اپوزیشن کا احتجاج ٹائیں ٹائیں فش ہو گیا


سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کو انصاف دلانے کے لئے مال روڈ لاہور پر متحدہ اپوزیشن کا منعقدہ جلسہ ایک ناکام جلسہ ثابت ہوا جس میں تقریباً دو درجن کے قریب سیاسی و مذہبی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں و کارکنان نے شرکت کی لیکن صرف اسٹیج رہنماؤں سے بھراہوا تھا جبکہ پنڈال میں ہزاروں کی تعداد میں کرسیاں خالی تھیں۔ اس جلسے میں محض اقتدار حاصل کرنے کے جنون میں عوام کے جذبات کو بھڑکانے کے لئے اشتعال انگیز اور غیر اخلاقی گفتگو کی گئی جسے دیکھ اور سن کر باشعور عوام سمجھ گئے کہ بلی تھیلے سے باہر آچکی ہے۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ ’’ ایسی پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتا ہوں جو ایک مجرم کو پارٹی کا سربراہ بنا دے، شیخ رشید کے استعفوں کی تجویز پر غور کر رہے ہیں، اب ہمیں پیچھے نہیں ہٹنا چاہئیے، ہمیں سڑکوں پر آنے کی پریکٹس ہو چکی ہے۔

علامہ طاہر القادری نے اپنے مخصوص جوشیلے انداز میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ جلسے میں شریک جماعتوں کے کارکن جاتی اُمرا کی جانب منہ کر کے تھوک دیں تو اُن کے محلات بہہ جائیں، اگر کہو تو تاریخ دے دوں، اگلی اتوار کو رائے ونڈ کی اینٹ سے اینٹ بجا دو گے، عہدِ حاضر کے شیخ مجیب الرحمان سے نجات کے لئے قوم جمع ہوجائے۔

پی پی کے شریک چئیر مین آصف زرداری نے کہا کہ پاکستان کو کسی اور سے نہیں جاتی اُمراء کے دونوں شیخ مجیب الرحمان سے خطرہ ہے، نواز شریف گریٹر پنجاب اور مجیب الرحمان کی سوچ رکھتے ہیں، میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا ن لیگ والے گریٹر پنجاب کا منصوبہ بنا رہے ہیں، سب جانتے ہیں میں جب چاہوں حکومت کو نکال سکتا ہوں۔

شیخ رشید نے فرمایا کہ حکمران تقریروں سے نہیں جائیں گے، میں ایسی اسمبلی اور جمہوریت پر لعنت بھیجتا ہوں، عمران خان تم بھی استعفی دو، لاٹھی اُٹھاؤ، نیزہ اُٹھاؤ اور جاتی اُمراء کی طرف مارچ کرو۔

بلاشبہ جمہوریت کا حسن اختلافِ رائے ہی میں ہے، کوئی بھی مسئلہ حل نہ ہو رہا ہو تو دوسرے فریق کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے موقف کو ٹھوس دلائل کے ساتھ احتجاج کے ذریعے بھی دنیا کے سامنے پیش کرے تاکہ عوام اصل حقیقت جان کر صحیح سمت میں پیش قدمی کر سکیں لیکن افسوس ہمارے معاشرہ میں ہر سطح پر صحت مند اور دلائل پر مبنی گفتگو کے بجائے جذبات کو بھڑکا کر اشتعال دلانے، اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد تعمیر کرنے اور اسے مضبوط کرتے رہنے کی کاوشیں ہوتی چلی آرہی ہیں۔

خاص کر پاکستان کو درپیش موجودہ نازک صورت حال میں جب داخلی استحکام کی اشد ضرورت ہے, انتخابات سے محض چند ماہ قبل اینٹ سے اینٹ بجا دینے، نیزہ اُٹھانے، لاٹھی اُٹھانے، سڑکوں پر آنے اور خود کو وفادار اور دوسرے کو غدار قرار دینے سے داخلی استحکام مضبوط تو نہیں لیکن کمزور ضرور ہوگا جس کے انتظار میں دشمن چاروں طرف گھات لگائے بیٹھا ہے لیکن افسوس علامہ طاہر القادری، عمران خان، آصف زرداری اور شیخ رشید کی اقتدار میں آنے کی عجلت نے ان کی عقلوں کو بری طرح سلب کر لیا ہے اور ان کی مایوسی، ہیجانی کیفیت کی منفی سطح اپنے عروج کو چھو رہی ہے جس پر ان سب کو غور کر تے ہوئے اپنی ذہنی سمت کو فوری مثبت رخ پر موڑنا چاہئیے۔

جس طرح آئینے میں آئے بال کو نکالا نہیں جاسکتا ٹھیک اسی طرح اعتماد ایک دفعہ ٹوٹ جائے تو پھر بحال نہیں ہو پاتا۔ ماڈل ٹاؤن سانحے پر طاہر القادری کا ماضی میں یوٹرن لے کر کینیڈا چلے جانا پھر موسم سرما میں واپس آنا اور چلے جانا، عمران خان کا وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہونے کے جنون میں اسٹیٹس کُو کے خلاف نعرہ لگا کر عوام کو اپنے گرد جمع کر کے اُن پر اُنہی جاگیرداروں، وڈیروں، چوہدریوں، مخدوموں کو مسلط کردینا، سول نافرمانی کا نعرہ لگا کر خود محل میں بیٹھے رہنا اور کارکنان کو پولیس کا تشدد برداشت کرنے کے لئے اکیلا چھوڑ دینا، کبھی عدلیہ، کبھی میڈیا، کبھی پولیس، کبھی سیاستدانوں کو برا بھلا کہنا، آصف علی زرداری کی قیادت میں پی پی کا چاروں صوبوں سے صرف دیہی سندھ تک محدود ہو کر رہ جانا اور شیخ رشید کا اپنی پرانی روش برقرار رکھتے ہوئے دوسروں کے کندھوں پر چڑھ کر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے کی کوششوں سے عوام پہلے ہی بددل ہوچکے تھے کہ رہی سہی کسر متحدہ اپوزیشن جلسے میں یہ دیکھ کر کہ عمران خان، آصف زرداری ایک ساتھ اسٹیج پر نہیں آئے اور آصف زرداری کے خطاب کو عمران خان جہانگیر ترین کے گھر بیٹھ کر سنتے رہے جب زرداری صاحب کے خطاب کے بعد عمران خان پنڈال میں تقریر کرنے آئے تو اس سے قبل ہی زرداری صاحب جا چکے تھے جس کی وجہ سے پی پی کے کارکنان بھی وہاں سے جا چکے تھے اور یہ بھی کہ یہ سب ایک دوسرے کو ماضی میں کتنا برا بھلا کہہ چکے ہیں سے عوام پر یہ حقیقت آشکار ہوچکی کہ یہ غیر فطری اتحاد ہے اور یہ ملک کی بھلائی کے لئے نہیں بلکہ اپنی بھلائی کے لئے جمع ہوئے تھے۔

عوام کا اعتماد مذکورہ بالا سیاستدانوں پر سے اتنی دفعہ ٹوٹ چکا ہے کہ وہ اب کسی تبدیلی اور نئے فریب کے جھانسے میں آنے کو تیار نہیں ہیں خصوصاً متحدہ اپوزیشن کے مال روڈ لاہور کے جلسے کے بعد سے عوام یہ جان چکے ہیں کہ بلی تھیلے سے باہر آچکی ہے۔ آئین اور پارلیمنٹ جو جمہوریت کی ماں کہلاتی ہے جس میں ملک بھر سے نمائندے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آتے ہیں تک پر لعنت بھیج دی گئی یعنی پاکستان بھر کے کروڑوں عوام پر لعنت بھیجی گئی اور اسی پارلیمنٹ میں جانے کی تیاری کرنے والے حکومت گرا کر صرف اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کرنا چاہ رہے ہیں جس کے لئے وہ جمہور کی جمہوریت کی قربانی دینے کو بھی تیار ہیں اور اسی لئے سڑکوں پر آنے، تشدد پر اُکسانے اور اسمبلیوں سے استعفوں کی باتیں کی گئی ہیں تاکہ نگراں سیٹ اپ لا کر 90 روز میں انتخابات کرائے جائیں جس کی کوئی بھی ضمانت نہیں ہے۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے لواحقین کو جلد انصاف ملنا چاہئیے لیکن سیاسی و مذہبی سیاسی جماعتوں کو اس حقیقت کو لازمی مدنظر رکھنا چاہئیے کہ جاری نازک حالات میں امریکہ پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کا ساتھ افغانستان اور ہندوستان دے رہے ہیں میں پاکستان کو داخلی استحکام کی شدید ضرورت ہے جس کے لئے جمہوریت اور اس کا تسلسل بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ انتخابات میں محض چند ماہ ہی باقی رہ گئے ہیں اس لئے سیاسی و مذہبی سیاسی جماعتوں کو چاہئیے کہ پاکستان اور اس کے عوام کے بہترین مفاد میں صبر سے کام لیں اور دانستہ نا دانستہ کوئی بھی ایسی حرکت کرنے سے گریز کریں جس سے جمہوریت کا تسلسل رکے یا ختم ہو کیونکہ اگر ایسا ہوا تو یہ ملک میں انتشار کا سبب بنے گا جس کا فائدہ اندرونی و بیرونی دشمن اُٹھائیں گے۔ پاکستان کے لئے حکومت کی مدت پوری ہونے کا انتظار کریں اور پھر عوامی عدالت میں اپنا مقدمہ لے کر جائیں عوام جسے پسند کریں گے تاجِ حکمرانی وہی پہنے گا۔

Facebook Comments HS