راولپنڈی موٹر وے پر پیش آنے والے سانحے کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی دل کانپ جاتا ہے۔ اس وقت میں نے قلم اس لئے نہیں اٹھایا ہے کہ اس واقعے کے کسی اخلاقی پہلو پر گفتگو کروں۔ اس مظلوم عورت کا دفاع کروں جس کی گاڑی بیچ راستے میں بند ہو گئی تھی یا کسی سفاکانہ بیان بازی پر احتجاج کروں کہ ”اے عورت تورات کو تنہا کیوں نکلی؟“ میں تو بس یہ سوچ رہی ہوں کہ کیا یہ سانحہ ایک ایسی سرزمین پر پیش آیا جہاں چپے چپے میں پانچ وقت اذان کی آواز گونجتی ہے۔ جہاں جمعے کے جمعے ہر مسجد میں ایمان تازہ کرنے والے خطبے دیے جاتے ہیں اور جو مملکت خداداد کہلاتی ہے۔
میرے ذہن میں یہ سوال اس لئے بھی اٹھ رہے ہیں کہ میں پچھلی تین دہائیوں سے امریکہ میں مقیم ہوں۔ اس غیر اسلامی ریاست میں تیس برس سے میں گاڑی دوڑاتی، دندناتی پھر رہی ہوں یہاں کبھی کسی نے مجھے یہ احساس نہیں دلایا کہ اے عورت تو آدھی رات کو تنہا کیوں نکل پڑی۔ مجھے کبھی کسی نے یہاں گھور کر نہیں دیکھا۔ میں نے یہاں ملازمت بھی کی اور اکیلے لانگ ڈرائیو بھی کی۔ اس حوالے سے مجھے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔ ہوا یہ کہ میں اپنی چھوٹی بیٹی کے ساتھ ہیوسٹن سے آسٹن جا رہی تھی۔
Read more