ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی نرگسیت
کل رات کانگرس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی معیشت کو بڑھاوا دینے اور امریکی مفادات اور اقدار کا تحفظ کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ انہوں نے صدارت کا ایک سال مکمل ہونے کے بعد اپنے اسٹیٹ آف یونین خطاب میں امریکہ میں اتحاد اور یگانگت پیدا کرنے اور امریکہ کی تعمیر و ترقی کے لئے مل کر کام کرنے کی دعوت دی۔ لیکن دنیا بھر کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگرچہ صدر ٹرمپ کا لب و لہجہ پہلے کے مقابلے میں مفاہمانہ تھا لیکن وہ کسی بھی اہم قومی مسئلہ پر سیاسی مخالفین کو کوئی سیاسی رعایت دینے پر تیار نہیں تھے۔ ان کی گفتگو میں نہ تو ایک اکہتر سالہ معمر سیاست دان کا تحمل تھا اور نہ ہی جہاں دیدہ شخص کا تدبر محسوس کیا جاسکتا تھا۔ اس کے برعکس وہ خود اپنی کارکردگی کی تعریفیں کرنے اور سابقہ حکومتوں کو برا بھلا کہنے اور امریکی حب الوطنی کا فرسودہ نعرہ استعمال کرکے اپنے انتہا پسند حامیوں کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ انہوں نے عظیم امریکہ کی تعمیر کے لئے ڈیڑھ کھرب ڈالر انفرا اسٹرکچر پر صرف کرنے کا اعلان کیا لیکن وہ یہ بتانے سے قاصر رہے کہ وہ اس خطیر رقم کو کس طرح صرف کریں گے اور اس کے حصول کے لئے کانگرس میں ڈیموکریٹک پارٹی سے کس طرح حمایت و اعانت حاصل کریں گے۔ یہ تقریر خوابوں کی دنیا میں اسیر ایک شخص کا بیان تو ہو سکتا ہے لیکن ایک بڑےملک کے صدر اور دنیا کی واحد سپر پاور کے سربراہ کے طور پر وہ ٹھوس تجاویز سامنے لانے اور اقدامات کا اعلان کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ امریکی سرحدوں کو تارکین وطن کے لئے بند کیا جائے تاکہ جرائم پیشہ عناصر امریکہ میں داخل نہ ہو سکیں اور غریب ملکوں کےلوگ یہاں آکر امریکی نوجوانوں کے روزگار کو نہ چھین سکیں ۔ یہ ایک ایسا مؤقف ہے جس پر نہ تو امریکہ میں اتفاق رائے موجود ہے اور نہ ہی اسے مکمل سچائی کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ امریکہ کی کامیابی کا راز ہی اس بات میں مضمر رہا ہے کہ وہ دنیا بھر کے باصلاحیت لوگوں کو اپنے خوابوں کی تکمیل کے لئے امریکہ آنے اور کام کرنے کا موقع فراہم کرتا رہا ہے۔ لیکن اب صدر ٹرمپ اس روایت کو امریکی مفاد کے خلاف قرار دے کر امیگریشن پر سخت پابندیاں لگانا چاہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے امریکہ میں غیر قانونی طور سے آنے والے بچوں کو حاصل قانونی تحفظ واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان سے ڈریمرز Dreamers کے نام سے جانے والے آٹھ لاکھ کے لگ بھگ نوجوان تارکین وطن متاثرہوئے ہیں۔ اس فیصلہ کے خلاف ملک گیر احتجاج سامنے آیا تھا اور ڈیموکریٹک پارٹی نے اس اقدام کو مسترد کرنے کے لئے گزشتہ ماہ کے آخر میں قومی بجٹ منظور کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ایک ہفتہ تک امور مملکت بند رہے جس کے بعد ری پبلیکن پارٹی نے یہ وعدہ کرکے عبوری طور سے 8 فروری تک بجٹ منظور کروایا تھا کہ اس دوران ڈریمرز کا مسئلہ حل کرنے کے لئے حکومت کوئی مفاہمانہ فارمولا سامنے لائے گی۔ اس لئے یہ امید کی جارہی تھی صدر ٹرمپ اسٹیٹ آف یونین خطاب میں اس حوالے سے کوئی ٹھوس تجویز پیش کریں گے۔ لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ڈیموکریٹک پارٹی کے مطالبے کے مطابق ڈریمرز کو ملک میں رہنے کا حق دینے کی بات کرنے کی بجائے اس مطالبہ کو منظور کرنے کے لئے تین شرائط رکھی ہیں۔ ان میں میکسیکو کے ساتھ دیوار بنانے کے لئے فنڈز کی فراہمی کا مطالبہ کرنے کے علاوہ امیگریشن کو سخت کرنے کے لئے دو شرائط رکھی گئی ہیں۔ ان میں لاٹری کے ذریعے امریکی ویزے کے اجرا کو بند کرنا اور امریکی شہریوں کی طرف سے اپنے اہل خاندان کو ملک میں بلوانے کے حق کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ ڈٖیموکریٹک پارٹی اگرچہ ڈریمرز کو ملک میں رہنے کا حق دلوانے کے لئے میکسیکو کے ساتھ دیوار کی تعمیر کے لئے فنڈز فراہم کرنے کی پیش کش کرچکی ہے لیکن امیگریشن کے حوالے سے دوسرے سخت مطالبوں پر اپوزیشن پارٹی کے علاوہ ملک میں وسیع تر رد عمل سامنے آسکتا ہے۔
حیرت انگیز بات ہے کہ جو امریکی صدر امپنی صدارت کے پہلے سال میں قومی بجٹ منظور کروانے میں ناکام رہا ہو اور جس کے تحت کام کرنے والی حکومت ایک ہفتہ کے اندر بند ہو نے کا اندیشہ موجود ہو ، وہ سال کی اہم ترین تقریر میں اپنی تعریفوں کے پل باندھنے اور کامیابیوں کا ذکر کرکے خود ہی تالیاں بجاکر خود کو ہی داد دیتا رہا۔ یہ کیسی کامیابی ہے جس میں نظام حکومت بند ہونے کی تلوار سر پر لٹک رہی ہو لیکن صدر اس کا فکر کرنے کی بجائے یہ دعویٰ کررہا ہے کہ اس کے دور حکومت میں امریکہ روشن مستقبل کی طرف گامزن ہو چکا ہے ۔ ملک میں معاشی احیا کا آغاز ہو گیا ہے اور روزگار کے 24 لاکھ نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ وہ یہ حوالہ دینے میں ناکام رہے کہ دنیا بھر میں معاشی ترقی کے اثرات امریکی معیشت پر بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سابق صدر باراک اوباما کے دور میں جو معاشی پالیسیاں اختیار کی گئی تھی ان کی وجہ سے ملک میں بے روزگاری میں اضافہ رک گیا تھا اور نئے روزگار پیدا ہونا شروع ہو گئے تھے۔ صدر ٹرمپ نے اس کے برعکس جو اہم ترین اقدام کیا اور کامیابی حاصل کی اور جس کا کریڈٹ بھی انہوں نے اس تقریر میں لیا ہے ، وہ ٹیکس اصلاحات ہیں۔ ان اصلاحات کے تحت امیروں کو ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہے جبکہ اس سہولت سے ہونے والے مالی خسارے کا نقصان امریکہ کے غریب شہریوں کو پورا کرنا پڑے گا۔
صدر ٹرمپ امریکہ کو متحد کرنے اور مل کر چلنے کی بات ضرور کرتے رہے ہیں لیکن ان کی پالیسیاں اور ان کا ذاتی رویہ اس اعلان کے دھوکہ ہونے کی چغلی کھاتا ہے۔ وہ مسلسل بالواسطہ یا براہ راست ماضی کی حکومتوں اور خاص طور سے سابق صدر باراک اوباما پر تنقید کرکے اپنی کامیابیوں کی سہانی تصویر دکھانا چاہتے ہیں ۔ لیکن یہ تصویر صرف ان کے ان انتہا پسند حامیوں کو دکھائی دیتی ہے جو تعصب اور نفرت کی بنیاد پر معاشرہ کی تعمیر کو امریکہ کی کامیابی سمجھتے ہیں۔ ان میں امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات اور دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف تلخ بیانیہ شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے سال کے دوران ہی صدر ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف کم ہو کر چالیس فیصد پر آگیا ہے جو صدارت کے پہلے سال کے دوران کسی بھی صدر کے لئے مقبولیت کی کم ترین شرح ہے۔
اس کے باوجود اپنی حکومت کو صدر اوباما کی حکومت سے بہتر ثابت کرنے کے لئے صدر ٹرمپ نے اس خطاب میں دو ٹھوس حوالے دینے کی کوشش کی۔ ان میں سے ایک گوانتا ناموبے کا عقوبت خانہ بند کرنے کے بارے میں باراک اوباما کے فیصلہ کو مسترد کرنا تھا۔ باراک اوباما نے 2012 میں صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد گوانتاناموبے کی جیل بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن وہ آٹھ برس کی صدارت کے دوران اسے پوری طرح ختم نہیں کرسکے اور اب بھی وہاں پر 41 لوگ کسی قانونی تحفظ کے بغیر قید ہیں۔ تاہم صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اسے بند کرنے کی بجائے اس بات کا جائزہ لیں گے کہ امریکہ کے دشمنوں کو وہاں قید کیا جائے۔ اس کے علاوہ افغانستان سے فوجیں نکالنے کے بارے میں صدر اوباما کی پالیسی کی مخالفت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میری حکومت امریکی فیصلوں کے بارے میں اعلان کرکے دشمنوں کے حوصلے بلند کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی‘۔ صدر ٹرمپ افغانستان میں امریکی قوت میں اضافہ کرنے اور طالبان کو کچلنے کی باتیں کرتے رہے ہیں۔ دو روز قبل ایک انٹرویو میں انہوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان لوگوں سے طویل عرصہ تک بات نہیں ہو سکتی جو بے گناہ لوگوں کو قتل کررہے ہیں۔ حالانکہ ماہرین سمجھتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ مل کر سیاسی حل تلاش کئے بغیر افغانستان میں قیام امن کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ صدر ٹرمپ کی پالیسی کی بنیاد اس ناکام جنگ میں پاکستان کو ملوث کرنے پر استوار ہے اور اس مقصد کے لئے وہ پاکستان پر ہر قسم کا دباؤ ڈالنے کی کوشش بھی کررہے ہیں۔ منگل کو کی جانے والی تقریر میں انہوں نے پاکستان کا ذکر نہیں کیا لیکن ا س خواہش کا اظہار کیا کہ کانگرس ایسا قانون منظور کرلے جس کے تحت امریکی امداد صرف ان ملکوں کو دی جا سکے جوامریکہ کے دوست ہوں۔ امریکہ کا دوست ہونے کے بارے میں صدر ٹرمپ کی توضیح بھی دلچسپ ہے ۔ ان کے خیال میں جن ملکوں نے ان کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی مخالفت کی ہے وہ امریکہ کے دوست نہیں ہیں۔ لیکن وہ شاید یہ بھول گئے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس معاملہ پر ووٹنگ میں بھارت نے بھی امریکہ کے خلاف ووٹ دیا تھا حالانکہ صدر ٹرمپ اسرائیل کے بعد بھارت کو ہی اپنا سب سے قابل اعتماد اور اہم حلیف سمجھتے ہیں۔
خارجہ پالیسی کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے ایران اور شمالی کوریا کے خطرے کا ذکر کرتے ہوئے شام میں داعش کے مکمل خاتمہ کا دعویٰ کیا۔ لیکن وہ یہ بتانا بھول گئے کہ وہ داعش کی باقیات سے نمٹنے کے لئے شامی کردوں کو مسلح کرنے کے منصوبہ پر کام کرتے رہے ہیں۔ اور اب انہی عسکری عناصر کے خاتمہ کے لئے نیٹو میں امریکہ کے ساتھ شریک ترکی نے شام ہر دھاوا بول دیا ہے اور امریکہ کی پالیسی کو اشتعال انگیز اور ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ صدر ٹرمپ اپنے حمایت یافتہ عسکری گروہوں کی حمایت میں ایک لفظ بھی کہنے میں ناکام رہے۔ اسی طرح اگرچہ وہ افغانستان کے بارے میں مضبوط پالیسی اختیار کرنے کے دعویدار ہیں لیکن اس کے خد و خال کسی پر واضح نہیں ہیں۔
صدر ٹرمپ کی تقریر اپنی تعریفوں اور مخالفین کی کوتاہیوں کے بارے میں تو ایک تفصیلی بیان کی حیثیت رکھتی ہے لیکن اس میں وہ یہ بتانے میں ناکام رہے ہیں کہ امریکہ کو ’قلعہ‘ بنانے اور دنیا میں تنہا کرنے کے علاوہ وہ کس چیز کو امریکہ کی کامیابی سمجھتے ہیں۔ یہ ابہام شاید ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران برقرار رہے گا۔ اس سے ہونے والے نقصان کا خمیازہ بہر حال امریکہ کو ہی بھگتنا پڑے گا۔


