محض لطف لیجئے، ہنسنا منع ہے!
تقریر مسلمان کی شلوار کی طرح ہونی چاہئے، نہ اتنی مختصر کہ ستر کی شرائط نہ پوری ہوسکیں، نہ اس قدر لمبی کہ ٹخنے ڈھک جائیں، تقریر کا اسکرٹ کے ساتھ موازنہ کرنے پر سماجی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے چیف جسٹس پر تنقید کے بعد ذرائع کے مطابق انہوں نے اپنے بیان کی تصحیح کر لی۔
٭٭٭
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین، نجم سیٹھی نے اپنے خلاف ہونے والے اس پراپیگنڈے کو رد کر دیا ہے کہ ان کی تعیناتی خالِصتًا سیاسی بنیادوں پر ہوئی ہے اور یہ کہ انہیں کرکٹ کی کوئی سمجھ بوجھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالج کے زمانے میں وہ خود بھی کرکٹ کے اچھے کھلاڑی رہے ہیں اور دوسری ٹیموں کے مقابلے میں سب سے زیادہ گول بھی وہی سکورکیا کرتے تھے۔
٭٭٭
سرفراز احمد نے پریس کانفرنس میں بیٹسمینوں کی کارکردگی پر تنقید کے جواب میں دنیا کا نقشہ دکھاتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ نیوزی لینڈ ایک تو انتہائی چھوٹا ملک ہے، دوسرا دنیا کے کونے میں واقع ہے، ہمارے بیٹسمین کھل کر کھیل ہی نہیں سکے!
٭٭٭
لعنت پارلیمنٹ پر بھیجی تھی، پارلیمنٹ سے ملنی والی تنخواہ پر نہیں، ملک کی ایک بڑی سیاسی شخصیت نے اپنے پر ہونے والی تنقید کے جواب میں اپنا وضاحتی بیان جاری کر دیا۔
٭٭٭
پی آئی اے کے طیارے کی گمشدگی اور بعد ازاں جر منی کے عجائب گھر سے برآمدگی کے بعد ادارے نے پاکستان کی فضائی حدود میں پولیس کے ناکے لگوانے کا فیصلہ کر لیا۔ ملک سے باہر جانے والے پی آئی اے کے ہرطیارے کے کاغذات چیک کئے جائیں گے۔ ضرورت پڑنے پر طیارے کی ڈگی کی تلاشی بھی لی جائے گی اور نیچے ٹارچ والا آئینہ بھی پھیرا جائے گا۔ موقع پر تعینات پولیس والے البتہ نہ تو عملے اور مسافروں کے منہ سونگھ سکیں گے، نہ ہی نکاح نامہ طلب کرنے کے مجاز ہوں گے، پی آئی اے کے ترجمان کی وضاحت۔
٭٭٭
قیامت کی پیش گوئی کا ماخذ ڈاکٹر شاہد مسعو د یا قیامت سے متعلق ان کے کچھ عرصہ قبل نشر ہونے والے پروگرام نہیں بلکہ اس پر ایمان، اسلام کا ایک بنیادی اور لازمی جز ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے قصور واقعے کے حوالے سے حالیہ بیانات کے بعد لوگوں میں قیامت کے متعلق بھی پھیلتے شکوک و شبہات کو روکنے کے لئےعلمائے کرام کا مشترکہ بیان!
٭٭٭
دالبندین کے اسسٹنٹ کمشنر صاحب نے’فوری پابندی برائے داڑھی ڈیزائن‘ کے عنوان کے تحت جاری شدہ مراسلے کے ذریعے حجام حضرات پر داڑھی کے ڈیزائن بنانے پر پابندی لگا دی ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر آفس کے ترجمان نے یہ واضح کیا کہ مونچھوں کی کانٹ چھانٹ بھی محض اسسٹنٹ کمشنر صاحب کے منظور شدہ ڈیزائنوں کے مطابق ہی کی جا سکے گی جس کے اسکیچوں پر اسسٹنٹ کمشنر صاحب خود کام کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے جلد ہی ایک مراسلہ بھی جاری کیا جائے گا۔ دوسری طرف شہر کے لوگوں میں شدید تشویش پھیل گئی ہے کہ نہ جانے مونچھوں کے حوالے سے ان کے اپنائے ہوئےڈیزائن منظور بھی ہو سکیں گے یا نہیں۔ البتہ ہٹلر سٹائل کی مونچھیں رکھنےوالے حضرات مطمئن نظر آئے، ان کا ماننا تھا کہ یہودیوں کے حوالے سے ہٹلر کی ’خدمات‘ کے پیش نظر، جذبۂ ایمانی سے سرشار ان کے اسسٹنٹ کمشنر صاحب اس ڈیزائن پر کسی طور پابندی نہیں لگائیں گے۔
٭٭٭
لاہور جلسے کوشرکاء کی تعداد کے حوالے سے ناکام قرار دینے کے حکومتی بیان کو علامہ نے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نےکہا کہ ہم نے پہلے ہی واضح کر دیا تھاکہ یہ ایک مرحلہ وار احتجاجی تحریک ہو گی۔ خواب میں ایک اشارہ ہونے کے بعد، اس مرحلے پر ہم نے ایک حکمت عملی کے تحت خالی کرسیوں کے ساتھ ہی جلسہ کرنا تھا۔ کینیڈا سے میری واپسی کے بعد، دوسرے مرحلے میں جلسہ بھری ہوئی کرسیوں کے ساتھ کیا جائے گا، علامہ کا دو ٹوک اعلان!
٭٭٭
بلوچستان کے نو منتخب وزیر اعلیٰ اور ان کی کابینہ کے حالیہ دورہ سندھ اور پیپلز پارٹی کی اعلٰی قیادت سے ملاقات پر تنقید اور اسے ہارس ٹریڈنگ کا شاخسانہ قرار دینے کو حکومتِ سندھ کے ترجمان نے مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان کے مطابق نو منتخب وزیراعلیٰ عوامی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہیں اور اپنے صوبے کو ترقی یافتہ بنانے اور اس میں دوررس اور دیرپا اصلاحات متعارف کروانے میں انتہائی سنجیدہ ہیں۔ اس حوالے سے دوسروں کے تجربات سے سیکھنے کے لئےاگر ان کا انتخاب سندھ ٹھہرا تھا تو اس میں حکومتِ سندھ یا پیپلز پارٹی کا کیا قصور؟
ترجمان نے یہ بھی کہا کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی حکومتوں کو بھی ان کی جانب سے کھلی دعوت ہے کہ وہ آئیں اور دیکھیں کہ صحیح معنوں میں ترقی اور تبدیلی کسےکہتے ہیں اور ’گُڈ گورننس‘ کس چڑیا کا نام ہے!
٭٭٭
سعودی عرب کی قیادت میں بننے والےاسلامی فوجی اتحاد کا ہنگامی اجلاس ریاض میں منعقد ہوا جس میں سفارت خانے کی یروشلم منتقلی کے امریکی اعلان کے مضمرات پر غور کرتے ہوئے امریکی قیادت کو واشگاف الفاظ میں تیس دن کا الٹی میٹم دے دیا گیا۔ اس عرصہ کے دوران اگر امریکی قیادت نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو مدت پوری ہونے پر اکتالیس ملکی اتحاد کی افوج ٹائمز اسکوائر پر دھرنا دیں گی، اورمطالبات پھر بھی منظور نہ ہونے کی صورت میں تا دمِ مرگ بھوک ہڑتال کریں گی۔ ان فیصلوں کا اعلان ایک پریس کانفرنس میں کیا گیا جس میں فوجی اتحاد کی تمام قیادت کالی پٹیاں باندھ کر شریک ہوئی۔


