورت جاری ہے، زبان اور املاء کے مسائل میں بھی رہبری کی طلب رہتی ہے، اور کالمز کی ترتیب کیا ہونی چاہیے، اگر زمانی اعتبار سے ہو تو جدید سے قدیم کی طرف مراجعت ہو یا اس کے برعکس، اور اس طرح کے درجنوں سوال درپیش رہتے ہیں۔

Read more

بسنت اور اُجڑا ہوا آسمان

جِیبا ہمارا محلے دار تھا۔ جِیبا ایک آرٹسٹ تھا۔ جِیبے کا ہنر پتنگ سازی تھا۔ جِیبے جیسی متناسب اور متوازن پتنگ لاہور کا شاید ہی کوئی کاری گر بنا سکتا ہو، اور اگر لاہور کا کوئی کاری گر اس فن میں جِیبے کی ہم سری نہیں کر سکتا تھا تو پھر دنیا کے کسی اور شہر میں تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا کیوں کہ لاہور پتنگ بازی اور پتنگ سازی کا مرکز تھا۔ بلا شبہ جِیبا ایک سلیبرٹی

Read more

خان صاحب، آپ واک کیا کریں

ہمارے محلے میں ایک حکیم صاحب ہوا کرتے تھے جو دانت درد سے عارضہ قلب تک ہر بیماری کا علاج ایک ہی گولی سے کیا کرتے تھے، اور دلچسپ بات یہ تھی کہ اکثر مریضوں کو اس سے افاقہ بھی ہو جایا کرتا تھا، یعنی بہ قولِ مجید امجد ’بنے یہ زہر ہی وجہ شفا جو تو چاہے … خرید لوں میں یہ نقلی دوا جو تو چاہے۔‘ وہ حکیم صاحب اس لیے یاد آئے کہ میرا معاملہ بھی ان

Read more

القادر مِس ٹرسٹ کیس

  اربوں انسان مذاہب سے روحانی و دنیاوی راہ نمائی حاصل کرتے ہیں، مذہبی احکامات کی روشنی میں اچھا انسان بننے کی کوشش کرتے ہیں، اور اپنی دنیا و عقبیٰ سنوارنے کی سعی کرتے ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی درست ہے کہ ہر طاقت ور نظریے کی طرح مذہب کا غلط استعمال بھی ہوتا ہے۔ ہزاروں سال سے بالا دست طبقات اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے مذہب کی چھتری تلے پناہ لیتے رہے ہیں، بادشاہوں کاالوہی حقِ حکمرانی اور کاہنوں

Read more

جانی، آؤ سول نافرمانی کریں

ایک ٹی وی پروڈیوسر صاحب کو ماہِ رمضان کی خصوصی نشریات کا انچارج بنایا گیا، وہ اپنی تجاویز مرتب کر کے میرے پاس لائے تو نشریات کی میزبانی کے لئے مجوزہ نام ایک معروف رقاصہ کا تھا۔ پروڈیوسر صاحب نے فخریہ طور پر بتایا کہ مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ والے بھی اس نام پر متفق ہیں، رقاصہ بھی مان گئی ہے، رقم بھی طے ہو گئی ہے۔ یہ بیس بائیس برس پرانا قصہ ہے، پرائیویٹ میڈیا کا آغاز ہو رہا تھا، اور

Read more

Do or Die

اماں جان کو اردو اور فارسی کے بہت سے اشعار یاد تھے جو ان کی گفتگو میں برمحل در آتے تھے، اسی طرح انہیں انگریزی کی کچھ نظمیں بھی حفظ تھیں، جیسے ورڈزورتھ کی ”وی آر سیون“ اور ”ڈیفوڈلز“، وہ لارڈ ٹینی سن کی نظم کایہ حصہ بھی اکثر سنایا کرتی تھیں: Theirs is not to reason why Theirs is but to do or die یہ ہمارا ”ڈو اور ڈائی“ سے پہلا تعارف تھا۔ اورتا حال آخری دفعہ ہمارا واسطہ

Read more

ایک رکی ہوئی گھڑی کی کہانی

وہ صبح چھ بجے اٹھا اور اسے یک دم یوں لگا جیسے ’آج‘ بھی ’کل‘ ہے، وہ چوبیس گھنٹے پیچھے چلا گیا ہے، جیسے جیسے دن گزرنا شروع ہوتا ہے اس کا شبہ بڑھنے لگتا ہے،ہر واقعہ گزرے ہوئے ’کل‘ کی طرح پھر سے رونما ہو رہا ہے، عمل اور ردِ عمل دونوں خود کو دہرا رہے ہیں، وہ خواب دیکھ رہا ہے کہ یہ اس کا وہم ہے؟ کچھ نہیں کھلتا۔ یونہی رات ہو جاتی ہے اور وہ گھڑی

Read more

”حق و باطل“ کی جنگ اور ہکے بکے عوام

سود وزیاں سے بے نیاز ہو کر، فتح و شکست کی امید اور اندیشوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، حق محض اس لیے کہ حق ہے، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کا ساتھ دیا جائے۔ یہ تو ہوگئی اصول کی بات، لیکن زندگی پیچیدگی سے عبارت ہے، زندگی میں ”حق“ اور ”باطل“ دو علیحدہ خانوں کا نام نہیں ہے، بلکہ اکثر تو حق وباطل کی سرحدیں دھندلی ہو جایا کرتی ہیں۔ برسوں پہلے مظفرآباد آزاد کشمیر جانے

Read more

تاریخ کی درست سمت

”ہم تاریخ کی درست سمت میں کھڑے ہیں“، اس فقرے کا کیا مطلب ہے؟ اکثر یہ جملہ کمزور اور شکست خوردہ افراد کی زبان سے سننے میں آتا ہے، وہ لوگ جو لمحہ موجود میں کسی بنا پر پچھڑے ہوئے ہیں لیکن ان کا گمان یہ ہے کہ وہ ”سچ“ اور ”انصاف“ کے اصولوں کی پیروی کر رہے ہیں، اور آخری فتح تو ان کے ”سچ“ کی ہو گی۔ کالج کے زمانے کے سرخے دوست یاد آ رہے ہیں جو

Read more

ڈاکٹر صاحب اور مکمل انصاف

اس ہزارے کے ابتدائی سال تھے، تعلیمی مقاصد کے سلسلے میں ان دنوں ہمارا قیام برطانیہ میں تھا، ایک دن لندن میں ایک عزیز کے ہم راہ سیر کرتے ہوئے انکی گاڑی کی اسکرین پر نظر پڑی تو ”ڈاکٹر“ کا اسٹیکر چسپاں نظر آیا، ان سے اس بارے سوال کیا تو فرمانے لگے کہ اس سے گاڑی پارک کرنے میں آسانی رہتی ہے، یاد رہے کہ ان صاحب کی تعلیمی قابلیت (ان کے بہ قول) ایف اے تھی۔ ان سے

Read more

عدالت، سیاست، نزاکت، سلامت

ہماری کلاسیکی موسیقی کی روایت میں دو بھائیوں استاد نزاکت علی خان اور استاد سلامت علی خان کی جوڑی ہر لحاظ سے لاجواب سمجھی جاتی تھی۔ چھوٹے بھائی سلامت علی خان کو تو اہلِ فن تان سین ثانی پکارا کرتے تھے، یعنی ایک بے بدل گویا، جو گھنٹوں وِلمپت کرنے اور راگ کے بھید کھولنے پر قادر تھا، جو درت میں لے کاری کو معجزے کی سطح پر لے گیا، گائیکی میں تاثیر دل گداز، تان پلٹا شمشیرِ آب دار،

Read more

میرا جج … زندہ باد

ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں، ہمارے راہ نماﺅں کے بیانات دل پذ یر ہیں، اماموں کے خطبے پرسوز ہیں، صحافیوں کے ’اصولی موقف‘ متاثر کن ہیں، سورماﺅں کے دعوے پر جوش ہیں اور جج حضرات کی باتیں تو بہت ہی پیاری ہیں۔ لیکن ان اصحاب کا عمل دیکھ کر بندہ متفکر ہو جاتا ہے کہ یہ منافق ہیں، دروغی ہیں، یا سرتاپا فراڈیے۔ یہ مرض ہر معاشرے میں تھوڑا بہت پایا جاتا ہے، مگر ہم نے اس ’فن‘

Read more

مردہ خانے میں رنگ رلیاں

بھارت کی ایک ریاست ہے اتر پردیش، اس میں ایک ڈویژن ہے میرٹھ، اور میرٹھ میں ایک ضلع ہے گوتم بدھ نگر، اور اس ضلع میں ایک شہر ہے ’نوئے ڈا‘، اور نوئے ڈا میں ایک مردہ خانہ ہے، اس مردہ خانے سے پچھلے دنوں ایک ویڈیو نکلی جو آج کل ہندوستان میں بہت ’مقبول‘ ہے، سوشل میڈیا کی مہربانی سے ہم بھی اس سے تمتع حاصل کر چکے ہیں۔ اس چھ منٹ کی ویڈیو کے مرکزی کردار ہیں شیر

Read more

لاشیں اور بیانیہ

نوروز خان زرکزئی کو بلوچستان والے ’بابو نوریز‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں، یہ صاحب کچھ شورش پسند واقع ہوئے تھے، پہلے قلات کے حقوق کے لیے انگریز سے لڑتے رہے، انگریز گئے تو نئے حاکموں سے بِھڑ گئے۔ جب 1955ء میں ون یونٹ بنا تو بلوچستان کو اپنے حقوق و نمائندگی میں مزید کمی کی شکایت ہوئی، نوروز خان پھر لگ بھگ ایک ہزار ساتھیوں سمیت پہاڑوں پر چڑھ گئے اور مزید شدت سے پاکستانی حکام سے برسرِ

Read more

ہم عہدِ ”چول“ میں زندہ ہیں

ایک صاحب ہیں حکیم شہزاد المعروف لوہا پھاڑ، مطب کرتے ہیں اور اپنی اختراع کردہ ایک معجون پر ہمہ وقت نازاں رہتے ہیں، ہم نے ان کا نامِ گرامی پہلی مرتبہ چند ہفتے قبل اس وقت سنا جب انہوں نے عامر لیاقت مرحوم کی بیوہ کو اپنے عقد میں لیا اور سوشل میڈیا پراس ’میڈل‘ کا خوب ڈھنڈورا پیٹا۔ کچھ دن تو وہ سوشل میڈیا پر چھائے رہے، ان کے فالوورز اور ویوز بڑھتے رہے، لیکن پھر ان کے ’میڈل‘

Read more

خدا ہونے کا یقیں

شداد، فرعون، نمرود وغیرہ ہماری ہوش سے پہلے کے کردار ہیں، ان کے بارے میں پڑھا تو ہے لیکن ہم نے انہیں چلتے پھرتے، ہنستے بولتے، چائے پیتے نہیں دیکھا۔لیکن جنرل ریٹائرڈ  فیض حمید کو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ فیض حمید نے الوہیت کا کوئی باقاعدہ دعویٰ تو نہیں کر رکھا تھامگر ان کے خدائی رویوں سے خلقِ خدا خوب آشنا بھی تھی اور خائف بھی، وہ سیاہ و سفید پر تصرف رکھتے تھے، خود کو محیی

Read more

اک حسینہ تھی

بنگلہ دیشی ماڈل زمیں بوس ہوا، بنگلہ دیشی ماڈل منہدم ہوا، یعنی ’شائستہ‘ زبان میں کہیں گے کہ بنگلہ دیشی ماڈل تو ”وڑ“ گیا۔ بنگلہ دیشی ماڈل کا مطلب ہے ہائی برڈ نظامِ حکومت، اور ہائی برڈ انصرامِ ریاست کا آسان تر زبان میں مطلب ہے ایک ایسا حکومتی بندوبست جس میں عسکری اور کسی مخصوص سیاسی جماعت کے درمیان ایک ایسا گٹھ جوڑ طے پا جائے جو آئین سے ورا ہو، جس میں اختیارات اور فیصلہ سازی کے ماخذ

Read more

بڑوں کی غلطیاں پکڑنا بھی غلطی ہے

اسّی کی دہائی غروب ہونے والی تھی، لاہور کے ایک بڑے ہوٹل میں ایک کلاسیکل موسیقی کی محفل کے بڑے چرچے تھے، استاد ذاکر حسین طبلہ نواز غالباً پہلی بار لاہور میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے والے تھے، استاد اللہ رکھا کے بیٹے ذاکر حسین اس وقت تک عالمی سطح پر خوب نام کما چکے تھے، ذاکر کے ساتھ عدنان سمیع خان نے پرفارم کرنا تھا جو اس وقت تک ملک سے ہجرت کر چکے تھے، عدنان نے کی

Read more

کمپنی کے جانشین

جوائنٹ اسٹاک کمپنی فقط ایک مقصد کے حصول کے لیے معرضِ وجود میں آ تی ہے، اور جب تک برقرار رہتی ہے اسی ایک مقصد کے تعاقب میں سرگرداں رہتی ہے، وہ مقصد ہوتا ہے اپنے شیئر ہولڈرز کی معاشی منفعت۔ ایسٹ انڈیا کمپنی دنیا کی اولین جوائنٹ اسٹاک کمپنی سمجھی جاتی ہے، جس کا ہدف آبادی کی فلاح، انصاف کی فراہمی یا برصغیر کے عوام کا مستقبل سنوارنا نہیں تھا بلکہ ہر قیمت پر اپنے حصہ داروں کو دولت

Read more

ایک اور آپریشن

لڑکا بے روزگار ہے، نشے میں پڑ گیا ہے، چوری چکاری بھی کر لیتا ہے، فحش گوئی میں یکتا ہے، محلے میں آتی جاتی خواتین پررکیک جملے کستا ہے، یعنی لڑکے میں سب شرعی و غیر شرعی عیوب پائے جاتے ہیں۔ کچھ سمجھ نہیں آتی کیا کیا جائے، ہمارے پاس اس کا ایک حل ہے، بلکہ یوں کہیے کہ فقط ایک ہی حل ہے۔ لڑکے کی شادی کر دی جائے! لڑکے کی شادی کر دی جاتی ہے۔ اب صورتِ احوال

Read more

بینِ شیطان و دریائے عمیق

یونانی دیومالا میں بادشاہ اوڈیسس کو ایک دبدھا درپیش تھی،اسے سمندر میں ایک ایسی تنگنائے سے گزرنا تھا جس کے دونوں طرف دو عفریت تھے، بیچ کا راستہ اتنا تنگ تھا کہ ایک سے دور ہٹتا تو دوسرے کی زد میں آ جاتا، بھنور سے بچتا تو عفریت شش سر نگل لیتا، اسی صورتِ حال سے محاورہ نکلا ہے، Between Scylla and Charybdis. کچھ اسی طرح کا معاملہ ہرکولیس کو بھی پیش آیا جس سے محاورہ بنا، On the horns

Read more

ڈیمُو اور ڈیموکریسی

اتفاق دیکھئے، کل ہمارے غسل خانے کی ٹوٹی ہوئی جالی سے ایک بِھڑ اندر آ  گیا، اور پھر موقع پا کر اس نے متصل خواب گاہ میں ورودِ مسعود فرمایا اور اب پچھلے دو دن سے وہ بھُونڈ ہمارا روم میٹ ہے، یعنی ’گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں‘۔ یہ کبھی گنگناتا ہوا کان کے پاس سے گزرتا ہے، کبھی سکوت اوڑھ لیتا ہے، کبھی کھڑکی کے پردے پر استراحت فرماتا نظر آتا ہے، اور کبھی تلاشِ بسیار

Read more

قانونِ ہتک کی حمایت…ایک شرط پر

پاکستان میں سینکڑوں اچھے قوانین موجود ہیں، اور انہیں توڑنے کے ہزاروں طریقے۔کیا ہمیں مزید اچھے قوانین بنانے کی ضرورت ہے یا خوش نیتی سے موجودہ قوانین کو نافذ کرنے کی؟ ہمارے پاس تو ام القوانین یعنی اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین بھی موجود ہے، ایسے میں کیا ہمیں کسی آئینِ نو کی تلاش میں سرگرداں رہنا چاہیے؟ یا 1973ء کے آئین کو اس کی روح سمیت نافذ کرنے کی کم از کم ایک سنجیدہ سعی کرنی چاہئے؟ آئین تو

Read more

یاسر سلطان اور کپتان خان

ہمارے ایک جیولین تھرو کے کھلاڑی ہیں محمد یاسر سلطان، اپنے کھیل میں پاکستان میں دوسرے نمبر پر ہیں اور ایشیائی کھیلوں میں کانسی کا تمغہ جیت چکے ہیں، اور اس وقت پیرس اولمپکس کے لیے کوالی فائی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہوں نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ وہ اولمپکس کی تیاری کر رہے ہیں مگر ان کے پاس جیولین (نیزہ) نہیں ہے، وہ جیولین کے بغیر ہی تیاری کر رہے ہیں، یعنی

Read more

گندم، سولر پینل اور مریم کی وردی

اسکول جانے سے پہلے میں پڑھنا سیکھ چکا تھا۔ اسکول میں داخلے کے وقت میری عمر چار سال تھی، یعنی مطلوبہ عمر سے ایک سال کم، غالباً یہ Hyperlexia کی کوئی شکل تھی، لفظوں کی صوت و ساخت ہمیشہ سے میرے لیے ایک رمز رہے ہیں، ایک اسرار آمیز رمز، ایک پہیلی جسے بوجھنے کی ہمیشہ خواہش رہی۔ چار پانچ سال کی عمر میں بچے مرے ارد گرد بیٹھ جاتے اور میں انہیں ’تعلیم و تربیت‘ اور ’نونہال‘ کی کہانیاں

Read more

ہمارے سیاست دان اور مارلن برانڈو

اس دنیا میںانسان اپنے اعمال کا جواب دہ ہوتا ہے، قانون کو، معاشرے کو یا ضمیر کو۔ ذاتی زندگی میں ہمیں اپنے فیصلوں کے نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اپنے تجربات کی قیمت ادا کرنا ہوتی ہے۔ اس حوالے سے عظیم فلمی اداکار مارلن برانڈو اپنی خود نوشت سوانح حیات (سانگز مائی مدر ٹاٹ می) میں ایک انتہائی دلچسپ نکتہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ لوگ اپنے گھر کا آرام چھوڑ

Read more

جمہوریت آ رہی ہے کہ جا رہی ہے؟

گورنمنٹ کالج لاہور میں ہمارے ایک دوست فربہی میں اپنی مثال آپ تھے، لیکن ان کا حکم ناطق تھا کہ ’میں موٹا نہیں ہوں، دراصل میرے ارد گرد سب دوست بہت دبلے پتلے ہیں‘ اس لیے دیکھنے والوں کو دھوکا ہوتا ہے۔جب کہ ہمارا خیال تھا کہ ان کی پرسنیلٹی بہت گرینڈ تھی، جو چھوٹے جسم میں فِٹ آ ہی نہیں سکتی تھی۔ہمارے لحیم شحیم دوست کے وظائف و لطائف کی فہرست بھی جسیم ہے، مگر ہم یہاں خود کو

Read more

ڈونلڈ ٹرمپ، ملیکہ بخاری اور مریم نواز

پچھلے ہفتے امریکی ریاست اوہائیو میں تقریر کرتے ہوئے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ فرماتے ہیں کہ امریکا آنے والے بہت سے تارکینِ وطن ”انسان“ نہیں ہوتے، پھر اپنے قولِ زریں کی مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے تارکین وطن کو ”جانور“ قرار دے دیا، انہوں نے بنا ثبوت یہ بھی کہا کہ ایک گہری سازش کے تحت کچھ ممالک اپنی جیلوں سے نوجوان قیدیوں کو رہا کر کے امریکا بھیج رہے ہیں جو ہمارے شہریوں کیلئے سنگین خطرے کا باعث

Read more

شہباز شریف کی واپسی

ہزاروں سال پہلے یونانی ڈراما اداکار چہروں پر ماسک لگایا کرتے تھے، ماسک لگانے کے کئی فوائد تھے، تھوڑے ایکٹر ماسک بدل بدل کر بہت سے کردار نبھا لیتے، عورتوں کے رول بھی ماسک پوش مرد ادا کر لیا کرتے تھے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ماسک کسی نہ کسی جذباتی کیفیت کے نمائندہ ہوتے تھے یعنی خوشی، غمی، خوف، حسد، وغیرہ جس سے ڈرامے کی تفہیم میں تماشائیوں کی معاونت ہوتی تھی ، اور پھر ماسک کے

Read more

عمران خان اور راحت فتح علی خان

آج کل راحت فتح علی خان اور عمران خان کے ستارے گردش میں ہیں، قوم کے دونوں سپوتوں کا برا وقت چل رہا ہے، دونوں پر مفسدات میں ملوث ہونے کا الزام ہے، ایک صاحب کو تو ٹرائل مکمل ہونے کے بعد سزائیں بھی سنا دی گئی ہیں، جب کہ صاحب سروسرور کا ابھی (میڈیا) ٹرائل چل رہا ہے۔ پہلے راحت کا قصہ سن لیجیے۔ پچھلے ہفتے ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں راحت پر حال دکھائی دیتے ہیں یعنی

Read more

سچ، جھوٹ اور بیانیہ

نہ کوئی پارٹی منشور، نہ کوئی نعرہ، نہ کوئی بحث نہ دلیل، یہ چیزیں غالباً متروک قرار پائی ہیں۔ ہم ’بیانیے‘ کے عہد میں زندہ ہیں، اور اس اصطلاح نے کسی بلیک ہول کی طرح منشور سے دلیل تک سب کچھ ہڑپ کر لیا ہے۔ ایک زمانے تک تو ’بیانیہ‘ ادب کی ایک اصطلاح تھی جس سے مراد واقعات کو کہانی کی صورت میں ترتیب سے بیان کرنا ہوا کرتا تھا۔ پھر یہ اصطلاح سیاست میں در آئی، اور اس

Read more

سلیم رحمانی اور نصرت فاطمہ کا 2023 کیسا گزرا

پاکستانیوں کا پچھلا سال کیسا گزرا، افتادگانِ خاک نے کیا کھویا کیا پایا،پریشان حالوں کے کون سے گنجل سلجھ پائے اور کون سے نئے جھنجھٹ ایجاد ہوئے،نڈھالوں کے کون سے زخم بگڑے اور کون سے مندمل ہوئے؟ براہِ راست مشاہدہ کی بناپر قائم کی گئی رائے صائب سمجھی جاتی ہے سو غزنویہ منزل کے خدام کے 2023 پر نظر ڈالتے ہیں، بات روشن ہو جائے گی۔ نصرت گل 2023 کے آغاز میں کپڑے دھونے اور استری کرنے کے لیے غزنویہ

Read more

ہم اپنے جانی دشمن ہیں

بلا شبہ، ہم حالت جنگ میں ہیں، لاشے گر رہے ہیں، منظر لہو میں لتھڑا ہوا ہے۔ لیکن یہ جنگ ذرا مختلف طرح کی جنگ ہے جس میں ہم اپنے آپ سے برسرِ پیکار ہیں، ہم گولی چلاتے ہیں اور ہمارا ہی سینہ چھلنی ہو جاتا ہے، ہم بارودی سرنگ بچھاتے ہیں اور پھر خود ہی اس پر پاﺅں دھر دیتے ہیں، خود کو زیر کرتے ہیںاور پھر اپنے ہی سینے پر بیٹھ جاتے ہیں، جس طرح کینسر کی بیماری

Read more

الیکشن اسموگ

کوہِ بہشت سے ایک فرشتے نے آدمؑ کو دنیا کا نظارہ کروایا، مقصود انسان کی ترقی اور کامرانی کی نشانیاں دکھانا تھا، مثال کے طور پرکچھ چنیدہ شہرآدم کو دکھائے گئے جن میں لاہور بھی شامل تھا۔ یہ ملٹن کی ’فردوسِ گم شدہ‘ میں مذکور ہے۔ اسی طرح ’اصفہان نصف جہاں بود، گر لاہور نہ باشد‘ والا فقرہ بھی بزرگوں سے اکثر سننے کو ملتا تھا، اور اپنا کپلنگ تو لاہور کی مدح میں لگا ہی رہتا تھا۔ بلاشبہ، لاہور

Read more

اٹھتے ہیں حجاب آخر

کچھ لوگ ستاروں کی طرح ہوتے ہیں کچھ سیاروں کی طرح، یعنی کچھ لوگ خود روشن ہوتے ہیں اور کچھ مستعار روشنی سے چمکتے ہیں، مثلاً عمران خان خود روشنی کا منبع ہیں، ان کی ساری چمک دمک ان کی تمام وجوہاتِ شہرت و بدنامی ان کی اپنی ذات سے پھوٹتی ہیں، جب کہ ان کے اردگرد درجنوں ایسے سیارہ صفت اصحاب محوگردش رہے ہیں جو فقط عمران خان کی کرنوں میں نہانے کے باعث منور ہوئے۔ غالباً یہ معاملہ

Read more

لاڈلا کون؟

دوپہر اور رات کے کھانے میں تو ہم تنوع کی خواہش رکھتے ہیں مگر ناشتے میں یکسانیت قبول کر لیتے ہیں، پتا نہیں ایسا کیوں ہے، خیر، کل صبح جب ہم انڈہ توس اور چائے کی پیالی کے منتظر تھے تو اطلاع ملی کہ آج ناشتے میں حلوہ پوری، سری پائے ، آملیٹ پراٹھا اور کھیرملے گی، اس غذائی اوباشی کے اسباب پوچھے گئے تو پتا چلا کہ ہمارے خان ساماں سلیم رحمانی کے مرشد صبح صبح چکوال سے تشریف

Read more

سیاست دان سے مدبر تک

ایک تقریر سے چند اقتباسات:زخموں پر مرہم رکھنے کا وقت آ گیا ہے…ہمارے درمیان جو خلیج وسیع تر ہو چکی ہے، اسے پاٹنے کی گھڑی آن پہنچی ہے … عہد کریں کہ آئندہ کبھی اس خوبصورت سرزمین پر کوئی گروہ کسی دوسرے گروہ پر ظلم نہیں کرے گا… انصاف سب کو ملے گا، امن و عافیت میں رہنے کا موقع سب کو ملے گا، روزگار سب کو ملے گا…یہ غربت، محرومی اور ابتلا کا طوق گردنوں سے اتار پھینکنے کا

Read more

تشریف لاتے ہیں…میاں محمد نواز شریف!

یہ نواز شریف کی بیرونِ ملک سے چوتھی معروف واپسی ہو گی، پہلی دفعہ 2007 میں قریباً سات سالہ جلا وطنی کے بعد واپسی ہوئی مگر انہیں ایئر پورٹ سے ہی ملک بدر کر دیا گیا، اگلے سال وہ پھر پاکستان آئے اور انہیں ملک میں داخل ہونے کی اجازت تو دے دی گئی مگر انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی، پھر 2018 میں طاقتوروں کی دھمکیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے، کلثوم نواز صاحبہ کو برطانیہ میں بسترِ مرگ

Read more

آئین، ان کو دِکھایا تو برا مان گئے

علمِ نجوم سے دست شناسی تک، بہت سے علوم مستقبل میں جھانکنے کے دعویدار ہیں، اور ان علوم کا کاروبار خوب چلتا ہے کیوں کہ انسان فطرتاً آنے والے کل کے بارے متجسس ہے۔ویسے ان علوم کے حوالے سے ہماری رائے شہزاد احمد سے ملتی جلتی ہے جنہوں نے فرمایا تھا ”سب تری طرح لگاتے ہیں قیافے شہزاد … اب کسی کو نہیں معلوم کہ کیا ہونا ہے“۔ ان نجومیوں، پنڈتوں اور جوتشیوں کے علاوہ ایک اور گروہ بھی پیش

Read more

اک نقطے وچ گل مکدی اے

قطب شمالی اور قطب جنوبی ہماری زمین کی دو انتہائیں ہیں اور جب بعد عظیم کی مثال دینا ہو تو قطبین کے فاصلے کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ اور دوسری طرف اگر اسی کرہ ارض کو کہکشاں کے نقشے میں دیکھا جائے تو ایک نقطہ رہ جاتا ہے جسے ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ اور یہ تو ہم جانتے ہیں کہ نقطوں کے قطبین نہیں ہوتے، نہ کوئی نارتھ پول نہ ساؤتھ پول۔ یعنی نظر اور نظارے کا درمیانی فاصلہ سارا منظر ہی بدل دیتا ہے۔

بالکل اسی طرح پاکستان کو دور سے دیکھیں تو ایک دھندلا سا نقطہ ہی نظر آتا ہے، فوج، عدالت، سیاست، عوام، سب ایک نقطے میں گم ہو جاتے ہیں، نہ کوئی ساؤتھ پول نہ نارتھ پول، نہ میاں صاحب نہ خان صاحب، نہ باجوہ صاحب نہ حافظ صاحب، بس ایک نقطہ سا رہ جاتا ہے، صبح شام نوع بہ نوع تازیانے سہتے عوام، مگرمچھوں کے جبڑوں میں جکڑے ہوئے وسائل، لاقانونیت، بد امنی، انتہا پسندی، جہالت اور بیماری اور باقی سب زیب داستاں۔

Read more

جالندھر سنگھ اور جرنیل سنگھ

کنساس سٹی میں ایک سردار جی سے راہ چلتے ملاقات ہوئی تو از روئے خیر سگالی ہم نے انہیں ہاتھ جوڑ کر گڈ مارننگ کہا، انہوں نے جواباً باقاعدہ درست مخارج کے ساتھ ’اسلام علیکم‘ کہا، پنجابی میں گفتگو شروع ہوئی، انہوں نے بتایا کہ ان کے ابّا جی لائل پور سے جالندھر گئے تھے، ہم نے بتایا کہ ہمارے بڑے امرتسر سے لاہور آئے تھے، اور پھر گپ سازی کا ایک طویل سلسلہ چل نکلا جس کا بیان پھر

Read more

9 نمبر کی بس کب آئے گی؟

اسداللہ خان غالب نے دو مصرعوں میں کامل بے اختیاری کی ایک بے مثال تصویر بنائی ہے، فرماتے ہیں ”رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھئے تھمے…..نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں“۔ غالب نے یہ شعر تخلیقِ پاکستان سے لگ بھگ سو سال پہلے باندھا تھا، لیکن لگتا یوں ہے گویااس ملک کی 76ویں سال گرہ کے موقعے پرکہا گیا ہے، اس بے ایال توسن کے کروڑوں سواروں کی بے اختیاری کی کہانی، نے ہاتھ باگ

Read more

بھٹکا ہوا کارواں

ہر شہر، ہر خطے کی اپنی اپنی خوشبو ہوتی ہے، جب کوئی شہر یاد آتا ہے ایک نافہ سا وا ہو کر مشام کو معطر کر جاتا ہے۔ یہ مشک شہروں کے مزاج سے پھوٹتی ہے، اور یہ مزاج شہروں اور خطوں کی تاریخ اور جغرافیہ سے جنم لیتا ہے، سادہ لفظوں میں کسی شہر کی یاد آئے تو وہاں کا فن تعمیر یاد آتا ہے، آرٹ گیلریاں یاد آتی ہیں، قہوہ خانے یاد آتے ہیں، فطرت کے مناظر یاد

Read more

بے یقینی کے مارے لوگ

جو چیز ہمارے پاس نہیں ہوتی اس کی تمنا سوا ہوا کرتی ہے۔ یہ نارسائی کبھی احساسِ محرومی کو جنم دیتی ہے کبھی احساسِ کم تری کا روپ دھار لیتی ہے۔ یہ معاملہ افراد کو ہی نہیں اقوام کو بھی درپیش ہوا کرتا ہے، اس ضمن میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی مثال دیکھئے۔ اس ملک کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے مگر تاریخ نہیں ہے، بہت ہی ننھی منی تاریخ ہے، یعنی اگر کولمبس سے آغاز کیا

Read more

’نو مسلموں‘ کے درمیان شام

امریکہ یاترا جاری ہے اور ”طلسمِ خوابِ زلیخا و دامِ بردہ فروش“ جیسے قصے قدم قدم پر درپیش ہیں، نیک روحوں سے آشنائی ہوتی ہے، کائیاں لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے، ناگہانی مشکلات ٹوٹتی ہیں اور پھر کوئی اجنبی مہرباں یک دم کہیں سے نمو دار ہوتا ہے، یعنی ”کب وہ ظاہر ہو گا اور حیران کر دے گا مجھے… جتنی بھی مشکل میں ہوں آسان کر دے گا مجھے“ کا عملی تجربہ ہونے لگتا ہے۔ بھلا ہو سابق وزیرِ

Read more

میرے بھی ہیں کچھ خواب

تاریخ کی کون سی ایسی کروٹ ہے جس کے بارے آپ خواہش رکھتے ہیں  کہ کاش میں اس دور میں پیدا ہوتا اور اس زمانے کا چشم دید گواہ ہوتا؟ اکثر مسلمان تو اس کا سیدھا سا جواب دیتے ہیں، یعنی سرکار کا دور۔ لیکن اگر یہ شرط  لگا دی جائے کہ ’اس کے علاوہ‘ تو اپنے اپنے میلان اور مزاج کے مطابق دوست طرح طرح کے دل چسپ جواب دیتے ہیں، کوئی کشیپ اور آنند کی طرح گوتم بدھ

Read more

بتاﺅ، میرا نام کیا ہے؟

محمد علی نے باکسنگ کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا، ان سے پہلے باکسنگ بھدی ناک والے وحشیوں کا کھیل سمجھا جاتا تھا، محمد علی نے باکسنگ کو سٹائی لائیز کیا، اس کھیل میں ’تماشا‘ شامل کیا، یعنی حسن و شرارت، تفریح، سیاست، اور اس کے علاوہ بہت سے نئے اجزا کو باکسنگ کا حصہ بنا دیا۔یہاں محمد علی کے ایک میچ کا ذکر مقصود ہے جو غالباً ان کی زندگی کی سب سے وحشیانہ باﺅٹ تھی۔یہ ان دنوں کی

Read more

آئینے سے ڈرتے ہو

ہمارے ایک دوست ہیں جو ٹی وی ڈرامے بنانے والے ایک بڑے پروڈکشن ہاﺅس کے مالک ہیں۔ بہت سال ہوئے انہوں نے ایک اور ادارہ اس غایت سے قائم کیا کہ پاکستان میں بننے والے بہترین ڈراموں کو سالانہ ایوارڈدینے کا سلسلہ شروع کیا جائے، اور یہ ایوارڈ صریحاً میرٹ پر دیے جائیں تاکہ ڈراما انڈسٹری میں معتبر قرار پائیں۔ ایوارڈز کا فیصلہ کرنے کے لئے ہمارے دوست نے جو جیوری مقرر کی اس کے ’مانیٹرنگ جج‘ کے فرائض انہوں

Read more

کاش ہم نئی غلطیاں کرتے

ہم خود کو دہراتے ہیں، جو کر چکے ہیں وہی دوبارہ کرتے ہیں، سہ بارہ کرتے ہیں اور کرتے ہی چلے جاتے ہیں۔ سیانے کہتے ہیں خود کو دہرانے سے بہتر ہے کسی دوسرے کو دہرا لیا جائے۔ کسی بھی معاشرے کو آگے بڑھنے کے لئے نئی غلطیاں کرنا ضروری ہوتا ہے جب کہ منجمد معاشرے نئی غلطی کرنے کے سرے سے اہل ہی نہیں ہوتے۔ یوں سمجھئے کہ جہان نو کی نمود تازہ افکار اور تازہ غلطیوں پر ہوا

Read more

موم کے پروں والے سورج سے دور رہیں

یونانی دیو مالا کا ایک کردار ڈی ڈلس حیرت انگیزصناع تھا، بنیادی طور پر وہ مجسمہ ساز تھا ، اور مجسمے ایسے بناتا کہ حقیقی انسانوں کا گمان گزرتا، سقراط کے بہ قول ڈی ڈلس کے مجسموں کورسی سے باندھنا پڑتا تھا کہ مبادا وہ خرامِ ناز کرتے ہوئے نظروں سے اوجھل ہو جائیں۔ وہ نئی نئی چیزیں ایجاد کرتا جنہیں دیکھنے والے مبہوت رہ جاتے۔ ایک دفعہ کسی جرم کی پاداش میں ڈی ڈلس اور اس کے فرزند اِکرس

Read more

جشنِ جَون

”تمہارے خیال میں اِس وقت حیات، اردو کے تین مقبول ترین شاعر کون سے ہیں،“ جون بھائی نے نوے کی دہائی کے وسط میں یہ سوال مجھ سے پوچھا تھا۔میں نے جھٹ سے جواب دیا کہ پہلے نمبر پر جون ایلیا۔ میرا خیال تھا وہ میرے جواب سے خوش ہوں گے مگر جون بھائی نے مسکرائے بغیر کہا ’سنجیدگی اختیار کیجئے‘۔ ہم نے کچھ دیر اس موضوع پر بحث کی اور پھر جون بھائی نے فیصلہ کن انداز میں کہا’

Read more

اگلے جنم موہے عمران نہ کیجیو

بڑے آدمی کی محرومیاں بھی بڑی ہوتی ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں معاشی، سماجی، سیاسی چوٹیوں پر براجمان کامیاب لوگوں کا ایک مختصر سا گروہ ہوتا ہے جن کے بارے میں دور سے دیکھنے والوں کا گمان ہوتا ہے کہ یہ کامرانی کے استعارے ہر طرح کی محرومی سے مبرا ہیں۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ جون بھائی کا ارشاد ہے ”درونیانِ تسلی سے تو ملا ہے کبھی…عذابِ حسرتِ بیرونیاں تو کچھ بھی نہیں“۔ یعنی کھلاڑیوں کی حسرتوں کے مقابلے میں

Read more

عمران خان اور سائنس دان

ایک صاحب ہیں جیفری حنٹن جنہیں بابائے آرٹیفشل انٹیلجنس کہا جاتا ہے، انہوں نے حال ہی میںگوگل سے استعفیٰ دے دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو اگر احتیاط اورذمہ داری سے استعمال نہ کیا گیا تو یہ مستقبل میں انسانیت کےلئے خطر ناک ثابت ہو سکتی ہے۔بابا حنٹن کا خیال ہے کہ ابھی تو مصنوعی ذہانت اپنے خالق یعنی انسان سے کم ذہین ہے مگر اندیشہ ہے کہ جلد ہی یہ اپنے خالق سے زیادہ چالاک

Read more

عمران خان کے لئے سبق

اگلے وقتوں میں جب کوئی دوست کسی خاتون کا غائبانہ تعارف یہ کہہ کے کرواتا تھا کہ ”دل کی بہت اچھی ہے“ تو موصوفہ سے ملاقات کی خواہش ماند پڑ جاتی تھی، کیوں کہ ”دل کی اچھی“ کم صورت خواتین کے لئے کوڈ ورڈ سمجھا جاتا تھا۔ اس عمر میں بلکہ کسی بھی عمر میں دل ظاہر میں اٹک جاتا ہے۔ شکن زلف عنبریں، حیرت چشم غزالاں اور شکر لبوں کی جادو نگری سے کوئی خوش بخت بچ کر نکلتا

Read more

دوڑ ’آگے‘ کی طرف اے گردشِ ایام تُو

تاریخ  شاہد ہے، ڈوڈو سے ڈائنو سور تک، جو انواعِ حیات ضدی ہوتی ہیں مِٹ جاتی ہیں، جب کہ زندگی کے لچک دار مظاہر کرہ ارض کے بدلتے حالات سے ہم آہنگ ہو کر اپنی بقا کا بندوبست کر لیا کرتے ہیں۔ تہذیبوں کا بھی یہی معاملہ ہے، طرزِ کہن پر اڑے ہوئے معاشرے فنا کے گھاٹ اتر جاتے ہیں، اور یارانِ تیز گام محمل کو جا لیتے ہیں۔ آپ سب جانتے ہیں پرنٹنگ پریس کی طرف مسلمانوں کا کیا

Read more

آئین کا قیمہ اور چِلی ساس

ساس کو فارسی میں خوش دامن، عربی میں نسیبہ، اور انگریزی میں مدر اِن لا کہا جاتا ہے۔ شیکسپیئر نے کہا تھاگلاب کے پھول کو کسی بھی نام سے پکاریں ، وہ گلاب ہی رہتا ہے، خوش رنگ اور معطر۔ساس کے رشتے کا بھی یہی معاملہ ہے، ہر تہذیب اور زبان میں سینکڑوں لطائف مدر اِن لا سے منسوب ہیں۔ مغرب میں ایک فقرہ اس نسبت سے بہت مقبول ہے کہ ”آدم اور حوا دنیا کا وہ خوش قسمت ترین

Read more

’غزمِ‘ عالی شان

ایک صاحبہ ہیں، کچھ رضوی کر کے نام ہے، ’شعر‘ کہتی ہیں، اور شعر بھی کیا کہتی ہیں بس یوں سمجھ لیجیے کہ گرد اُڑاتی ہیں، یعنی متشاعر ہیں، اُن سے پوچھا گیا کہ آپ کس صنف میں شاعری کرتی ہیں، غزل کہ نظم، تو فرمانے لگیں کہ ’ہم صنفی امتیاز کے سرے سے قائل ہی نہیں، ہم تو اپنی ہی ایجاد کردہ صنف میں شاعری کرتے ہیں جسے ہم ’غزم‘ کہتے ہیں۔ ‘ بہرحال، نام انہوں نے انتہائی موزوں

Read more

سگِ لیلیٰ اور شیرو

عشق کا جہان نرالا ہے، اس کا اپنا آئین ہے، اپنے قوانین ہیں۔ آپ یوں سمجھ لیں کہ عشاق ایک پیرلل یونی ورس کے مکین ہیں۔ ا س جہان کے ضوابط میں ایک قاعدہ یہ بھی ہے کہ محبوب سے نسبت رکھنے والے افراد و اشیاءبھی عزیز از جان ہو جاتے ہیں، سگِ لیلیٰ کا قصہ تو ہم سب نے سن رکھا ہے،مولانا روم سے حکایت ہے کہ ایک بار مجنوں نے کہیں ایک کتا دیکھا تو پہچان لیا کہ

Read more

آئینی ٹچ

یہ غالباً 1986 کی بات ہے، ہمارے کچھ دوست وی سی آر پر رابرٹ ریڈ فورڈ اور میرل اسٹریپ کی ایک فلم ’آﺅٹ آف افریقا‘ دیکھ رہے تھے، جب تک ہم بیٹھک میں پہنچے لگ بھگ آدھی فلم گزر چکی تھی، اس فلم کا ان دنوں بڑا شہرہ تھا اور ہم نے اسے بہت اہتمام سے دیکھنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی، لہٰذا بہت رخصت چاہی مگر آخر دوستوں کی ضد سے مجبور ہو کر ہم بھی ٹی وی

Read more

کھدو کھل رہا ہے

معروف طبلہ نواز عبدالستار تاری سے ہم نے کوئی گت یا قاعدہ تو نہیں سیکھا لیکن ایک نیا لفظ سیکھا تھا۔ دہائیاں پہلے ہمارے گھر واقع شیش محل روڈ پر تاری بڑے گویوں کے ساتھ اپنی پر لطف فقرہ بازی کے قصے سنا رہے تھے،اسی دوران تاری نے بتایا کہ ایک دفعہ شدید سردیوں میں وہ شکاگو میں غزل گائیک غلام علی کے ساتھ ایک محفلِ موسیقی سے واپس ہوٹل کے کمرے میں لوٹے، کچھ دیر میں ہیٹر نے رنگ

Read more

ایک باجے کی آپ بیتی

گورنمنٹ کالج کے دنوں میں ہمارے ایک دوست تھے جنہیں موسیقی سے بے پناہ محبت تھی، بچپن سے معروف استادوں سے کلاسیکی موسیقی سیکھ رہے تھے، صبح شام ریاض کرتے ، موسیقی در حقیقت ان کا اوڑھنا بچھونا تھی۔مسئلہ یہ تھا کہ ان کے والد صاحب نجیب الطرفین اتائی تھے، مستزاد یہ کہ انتہائی مذہبی شخص تھے، ابتدا میں تو اپنے خوش گلو فرزند کو گائیکی کی الف بے سکھانے کے لئے خود ایک ’خان صاحب‘ کے پاس لے گئے،

Read more

جج غلطی کر بیٹھا ہے

اقتدار لوگوں کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ اختیار ملنے سے لوگ بدل نہیں جاتے، آشکار ہو جاتے ہیں۔  نشہ طاقت کا ہو یا مسکرات کا، ماسک نوچ لیتا ہے، بلکہ یوں سمجھئے کہ جبہ، خِرقہ، کرتا، ٹوپی سب کچھ اتار لیتا ہے۔ یہ بڑا دل چسپ نظارہ ہوتا ہے، گویا حفیظ کی خواہش پوری ہوجاتی ہے ’یہ خوب کیا ہے یہ زشت کیا ہے، جہاں کی اصلی سرشت کیا ہے ….. بڑا مزہ ہو تمام چہرے اگر کوئی بے

Read more

قومی جرائم اور معافی تلافی

توبہ کا در ندامت کی دستک سے کھلتا ہے، معافی کا سورج پشیمانی کے افق پر طلوع ہوتا ہے، فرد کا بھی یہی معاملہ ہوتا ہے، قوموں کا بھی یہی طریق ہے، ذاتی زندگی میں اگر ہم سے کوئی زیادتی سرزد ہو جائے، اور بعد میں ہمیں احساسِ ندامت بے خواب کر دے، تو ہم کیا کرتے ہیں؟ معافی مانگتے ہیں، کوئی تلافی کی صورت ڈھونڈتے ہیں، ضمیر کی خلش مٹاتے ہیں تاکہ ہمارے سینے سے اس نا انصافی کا

Read more

عدلیہ اور نیب کا شکریہ

انگریزی کا ایک محاورہ ہے Give the Devil his Due یعنی ابلیس کو اس کے حصے کی داد تو ملنی چاہئے، لہٰذا اگر نیب اور عدلیہ سے نادانستہ ہی سہی، کوئی نیکی سرزد ہو گئی ہے توہم پر سپاس گزاری لازم ہے۔اس ”نیکی“ کی تفصیل آگے عرض کرتا ہوں۔قصہ کچھ یوں ہے کہ جب ملک میں ہائی برڈ نظام کی بنیادیں مضبوط کی جا رہی تھیں تو سب ادارے یکسو تھے، ہدف یہ تھا کہ عمران خان کی مخالف ہر

Read more

پہلے ہمارے پیسے واپس کریں!

ڈزنی اسٹودیو کی ایک اینی میٹڈ فلم ہے دی لائن کنگ، فلم کا ایک سین ہے جس میں لائن کنگ موفاسا اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہا ہے، موفاسا چٹان سے لٹکا ہوا ہے، اس کے اگلے دو پنجے چٹان پر ہیں اور باقی جسم ہوا میں معلق ہے، اور نیچے مہیب کھائی ہے، ایسے میں چوٹی پر موجود موفاسا کا بھائی ’سکار ‘ آگے بڑھتا ہے اور موفاسا کے اگلے پنجے تھام لیتا ہے، اب موفاسا ہوا میں

Read more

موروثیت تو اچھی ہوتی ہے

شام چوراسی گھرانے کے استاد سلامت علی خان فخرسے بتایا کرتے تھے کہ وہ بارہ پشتوں سے گا بجا رہے ہیں، خان صاحب کی ایک ریکارڈنگ ہے جب وہ آٹھ دس برس کے تھے، راگ بسنت گا رہے ہیں اوربول ایسے پکڑ رہے ہیں کہ سننے والا دنگ رہ جائے اور سپاٹ تان اتنی شفاف لے رہے ہیں کہ بڑے بڑے دانتوں میں انگلیاں دبا لیں، یہ سلامت علی خان کے گھر کی فضا کا فیضان تھا، یہ ان کے

Read more

مگر اب شام ہوتی جا رہی ہے

یہ شام کا پہر ہے، دن کی روشنی بجھنے کو ہے ابھی بجھی نہیں ہے، رات کا اندھیرا آ رہا ہے ابھی چھایا نہیں ہے، سارا منظر اسرار کی چادر میں لپٹا ہوا ہے، ہر شئے کا رنگ بدل رہا ہے، آنکھ حیران ہے یہ شاخ ہے کہ سایہ شاخ، دن روشن ہوتا ہے اور رات تاریک، دن میں سب واضح نظر آتا ہے اور ظلمت شب میں کچھ نظر نہیں آتا، شام معلوم اور نامعلوم کی سرحد پر واقع

Read more

گڈو رونقی

بچپن کے کچھ کردار کبھی نہیں بھولتے، ہمارے محلے میں ایک لڑکی تھی گڈو، سب اسے گڈو رونقی کہتے تھے، شادی بیاہ کے موقعے پر ہر تقریب کی جان، خود ڈھولکی بجاتی، خود ہی ٹِیپ کے سروں میں گاتی اور پھر کچھ دیر میں کمر پہ دوپٹہ کس کر خود ہی محوِ رقص ہو جاتی، دلہن کی رخصتی کے موقع پر گڈو کی بھاں بھاں سب سے بلند ہوتی اور اگر محلے میں کوئی وفات ہوجاتی تو سیاہ پوش گڈو

Read more

لیول پلیئنگ فیلڈ

عاشق کا معشوق سے بنیادی تقاضا یہ ہے کہ صرف اور صرف اسی کے دل کو پری خانہ بنایا جائے ، زلفِ یار کی مہک پر اسی کے مشامِ جاںکا اجارہ ہو، ان آنکھوں کے مے کدے سے فقط اسی کو جام میسر آئیں، ان شہد لبوں کی کہانی صرف اسی نے سن رکھی ہو، ان دراز پلکوں کے سائے تلے بس وہی سستائے۔محبوب کا رقیب پر التفات عاشق کے تن بدن میں آگ لگا دیتا ہے، یعنی آپ کہہ

Read more

میری گھڑی میری مرضی

کچھ برس پہلے ایک کتاب بہت معروف ہوئی،’ وائے نیشنز فیل‘ (اسبابِ زوالِ اقوام) گو کہ پوری کتاب میں پاکستان کا نام یا حوالہ ایک بار بھی استعمال نہیں ہوا لیکن معجزہ یہ ہے کہ کتاب پڑھتے ہوئے ایک ایک صفحہ پر پاکستان کا خیال آتا ہے، اشرافیہ کا مگر مچھ کس طرح ملکی وسائل کو اپنے طاقت ور جبڑوں میں دبوچ لیتا ہے اور کروڑوںلوگ بھوک، بیماری اور جہالت کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں، اشرافیہ کےلئے ایک

Read more

نیا چیف

سگمنڈ فرائیڈ کی Unconscious اور Jokes کے تعلق کے حوالے سے ایک کتاب ہے جس پر کارل ژونگ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا۔ ’Freud has taken the joke too far‘ ہمیں بھی آج کل کچھ ایسی ہی صورت حال درپیش ہے، مذاق ہی مذاق میں پورے ملک کو فالج زدہ بنا دیا گیا ہے، سب کچھ اپنی جگہ ٹھٹھرا ہوا ہے، سہما ہوا ہے،’ ’آسماں آس لیے ہے کہ یہ جادو ٹوٹے، چپ کی زنجیر کٹے وقت کا دامن

Read more

جبار صاحب!

قافلہ قافلہ جاتے ہیں چلے کیا کیا لوگ میر غفلت زدہ حیران سے کیا بیٹھے ہیں آپ کے ٹیلی فون کی کانٹیکٹ لسٹ میں کچھ نام ایسے لوگوں کے بھی ہوتے ہیں جو اب اس دنیا میں نہیں رہے، جوں جوں عمر بڑھتی ہے، اس لسٹ میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے، ان ناموں کو لسٹ سے ڈی لیٹ کرنے کا حوصلہ ہم تو کبھی نہیں کر پائے، فون میں کسی کا نمبر ڈھونڈتے ہوئے بچھڑ جانے والے دوستوں کے

Read more

طویل ترین نومبر

شہر کا کیا حال ہے پوچھو خبر آسماں کیوں لال ہے پوچھو خبر گولیوں کی تڑتڑاہٹ کی باز گشت فضا میں گونج رہی ہے، خون میں لتھڑے ہوئے لبادے نظر میں جم سے گئے ہیں، ارشد شریف اور صدف نعیم کے نام تو سب کو یاد ہیں، بہت سے بے نام لاشے بھی ہم نے خاک و خون میں غلطاں دیکھے ہیں، کوئی کنٹینر سے گر کر مر گیا اور کوئی کنٹینر کے نیچے آ کر، پھر آخر یہ لال

Read more

سر جی زندہ باد

آنکھ کی پتلی پر کوئی عکس ٹھہر نہیں پاتا، منظر بگٹٹ بھاگ رہا ہے، جیسے ہم تیز رفتار ریل سے باہر جھانک رہے ہوں، سپہ سالار کی رخصتی پچیس دن کی دوری پر ہے، اور ان کے جانشین کا نام ابھی تک ایک سر بستہ راز ہے، لانگ مارچ لڑکھڑاتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے، علی امین گنڈاپور اسلحے سمیت اسلام آباد کی دہلیز پر آبیٹھے ہیں، عمران خان نے صدر عارف علوی کو حکومت سے مذاکرات کا اختیار دے

Read more

شناخت کی غلطی

پہچاننے میں غلطی ہو جاتی ہے، ہوتا کچھ ہے سمجھتے کچھ ہیں، سایہء شاخ کو شاخ سمجھ لیتے ہیں اور سراب کو دریا، راہ زن کو راہ نما سمجھ بیٹھتے ہیں اور قاتل کو دل دار،آنکھ دھوکہ کھاتی ہے، دام میں الجھ جاتی ہے ، اللّٰھم ارنی حقیقۃ الاشیاء کما ھی’ (مجھ کو اشیا کی اصل حقیقت سے آگاہ کر) فریبِ نظر کا علاج ہی تو ہے ،یعنی شناختی غلطی سے بچنے کی دعا ۔ صحافی ارشد شریف کینیا میں

Read more

مرگِ حق و باطل

بہ وجوہ کل ایک مطب میں ایک نوجوان ڈاکٹر کے ساتھ میرا کچھ وقت گزرا، نئی نسل کے ذہن پڑھنا ایک دل چسپ اور ضروری عمل ہے، سو میں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بات چیت کا آغاز کی جو پہاڑی علاقے کی سڑک کی طرح بل کھاتی ہوئی سیاست کی وادی میں اتر گئی۔ڈاکٹر صاحب کی جن باتوں نے مجھے چونکایا پہلے وہ سن لیں، انہوں نے کہا میں نے ’مشرقی پاکستان‘ کا نام کبھی نہیں سنا، میرے

Read more

بہروپیا

بچپن میں ہمارے محلے میں ایک بہروپیا آیا کرتا تھا، گریبان چاک، آنکھیں شعلہ بار، سر پہ، زخم، سے بہتا تازہ خون چہرے پر پھیلتا ہوا، سینے میں خنجر پیوست جس کا خون آلود پھل پشت سے باہر نکلا ہوا، کمر پر ایک مردہ چیل بندھی ہوئی، اور ہاتھ میں اینٹ، وہ راہ گیروں کی طرف لپکتا، انہیں اینٹ مارنے کی دھمکی دیتا، اوراکثر لوگ ڈر کر کچھ سکے بہروپیے کے حوالے کر دیتے۔ اس زمانے میں لاہور میں موٹر

Read more

Keep It Simple

انگریزی زبان میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے، کِیپ اٹ سمپل، جس کے معنی سہل زبان میں یہ ہیں کہ کسی غیر ضروری چالاکی سے پرہیز کریں، پیچاک سے بچیں، تفصیلات اور جزیات کی گرہوں سے دور رہیں، اور پھر دیکھیں معاملات کیسے آسان ہوتے ہیں۔بزرگ بھی ’ الدین یسر‘ کی تعریف کرتے ہوئے اصول اور فروعات کا فرق کچھ اسی طرح سمجھایا کرتے ہیں۔ اسی طرح قومی زندگی آسان بنانے کا بھی ایک سادہ حل موجود ہے، آپ اسے

Read more

دائرے کے آبلہ پا مسافر

’موت کے کنویں‘ میں75 سال مسلسل موٹر سائیکل چلا نے والے کمال سادگی سے سوال کرتے ہیں ’ہمیں منزل کیوں نہیں ملی، دوسرے آگے کیوں نکل گئے، ہم وہیں کے وہیں کیوں ہیں؟‘ بات یہ ہے کہ حرکت میں سفر کا دھوکا ہے، سو ہمیں بھی گمان ہے کہ ہم حالت سفر میں ہیں مگر ایسا ہے نہیں۔ دائرے میں چلنے والے سمجھ ہی نہیں پاتے کہ وہ آ رہے ہیں یا جا رہے ہیں، منزل ان کے سامنے ہے

Read more

مقبولیت کی گھڑی

انسانی دماغ کی ساخت ہی کچھ ایسی ہے کہ یہ ہر شے کو اس کی ضد سے پہچانتا ہے، ین سے یانگ کو، خیر سے شر کو، اور حرکت سے جمود کو۔ خواہ آپ Saussure کے بائنری اوپوزٹس کے نظریے سے کلی طور پر متفق ہوں نہ ہوں، خیال اور زبان دونوں کی اساس یہی اصول سمجھا جاتا ہے۔ اوراسی قاعدہ کے تحت ادب اور فلم کا تار وپود بھی عاشقِ صادق اور رقیبِ رو سیاہ یعنی ہیرو اور ولن

Read more

عمرانی کھیل

یہ جوپاپولسٹ راہ نما ہوتے ہیں، ان کے نعرے کان کو نغمے کی طرح بھلے لگتے ہیں، مثلاً ’ہم کوئی غلام ہیں ‘ کتنا خوش آہنگ نعرہ ہے، فشارِ خون میں اِضافے کا باعث، اسرارِشہنشاہی کھولنے والا، اور ’غلام‘ کی غ کو جتنی زیادہ غراہٹ سے ادا کیا جائے، آقائوں سے اتنی ہی نفرت کا اظہار ہوتا ہے، اور ’حقیقی آزادی‘ کی منزلِ مبارک بالکل سامنے نظر آنے لگتی ہے، لیکن پاپولسٹ نعرے غبارے کی مانند ہوتے ہیں، دلیل کی

Read more

گڈو بڑا شرارتی ہے

جو آگ نشہ باز کے داخل میں دہکتی ہے اس کا نعرہ بھی ’ہل من مزید‘ہے۔ نشہ آور سے ایک مخصوص کیفیت حاصل ہوتی ہے، لیکن کچھ مدت بعد یہ کیفیت حاصل کرنے کے لئے منشیات کی مقدار بڑھانا پڑتی ہے (SCARFACE اور Al Pacino یاد آ گئے) ویسے بھی انسانی فطرت جاننا چاہتی ہے کہ اس موڑ سے آگے کا منظر کیسا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کچھ مہم جو مسافرانِ راہ سکر ہل من مزید کا ورد کرتے

Read more

محب وطن کون؟

لفظ کے بطن میں معنی رکھا ہوتا ہے، لفظ پرانا ہوتا ہے تو معنی بھی زنگ آلود ہو جاتا ہے، اور سامع یا قاری کے لئے کسی حسی تحرک کا باعث نہیں بن پاتا، ایسے لفظ کو زندہ رکھنے کا فرض شاعر و ادیب کو نبھانا ہوتا ہے، جو بحرِ لفظ میں غواصی کرتا ہے اور تہہ سے معنی کے نئے موتی ڈھونڈ کر لاتا ہے، تازہ معنی لفظ کو حیاتِ نو بخشتے ہیں، یوں لفظ ہرے بھرے رہتے ہیں۔

Read more

سب سے پہلے پاکستانی

ریاست کے کئی اجزاء ہوتے ہیں جن میں سے ایک ’’خطۂ زمین‘‘ بھی ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان نام کی ریاست میں روزِ اول سے ریاست کے اسی جُزو کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ریاست کے باقی اجزاء، یعنی ’’انسان‘‘ اور’’ آئین‘‘ کبھی ہماری اولین ترجیح نہ بن سکے،اسی لئے آپ نے اکثر سنا ہو گا ’’ملک کے چپے چپے کا دفاع کیا جائے گا‘‘، آ پ نے غالباً یہ نعرہ کبھی نہیں سنا ہو گا کہ ریاستِ پاکستان کے ایک

Read more

ایک تھا آئین

وہ لاوا جو بہت دنوں سے اندر ہی اندر پک رہا تھا، اُبل پڑا۔یہ 12 جنوری 2018 کا واقعہ ہے، سپریم کورٹ آف انڈیا کے چار سینئیر ججزنے ایک پریس کانفرنس کی جس میں چیف جسٹس آف سپریم کورٹ پر شدید تنقید کی گئی، مرکزی نقطہ ایک ہی تھا’ جونئیر ججوں پر مشتمل، مرضی کے بینچ بنائے جاتے ہیں جو سیاسی نوعیت کے تمام اہم کیسز سنتے ہیں‘ ۔ چیف جسٹس کے بعد بھارتی سپریم کورٹ کے سینئیر ترین جج

Read more

پنجاب کا نیا رانجھا

یہ درست ہے کہ عمران خان نے اس سے پہلے کوئی الیکشن اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور مدد کے بغیر نہیں جیتا تھا، مگر اب جیت لیا ہے، ضمنی انتخاب ہی سہی، لیکن واضح اکثریت سے جیت لیا ہے، اور وہ بھی پنجاب میں جہاں نواز شریف کی مسلم لیگ 1988 سے کبھی کسی سویلین سیٹ اپ میں ہونے والا انتخاب نہیں ہاری تھی، حتی کہ 2018 کے مشکوک انتخابات میں اور اس کے بعد کئی ضمنی انتخابات میں بھی مسلم لیگ

Read more