استاد جی، ہڈی ہماری، بوٹی آپ کی
ابھی پنجاب میں زینب کی سوگوار خبر باسی نہیں ہوئی تھی کہ نئے سال 2018 کا آغاز سندھ میں ایک اور کلی کے مسخ ہو جانے کی دلسوز خبر سے ہوتا ہے۔ خبر کے مطابق بن قاسم ٹاؤن، کراچی کا ننھا آٹھ سالہ محمد حسین اپنے قرآن کے استاد نظام الدین کی ظالمانہ پٹائی کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ بچے کے والد محمد سلیم کے کہنے کے مطابق بچہ مدرسے سے بھاگ جاتا تھا۔ اور والدین اسے دوبارہ قرآن کے استاد کے پاس لے جاتے کہ جن کی تدریس سے متنفر ہو کر وہ فرار ہو جاتا۔ اس قسم کے مدرس کی شعری تصویر عشرت آفرین نے اپنی نظم ’’مضافات‘‘ میں کچھ اس طرح کھینچی ہے۔
مدرسے جو جاتے ہیں
قمچیوں سے ہوتا ہے
بچپنے کا استقبال
پھول سے جسموں پر
بید جب برستی ہے
دور تک چٹائی پر
اک قطار میں بیٹھے
لفظ تھرتھراتے ہیں
سب ورق کتابوں کے
ایسے پھڑپھڑاتے ہیں
جیسے جان کھنچتی ہو
ان کی درسگاہوں میں
قمچیاں معلم ہیں
قمچیاں مدرس ہیں
ننھے محمد حسین کی دردناک موت سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کیا مشکل ہے کہ وہ کیوں استاد کے ظالمانہ رویے سے باغی ہو کر بھاگ جاتا تھا۔ ہر بار اس کے والدین ایک ایسی ثقافت کی نمائندگی کرتے ہوئے بچے کو استاد کے سپرد کر دیتے کہ جس کے مطابق ہڈی ہماری بوٹی تمہاری، یعنی بیشک ہم بچے کے والدین ہیں مگر بچے کی بھلائی اور نظم و ضبط کے لئے استاد کو حق حاصل ہے کہ وہ جسمانی سزا کا جو بھی طریقہ اختیار کرے، وہ منظور ہے۔
محمد حسین کے واقعہ سے ملتا جلتا واقعہ بھی ہے کہ جو پچیس ستمبر 1998 کو پیش آیا۔ میں یہ واقعہ اسلم صدیقی (مترجم شیر شاہ سید) کی سوانح عمری، ایک پاکستانی کی سرگزشت سے نقل کر رہی ہوں۔ (واضح ہو یہ خبر کراچی کے اخبار بزنس ریکارڈ میں شائع ہوئی تھی۔)
ملتان میں 14 سالہ بچہ محمد اعظم اپنے آپ کو زنجیر سے چھٹکارا دلانے کی کوشش میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ تفصیلات کے مطابق 14 سالہ بچہ محمد اعظم ڈوگر جو’’ مدرسہ بہلویا‘‘کا طالب علم تھا۔ شجاع آباد میں اپنی زنجیروں سے نجات حاصل کرنے کی کوشش میں موت کا شکار ہو گیا۔ اعظم نے 26 سپارے حفظ کر لئے تھے۔ گزشتہ جمعرات کو وہ چھٹی پر گھر آیا مگر دوبارہ مدرسہ واپس نہیں پہنچا۔ اتوار کے دن اس کے والد اسے زبردستی مدرسہ لے گئے، جہاں اس کے استاد نے اسے زنجیر سے باندھ دیا تاکہ وہ بھاگ نہیں سکے۔ منگل کے دن جب اساتذہ سمیت تمام طالب علم دوپہر کو سو رہے تھے تو وہ اپنی زنجیروں سمیت خاموشی سے مدرسہ سے نکل کر ریل کی پٹری پر پہنچ گیا۔ ٹرین کے آنے سے پہلے اس نے اپنی زنجیروں کو پٹری پر رکھ دیا۔ تاکہ وہ کٹ جائیں اور وہ آزاد ہو جائیں۔ بدقسمتی سے ٹرین کی آمد پر زنجیر کا ایک حصہ ٹرین میں لگے ہوئے لوہے کی سلاخ سے الجھ گیا۔ جس کے بعد بچے کا جسم پہیوں کے نیچے آ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ اس تمام واقعہ کا سب سے افسوسناک پہلو یہ تھا کہ پولیس نے اس قتل کے سلسلے میں کسی قسم کی کاروائی سے معذوری کا اظہار کر دیا تھا۔ (صفحہ 6)
حال اور ماضی میں پیش آنے والے دونوں ہی واقعات سفاک اور دردناک ہیں لیکن سب سے زیادہ تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے ہونے میں خود والدین بھی دانستہ یا غیر دانستہ طور پہ ملوث ہیں۔ مثلا محمد حسین کے والد نے نہ صرف قاری کے خلاف اس جرم کا کیس درج کرنے سے انکار کیا بلکہ بچے کو پوسٹ مارٹم کے بغیر ہی دفن کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے استاد کو معاف کر دیا۔ کیونکہ ہم نے بچے کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیا۔ ان کی نظر میں خدا کی یہی مرضی تھی۔
اسی طرح اعظم کی موت کے واقعہ میں بھی والد صاحب زبردستی بچے کو مدرسہ لے گئے جہاں اسے استاد نے زنجیروں سے جکڑا۔ اس طرح نظم وضبط کے نام پر ان بچوں کو دی جانے والی جسمانی سزاؤں میں ہماری ثقافت کا اہم کردار ہے جس میں روایتی طور پر والدین اور استاد کے حکم کی تابعداری کو لامحدود درجہ حاصل ہے۔ معاشرہ ان پر کسی صورت انگلی نہیں اٹھاتا۔ دنیا میں رائج اس قسم کے رویے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں گھر یا تعلیمی اداروں میں اس قسم کے جسمانی تکلیف پہچانے والے رویے یا جسمانی سزا (Corporal Punsihment)کے خلاف قانون بن گئے ہیں۔ ان سزاؤں میں ہاتھ یا کسی شے سے (مثلا بید، ڈنڈے، قمچیاں وغیرہ)سے بچوں کی پٹائی کا، لاتوں کا استعمال، جسم کو پٹخنا، بال نوچنا،کان کھینچنا ، انگلیوں کے بیچ میں پنسل رکھ کر دبانا، مرغا بنانا یا بطور سزا زبردستی جسمانی مشقت کے کام کروانا شامل ہیں۔
اس قسم کی سزاؤں کے خلاف پچھلے سال 2017 میں سندھ اسمبلی نے بل پاس کیا ہے۔ جسے سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ (SPARC) نے پیش کیا تھا۔ جس کے تحت 18 سال اور اس سے کم عمر بچوں کے ساتھ جسمانی سزائیں اور تحقیری رویے پہ پابندی ہو گی۔ اس قانون کا اطلاق نجی اور عوامی سطح پہ قائم تعلیمی اداروں، مذہبی اداروں، چائلڈ کئیر اداروں وغیرہ پہ ہو گا۔ اسی قسم کا قانون گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی نے بھی منظور کیا ہے۔ جس کا اطلاق تعلیمی اداروں کے علاوہ گھروں پہ بھی ہو گا۔ تاہم بلوچستان، خیبر پختون خواہ اور اسلام آباد میں ان سزاؤں کے متعلق قانون نہیں ہے۔ اگر کچھ ہے بھی تو اسکا اطلاق محض سرکاری اسکولوں پہ ہے۔
بظاہر بچوں کے مفاد کے نام پہ دی جانے والی سزاؤں کے منفی دور رس اثرات تعلیمی استطاعت کے علاوہ نفسیات پہ بھی بھرپور ہوتے ہیں۔ جس میں خود اعتمادی کا فقدان، اسکول سے جان چھڑانا، خوف، سیکھنے کی اہلیت میں رکاوٹ، ناقص تعلیمی کارکردگی شامل ہے۔ نفسیاتی اثرات میں ڈیپریشن، انگزائٹی، جذباتی نا آسودگی، سماج سے الگ تھلگ رہنا، غصہ، بغاوت، پر تشدد رویہ وغیرہ چند مثالیں ہیں۔ جو شخصیت کو مجروح کرتی ہیں۔
اگر ہمیں ذہنی اور نفسیاتی طور پر صحت مند بچے پروان چڑھانے ہیں تو ضرورت ہے کہ اس سلسلے میں پورے معاشرے میں آگہی پھیلائی جائے۔ اور تشہیری ادارے پورے طور پہ متحرک اور فعال ہوں۔ محض قوانین کا بن جانا کافی نہیں۔ ان کا مکمل طور پہ اطلاق ضروری ہے کہ بچوں کا تحفظ حتمی بنایا جا اس سکے۔


