قریبی دوست کہتے ہیں کہ برطانیہ سے مرعوب عمران خان خلیفہ بننا چاہتے ہیں

اسد عمر کا بیان دلچسپ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”اسے یوں کہیے کہ وہ منصوبہ ساز نہیں ہیں۔ انہوں نے کسی ادارے میں کام نہیں کیا ہے اور انہیں علم نہیں ہے کہ کسی ادارے کے طور پر کیسے کام کیا جاتا ہے“۔ اسد عمر کہتے ہیں کہ جلسوں میں وہ دعائیں کرتے ہیں کہ عمران خان برطانوی سیاست پر نہ شروع ہو جائیں۔ ”وہ ناقابل یقین طور پر انگریز ہیں۔ میں پاکستان میں کسی دوسرے کو نہیں جانتا جو ’گوش‘ کہتا ہو۔ وہ شیکسپئیر اور میگنا کارٹا کے جملے دہراتے ہیں۔ وہ جلسوں میں ایسے پانچ لاکھ لوگوں کے سامنے برطانوی سیاست کے بارے میں باتیں کرتے ہیں جن میں سے اٹھانوے فیصد اس بات کی رتی برابر پروا نہیں کرتے کہ انگلستان میں کیا ہوتا ہے۔ مجھے کہنا پڑ جاتا ہے کہ خدا کے لئے یہ بتانا بند کر دیں کہ انگلستان میں کیا ہوتا ہے“۔
انٹرویو میں عمران خان کی قدیم ترین دوست نصرت جمیل کی رائے بھی شامل ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ عمران خان کو درختوں اور جانوروں سے بہت زیادہ محبت ہے۔ وہ اپنی بہت زیادہ مذہبی ماں سے محبت کرتے تھے اور انہیں کینسر کے مرض میں مبتلا ہو کر موت کے منہ میں جاتے دیکھ کر ریزہ ریزہ ہو گئے تھے۔ ”ان کے اوپر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان اور صراحت کی کمی ہے۔ ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ ابھی بہت زیادہ کنفیوژن ہے“۔
”وہ عقلی طور پر لبرل نہیں ہیں۔ ان کی بہت سی گرل فرینڈز ہوں گی مگر یہ بات انہیں لبرل نہیں بناتی ہے۔ وہ ایک ایسے شخص نہیں ہیں جو سیکولر معاشرے کی سوچ رکھتے ہیں، جو جمہوریت اور سیکولرازم کی سوچ رکھتے ہیں۔ بلکہ وہ مسلم انداز زندگی کی سوچ رکھتے ہیں۔ ایک مسلم طرز زندگی۔ اور ایسے ہی وہ اپنی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ اور اسی طرح وہ ملک کو بھی چلانا چاہیں گے“۔
ہماری رائے میں اس کا مطلب تو یہی نکلتا ہے کہ عمران خان جمہوریت کے ذریعے اقتدار میں تو آنا چاہتے ہیں مگر حکومت کو بطور جمہوری حکمران نہیں بلکہ خلیفہ کے طور پر چلانا چاہیں گے۔
لیکن دوستوں سے کیا گلہ۔ عمران خان تو خود کو بھی نہیں بخشتے۔ فرماتے ہیں کہ ”برطانوی سیاست، یہ کتنی بور کر دینے والی سیاست ہے۔ اگر مجھے برطانوی سیاست میں حصہ لینا پڑتا تو میں دو مہینے میں ہی خودکشی کر لیتا۔ برطانوی سیاست میں صرف ایک ہی پرجوش کر دینے والی چیز ہے اور وہ جرمی کوربن کے سٹیٹس کو کے بارے میں نام نہاد اشتعال انگیز بیانات ہیں۔ پاکستانی سیاست، یہ ہے ایک پرجوش کر دینے والی سیاست“۔
عمران خان کہتے ہیں کہ ”مت بھولیں کہ میں شاید پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ مشہور پاکستانی ہوں“۔ ہمیں زیادہ تو نہیں لیکن معمولی سا تعجب ضرور ہوا ہے کہ عمران خان خود کو قائداعظم، ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر سے زیادہ مشہور پاکستانی سمجھتے ہیں۔ ہم یہ سب کچھ ببانگ دہل کہنے پر عمران خان اور ان کے دوستوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ہر کسی میں کہاں اتنا حوصلہ ہوتا ہے کہ اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی مارتا پھرے۔

