روحانی بابے اور ادبی افیون فروشی


ہم سبھی جانتے ہیں کہ چرس، افیون اور ہیروئین جیسی منشیات کا استعمال انتہائی نقصان دہ ہے۔ اس سے ناصرف جسمانی صحت خراب ہوتی ہے بلکہ اس سے ذہنی قوت بھی ناکارہ ہوجاتی ہے۔ سوچ کی پرواز میں کوتاہی بھی واقع ہونے لگتی ہے۔ کسی کی بات سمجھنے اور اپنی بات سمجھانے کے صلاحیت دم توڑ دیتی ہے۔ لیکن ان سب حقائق، دلائل، نقصانات، احتیاطی تدابیر، پند ونصائح اور تمام معاشرتی و معاشی مسائل کو نظر انداز کے، یکسر بھلا کر اس کا استعمال کرنے والے اس کا استعمال ترک نہیں کرتے۔ کیونکہ جس طرح افیون نہ استعمال کرنے والوں کے پاس اس کے خلاف بے شمار دلائل ہیں۔ بالکل اسی طرح اسے استعمال کرنے والوں کے پاس اس کے حق میں بے شمار دلائل ہیں۔

ہمارے معاشرے کو جہا ں صدیوں سے جسمانی طور پر افیون کی لت لگی ہوئی ہے۔ وہاں ہمارے ہاں ادبی افیون کی لت بھی سنگین صورتحال اختیار کر چکی ہے۔ ادبی افیون بیچنے والے اس کاروبار سے لاکھوں کروڑوں کما چکے ہیں اور کروڑوں کما رہے ہیں۔ اس افیون کے رسیا بڑھ چڑھ کے اس کاروبار کو نفع پہنچا رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ واحد نشے کا کاروبار ہے جسے سرکاری سر پرستی بھی حاصل ہے۔ سب سے زیادہ نشہ آور مواد بیچنے والے کو انعام وکرام کے علاوہ حکومتی سطح پر ایوارڈ ز بھی دیئے جاتے ہیں۔ اس مواد کے ترسیل کرنے والے پبلیشرز کو خاص رعایتں بھی دی جاتی ہیں۔

جس طرح افیون فروش کا سب سے پسندیدہ ہدف کم سن لڑکے لڑکیاں ہوتے ہیں اور وہ اپنے جال میں پھنسانے کے لئے پہلے مفت میں ہلکی پھلکی مقدار دیتے ہیں۔ جس سے ایک پرسکون سی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ دل و دماغ پر ایک مسرت کی چادر سی تن جاتی ہے۔ پھر آہستہ آہستہ مقدار بڑھا دی جاتی ہے۔ جب ایک عام آدمی افیون کا عادی بن جاتا ہے تو پھر قیمت کی وصولی شروع ہو جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح ادبی افیون بھی کم سنی سے ہی دی جاتی ہے اور مفت دی جاتی ہے۔ پھر آہستہ آہستہ عاد ی بنا لیا جاتاہے۔ اور یوں قیمت وصول کرکے افیو ن دی جاتی ہے۔ کم عمری میں ادبی افیون کی پہلی ڈوز کے طور پرلڑکیوں کو پریوں اور شہزادیوں کی کہانیاں سنائی جاتی ہیں۔ جن کبھی کسی سینڈریلا کو کوئی شہزادہ بیاہ کے لے جا تا ہے۔ کبھی کہیں کوئی خوبصورت پری نمودار ہوتی ہے اور کوئی سی تین خواہشات پوری کرنے کی آفر کرتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح لڑکوں کو لکڑہارے کی کہانیاں سنائی جاتی ہے کہ کس طرح ایک لکڑہارا جنگل میں لکڑیاں کاٹنے گیا اور اس کا کلہاڑا پانی میں گر گیا۔ پھرایک پری نمودار ہوئی جس نے اس کی ایمانداری کا امتحان لینے کے بعد اسے تین کلہاڑے دے دیئے۔ جن میں سونے اور چاندی کے کلہاڑے بھی موجود تھے۔ ٓاسی طرح کبھی بادشاہ کی بیٹی کسی پراسرار بیماری کا شکار ہوجاتی ہے۔ اور حکیم صاحب کسی ایک جڑی بوٹی لانے کا کہتے ہیں جس کے راستے میں بہت سے بحرظلمات حائل ہوتے ہیں۔ لیکن ایک لکڑہارا وہ بوٹی تلاش کرنے نکلتا ہے اور بے شمار مشکلا ت کے بعد وہ بوٹی لے آتا ہے۔ جس پر خوش ہو کر بادشاہ اپنی بیٹی کی شادی لکڑہارے سے کر دیا ہے اور باقی زندگی ہنسی خوشی گزار دیتے ہیں۔ کبھی کسی کو الہٰ دین کا چراغ مل جاتا ہے جس کو رگڑ کر و ہ ساری خواہشات پوری کر لیتا ہے۔ اور اس جیسی بے شمار افیونی گولیاں جن میں علی بابے کے خزانے، ٹارزن کے ایڈونچر، سپرمین کے کارنامے اور چھوٹے بیم کی شکتی شامل ہیں پہلی ڈوز کے طور پر مفت فراہم کئے جاتے ہیں۔

 یہ اس طلسمی حصار کی ابتدا ہوتی ہے۔ جو افیون کی ابتدائی مقد ار کی طرح بے ضرر محسوس ہوتی ہے۔ یہی ہلکی پھلکی مفت کی مقدار لیتا ہوا بچہ آہستہ آہستہ بڑھا ہوتا ہے اور اب شہزادے شہزادی، جن پری کی جگہ نئے کردار آجاتے ہیں جن کی طلب کبھی ڈائجسٹ اور کبھی تین عورتیں تین کہانیاں نما ادب سے پوری ہونے لگی ہے۔ اس سٹیج تک آ کر ہدف کافی حد تک عادی ہو چکا ہوتا ہے۔ لیکن قیمت وصولی کا مرحلہ اس سے آگے آتا ہے۔ اب اس افیون زدہ دماغ کو جب حقیقی زندگی میں بے روزگاری، معاشی تنگدستی اور سماجی رویوں کے جن بھوت دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن ہاتھوں میں نہ کوئی طلسمی انگوٹھی ہوتی ہے نہ کوئی الہٰ دین کا چراغ…. اب آتا ہے قیمت وصولی کا مرحلہ اور اب آتے ہیں اصلی کاروباری سامنے …. افیونی نشے کا ٹوٹا ہوا اور جنوں سے گبھرایا ہوا نشے کی بڑی مقدار اور اگلے مرحلے کی تلاش میں کبھی کسی سے مانگ کر کبھی کہیں سے چرا کر، کبھی کسی لائبریری سے لے اور پھر خرید کر نئی افیون حاصل کرتا ہے۔ اب یہ مقدار کئی سو صفحوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ کئی کئی دن تک مدہوش رکھتی ہے۔ تب جن پری، شہزادی، لکٹرہارے کی جگہ کوئی تلقین شاہ ٹائپ درویش آتے ہیں یہ درویش بتاتے ہیں کہ بیٹا یہ دنیا فانی ہے۔ ہر کوئی دولت کے پیچھے بھاگ رہا اور موت انسان کے پیچھے بھاگ رہی ہے۔ یہ درویش وضع قطع سے بڑے ہی حلیم، منکسر المزاج، ہر طر ح کی لالچ سے عاری، گناہوں کی آلائشوں سے مبرا اور دنیاوی خواہشات سے بالکل پاک نظر آتے ہیں۔ یہ افیونی/ قاری کو بتاتے ہیں کہ بیٹا نصیب سے زیادہ اور وقت سے پہلے کچھ نہیں ملتا۔ تو پھر تو کیوں پریشان ہے اپنے ڈوری اللہ پہ پھینک اور سکون سے کسی جنگل کو نکل جا۔ ۔یہ بابا جی ایک نئے زاویے سے اسے قائل کرتے ہیں کہ پڑھائی میں کیا رکھا ہے۔ پڑھے لکھے لوگ تو اس ملک کے لئے نقصان دہ ہیں۔ پھر وہ بابا جی اپنے گفتگو میں آگے اپنے کسی بابا جی کا حوالہ بار بار دیتے ہیں،جن کی ہر نصیحت کا گھوم پھر کر ایک ہی مطلب نکلتاہے کہ انسان کو کسی قسم کی محنت، کوشش اور تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت نہیں بس توکل کی ضرورت ہے اور جو کوئی توکل کرتا ہے ایک دن اس کی لاٹری آئے گی۔ درویش بابا بتاتے ہیں کہ اسے بس راضی بالرضا رہنا چاہیے اس دنیا کی خوشیاں اور غم دونوں عارضی ہیں۔ دولت کمانا ایک شیطانی عمل ہے۔ بس سادہ سی زندگی گزارو۔ سادہ خوراک کھاﺅ۔ بلاوجہ دولت کما کے اپنے لئے عذاب مت بڑھاﺅ وغیرہ وغیرہ۔ اب افیونی مکمل طور پر ان کے قبضے میں آجاتا ہے وہ بھی دنیا کو بابا جی کے ”زاویے “ سے دیکھنے لگتا ہے …. باباجی کے ساتھ انکی اہلیہ لقمہ دیتی رہتی ہے۔ وہ افیونی کو حرام و حلال کے قصے سناتی ہیں کہ کس طرح گدھ حرام کھاتا ہے، کس طرح پڑھی لکھی عورتیں آوارہ ہو جاتی ہیں اور باکرہ نہیں رہتیں اور ایک نوجوان کو حقیقی قلبی سکون تب ہی حاصل ہو تاہے۔ جب وہ کسی بابا جی کے آستانے پر آجائے …. یوں بابا جی اپنے ایک اور بابا جی کو بھی کوئی دیوتا کا اوتار یہ آسمان اترا ہو اشہابیہ بنا کے پیش کرتے ہیں۔ یہ بابا جی افیونی کو ایک نئی دنیا دکھاتے ہیں جس میں بتایا جاتا ہے کہ غربت، مہنگائی، بے روزگاری سب تمہارے نصیب کا لکھا ہوا ہے۔ اس لئے اس نصیب پہ راضی رہو۔ ہر ظلم ناانصافی اور ناہمواری کو اپنا مقدر سمجھ کر اس پر راضی رہنا ہی دراصل ایمان کا سب سے بلند درجہ ہے وغیر ہ وغیرہ

یوں افیونی دھڑا دھڑا بابا جی کی پند و نصا ئح پر مشتمل کتابیں خریدتا ہے۔ ناصرف خود خریدتا ہے بلکہ دوسروں کو خریدنے پر مائل کرتا ہے۔ بالکل افیونی کی طرح کبھی مانگ کے پڑھتا ہے۔ کبھی چوری کرکے پڑھتا ہے اورکبھی پیسے مانگ کر خرید کے پڑھتا ہے اور یوں ادبی افیون لاکھوں کروڑوں کا بزنس کرتی ہے۔ ہر سال نئی کھیپ / ایڈیشن چھپتا ہے اور چند روز میں ہی افیونی اسے خرید لیتے ہیں۔

اب جب افیونی قابل علاج حالت سے نکل کر قابلِ ترس حالت کو پہنچ جاتا ہے۔ تو کوئی اپنا اسے بتاتا ہے کہ بھائی آپ جس راہ پہ چل رہے ہیں یہ ہرگز بھی اللہ کی پسندیدہ راہ نہیں ہے اللہ تعالی ٰ تو محنت کرنے والوں کو اپنا دوست قرار دیتا ہے۔ جس غربت، ناانصافی اور ظلم کو اپنا مقدر سمجھ رہے ہو یہ بالکل بھی اللہ کی دین نہیں ہے بلکہ تم انسانوں کی دی ہوئی غیرمنصفانہ تقسیم کا شکار ہو۔ اور یہ جو بابا جی تمہیں دنیاوی خواہشوں کو مارنے کی بات کرتے ہیں۔ جو، محنت نہ کرنے اور تعلیم حاصل نہ کرنے کا درس دیتے ہیں۔ حقیقت میں یہ درویش بابا جی ڈیفنس اور دوسرے پوش علاقوں میں کئی کئی گز کے محلات نما گھروں میں عیش وعشرت کی زندگی گزارتے ہیں۔ ان محل نما گھروں کے کارپورچ میں کئی کئی امپوڑٹڈ گاڑیاں کھڑی رہتی ہیں۔ یہ پہنچے ہو ئے بابا جی آئے دن تفریح طبع کے لئے بیرون ِ ملک پہنچے ہوتے ہیں۔

اب ہر افیونی طرح یہ بھی اس صاحب کو گالیا ں دیتے ہیں کافر اور لادین تک کہتے ہیں۔ اور دور کھڑے بابا جی کے ہونٹوں پر ایک خفیف سی پر اسرار مسکر اہٹ دکھائی دیتی ہے۔ اس ادبی افیون فروشی کے لئے ہی شاید علامہ محمد اقبال نے یہ شعر کہا تھا

ساحر الموط نے تجھ کو دیا برگِ حشیش

اور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخِ نبات

Facebook Comments HS