EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

انتظار حسین۔۔۔ بادل کے تعاقب میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امّاں کہانی سنایا کرتی تھیں کہ بھئی ایک تھا راجہ اس کے محل میں تھا ایک باغ۔ ایک دن کیا ہوا کہ محل کی دیوار پر ایک چڑیا آ کر بیٹھی اور بولی۔ بادشاہ سلامت نے کھانا کھایا؟ وزیر، سپاہی، آئے گئے ،اپنے پرائے، نوکر چاکر سب نے کھانا کھایا؟ یہ آواز سن محل کی دیوار کے پاس موجود مالی چونکا۔ پھر تو سب ہی چونکے او ر بولے ہاں کھایا۔ ۔ یہ سن چڑیا پہلے ہنسی پھر روئی اور پھرُ سے اڑ گئی ۔

 جو وہ ہنسی تھی تو بھیّا اس کے منہ سے اتنے پھول جھڑے کہ انبار لگ گیا اور مالی پھول چنتے چنتے تھک گیا۔ اور جو وہ روئی تھی تو آنسو کیا ٹپکے کیاری میں سچے موتی برس پڑے۔ غریب غربا نے جلدی جلدی بٹور جھولی میں بھرے۔ پھر اس چڑیا کا معمول ہوگیا کہ روز مقررہ وقت پر آتی سب راجہ پرجا کا حال لیتی۔ جواب ملنے پر پہلے ہنستی پھر روتی ۔ تس کارن پہلے پھول جھڑتے پھر موتی ۔

 اماں تو کہانی سنانے کے لئے کچھ اوپر نبّے برس جی لیں ۔ شاید انتظار کرتی رہیں کہ مجھ بیوقوف کی جھولی میں کچھ اور پھول کچھ اور موتی ڈال دیں ۔ میں جنم کی اُتاﺅلی ذرا سے پھول اور موتی اس کیاری سے بٹور سات سمندر پار چلتی بنی۔ کہتے ہیں منش پر کیسا ہی جادو ٹونا ہو سمندر پار کرتے ہی جادو کا اثر جاتا رہتا ہے مگر میرے ساتھ الٹا قصہ ہوا۔ مجھے اس کتھا کہانی کے جادو نے ایسا جکڑا کہ رستہ ہی بسرا بیٹھی ۔ مگر خدا کا کرنا ایسا کہ بعد ایک مدت کے نصیب جاگے اور سفر وسیلہ ظفر بنا۔ اپنے مستقر پر واپسی کے اسباب پیدا یوں ہوئے کہ مع سر سامان نوکر چاکراس بستی میں اتری جس کا سان نہ گمان میں حیران۔ اس کارساز کی شان کہ جس شہر میں ایک دن گزارنے کو ترستی تھی اس کی گلی گلی کا طواف کیا اور دنیا میں جنت کا مزہ لیا۔ یوں داتا کی نگری میں جہاں درخت اب بھی بولتا ہے اور چڑیا اب بھی گاتی ہے۔ اپنی بھولی بسری کتھا کہانی والے راجہ کا محل دیکھا تب بڑی ہنسی آئی ۔ میں نے کہا اتنا بڑا راجہ اور اتنا ذرا سا محل؟ میرے حسابوں تو کٹیا تھی وہ کٹیا۔ پر باغ دیکھا تو عقل دنگ رہ گئی۔ ! بھانت بھانت کا پکھیرو۔ طرح طرح کے چہچہے۔ رنگ رنگ کے زمزمے۔ میں تو ویسے ہی باؤلی ہو مری ۔

 راج ہنس خود باغ کے تال کنارے بیٹھا ہردم موتی رولتا۔ نئے نئے بھید کی پرتیں کھولتا۔ کبھی ہنستا تو کبھی روتا۔ روز شام کو یہی ماجرا ہوتا۔ یہاں جو پنکھ پکھیرو منہ کھولتا اپنے حصے کے موتی رولتا۔ میں حیران میری ذرا سی جھولی بھلا اتنے موتی اتنے پھولوں کا بوجھ کہاں سہار پاتی ۔ جتنا بن پڑا سمیٹا باقی کل پر اٹھا رکھااور اپنی راہ ہولی ۔ سیانوں نے سچ کہا ہے کہ جو آج کا کام کل پر اٹھا رکھتے ہیں وہ دکھ بھوگتے ہیں اورساری عمر اپنے جی کو کوستے ہیں ۔

 میں نے راج ہنس سے پوچھنا چاہا تھا کہ مہاراج تم کتھا کے بن کے راجہ مجھے ایک کہانی کا انت نہیں ملتا اور بھید نہیں کھلتا۔ کہ آخر چڑیا پہلے ہنسی کیوں اور پھر روئی کیوں ؟اور پھول کاہے کو جھڑے اور موتی کاہے کو برس پڑے۔ ۔ پر سوال کرنے میں مجھے دیر ہوگئی تھی ۔۔۔ اور راج ہنس کے جواب دینے کا سمے نکل چکا تھا سو میرے سوال کے جواب میں راج ہنس دھیرج سے ہنسا۔ اور جو وہ ہنسا تو مانو ٓایک بارہ برس کا لڑکا بن گیا۔ ایسی میٹھی مسکان کسی نے کاہے کو دیکھی ہوگی ۔ ایسا بھولا بھالا لڑکا میں نے تو دنیا کے پردے پر نہ دیکھا تھا۔ اور دیکھتے دیکھتے وہ پھر سے راج ہنس بن آسمانوں میں اڑگیا۔ تب میں سمجھی کہ اس مسکان میں کوئی جادو تھا۔ سوال پوچھنے والے کو اس کی مسکراہٹ ایسے موہ لیتی تھی کہ وہ اپنا سوال ہی بھول جاتا تھا۔ پرمجھے بھی دھن تھی کہ سوال پوچھوں تو اسی سے پوچھوں کہ مہاراج آخر چڑیا پہلے ہنسی کیوں اور پھر روئی کیوں اور پھول کیوں جھڑ ے اور موتی کیوں برس پڑے؟

 تب میں نے اس کا پیچھا کیا اور جب اور جہاں بھی جس روپ میں ملا میں نے ایک ہی سوال کیا کہ مہاراج تم کتھا کے بن کے راجہ مجھے ایک کہانی کا انت نہیں ملتا اور بھید نہیں کھلتاکہ آخر چڑیا پہلے ہنسی کیوں اور پھر روئی کیوں ؟اور پھول کاہے کو جھڑے اور موتی کاہے کو برس پڑے۔ ؟

 تب راج ہنس نے ایک ٹھنڈا سانس بھرا اور کہا ۔۔۔ کہ چڑیا ہنسی یوں کہ نئے یگوں کے سفر کا اشارہ ملا اور اس دکھ بھرے سنسار اور بس بھرے جیون سے چھٹکارا ملا۔ اور روئی یوں کہ وہ گھر چھوٹتا ہے جس کی کہ وہ رانی تھی اورموہ میں جس کے دیوانی تھی۔ موتی جو دیکھو ہو وہ سب اس کے شبدھ ہیں جو سچے تھے اور کبھی ماند نہ پڑنے والے اور پھول جو دیکھو ہو تو سب اس کے پیاروں کے تحفے ہیں جو تھالی بھر بھر لاتے ہیں ۔ پریم بانٹنے کا نام ہی جیون ہے۔ جب تک لفظ زندہ ہیں ہم سب زندہ ہیں ۔ یہ کہہ راج ہنس نے پر کھولے اور دور آسمان کی طرف اڑ گیا۔

 کوئی کہتا ہے وہ بادل کی تلاش میں گیا ہے۔ مگر بادل کہاں ہے ۔ دھوکہ ۔ ۔ دھوکہ ۔ ۔ سب دھوکہ۔ اور وہ سب سے بڑا دھوکے باز ۔ ۔ ۔ ہنستا ہنستا چلا گیا۔ سبھا ایکدم اجڑ گئی ہے۔ اس کے متر سب ڈھونڈتے پھر رہے ہیں ۔ کسی کو یقین ہی نہیں آرہا۔ کیسا جُل دے کے گیا ہے۔ اس بارتو بستہ تک چھوڑ کے چلا گیا کھلنڈرا۔۔ بادل کے پیچھے۔۔۔ !

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •