بڈاوا

ایک دفعہ کا ذکر ہے کسی گاؤں میں یہ خبر اڑی کہ بڑے چودھری صاحب کے کھیت میں جو بڈاوا کھڑا ہے وہ رات کو چہل قدمی کرتا ہے۔ اس اطلاع سے جاگیردار بہت پریشان ہوا اور اس نے حکم دیا کہ اس بڈاوے کو اکھاڑ کر پھینک دیا جائے اور اس کی جگہ نیا کھڑا کر دیا جائے۔ حکم ملنے کی دیر تھی کہ وہاں ایک نیا بڈاوا کھڑا کر دیا گیا۔ گاؤں والوں نے سکھ کا سانس لیا

Read more

یوم عاشورہ پر جنگ کی ڈائری

انتفاضہ (احتجاج میں شریک امریکی طلبہ کے نام) یہ ہتھکڑیاں یہ زنجیریں بندی خانے اور تعزیریں کچھ نیا نہیں ہے لال مرے ایسا ہی ہوتا آیا ہے سچ بولنے کی پاداش ہے یہ تو یہ سب کچھ سہنا ہو گا دشوار سہی رستہ لیکن اس پر چلتے رہنا ہو گا یہ ہتھکڑیاں یہ زنجیریں بندی خانے اور تعزیریں کل یہ تیرا گہنا ہو گا ***         *** آج کی کربلا حسین آپ کے ماتم گزار ہیں ہم لوگ

Read more

سال کی آخری نظم

سانتا وہ کرسمس کی رات عید میلاد عیسٰی مسیح وہ مسیحا کہ جس نے محبت کا پیغام ہم کو دیا جس نے روتی بلکتی ہوئی آدمیت کے زخموں پہ مرہم رکھا تم اسی کے نمائندے کہلاتے ہو سانتا! اتنے سارے کھلونے اٹھائے ہوئے گھومتے ہو جو تم چمنیوں چمنیوں آسماں آسماں تو یہ تقسیم کرتے ہو آخر کہاں ان بھرے پیٹ بچوں کی چمنی میں؟ جن کے لئے تم کسی فلم کا ایک کردار ہو یا کہ ان کے لئے

Read more

جنگ کی ڈائری (چوتھا حصہ)

مسلم اُمہ یہ جو خود کو مسلم امہ کہتے ہیں اسرائیل کے ٹینک کوایندھن یہ دیتے ان کی میز پہ تازہ سبزی عمدہ گوشت کی رسد یہی پہنچاتے  ہیں تھوڑی دیر کو یہ سپلائی بند اگر کر دیں تو شاید جنگ ابھی رک سکتی ہے غزہ میں بھوک اور پیاس سے مرنے والے بچے بچ سکتے ہیں پر یہ ایسا نہیں کریں گے یہ جو خود کو مسلم امہ کہتے ہیں ان کو ڈر ہے توپوں کا رخ ان کی

Read more

جنگ کی ڈائری (تیسرا حصہ)

الشفا کی چھت کے نیچے تم کیوں ان کو مار رہے ہو کیا ان بچوں سے خطرہ ہے جو ابھی انکیوبیٹر میں ہیں! یا ان عورتوں سے خطرہ ہے جن کا حمل ابھی تک ساقط نہیں ہوا ہے یا پھر تمہیں ان لوگوں سے خطرہ ہے جو عیسیٰ کی سنت کو قائم رکھنے پر اڑے ہوئے ہیں جو الشفا کی چھت کے نیچے کفنی پہنے کھڑے ہوئے ہیں! ان کو تم کیوں مار رہے ہو؟ ( 13 نومبر 2023)

Read more

جنگ کی ڈائری (دوسرا حصہ)

یرغمالی میں تم کو مارنے آیا تھا لیکن تمہارے سامنے یہ انگلیاں شل ہو گئی ہیں جو ٹریگر کو دبانے کے لئے بیتاب تھیں اب تک ڈرو مت مجھ سے آؤ بیٹھ جاؤ سامنے میرے میں یہ تم کو بتانا چاہتا ہوں تمہاری شکل میری ماں سے ملتی ہے مجھے معلوم ہے باہر سے تم کو جو اشارے مل رہے ہیں کہ تم اک یرغمالی ہو نہایت ہوشیاری سے تمہیں مصروف رکھنا ہے مجھے اس وقت تک جب تک کہ

Read more

جنگ کی ڈائری (پہلا حصہ)

آزادی کی قیمت آزادی پر کٹ مرنے کو موت اگر تم کہتے ہو مر جانا ہی اچھا ہے اس جینے سے جس میں ہر دن سسک سسک کر زندہ رہنا قدم قدم پر نام بتانا آتے جاتے ہر ناکے پر گھڑی گھڑی پہچان کرانا اس ذلت سے جینے سے تو بہتر ہے لڑ کر مر جانا تم نے ہم کو قید کیا ہے یہ وہ قید ہے جس میں پیدا ہونے والے بچوں کو یہ بھی تو معلوم نہیں باہر

Read more

پھولوں والی فہمیدہ کے نام

پھول تمہاری کمزوری تھے میں بھی تمہاری اس کمزوری سے واقف تھی پھول ملیں تو کتنی خوش ہو جاتی تھیں بھول گئی تھیں جیون کانٹوں کی اک سیج جس پر تم نے کروٹ کروٹ درد سہے اور زخم اٹھائے لیکن اک انجان سفر پر جانے سے پہلے دیکھو ہم نے تم کو پھولوں کی چادر سے ڈھانپ دیا ہے اب مت کہنا! "عشرت جانی میرے لئے کوئی گلدستہ نہیں لاتا بہت دکھی ہوں کوئی پھول نہیں بھجواتا”

Read more

دو صدیوں کا انسان ۔ آصف فرخی

آصف سے میری تفصیلی گفتگو سترہ اپریل کو ہوئی تھی۔ وہ دنیا زاد کے ”وبا نمبر“ کی تیاری میں مصروف تھے۔ اور چاہتے تھے کہ جلد از جلد پرچے کے لئے کچھ بھیجوں۔ میں نے کہا ایک غیر مطبوعہ نظم ہے ”پرندے چہچہاتے ہیں“ ۔ ادھر سے آواز آئی۔ اچھا عنوان ہے! ۔ پھر ٹھہر کر بولے، اور آپ کی وہ نظم جو ’ہم سب‘ میں آئی ہے (وبا کے دنوں میں ایک نظم) عمدہ نظم ہے اسے اور بڑھائیے۔

Read more

عالی جی اک کوی رسیلے، دھنک سے جن کو پیار

(20 January 1925 – 23 November 2015: نوابزادہ مرزا جمیل الدین احمد خان‎) ”وہ پلنگڑی پر گاؤ تکیے کے سہارے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ اور چاروں طرف فرش پر کوئی پچاس شاگرد، بیچ میں ایک مٹھائی کا خوان رکھا تھا اور خوشبویات اور ہار پھول وغیرہ۔ داروغہ دیوان خانے سے بار بار باہر جاتا اور مغلانی بڑے دروازے کی چلمن ہٹا کر چائے کی کشتیاں بڑھاتی جاتیں“ قارئین آپ کو یہ منظر نامہ پرانی مغلئی تہذیب کا کوئی منظر معلوم

Read more

کہانی گل پری کی۔۔۔ زہرہ نگاہ کی زبانی

سننے میں یہ نام آپ کو بہت اچھا لگے گا۔ پریوں کی کہانیاں تو بچپن سے ہمارے حافظے کا حصہ ہیں۔ کہانیاں انسانی تہذیب کے تانے بانے میں ایسی پروئی ہوئی ہیں کہ ہم انہیں الگ کر ہی نہیں سکتے۔ آج ہم اپنے عہد کی اہم ترین شاعرہ زہرہ نگاہ (زہرہ آپا) کی چوپال میں چلتے ہیں اور ان سے سنتے ہیں ”کہانی گل پری کی“ ۔ زہرہ آپا کے پاس بہت سی کہانیاں ہیں۔ میٹھے لہجے میں دھیمے دھیمے

Read more

جب شام کو ویرانے میں امریکی شاہراہ پر میری گاڑی خراب ہوئی

راولپنڈی موٹر وے پر پیش آنے والے سانحے کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی دل کانپ جاتا ہے۔ اس وقت میں نے قلم اس لئے نہیں اٹھایا ہے کہ اس واقعے کے کسی اخلاقی پہلو پر گفتگو کروں۔ اس مظلوم عورت کا دفاع کروں جس کی گاڑی بیچ راستے میں بند ہو گئی تھی یا کسی سفاکانہ بیان بازی پر احتجاج کروں کہ ”اے عورت تورات کو تنہا کیوں نکلی؟“ میں تو بس یہ سوچ رہی ہوں کہ کیا یہ سانحہ ایک ایسی سرزمین پر پیش آیا جہاں چپے چپے میں پانچ وقت اذان کی آواز گونجتی ہے۔ جہاں جمعے کے جمعے ہر مسجد میں ایمان تازہ کرنے والے خطبے دیے جاتے ہیں اور جو مملکت خداداد کہلاتی ہے۔

میرے ذہن میں یہ سوال اس لئے بھی اٹھ رہے ہیں کہ میں پچھلی تین دہائیوں سے امریکہ میں مقیم ہوں۔ اس غیر اسلامی ریاست میں تیس برس سے میں گاڑی دوڑاتی، دندناتی پھر رہی ہوں یہاں کبھی کسی نے مجھے یہ احساس نہیں دلایا کہ اے عورت تو آدھی رات کو تنہا کیوں نکل پڑی۔ مجھے کبھی کسی نے یہاں گھور کر نہیں دیکھا۔ میں نے یہاں ملازمت بھی کی اور اکیلے لانگ ڈرائیو بھی کی۔ اس حوالے سے مجھے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔ ہوا یہ کہ میں اپنی چھوٹی بیٹی کے ساتھ ہیوسٹن سے آسٹن جا رہی تھی۔

Read more

آصف فرخی کا اداس جنم دن

آج آصف فرخی کی اکسٹھویں سالگرہ کا دن ہے۔ گویا کہ اگر وہ اور جیتے رہتے تو آج ہم ان کو سالگرہ کی مبارکباد دیتے اور جواب میں شاید وہ کہتے ” بھئی گویا کہ دوست مجھے باور کرانا چاہتے ہیں کہ میں سٹھیا گیا ہوں۔” یا شاید وہ ایک کالم ہی سٹھیائے جانے پر لکھ ڈالتے۔ ادب میں کہاں کہاں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ کیسے استعمال ہوا ہے اور یہ لفظ آیا کہاں سے۔ آصف یہ سب کچھ

Read more

میرے بچپن کا محرم کہاں چلا گیا؟

پلٹ کر آدھی صدی پیچھے دیکھتی ہوں تو اپنے بچپن کا کراچی اور اس کے تیج تہوار بانہیں پھیلائے کھڑے نظر آتے ہیں۔ ماہِ محرم کی یاد سے وابستہ کہیں سبیلوں کے جگمگاتے ہوئے مٹی کے کورے گھڑے تو کہیں تعزیہ کی جھلملاتی پنیوں سے مزین مہمان کربلا کے روضے کی یاد میں آباد عقیدت کی ایک دنیا۔ میرے بچپن کا ابتدائی زمانہ جس محلے میں گزرا وہ ملیرکالونی میں بی ایریا کا آخری محلہ تھا جو” فاروق آباد” کہلاتا

Read more

گنگا جمنی تہذیب اور محرّم

ابھی میں ”ہم سب“ میں ایک کالم پڑھ رہی تھی محرم کے حوالے سے اور ذکر تھا ”پیک“ کا۔ پیک یا پائک کے ذکر کے ساتھ مجھے چونتیس برس پہلے کا اپنا ہندوستان کا پہلا محرم یاد آگیا، یوں جیسے بھولی بسری کسی ڈائری کا پرانا ورق الٹ جائے۔ میں مشرقی یوپی کے چھوٹے سے شہر بلرام پور میں ہوں۔ سال ہے انیس سو پچاسی اور مکان ہے ”کوٹھی سید صاحب“ جس کے مرکزی حصے میں ہم رہتے ہیں اس کے اطراف ہندؤوں اور مسلمانوں کے ملے جلے مکانات ہیں۔

Read more

عصمت آپا

(21 اگست کو اردو ادب کی پہلی جون آف آرک محترمہ عصمت چغتائی کا 109واں یوم پیدائش ہے۔) عقیل عباس جعفری نے جب مجھ سے عصمت چغتائی کے حوالے سے کچھ لکھنے کو کہا تو میں انکار نہ کرسکی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ نثر میرا میدان نہیں ہے، میں نے ان سے وعدہ کرلیا۔ میں قلم لے کر بیٹھی تو عصمت آپا جیسے میرے سامنے آبیٹھیں۔ محسوس ہوا کہ آنکھیں سکیڑے مسکرا رہی ہیں۔ وہی گہری معنی خیز مسکراہٹ۔

Read more

ماں کی یاد میں

ماں تم مجھے سناتی تھیں جادو والی ایک کہانی شہزادی جو چڑیا بن گئی روز محل کے باغ میں آتی پہلے روتی پھر مسکاتی رونے سے سو موتی جھڑتے نوکر چاکر جھولی بھرتے مسکاتی تو پھول بکھرتے مالی اپنا دامن بھرتے میں کہتی پھر کیا ہوتا ماں؟ تم کہتیں، وہ بھولی چڑیا سارے میٹھے بول سنا کر آسمان کی اُور اڑ جاتی میں کہتی پھر کیا ہوتا ماں؟ تم کہتی تھیں، بس اب سو جا سو جا میری "منّی رانی”

Read more

وبا کے زمانے میں ایک نظم

خدا بخشے نانی ہماری بتاتی تھیں  جس سال نانا تمہارے زیارات پر تھے وبا ایسی آئی  کسی شہر و قریہ کو اس نے نہ چھوڑا وبا پہلے پھوٹی اناجوں کے گودام اور منڈیوں سے مگر دیکھتے دیکھتے بستیوں کا صفایا ہوا عجب ہو کا عالم تھا کوئی جنازے کو کاندھا نہیں دینے والا رہا تھا منادی ہوئی پھر کہ سب بستیاں چھوڑ میدان میں ڈیرہ ڈالیں کھلے آسماں کے تلے جانے کب تک بسیرا رہا تھا مرے گھر کے سب

Read more

کیا یہ بچہ آپ کے شوہر ہی کا ہے؟

یہ آج سے پورے اٹھائیس برس پہلے کی بات ہے۔ مجھے امریکہ آئے ہوئے ایک سال ہوا تھا۔ وہ 27 اور 28 نومبر 1991ء کی درمیانی شب تھی جب ہمارے یہاں ایک نئے مہمان کی آمد کے آثار ظاہر ہوئے۔ میں نے متعلقہ شعبے کی نرس کو فون کیا۔ اس نے کیفیت پوچھی اور فوراً اسپتال آنے کا مشورہ دیا۔ میرے پہلے دو بچوں کی پیدائش چونکہ اپنے وطن میں ہوئی تھی اس لئے مجھے امریکہ کے ہسپتال کا یہ

Read more

علی سردار جعفری کا وصیّت نامہ

آج علی سردار جعفری صاحب کے انتقال کو انیس برس گزر گئے ہیں۔ ادب میں ان کے نام اور ان کے کام کے حوالے سے انہیں یاد کرنے والے بہت کچھ لکھ رہے ہیں اور آگے بھی لکھتے رہیں گے۔ میں آج صرف ان کی روز مرہ زندگی کے حوالے سے مختصراً اپنی یادداشت کو سمیٹنے کی کوشش کروں گی۔ میں انیس سو چوراسی میں جب پہلی بار ان کے گھر گئی تو اس سادہ سے رہن سہن کو دیکھ

Read more

جب فہمیدہ ریاض کی ”آواز“ پر چھاپہ پڑا

فہمیدہ ریاض سے میرا پہلا تعلق تو وہ ہے جو ہر نسل کا اپنے پیش روؤں کے ساتھ ہوتا ہے اور میری یہ بھی خوش قسمتی تھی کہ میں نے ان کے ساتھ ان کے رسالہ ”آواز“ میں کچھ عرصہ ان کی معاونت کی۔ یوں انہیں بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ ضیا الحق کے مارشل لا کا وہی پر آشوب دورتھا جب رسالہ ”آواز“ پر مقدمات قائم کیے گئے جس کے نتیجے میں فہمیدہ ریاض کو جلا

Read more

فیض میلے کے نام

  یہاں کسی کی آنکھ اور کسی کے کان بند ہیں نکل چلو کہ اس گلی کے سب مکان بند ہیں   لٹک رہی ہیں سولیوں پہ دور تک سماعتیں سنا ہے اب کے نے نواز و قصہ خوان بند ہیں   لگی ہیں یوں تو ساحلوں پہ کشتیاں قطار سے مگر ہوا رکی ہے اور بادبان بند ہے   خود اپنے ہی حصارِ ذات اور انا کی قید میں ستم یہ ہے ہمارے جیسے خوش گمان بند ہیں  

Read more

دنیا کا سب سے اونچا تعزیہ…. جو میں نے دیکھا

مجھے یاد ہے کہ ہمارے گھر کے سامنے کافی کشادہ جگہ تھی اسے ایک کشادہ سڑک کہنا بھی غلط نہ ہوگا۔ اس سے ذرا سے فاصلے پر کواٹروں کی کھڑی کھڑی قطاریں تھیں جن کے بعد میدان آجاتا تھا۔ یہ محلہ، بی ایریا، ملیر میں تھا۔ جسے ’فاروق آباد ‘بھی کہا جاتا تھا۔ میرے بچپن کا بہت ابتدائی حصہ اس محلے میں گزرا لیکن میرے حافظے سے اس جگہ کی یادیں اور وہ چہرے کبھی فراموش نہیں ہوسکے۔ ان دنوں

Read more

مرزا غالب، جنسی ہراسانی اور سوشل میڈیا

کل شام میری ایک جاننے والی کا فون آیا۔ آواز میں گھبراہٹ تھی۔ میں نے کہا خیریت۔ بولیں جلدی سے ایک شعر کا مطلب بتا دیجئے۔ دھول دھپا اس سراپا ناز کا شیوہ نہ تھا ہم ہی کر بیٹھے تھے غالباً پیش دستی ایک دن میں نے کہا غالباً نہیں غالب ہے۔ بولیں اچھا غالب سہی، جلدی مطلب بتائیں۔ اور ایک اور شعر ہے”وہ ساغر و مینا مرے آگے” پہلا مصرع کیا ہے وہ۔ وہ جس میں کچھ ہاتھ میں

Read more