کیا ایم کیو ایم پاکستان فتح یاب ہوگی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فاروق ستار اور عامر خان گروہوں کی مبینہ تقسیم کی قیاس آرایوں کے غالباً آدھے گھنٹے بعد ہی ایک دلچسپ فلو چارٹ نظر سے گزرا۔ فلو چارٹ نے دکھایا کہ کیسے ایم کیو ایم پہلے متحدہ قومی موومنٹ اور مہاجر قومی موومنٹ میں تقسیم ہوئی، پھر پی ایس پی اور ایم کیو ایم، اس کے بعد لندن و پاکستان اور اب بالآخر بہادرآباد اور پی آئی بی دھڑوں میں بنٹنے والی ہے۔

بظاہر تو کراچی کی سب سے بڑی سیاسی تنظیم کا شیرازہ بکھرتا ہی چلا جا رہا ہے۔ نئے دھڑے نئے نئے نام۔ مگر کراچی کا سیاسی منظر اتنا سادہ ہے نہیں جتنا کہ لوگ اسے تصور کرنا چاہتے ہیں۔اپنی کتاب ‘کراچی: آرڈرڈ ڈس آرڈر اینڈ دی اسٹرگل فار دی سٹی’ میں لارنٹ گیئر نے پاکستان کے معاشی مرکز میں موجود اس نظام کی طرف نشاندہی کی ہے جسے انہوں نے ‘آرڈرڈ ڈس آرڈر’ یعنی منظم انتشار کہا ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو کراچی جیسے منفرد خطے کے سوا پاکستان کے کسی اور علاقے میں پایا نہیں جاتا۔ علاوہ ازیں کراچی کا منظم انتشار چونکہ انسانوں کے ایک دوسرے پر انحصار پر مبنی ہے، لہذا بظاہر دشمن نظر آنے والے عناصر اکثر ایک دوسرے کی معاونت کر رہے ہوتے ہیں۔ مثلاً وہ سابق وزیراعلیٰ جام صادق علی ہی تھے کہ جنہوں نے ایم کیو ایم کے بانی کو 90 کی دہائی میں ہونے والے آپریشن کی قبل از وقت اطلاع دی اور جلاوطنی کا مشورہ دیا۔ ایم کیو ایم قائد نے اس مشورہ پر عمل کیا اور کبھی لوٹ کر نہ آئے۔

ایم کیو ایم کے فاروق ستار ہوں، عامر خان یا خالد مقبول صدیقی ہوں یا پھر کوئی بھی ساتھی، ان میں ایک چیز جو موجودہ حالات کے تناظر میں مشترکہ پائی گئی ہے وہ اپنے سوچے سمجھے تاثرات کو مین اسٹریم میں زیرِ بحث لانا ہے۔ اس وقت ٹی وی پر بھڑکتی سرخیاں اور چیختے چلاتے اینکر ایم کیو ایم کی مزید تقسیم کی قیاس آرایوں پر اپنے اپنے مفروضات پر بحث میں مصروف ہیں۔ کیا پتہ یہ تقسیم حقیقت بھی بن جائے۔ مگر تنظیم کے حالیہ ریکارڈ کے پیشِ نظر، ایک نقطہ نظر ایسا بھی ہے جسے کم از کم ٹی وی پر تو زیرِ بحث نہیں لایا جائے گا۔ اگر یہ فاروق ستار کی سیاسی حکمت عملی ہوئی تو؟ گزشتہ سال کے نومبر میں فاروق ستار نے بیک وقت پی ایس پی اور اسٹیبلشمنٹ کی حقیقت کھول کے رکھ دی تھی۔ اب کراچی میں پی ایس پی تو سرے سے ہی بےمعنی رہی ہے۔ حقیقی چیلنج جو فاروق ستار نے نبھایا وہ کچھ اور تھا۔ اور آپ فتحیاب بھی ہوئے۔

اپنی سوچی سمجھی قیاس آرایوں میں عوام اور میڈیا کو الجھا دینا فاروق ستار کی مستقبل کی منصوبہ بندی تصور کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ کراچی کے ووٹر کو اگر لبھانا ہے تو گراونڈ پر اپنی موجودگی ثابت کرنی پڑتی ہے۔ مقابل تنظیمیں اس وقت ایم کیو ایم کا شیرازہ بکھرنے پر اپنے تبصروں میں اور کارکنان کی فاروق ستار کی ہدایات پر کان نہ دھرنے پر چیختے چلاتے اینکرز اپنی منطقوں میں مصروف ہیں۔ ایسے میں فاروق ستار نے اپنے لئے وقت اور اسپیس حاصل کیا ہے کہ وہ سیاسی حکمت عملی اور گراونڈ پر کام کرنے کو ترجیح دے سکیں۔ سچ بہرحال یہی ہے کہ بلاول صاحب تو عوامی سطح پر انتخابی مہم نہیں چلائیں گے۔ یہ متحدہ کے لیڈر ہی کراچی کی سڑکوں اور گلی محلوں میں پائے جاتے ہیں۔

ایم کیو ایم نے میڈیا کی توجہ بے معنی امور پر مرکوز کر دی ہے، مثلاً کامران ٹیسوری یا میمن کارڈ۔ ایسے میں تنظیم آنے والی انتخابات کے لۓ ووٹر کے دلوں میں جگہ بنانے میں دلچسپی رکھتی نظر آ رہی ہے۔ مزید یہ کہ ریاست کی رضا بھی اب میسر معلوم ہوتی ہے۔ بہرصورت کراچی کو بغیر اس کے منظم انتشار کے زیادہ عرصہ چلانا مشکل ہے۔ امکان یہی ہے کہ ٹیسوری کو سینیٹ الیکشن کا ٹکٹ نہیں ملے گا۔ فاروق ستار بھی رابطہ کمیٹی کے اس فیصلہ سے متفق معلوم ہوتے ہیں۔

انجینیرنگ کر کے خواہ کتنے ہی دھڑے بنا لئے جائیں، اس وقت یوں لگتا ہے کہ ایم کیو ایم فتح کی تیاریاں کر رہی ہے۔ پہلے تمام دھڑوں کو متحد کرنے کی فتح اور پھر کراچی کی سیٹوں سے جیتنے کی فتح۔

بشکریہ: سماء 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •