ارشاد حقانی سے ارشاد بھٹی تک

یوں تو ہمارے جیسے ہر ڈھلتی عمر کے شخص کو لگتا ہے کہ ”ہمارا زمانہ اچھا تھا“ اور ہمارے ہاں تو قومی شعراء کے ذریعے باقاعدہ ماضی پرست بنانے کا کام تسلی بخش کیا جاتا ہے۔ اس سے قطع نظر یہ حقیقت ہے کہ بعض شعبوں میں واقعی ایسے ہیں جن میں نے ترقی کی بجائے تنزلی کا سفر بہت تیزی سے کیا ہے۔ چونکہ تمام شعبوں پہ بات کرنا ایک مضمون میں ممکن نہیں لہذا آج ہم صرف صحافت

Read more

تین جلیل القدر دانشور: حسن نثار، آفتاب اقبال اور ارشاد بھٹی

بچپن کے دنوں میں ہمارے گاؤں میں ایک سرکاری مڈل سکول ہوا کرتا تھا۔ اس کے ایک استاد ”اللہ بخش“ (مرحوم) بڑی دلچسپ شخصیت ہوا کرتے تھے۔ بھلے وقتوں میں شاید انہوں نے ایک دو ایم اے بھی کھڑکا رکھے تھے۔ ”استادی“ کے ساتھ ساتھ وہ کچھ لوکل اخباروں میں کسی بڑے شخص کی وفات کی خبر، کسی قومی سانحے پہ اظہار افسوس یا کسی ہومیوپیتھک سے مسئلے پہ کوئی مضمون نما چیز بھی لکھ دیتے، پھر کبھی طبیعت جوش

Read more

ادب اور فلٹر والا کیمرہ

ادب معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے جس میں ہمیں اس معاشرے کا حقیقی عکس دکھائی دیتا ہے۔ اسی میں ہمیں معاشرے کے تمام خد و خال اور نقوش دکھائی دیتے ہیں اسی میں ہمیں اس کی خوبصورتی اور دلکشی کے ساتھ اس کی ہر کجی اور کمزوری بھی بعینہ دکھائی دیتی ہے۔ اسی آئینے میں معاشرے اپنا آپ سنوارتے اور اپنے کمزوریوں اور کجی کو دور کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ یا اگر موجودہ حالات میں اس کی تعریف کی

Read more

’ہوا میں مُعلّق تہذیب و ثقافت ”

روایات کے بتاتی ہیں کہ بابل کے بادشاہ نبوکدنضر نے جب مادیوں کے بادشاہ آستیاگس کی بیٹی آمیتس سے شادی کی تو آمیتس نبوکدنضر کے محل کی تمام شان و شوکت کے باوجود اپنے ملک کے کہساروں اور پہاڑوں کو یاد کرکے اداس رہتی۔ اس کا حل نبوکدنضر نے یہ نکالا کہ ایک بلند و بالا محل تیار کروایا جس میں ہوا میں معلق باغیچے بھی بنوائے۔ جن میں سیر کرتے ہوئے ملکہ عالیہ کو پہاڑی علاقوں پہ سیر کرنے

Read more

منٹو کے افسانے ”ہتک“ کا ردِ تشکیلی مطالعہ

سعادت حسن منٹو کا افسانہ ”ہتک“ ناصرف منٹو بلکہ اردو ادب کے چند بہترین افسانوں میں سے ایک ہے۔ منٹو کے بارے میں عام طور پر جو خیال پایا جاتاہے وہ یہ ہے کہ منٹو کے افسانوں کے کردار نہ نوری ہوتے نہ ناری بلکہ خالص خاکی ہوتے ہیں۔ منٹو ایک ماہر نفسیات دان کی طرح اپنے کرداروں کے نفسیاتی رویوں کی پرتیں اس طرح سے کھولتا ہے کہ بظاہر ”رام“ نظرآنے والا کردار کسی موڑ پر بالکل ”راون“ بن

Read more

بابل کا برج اور سرائیکی صوبہ

تورات میں ایک واقعہ مرقوم ہے کہ طوفان کے نوح کے چند نسلوں بعد کچھ لوگوں نے سلطنتِ بابل میں ایک برج بنانے کا قصد کیا۔ ان کا ارادہ یہ تھا کہ اس برج کو آسمان تک بلند کیا جائے۔ خدا تعالیٰ کو یہ باغیانہ کوشش پسند نہ آئی۔ سو خدا تعالیٰ نے انہیں اس کے باغیانہ کوشش سے باز رکھنے کے لیے ان کی زبانوں میں اختلاف ڈال دیا۔ یوں تھوڑے عرصے بعد زبانوں کے اختلاف کے باعث یہ لوگ ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے اس جگہ سے منتشر ہو گئے۔ اس واقعہ کو تاریخ اور ادب کی کتابوں میں برج ِ بابل کے نام سے منسوب کر رکھا ہے۔

Read more

خون آشام کارپوریشنز اور زومبی صارفین

ہالی ووڈ فلموں میں دو فکشن بڑے عرصے سے تواتر کے ساتھ پیش کیے جارہے ہیں۔ ایک خون چوسنے والے ڈریکولاز اور ایسی دوسری مخلوقات جو عام لوگوں کا خون پیتے ہیں اور زندہ رہتے ہیں اور دوسرا تصور زومبیز کا جس ایسے انسان دکھائے جاتے ہیں جو بظاہر تو زندہ ہیں لیکن ان میں بھوک کے علاوہ باقی تمام حسیات مر چکی ہیں وہ ہر جگہ ہرطرف مارتے مرتے پھر رہے ہیں اور ان کا کلی مقصد صرف کھانا

Read more

بہت جلد دنیا ”میر ا جسم میری مرضی“ کی منزل پہ ہوگی

 یہ مسلمہ حقیقت ہے روٹی، کپڑا اور مکان ہی انسانی زندگی کا بنیادی محرک اور مقصد رہے ہیں۔ انسان اپنی ان بنیادی ضرورتوں کے حصول کے جو طریقہ کار اپنا تاہے اس کے مطابق اخلاقی قوائد وضع کرتا رہاہے۔ انسانی زندگی میں جیسے جیسے معاشی اور اقتصادی ذرائع تبدیل ہوتے رہے ویسے ویسے انسان کے اخلاق اور معاشرتی آداب بھی تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ یعنی انسان جب کھانے، پہننے اور رہائش کے نت نئے طریقے ایجاد کرتا رہا ہے۔ تو پھر ا ن کے مطابق نت نئے آداب اور اخلاق بھی ترتیب دیتا رہاہے۔ انسان کی معاشی ضروریات کے لیے جدوجہد ہی اسے جنگلی سے خانہ بدوش، خانہ بدوش سے دیہاتی، دیہاتی سے شہری، اور پھر شہری سے گلوبل سیٹزن بنا تی آئی ہیں۔

Read more

کلامِ فیض میں تجسیم کاری (Personification)

شاعری محض جذبات کے اظہار کا نام نہیں بلکہ جذبات کے لطیف پیرائے میں اظہارکا نام ہے ۔ دوسرے لفظوں میں کہیں تو شاعری سے مراد ایسا کلام ہے جس میں جذبات ، نظریات اور احساسات کا اظہار اس طرح سے کیا جائے کہ پڑھنے والے کوتحریر سپاٹ ، ثقیل اور بے مزہ محسوس نہ ہو بلکہ اس میں ادب کی چاشنی ، زبان کی مٹھاس اور لطافت بھی محسوس ہو ۔ اسی لئے شعراء اپنے کلام کو موثر اور

Read more