میرا انتخاب تحریک انصاف کیوں؟


میں جانتا ہوں میرے انتخاب کی کوئی خاص وقعت نہیں ہے یا تھوڑی بہت ہو بھی سکتی ہے کے میں اس معاشرے کا فرد ہوں اور فرد معاشرے کی اکائی ہے۔
میرا انتخاب تحریک انصاف یا ہوں کہہ لیجیے اب تک تحریک انصاف ہی کیوں؟
تو پہلی بات یہ کے تحر یک انصاف کو پہلے دن سے ہی میں نے یا مجھ جیسے بہت سوں نے کبھی تحریک انصاف کو فرشتوں کی جماعت تصور نہیں کیا نہ ہی عمران کو فرشتہ مانا ہے جو غلطیوں سے مبرا ہے۔

ہاں البتہ موجودہ سیاستدانوں میں کھڑا کر کے تعصب کے بغیر دیکھا جائے تو فرشتے سے کم نظر نہیں آئے گا۔
اور اس کی سب سے بڑی وجہ عمران خان کی ذات پر کرپشن کا داغ نہ ہونا ہے ورنہ ہمارے سیاستدانوں نے کرپشن کے داغ کو سرف ایکسل والا داغ سمجھا ہوا ہے داغ تو چلا جائے گا پر یہ وقت نہیں آئے گا۔
یا اسٹیبلشمنٹ ہے نہ سب دھل جائے گا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے عمران خان کے ساتھ والے لوگ تو وہ ہی ہیں جو کبھی جئے بھٹو یا جئے نواز کا نعرہ لگا کر کرپشن کرتے اور چھپاتے آئے ہیں۔
تواس کا جواب خود عمران خان نے اپنے اک انٹرویو میں دیا کے پنجاب میں حلقے کی سیاست ہی برادری، ذات پات پر منحصر کرتی ہے ایسے لوگوں کو لینا مجبوری ہے۔
تو اب سوال اٹھتا ہے تو تبدیلی کا نعرہ محض نعرہ ہوا تو عرض یہ ہے کے یہ بھی تبدیلی سے کم نہ ہوگا اگر یہ لوگ ایماندری اور کرپشن کیے بغیر سیاست کریں۔

اس کا عملی مظاہرہ کے پی کے میں بلدیاتی اداروں کو ایم پی ایز فنڈ ختم کر کے بلدیاتی نمائندوں کو فنڈ دینا
پولیس میں سیاسی اثرورسوخ کو ختم کرنا۔
اب کچھ احباب کو یہ بتاتا چلوں سیاسی اثرورسوخ ختم ہونے کا مطلب یہ نہیں کے کے پی کے سے جرائم کا خاتمہ ہوگیا
اس مطلب ہے جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی
اب گلو بٹ کی طرح نہیں ہوگی۔

بات ہو رہی تھی جاگیردار، سرمایہ دار کی۔
تو جاگیرداری، حق حلا ل کی دولت کوئی برائی نہیں قائداعظم کی قیادت اور اس وقت کی مسلم لیگ میں نواب، جاگیردار سب تھے سب نے بے لوث ہو کر قائد کی قیادت میں پاکستان حاصل کیا کوئی انگریزوں کے ہاتھوں بکے نہیں کیوں کے ان کا لیڈر ایماندار تھا۔
اور وہ مقولہ بھی ہے گھر کا سربراہ ٹھیک ہو سارا گھر ٹھیک ہوتا ہے۔

اب آجائیں کے پی کے کی حالات پر۔
اختصار کے ساتھ اتنی عرض، یہ بات مدنظر رکھتے ہوئے اک طرف 35 سال کی حکومت دوسری طرف 4 سال کی حکومتی کارکردگی، کسی بھی نیو ٹرل ادارے کا سروے کی رپورٹ پڑھ لیں تو آپ کو اندازہ ہوجائے گا تحریک انصاف کی کے پی کے کارکردگی کیسی رہی۔

ہمارے پشتون بھائیوں کے بارے میں یہ بات مشہور ہے اک دفعہ کسی کو ووٹ دے دیا تو دوبارہ الیکشن میں اس کو کبھی نہیں جتواتے، اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے بھائیوں نے حلقہ این اے ون میں تحریک انصاف کو شکست دلوا دی تھی لیکن نتائج سب کے سامنے رہے۔

اب آجائیں عمران خان کی مدرسوں کو فنڈنگ۔
یہ اعتراض وہ ہی احباب کر رہے ہیں جو مدرسہ ریفارمز، مدرسوں کو ریاستی تحویل میں لینے پر دلائل دیتے ہوئے نہیں تھکتے تھے، جو کے میں ذاتی طور پر بھی سمجھتا ہوں مدرسوں کا انتظام ریاست کے پاس ہونا چاہیے، اب جب کے تحریک انصاف نے مدرسہ ریفارمز کرتے ہوئے ان کو فنڈ دیے تاکے مدرسوں کے بچے بھی کافر کافر کے سبق کے علاوہ کمپیوٹر، ریاضی پڑھ سکیں، قومی دھارے میں شامل ہوسکیں تو اس بات پر اعتراض بنتا نہیں۔

آخر میں اگر عمران خان کے اس قوم کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی طرف، بلکہ ان وعدوں کو میں ذاتی حیثیت میں لیتے ہوئے، کیوں کے قوم کے ری ایکشن کا مجھے نہیں معلوم۔ وہ شاید ماضی کی طرح مستقبل میں بھی کوئی ری ایکشن نہ دکھائیں۔ جھوٹے وعدوں پر اس لئے میرے ساتھ کیے ہوئے وعدوں کا حال ایسا ہی ہوا جیسے چھوٹے میاں شہباز نے کچھ دن پہلے کہا کہ دوبارہ حکومت ملی تو لوٹا ہوا مال واپس لاؤں گا۔

تو میری طرف سے تحریک انصاف پر وہ شے جو عمران خان نے پارلیمنٹ پر کی۔
اس کے بعد تو میں اپنی ہی سیاسی پارٹی بنانے کا سوچوں گا۔

Facebook Comments HS