بیوی نہیں دوست بنائیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی میں دو ہی ایسے رشتے ہیں جن کا انتخاب، انسان اپنی ترجیحات اور خواہشات کے مطابق خود کرتا ہے۔ ایک اپنے لیے مخلص دوست کا انتخاب، دوسرا اپنے جیون ساتھی کا چناو۔ دونوں ہی رشتوں میں محبت، خلوص، اعتماد اور ذہنی ہم آہنگی کا ہونا اِس کی بنیادی شرائط میں شامل ہے۔ اِن کے بِنا دونوں رشتے ریت کے اُس گھروندے کے مانند ہیں جسے چاہے کتنا ہی خوب صورت و دل کش بنالیا جائے، بالآخر اسے ڈھیر ہونا ہوتا ہے۔

ایک اچھے دوست کا انتخاب کرتے وقت یہ ضروری نہیں کہ وہ آپ کا شریکِ حیات بھی ٹھہرے، لیکن شریکِ حیات کا انتخاب کرتے وقت اِس بات کا یقین کرلینا ضروری ہے کہ وہ آپ کا دوست ہو۔ دوست کا انتخاب کرتے وقت ہوسکتا ہے ہم اِن بنیادی شرائط کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوں، لیکن بدقسمتی سے ہم جیون ساتھی کے چناؤ کرتے اِن شرائط کو کسی خاطر میں نہیں لاتے۔ اُس وقت ترجیحات میں صرف و صرف جنس مخالف کی قربت حاصل کرنا شامل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قربت حاصل ہونے کے بعد ایک دوسرے سے اکتاہٹ ہونے لگتی ہے، جو جلد یا بدیر علیٰحدگی پر منتج ہوتی ہے۔

ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بہت سوں کو شادی کا بنیادی فلسفہ ہی معلوم نہیں ہوتا اور شادی کرلیتے ہیں۔ شادی اپنے ہی جیسے کسی دوسرے انسان کے ساتھ خوشیوں سے بھرپور ایک شاداب زندگی گزارنے کا نام ہے۔ لہذا اِس بندھن میں بدھنے سے پہلے ضروری ہے کہ اپنے آپ کو پہچانا جائے۔ اپنی خوبیوں اور خامیوں کو جانچا جائے۔ ادراک ہونے کہ بعد اپنے ہی جیسے خوبیوں اور خامیوں کے حامل انسان کا انتخاب کیجیے تاکہ زندگی کے سفر میں وہ آپ ایک دوسرے کا سہارا بنیں، اور ایک اچھے مخلص با اعتماد دوست کے طور پر ساتھ نباہیں۔

شوہر یاد رکھیں، ان کی بیوی نے شادی نہ تو بچے پیدا کرنے کے لیے کی ہے، نہ اُنھیں پالنے کی غرض سے اور نا ہی کسی قسم کی خدمت گار کے طور پر آسمان سے اتاری گئی ہے۔ وہ آپ کے جیون میں آپ کا ساتھ دینے آئی ہے۔ نا کہ آپ کی ماتحت بننے۔ اُسے بھی بالکل آپ ہی کی طرح جینے کا حق ہے۔ اسے بھی آپ کی طرح گھر سے باہر جانے کے لیے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ کیا پہنے کیا نہ پہنے، جسم کو کتنے فی صد ڈھانپے، کتنا فی صد کھلا چھوڑے، یہ سب اُس کی مرضی پر منحصر ہے۔ وہ اپنی زندگی کو جس انداز میں جینا چاہے اُسے جینے کا پورا حق حاصل ہونا چاہیے۔ اُسے مکمل آزادی دیجیے۔ آپ کی بیوی آپ کی باندی نہیں ہے اور نا ہی وہ آپ کےلیے ہانڈی چولھا کرنے آئی ہے۔ وہ آپ کے ساتھ جینا چاہتی ہے لہذا آپ بھی اُس کی زندگی میں رنگ بکھیریں۔ نا کہ اُسے اپنی ضرورتیں پوری کرنے کا ذریعہ سمجھیں۔

انسان کی زندگی میں ایک سے زیادہ دوست ہوتے ہیں، لیکن وہ سب سے زیادہ وقت اُسی کے ساتھ گزارتا ہے جو بالکل اُس جیسا ہوتا ہے۔ بیوی کو ماتحت نہیں اپنا سچا دوست سمجھیے۔ اُس کے ساتھ بالکل اسی طرح وقت بِتائیے جس طرح آپ باہر اپنے سب سے اچھے دوست کے ساتھ خوش گپیوں میں وقت گزارتے ہیں۔ اُس کے ساتھ کھیلیے شرارتیں کیجیے، اُسے ہنسائیے اُس کے ساتھ باہر گھومنے جائیے۔ اُس کے ساتھ مستقبل کی پلاننگ کیجیے۔ یقین جانیے اِن تجاویز پر عمل کرنے کے بعد آپ زندگی سے کبھی مایوس نظر نہیں آئیں گے۔ بلکہ ایک پر کیف اور پرسکون زندگی کے مزے لے سکیں گے۔ اِس کے لیے ضروری ہے، آپ بیوی کو کنیز نہیں دوست بنائیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں