کیا پشتون احتجاج کو اسلام آباد بلاک کرنے پر ہی سنا جائے گا
قبائل اور دیگر پشتون اسلام آباد پریس کلب کے سامنے 31 جنوری سے احتجاج کر رہے ہیں. یہ ان نام نہاد مہذب شہریوں سے کہیں زیادہ مہذب انداز میں احتجاج رجسٹر کرا رہے ہیں جنہوں نے اسلام آباد کو مفلوج کر دیا تھا. یہی وجہ ہے کہ ان کو کوئی توجہ نہیں مل رہی ہے.
کیا وہ کوئی توڑ پھوڑ کریں، سڑکیں بند کریں، شہریوں اور پولیس پر حملے کریں تو پھر ہی ان کو حکومتی توجہ ملے گی؟ کیا جائز شکایت کو اسی وقت رفع کیا جائے گا جب شکایت کرنے والا بدمعاشی کرے؟ یا پھر جائز مطالبات کو حالات بگڑنے سے پہلے مان لینا چاہیے.
اس احتجاج کی پشتونوں اور قبائل کے لئے اہمیت کو اس امر سے سمجھ لینا چاہیے کہ اس میں فاٹا کے تمام سینیٹر، ممبران اسمبلی، ملکان، سیاسی لیڈر اور نمایاں ایکٹی وسٹ موجود ہیں.
اسلام آباد پریس کلب کے سامنے ہزاروں پشتون بیٹھے ہیں اور پریس کی نگاہوں سے اوجھل ہیں.
ان کے مطالبات کیا ہیں؟
نقیب محسود کے لئے انصاف اور اس کے قاتل کو سزا.
کراچی اور ملک کے دیگر علاقوں میں بالائے قانون سزائے موت یعنی ایکسٹرا جوڈیشنل کلنگ کا خاتمہ
فاٹا سے بارودی سرنگوں کا خاتمہ جو بہت سے بڑوں اور بچوں کو نہ صرف مار رہی ہیں بلکہ بہت سوں کو زندگی بھر کے لیے معذوری کا شکار بنا رہی ہیں
مسنگ پرسن کو عدالتوں میں پیش کر کے ان کے لیے انصاف کا مطالبہ. اگر وہ مجرم ہیں تو ان کو سزا دی جائے، اگر معصوم ہیں تو چھوڑ دیا جائے.
یہ سب مطالبات تو وہ حقوق ہیں جن کا وعدہ ہمارا آئین کرتا ہے. ان کو اہمیت دینا سب شہریوں کو فائدہ دے گا.
پشتونوں کے مطالبات پر توجہ دی جائے اس سے پہلے کہ وہ ان سے مایوس ہو کر خدانخواستہ کسی دوسری آپشن پر غور کرنے لگیں اور پاکستان دشمن قوتیں ان کو اپنی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہونے لگیں.
یہ جنگ صرف تحریک طالبان پاکستان کے خلاف ہتھیاروں کی جنگ نہیں ہے. یہ ذہنوں کی جنگ بھی ہے. ہمیں دہشت گردوں کو شکست دینے اور پاکستان کو طاقتور کرنے کے لیے قبائل کے دل جیتنے ہوں گے. قبائل نے ہمیشہ پاکستانی ریاست کا ساتھ دیا ہے. ریاست کو بھی ان کا ساتھ دینا ہو گا.


