آئیے لیے چلتے ہیں ہم آپ کو ٹرین کے اِک سفر پر

ہم ناسٹلجیا کے مارے، ماضی پرست لوگوں کا کیا کیجئے، ہمارا ایک مسئلہ تھوڑی ہے۔ ہر شے ہر بات میں ماضی ڈھونڈنے نکل کھڑے  ہوتے ہیں۔ اب کیا زمانہ ہے کہ کوئی اپنی خوشی سے ریل پر عازمِ سفر ہو جائے! بہرحال کچھ دن قبل مجھے لاہور سے اسلام آباد کا سفر درپیش ہوا تو ریل کے سفر کی اپنے بچپن کی یادوں کو تازہ کرنے کی خواہش کو پورا کرنے کی ٹھانی، جو ایک عرصہ سے دل میں پنپ

Read more

آہ، مونال!

اسلام آباد میں رہنے والے کسی بھی شخص سے پوچھیے، وہ کون سی جگہ ہے جسے وہ اپنے دیگر شہروں اور ملکوں سے آنے والے مہمانوں کو بڑے فخر سے دکھاتے ہیں، جیب اجازت دے تو وہاں بھی کھانا کھلاتے ہیں۔ انٹرنیٹ کی وساطت سے، سیاحت سے متعلقہ ویب سائٹس اور بلاگ اور ایسے ذرائع سے مدد لیجیے، آپ کو ہر بار سرِفہرست یہی مونال نظر آئے گا۔ یہ سچ ہے کہ قدرے مہنگا ہونے کے سبب یہاں کھانا تناول

Read more

انسان رے انسان، تیری کون سی کل سیدھی!

ظلم اور بربریت کی ایک نئی داستان رقم ہو گئی ہے۔ اونٹ اپنی جسامت کے برعکس ایک نہایت شریف النفس جانور تصور کیے جاتے ہیں۔ صدیوں سے انسان اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے آ رہے ہیں اور یہ اونٹ سر جھکائے ان کی خدمت پر معمور رہتے ہیں۔ محمد عربی ﷺ کے بھی محبوب ترین جانوروں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ قصویٰ نامی اونٹنی آپ ﷺ سے منسوب ہے۔ لیکن یہ بے زبان جانور کبھی سوچ بھی

Read more

نواب صادق خان عباسی (پنجم) کی صاحبزادی سے ایک ملاقات

میری نظر بیتابی سے اس پردے پر جمی ہوئی تھی جس کے عقب سے ریاست بہاولپور کے آخری فرمانروا، نواب صادق محمد خان عباسی پنجم کی آخری صاحبزادی کو نمودار ہونا تھا۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے یار لوگوں کو بتاتا چلوں کہ یہ وہی نواب صاحب ہیں جنہوں نے نہ صرف بہاولپور کی تعمیر و ترقی اور اس کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کلیدی کردار ادا کیا بلکہ تقسیم ہند کے بعد نوزائیدہ مملکت پاکستان کو

Read more

کچھ ریاست بہاولپور کے آخری نواب کی بابت!

بہاولپور ایک حیرت کدہ ہے۔ جو شخص اس شہر کو پہلی بار دیکھتا ہے، خوشگوار حیرت میں ہی مبتلا ہو جاتا ہے۔ کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا کہ جنوبی پنجاب کے نسبتاً پسماندہ خطے میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت آباد کردہ، اس قدر منظم، ترقی یافتہ، صاف ستھرا، سر سبز، اور انتہائی دیدہ زیب محلات اور تاریخی عمارات سے مزین شہر بھی واقع ہو سکتا ہے۔ ایک زمانے میں یہ ریاست بہاولپور کا دارالحکومت تھا کہ جس میں

Read more

ایک دن سہیل وڑائچ کے ساتھ

آپ ٹی وی دیکھتے ہوں اور سہیل وڑائچ سے آگاہ نہ ہوں، کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ ہم جیسے بے وقعتوں کو کہ جن کا تھانے کچہری میں کوئی واقف بھی نہیں ”کیا یہ کھلا تضاد نہیں“ کہتے ہوئے ڈر بھی لگتا ہے پولیس والے دھر ہی نہ لیں کہ اس کے استعمال کے جملہ حقوق تو کب کے سہیل وڑائچ کے نام محفوظ ہوچکے۔ ہمارے ایک بزرگ نے تو یہ بھی بتایا ہے کہ تضاد پہلے اس قدر کھلا

Read more

اردو کا نوحہ کیا کہئیے

ابھی کل کی بات ہے کتب و رسائل کو پڑھنا ہر پڑھے لکھے گھرانے کی روایت تھی۔ اور تو اور سکولوں میں بھی بزم ادب سجانا، مضمون نویسی، مشاعرے، مباحثے، تقریری مقابلے منعقد کرنا معمول کا حصہ تھا۔ اس طورہم اپنی تاریخ، تہذیب اور اخلاقی روایات سے آگاہ ہوتے تھے۔ بڑھا دیتی ہیں عمروں کو نہ جانے یہ کتابیں کیوں میں چھوٹا تھا مگر سر پر کئی صدیوں کا سایہ تھا گئے دنوں میں معیاری ادب پڑھنے لکھنے سے ہم

Read more

انکل چیف جسٹس، ہمارا گراؤنڈ بچا لیں!

انکل، میرا نام مہد ہے اور میں چھٹی کلاس میں پڑھتا ہوں۔ ہم تین بھائی اور ایک بہن ہیں، اور میں سب سے بڑا ہوں۔ ابو اسلام آباد میں ایک دفتر میں کام کرتے ہیں۔ ہم ابو کے دفتر کے نزدیک ہی ایف ایٹ مرکز میں ایک پلازے کی اوپر والی منزل میں ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہتے ہیں۔ ہمارے گھر میں کھیلنے کی جگہ بالکل نہیں ہے، ہاں نیچے ایک گراؤنڈ ہے۔ ہم دوپہر کے بعد وہاں چلے جاتے تھے، ساتھ والے گھروں سے، فلیٹوں سے، بلکہ دکانوں، ہو ٹلوں اور ورکشاپوں سے بھی ہمارے جیسے اور بھی بہت سے بچے وہاں آ جاتے تھے اور ہم سب خوب بھاگتے دوڑتے تھے، فٹ بال اور کرکٹ کھیلتے تھے۔

کبھی کبھی تو امی ابو بھی ہمارے ساتھ نیچے چلے جاتے تھے۔ ابو واک کرتے رہتے تھے اور امی دوسری آنٹیوں سے باتیں۔ گرمیوں میں تو ہم اکثر ہی رات کے کھانے کے بعد وہاں چلے جایا کرتے تھے، کچھ دیر کے لئے اپنے فلیٹ کی گرمی سے بھی بچ جاتے تھے، کچھ کھلی ہوا میں سانس بھی لے لیا کرتے تھے۔ امی کہا کرتی تھیں اس گراؤنڈ میں تو ہر وقت بچوں کی وجہ سے میلہ لگا رہتا ہے۔

Read more

وی آئی پی لاؤنج میں استاد ایک اجنبی!

ماسٹر ندیم کا قد چھ فٹ سے بھی کچھ نکلتا ہوا تھا۔ راولپنڈی کے ایک سرکاری سکول میں ریاضی کے استاد تھے۔ اس سے پہلے بھی دو حج اور دو عمرے کر چکے تھے اور اسی نسبت سے اس گروپ کے امیر مقرر ہوئے تھے۔ ان کے اس گروپ میں اسلام آباد میں اعلٰی عہدے پر فائز ایک سرکاری افسر صاحب بھی شامل تھے جو اپنی والدہ کے ساتھ حج کرنے آئے ہوئے تھے۔ ماسٹر صاحب کی زوجہ محترمہ بھی

Read more

اس مشہور کھلاڑی کی وہ حرکت اس قدر قابلِ فراموش بھی نہ تھی!

میرے کمرے کی کھڑکی سے محلے کے لڑکے بالے کرکٹ کھیلتے نظر آتے تھے، اور مجھے یہ نظارہ بہت بھاتا تھا۔ یہ کرکٹ کا عشق تھا یا شاید اپنے بچپن کے کھوئے ہوئے دنوں کی یاد، میں اکثر سہ پہر کو چائے کا کپ لے کر کھڑکی کے ساتھ جا بیٹھتا تھا اور کچھ اس طرح سے ٹکٹکی باندھے ان کے کھیل سے محظوظ ہوتا رہتا تھا کہ دن ڈھلنے کا پتا ہی نہیں چلتا تھا۔ انہی دنوں میں نے

Read more

ملیے بہاولپور کے ایک حیرت انگیز شخص سے

میں ان دنوں نیا نیا بہاولپور میں تعینات ہوا تھا اور شام کو اپنے کیمپ آفس میں بیٹھا ڈاک نکال رہا تھا کہ میرے پی اے، شاہد نے ایک پرانی نوٹ بک میرے سامنے لا رکھی۔ "یہ کیا ہے؟” میں نے نوٹ بک کھولے بغیر اس سے پو چھا۔ اس نے بہاولپور کی تحصیل احمد پور شرقیہ کے ایک چھوٹے سے قصبے، اُچ شریف کے کسی شخص کا حوالہ دیا کہ اس کی کچھ تحریریں ہیں اور اس نے آپ

Read more

اپنی مرحومہ ماں کے نام، اِک بیٹی کا پیغام

پیاری ماں، ہاں اچھی ماں ٹھنڈی، میٹھی، گھنیری چھاں لوٹ بھی آ کہ بیٹھی ہوں میں آج بھی رستہ تکتی ہوں یہ بھلا کیا بات ہوئی تو دور گُلوں میں بیٹھی ہے اور ہم دنیا میں تنہا ظالم زمانوں سے لڑتی ہیں اور پھر دنیا والےکہاں کے اچھے لڑتے لڑتے تھکتی ہوں میں آج بھی رستہ تکتی ہوں گھر میں کتنے لوگ ہیں ماں پھر بھی سُونا سُونا ہے پھولوں بھرا اِک باغ ہو جیسے اور خوشبو بِنا ہر کونا

Read more