جاپانی لڑکے اور لڑکیاں اولاد کیوں نہیں پیدا کرنا چاہتے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جاپان کے عوام نے بڑھتی ہوئی مہنگائی سے بچنے اور تیز رفتار ترقی سے مستفید ہونے کے لیے  پچے پیدا کرنے پرخود ساختہ پابندی اختیار کرنا شروع کردی ہے۔

اس کے سبب جاپان کی آبادی میں تیزی سے کمی ہونا شروع ہوئی اور اس وقت جاپان آبادی میں کمی کے بڑے بحران کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے جاپان کو فوری طور پر امیگرایشن قوانین میں نرمی کرنا ہوگی یا پھر عوام کو وہ سہولیات دینا ہوں گی جس کے تحت جاپانی عوام ازخود بچوں کی تعداد میں اضافے پر غور شروع کردیں۔

جاپان میں جن وجوہات کے سبب بچوں کی پیدائش میں کمی دیکھی جارہی ہے ان میں سے کچھ یہ ہیں:

آزاد اور ذمہ داری کے بغیر زندگی گزارنے کی خواہش
جاپان میں گزشتہ پانچ دہائیوں سے ہونے والی تیز رفتار صنعتی ترقی کے سبب جاپانی عوام کو ملازمتوں ،کاروبار اور پیسہ کمانے کے اس قدر مواقع ملے کہ جاپان میں خاندانی نظام زندگی بری طرح متاثر ہواجہاں پہلے ایک آدمی کام کرتا تھا اور بیوی گھریلو مصروفیات کی ذمہ دار تھی وہاں اب دونوں مل کر ملازمتوں میں مصروف رہنے لگے جبکہ بچوں کی دیکھ بھال کے لیے وقت نکالنا بھی مشکل نظر آنے لگا لہذا بچوں کی پیدائش میں جہاں پہلے وقفے کا رحجان تھا وہاں اب صرف ایک بچے یا پھر بغیر بچوں کے ہی خاندان آگے بڑھنے لگا ۔

تیز رفتار صنعتی ترقی جاپان میں شدید مہنگائی کا باعث بھی بننے لگی جس کے سبب بچوں کی پرورش کے لیے جہاں ماں کو ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑتے تھے وہیں بچے کی نگہداشت کے لیے آنے والے مہنگے اخراجات پورے کرنا باپ کے لیے مشکل ہونے لگا لہذا لوگوں نے بچوں کے بغیر زندگی گزارنے کو ترجیح دینا شروع کردی ۔

یہی نہیں بلکہ بعض جوڑوں نے شادی پر ہونے والے اخراجات سے بچنے کے لیے صرف پارٹنر بن کر بغیر شادی کے بھی ساتھ زندگی گزارنا شروع کردی جس سے جاپان میں خاندانی نظام کو شدید نقصان پہنچا جبکہ بچوں کے بغیر اور اکیلے زندگی گزارنے کی خواہش ، آزادی اور بغیر ذمہ داری کے زندگی گزارنے کی خواہش و معاشی خودمختاری کے بعد خواتین میں انفرادی زندگی گزارنے کی تمنا کے سبب جاپان میں طلاق کا تناسب بھی دنیا میں بہت زیادہ بڑھ گیا ہے اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر جاپان میں طلاق عام سی بات ہے ، ان تمام معاملات کا دیر سے ہی سہی اب حکومت جاپان کو بھی اندازہ ہوگیا ہے ۔

آبادی میں اضافے کے لیے حکومتی اقدامات
اکیلے زندگی گزارنے سے جاپان میں ڈپریشن میں اضافہ ہوا ہے اسی وجہ سے جاپان میں خود کشی کے واقعات میں بھی بہت اضافہ دیکھا گیا ہے کیونکہ انسان کو زندگی کے ایک مرحلے پر جیون ساتھی اور اولاد کی شدید خواہش پیدا ہوتی ہے اور جب یہ دونوں چیزیں نہ ہوں تو انسان کی مایوسی میں اضافہ ہوجاتا ہے اور بہت زیادہ مایوسی انسان کو ڈپریشن میں اور پھر بہت زیادہ ڈپریشن انسان کو خود کشی جیسے انتہائی اقدام پر مجبور کردیتے ہیں۔

ان حالات سے نمٹنے کے لیے جاپانی حکومت نے ملک میں شرح پیدائش میں اضافے کے لیے بہت سی سہولیات دینا شروع کردی ہیں جن میں بچوں کی پیدائش سے لیکر بارہ سال کی عمر تک ہر بچے کے لیے حکومت نے وظیفہ مقرر کردیا ہے جو والدین کے اکاونٹ میں ہر مہینے یا بعض صورتوں میں ہر تین ماہ بعد جمع کردیا جاتا ہے جبکہ خواتین کو زچگی کی صورت میں بچے کی پیدائش کے تمام اخراجات حکومت کی جانب سے ادا کردئیے جاتے ہیں جبکہ ہر خاتون کو زچگی کی صورت میں کئی ماہ کی چھٹی تنخواہ کے ساتھ فراہم کی جاتی ہے جبکہ والد کو بھی بیوی کی تیمار داری کے لیے سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ۔

حکومت نے صوبوں اور ضلعوں کی سطح پر بچوں کی نگہداشت کے لیے مراکز قائم کیے ہیں تاکہ میاں بیوی دونوں کی ملازمت کی صورت میں بچوں کی دیکھ بھال کے لیے حکومتیں کردار ادا کرسکیں ۔

ہر شہر میں فلاح و بہبود کا ادارہ بھی قائم ہے جو بیوہ یا طلاق یافتہ جاپانی خاتون کی بنیادی ضرورتوں کا خیال رکھتا ہے اور اسے رہائش کی فراہمی سے لیکر بچے کے اخراجات تک کے ماہانہ اخراجات ادا کیے جاتے ہیں ۔

جاپانی حکومت اپنی جانب سے ملک میں شرح پیدائش میں اضافے کے لیے بھرپور اقدامات تو کررہی ہے لیکن جاپان میں موجود غیر ملکی شہری بھی جاپان کی آبادی میںاضافے کے لیے اہم کردار ادا کررہے ہیں کیونکہ اوسطاََ جاپان میں رہائش پذیر غیر ملکی شہریوں کے ہاں چاہے ان کی اہلیہ جاپانی ہو یا غیر ملکی ان کے ہاں اوسطاََ شرح پیدائش تین سے چار بچے فی خاندان ہیں لہذا جاپانی حکومت کو ملک میں آبادی میں اضافے اور ترقی کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے آنے والے وقت میں جہاں اپنے شہریوں کو مزید سہولتیں دینا ہوں گی وہیں غیر ملکیوں کو ملک میں آنے میں سہولت دینا ہوںگی تاکہ جاپان کی ترقی برقرار رہ سکے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>