انسانی رویہ ہے ہمیشہ اس چیز سے متاثر ہونا جو اس کی پہنچ میں نہ ہو۔ یا انسان ان چیزوں کے سامنے جھکتا آیا ہے جس نے انسان کو میں اپنی ہیبت یا خوف میں جکڑ لیا۔ انسان سورج کی چمک، تپش سے متاثر ہوا تو اس کے آگے جھکنے لگا تو کبھی کسی انسانی گروہ کو آگ نے متاثر کیا تو اس کی پوجا شروع کر دی۔ وقت گزرنے اور سائنسی ترقی نے کافی حد تک انسان کے اس رویے کو تبدیل کر دیا لیکن ختم نہ ہوسکا۔
موجود دور میں اس رویے کا انداز بدل گیا، چزیں بدل گئیں جن سے متاثر ہوا جاتا ہے۔ خاص طور پر تیسری دنیا کے ممالک میں یہ رویہ ذات، پات، رہن سہن کے انداز میں تبدیل ہوگیا۔ اسی تناظر میں کے لوگ اپنے رہنما سے یا اپنے پیر سے یا کسی شخص سے (جس کا معاشرے میں مقام جس بھی وجہ بلند ہو) متاثر کس طرح ہوتے ہیں اور کس حد تک ہوتے ہیں اک صاحب نے اپنے پیر کی دوسروں پر برتری بیان کرتے ہوا کہا جو راقم نے اپنے کانوں سے خود سنا کے میرے پیر دی کی گل اے قبلہ صاحب بغیر نمبر پلیٹ دی گاڑی ایچ پھر دے نے (میرے پیر کی کیا بات وہ تو بغیر نمبر پلیٹ کی گاڑی میں پھرتا ہے ) جہاں کسی کی قابلیت، افضلیت کا پیمانہ یہ ہو کہ وہ عام لوگوں کی طرح نہیں رہتا اس کا رہن سہن عام لوگوں یا اکثریت کی طرح نہیں ہے وہاں پر پیر، وڈیروں کا اوپر سیاست میں آنا اور نسل در نسل ہم پر حکمرانی کرنے میں کوئی حیرانگی کی بات نہیں۔
Read more