جنرل صاحب کی مدح مجھ پہ قرض ہے

تاریخ 29 ویں اپریل، وقت رات دس بجے، آج ٹی وی۔ عاصمہ جہانگیر کی بیٹی کی میزبانی میں پروگرام ہو رہا ہے۔ اور شرکاء میں سے کبھی سلیم صافی کی آواز غائب ہو جاتی ہے اور کبھی ضیا الدین صاحب کی، بس ہونٹ ہلتے نظر آ رہے ہیں، منیزے کے ساتھ بھی یہی سلوک ہو رہا ہے، پروگرام کے واحد شریک جن کی آواز مسلسل و پیہم آ رہی ہے کوئی دفاعی تجزیہ کار ہیں۔ سکرین کے نچلے حصے میں ٹکر چل رہا ہے ”پاکستان نہ ٹوٹتا اگر 71 میں میڈیا آج کی طرح آزاد ہوتا“۔

Read more

جون ایلیا: فیڈرل بی ایریا کراچی کا سب سے بڑا شاعر؟

”جون بھائی، میں آپ کی وفات پر جو کالم لکھوں گا، اُس میں کیا لکھوں، کوئی فرمائش؟ “ میرے ناگہانی سوال پر جون بھائی مسکرائے، پھر چہرے پہ ہزار سنجیدگی طاری کرتے ہوئے گویا ہوئے ”مری شاعرانہ صلاحیت کے بارے حد درجہ مبالغہ سے کام لینا اور اہلِ دنیا کو بہ ہر صورت قائل کرنا کہ تمھارے جون بھائی فیڈرل بی ایریا کراچی کے سب سے بڑے اردو شاعر تھے۔ “ میں نے صاف انکار کر دیا اور جون بھائی کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ایسے بے سر و پا اور بلند و بانگ دعویٰ سے بہ طور نقاد میری ساکھ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاک میں مل جائے گی۔

میرے جواب نے بظاہر ان کا رُوآں رُوآں اداس کر دیا، ذرا توقف کے بعد جون بھائی یک دم پلنگ سے اُٹھے اور میرے سامنے زمین پہ دوزانو اور دست بستہ بیٹھ کر گڑگڑانے لگے ”حماد، تم اپنے جون بھائی کو کم از کم فیڈرل بی ایریا کے ’اہم‘ شعراء میں سے ایک اہم شاعر توثابت کر سکتے ہو۔ “ میں نے انتہائی فیاضی سے ہاں کر دی۔

جون بھائی نے ایک خط میں اپنے جنازے کی نسبت سے مجھے کئی ہدایات لکھ بھیجیں۔ ”میں سامی النسل ہوں، سو اب یہ تمھاری ذمہ داری ہے کہ میرے جنازے کو میری عظیم نسلی روایات کا مظہر بناؤ، جنازے کے ہم راہ لاکھوں سوگواران ہونے چاہیے ں جو با آوازِ بلند گریہ کریں، سینہ کوبی کریں اور اپنی مُٹھیاں خاک سے بھر بھر کے آسمان کی طرف اچھالیں“۔ بعد میں ایک دن فون پہ بات ہوئی تو میں نے اُن سے وعدہ کیا کہ اُن کے جنازے سے متعلق اُن کی وصیت کو من و عن پورا کیا جائے گا۔

Read more

یہ میرا آخری کالم ہے

میں آج سیاست پہ لکھنے سے ریٹائرمنٹ کا باضابطہ اعلان کرتا ہوں۔ ایسے لکھنے سے کیا حاصل جب ہرسطر لکھنے سے پہلے یہ سوچنا پڑے کہ کیا نہیں لکھنا، بلکہ کیا کیا نہیں لکھنا۔ جو لکھنا ہے اس کے بارے سوچیں یا جو نہیں لکھنا اس کے بارے؟ ہرجملہ لکھتے ہوئے کیا اسی اُدھیڑ بُن میں رہیں کہ بات قاری سے کیسے چھپانی ہے؟ کیا ہم اپنے خیالات لوگوں تک پہنچانے کے لئے لکھتے ہیں یا چھپانے کے لئے؟ یا وجاہت مسعود صاحب جیسا طرزِ تحریر ایجاد کریں اور عمودِ لحمی کی مرگِ ناگہانی کا تذکرہ اس یقین کے ساتھ کریں کہ بڑی حد کتنوں کو سمجھ آ جائے گا۔ میری طرح ہر اُس صحافی کو لکھنا چھوڑ ہی دینا چاہیے جسے لکھتے ہوئے مسلسل یہ محسوس ہو جیسے وہ Coitus Interruptus کی مشق کر رہا ہے۔

Read more

حکومت کے نوے دن

نوّے دِن میں پی ٹی آئی حکومت اپنی سمت متعین کر چکی ہے، کس طرف جانا ہے اور کس طرف بالکل نہیں جانا، یہ بنیادی فیصلے کر لئے گئے ہیں۔ یہ قافلہ سفر پہ روانہ ہو چکا ہے۔ یہاں ہمیں اس سوال سے بحث نہیں کہ یہ قافلہ منزل پہ پہنچ پائے گا یا تھک…

Read more

پی ٹی وی کا ناجائز چیئرمین عطا الحق قاسمی

چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کے لئے ہماری عقیدت کو کچھ احباب چاپلوسی گردانتے ہیں، جب کہ ہم اُن کی رائے کو قصۂ کم نظری سمجھتے ہیں۔ آپ خود فیصلہ کیجیے، ہمیں ایک ایسے چیف جسٹس کی مدح میں غلو سے کام لینے کی کیا ضرورت ہے جو سبک دوشی کے سرہانے کھڑا ہے؟ کیا جانے والے سے محبت اور عقیدت اور پھر اس کا بر ملا اعتراف رسمِ کاسہ لیسی کہلا سکتی ہے؟ قطعاً نہیں! یہ تو ہمارے دل کی صدا ہے، ہمارے ضمیر کی آواز ہے، ”مجھے ہے حکمِ ازاں“ کی تفسیر ہے۔ قند کو زہرِ ہلاہل قرار دینا تو سراسر بدنیتی ہو گی۔

جو دوست حقیقی زندگی میں چیف جسٹس ثاقب نثار کو قریب سے دیکھ چکے ہیں ہمیں اُن پہ رشک آتا ہے۔ خُدا جانے وہ اپنے جذبات پہ کیسے قابو پاتے ہوں گے، ہم تو نہ رکھ پاتے، ہم تو غالباً آپے سے باہر ہو جاتے، حال کھیلتے، سر میں خاک ڈالتے (اپنے ) ، کپڑے پھاڑ ڈالتے (اپنے ) اور اس کے سوا بھی نہ جانے کیا کر بیٹھتے، یعنی ”وصل اُس کا خُدا نصیب کرے، میر، جی چاہتا ہے کیا کیا کچھ“ ۔

Read more

سنسر شپ ملکوں کو توڑ کر رکھ دیتی ہے

”اب تم نے یہ لفظ بولا تو تمھاری زبان پہ انگارہ رکھ دوں گی“ یہ ہے اکثر بچوں کا سنسر شپ سے اولین تعارف، اور پھر چل سو چل، زندگی بھر کسی نہ کسی شکل میں سنسر شپ سے واسطہ رہتا ہے، کوئی بات بڑوں کے سامنے نہیں کرنی، کوئی بات بچوں سے چھپانی ہے،…

Read more

موت کا کنواں

طرح طرح کے نُسخے آزمائے، رنگ برنگے وظائف حرزِ جاں بنائے، نِت نئے نظام چلائے، لیکن خُدا جانے آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے، بات نہیں بن پا رہی، یہ سنگ ڈھلانوں پہ ٹھہرنا چاہتا ہے، ٹھہر نہیں پا رہا، یہ ایسا قافلہ ہے جو کہیں نہیں جا رہا۔ ہم کاغذ پر بے عیب…

Read more

پاکستان ٹیک آف کرنے والا ہے

حضرت علی ہجویری ؒ المعروف داتا صاحب کے عرس کے موقعے پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے ارشاد فرمایا ”پاکستان ٹیک آف کی طرف بڑھ رہا ہے۔ “ یہ جُملہ سننے کو کان ترسے ہوئے تھے سو دل سے بے اختیار الحمدللہ نکلا اور آنکھیں چھلک گئیں۔ ہمیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ فقرہ چیف جسٹس سے ”کہلوایا“ گیا ہے۔ داتا صاحبؒ کے مزار کے احاطہ میں نُطقِ خود سر کی گنجایش کہاں۔ لہذا، اب ہمیں انشراحِ صدرحاصل ہو گیا ہے کہ ہم تبدیلی کے دہانے پہ کھڑے ہیں، کٹھ پُتلیوں کا تماشہ ختم ہونے کو ہے، ٹیک آف کا وقت آن پہنچا ہے۔

Read more

قصور کی زینب اور ہتھکڑیوں میں استاد

قصور کی زینب کے قاتل عمران علی کو پھانسی دے دی گئی۔ انصاف کے تقاضے پورے کر دیے گئے۔ زینب کے بابا نے میڈیا اور چیف جسٹس پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے، مجرم کی سزا پر اطمینان کا اظہار کیا۔ زینب کے بعد بھی ہمارے درجنوں بچے بھنبھوڑ کے قتل کر دیے گئے۔ مجھے…

Read more

شہباز شریف کی چمڑی اُتار دی جائے!

’خدمت کو عزت دو‘ کا بچہ! مصلحت کی اولاد! مفاہمت کاگماشتہ! پِٹ گیا کم بخت، چاروں شانے چت پڑا ہے، بس تڑپنے کا شوق تھا جس کو، اب بمشکل پڑا تڑپتا ہے، کرپشن کا گاما پہلوان، کاہلوں کا لندھور، ہمیں نہیں چاہیے ایسا خادمِ اعلیٰ، ہِشت اے انسان، اے انسان ہِشت! پنجاب سپیڈ پہ تین…

Read more