دہلی سے آئے سیف محمود … اور کیا کیا ہوئے تماشے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید سیف محمود دہلی سے آئے۔ یہ کل کی بات ہے۔ منصوبے ہمارے یہ تھے کہ دن بھر اور رات گئے تک لاہور میں گھوما گھومی کریں گے۔ گلیاں تمام اِس شہرِ خراب کی پھریں گے اور رُوزگارِ رفتہ کی آیات پڑھیں گے۔ اِسی شہرِ خراب میں، جہاں آج کل بُوم اور گِدھوں کے سائے ہیں۔ مسیلمہ کذابوں کی پیغمبریاں ہیں اور ن لیگ کے فرعوںوں کی حکومتیں ہیں اور شہر کے دیوارو در سے خاک اُڑتی ہے۔ بارے ہم نے صبح 9 کے عمل پر سیف صاحب کو جم خانہ مال سے جا لیا اور اول پہنچے میکلوڈ روڈ اقبال صاحب علامہ کے گھر جاوید منزل پر۔ یہی وہ مکان ہے جو علامہ صاحب نے قوم کو نشاۃ الثانیہ کے خواب سنا کر اور اُن کے عوض متعدد وظیفے اکٹھے کر کے تیار کیا تھا لیکن چندے وہاں رہنے کا اتفاق ہوا۔ بعد ازاں بادشاہی مسجد اور رنجیت سنگھ کی مڑھی کے پڑوس میں اُٹھ آئے۔ سچ ہے، شاہوں کا قرب چاہتے تھے، وہ مل گیا، یعنی پہنچی وہیں پہ خاک۔۔۔

لو بھئی مَیں بھی کہاں کہاں بہک جاتا ہوں۔ جاوید منزل کا بیرونی گیٹ تو کھلا تھا مگر اندرون سب بند تھا۔ تین لوگ گھر کے بائیں طرف کے صحن کو پاٹ رہے تھے۔ وہیں، جہاں یاد گار کا سنگ لگا تھا۔غالباً نیا فرش لگانے کا دھیان چل رہا تھا۔ اقبال کا یہ مکان لاہور ریلوے اسٹیشن سے جنوب کی طرف قریب ایک کلو میٹر پر واقع ہے۔ مکان کے اندر اقبال کی باقیات میں یوں سمجھیے کہ حقے اور چارپائی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے باقی کچھ وہاں نظر نہیں آتا۔ ہاں ایک دو فرنگیانہ صوفہ سیٹ ایک عدد ایرانی قالین، جن کے بارے میں وہ خود کہہ گئے ہیں۔۔۔ ترے صوفے ہیں فرنگی ترے قالیں ہیں ایرانی۔ اور بس۔ سیف محمود نے اور میں نے اِس یاد گارِ زمانہ مکان کے سامنے کھڑے ہو کر دو تصویریں بنائیں، آنے والی نسلیں یہی کچھ کر سکتی ہیں۔ وہ ہم نے کر لیا۔ یہیں رشید احمد صدیقی علامہ صاحب کو ملنے خاص علی گڑھ سے آئے تھے اور آج ہم اُنھیں اوکاڑا سے اور سیف محمود دہلی سے ملنے آئے ہیں۔ بھئی بڑے آدمی بڑے آدمیوں کو ملنے آتے رہتے ہیں، کوئی تعجب نہیں۔

یہاں سے جلد نکلے کہ گھر کا چوکیدار اور ہم خود جلدی میں تھے۔ ناشتہ ابھی ہم نے کیا نہیں تھا۔ علامہ صاحب نے کروایا نہیں۔ اب ارادہ ہوا کہ یہ کام اندرون لاہور بازارِ حکیماں سے کرتے ہیں جہاں ایک انصافی لیڈر ملک وقار صاحب نے ایک دفعہ ہمیں سیری ناشتہ کروایا تھا۔ اسٹیشن پر ارسلان راٹھور بھی پہنچ گئے اپنے آغآ صاحب کے ساتھ۔ ارسلان ایک بڑا آدمی بننے والا ہے بلکہ بن گیا ہے، بھئی ہمیں تو اُس کی ادب فہمی کے سبب، اُس سے بہت اُمیدیں ہیں۔ خیر دہلی گیٹ کو دائیں اور گوالمنڈی کو بائیں ہاتھ رکھتے ہوئے ہم ٹکسالی جا پہنچے، بھئی اتنا گند وہاں مچا تھا، کیا بتائیں؟ ہم نے آنکھوں ہی آنکھوں میں سیف صاحب سے لاہور کی گندگی پر معذرت چاہی۔ اُنھوں نے کہا، میاں شرمندہ نہ ہوں، دہلی بھی ایسا ہی ہے، دونوں ایک ہیں، اصلاً بھی اور نسلاً بھی۔ ناشتے کی ہوٹل پر پہنچے، ڈٹ کے کھایا، جیسا کہ لاہور والے کھاتے ہیں اور تین دن کی ڈائٹنگ کی کسر 20 منٹ میں پوری کی۔ تب وہاں سے اُٹھے اور عین اُسی کھوکھا ہوٹل پر آن ٹھیکے جہاں کی چائے کا ذکر ہم اکثر کرتے ہیں، کہ یہی چائے لاہور کی پنجابی چائے کہانے کی حق دار ہے۔ یہ چائے کا کھوکھا ٹکسالی دروازے سے بالکل متصل ہے اور بہت صدیاں پچھلے زمانوں میں لے جانے والا ہے۔ ارسلان نے یہاں سیف محمود کے بہت کان کھائے یعنی دونوں ملکوں کی جنگی صورتِ حال کی دریافت کی جو اصل میں نا دریافت تھی کیونکہ دونوں ملک ایک دوسرے کے مائی باپ ہیں، اور دونوں کا کوئی باپ نہیں ہے۔ چنانچہ ہم اِس گفتگو سے باہر رہے، فقط چائے کی چسکی کا حظ اُٹھایا۔

یہاں سے ارسلان تو گورنمنٹ کالج کو نکلا اور ہم چلے یونیورسٹی آف لاہور کی طرف، جہاں ہم پڑھاتے ہیں کریٹو رائٹنگ کی کلاسوں کو۔ یونیورسٹی میں سیف صاحب نے وہ گفتگو کی کہ ہمیں اُن کی زبان اور لہجے پر حسد آنے لگا۔ لیکچر ایسا دلکش دیا کہ واہ وا کہیے۔ ہمارے تمام فیکلٹی ممبروں سمیت ہم خود بہت خوش ہوئے۔ رضا زیدی صاحب بھی حیران ہوئے کہ ایسا نستعلیق آدمی کہاں سے اُچک لائے۔ چلو بھائی دوست وہی اچھا جو آپ کی عزت رکھ لے۔ اور وہ سیف صاحب نے ہماری بہت رکھی۔ بعد اِس قصے کے ہماری منزل میانی تھی۔ اب کے فرقان ہمارے ساتھ تھا، یہ بچہ ہماری جان ہے اور کلاسک اردو والوں کو پڑھنے میں بہت جنون رکھتا ہے۔ مگر میانی پہنچنے سے پہلے ہم سیف محمود کو شنواری ہوٹل کا روش کھلانا چاہتے تھے۔ جیسے ہی کھانے کے لیے نکلے ہمارے دوست طرح دار اور نیک گفتار عامر جعفری صاحب کا فون آ گیا، میاں ناطق آپ کے دلی والے کو روش ہم کھلائیں گے، فوراً ہماری طرف چلے آو۔ لو ہم بھلا عامر صاحب کا حکم کیسے ٹال سکتے تھے جب کہ وہ روش بھی کھلا رہے ہوں۔ چنانچہ بلا تاخیر پہنچے۔ عامر صاحب نے جیسا کہ اُن کا طَور ہے محبت اور شفقت اور مہمان نوازی کا پورا ثبوت دیا، روش سمیت، کھانا سیف کو بہت پسند آیا اور ہم نے بھی کھایا اور بہت کھایا۔ بھئی عامر جعفری صاحب بات یہ ہے کہ آپ سے کھانے کھا کھا کراور محبت آپ کی حاصل کر کر کے آپ کے گرفتارِ محبت ہو چکے ہیں اگرچہ ہمارے دشمنوں کے ساتھ بھی آپ کے بہت تعلقات ہیں۔

اِس کھانے کے بعد ہم قُرطبہ چوک یعنی مزنگ سے میانی قبرستان میں نکلے جہاں ایک دنیا مُردوں کی آباد ہے اور جہاں ایک پاکباز پیرِ طریقت واصف علی واصف کا مقبرہ سرِ راہ نظر آتا ہے، اُس سے ہمیں کوئی سروکار نہ تھا۔ دعا ہم نے وہاں اِس لیے نہ کی کہ وہ نیک آدمی تھا، دعا کی اُسے ضرورت نہ تھی اور اندر مزار کے اِس لیے نہ گئے کہ وہ پاکباز تھا اور ہم گنہگار تھے، اعلیٰ حضرت کا مقبرہ کاہے کو ناپاک کرتے۔ البتہ وہاں سے منٹو صاحب کی قبر پر گئے اور دررانہ گئے۔ دعا بھی کی اور اُسے بتایا بھی کہ بھیا فکر نہ کیجیے اب ہم آپ کا کام سر انجام دے رہے ہیں اور آپ سے بہتر انجام دے رہے ہیں۔ یہاں بھی کچھ تصویریں لیں اور پاک ٹی ہاوس پہنچے۔ پاک ٹی ہاوس، جس کے ساتھ ہی وائی ایم سی اے کی عمارت ہے، یہیں فیض صاحب اور دیگر بہت سے ترقی پسند اپنے اجلاس کرتے تھے اور انقلاب لاتے تھے اور روس کو جاتے تھے اور روس سے آتے تھے۔

اے میرے ہندوستانی ترقی پسند دوستو جب بھی پاکستان آو تو وائی ایم سی اے عمارت کا طواف ضرور کیا کرو کہ یہی آپ کا پاکستان میں گولڈن ٹیمپل ہے۔ سیف صاحب آپ نے اچھا کیا یہاں کی تصویریں کھینچ لیں، جانے کب اسلامی سرکار اِسے بھی زمین بوس کردے۔ پاک ٹی ہاوس میں ابھی ہم ڈاکڑ سعادت سعید کے پاس بیٹھے ہی تھے کہ آئی اے رحمان تشریف لے آئے، آئی اے رحمان کی ہم دل و جان سے عزت کرتے ہیں اور اُن کی شرافت کا دم بھرتے ہیں، منو بھائی پر ترقی پسندوں نے ایک اجلاس رکھا تھا۔ ہم نے آئی اے رحمان کو سلام کیا اور جلدی وہاں سے نکلے کہ ہمیں اپنی ترقی منظور نہیں تھی اور منو بھائی سے ہمارا تعلق کبھی نہ رسمی رہا نہ غیر رسمی رہا۔ سُنا ہے آدمی اچھا تھا، چلو بھائی اللہ اُس کی عاقبت سنوارے اگر عاقبت نام کی کوئی شے ہے تو۔

ارسلان بھی پہنچ چکا تھا، اُسے لیا اور انارکلی بازار میں جا بیٹھے، بہت کچھ بھلی بھلی باتیں کیں۔ لیجیے بھائی اب وہی ہوا کہ اِس کے بعد سیف محمود جم خانہ نکلے اور ہم اپنے اپنے فلیٹ پر۔ لیکن اُس سے پہلے اُن سے وہ کتابیں اوررسالے وصول کیے جو اُنھوں نے دہلی سے ہمیں بھیجے تھے۔ یہ کتابیں ایک تو تصنیف حیدر کا شعری مجموعہ (نئے تماشوں کا شہر) ہے۔ ایک دہلی پر اسلم پرویز کی کتاب ہے اور رسالوں میں ایک اثبات ہے، جسے اشعر نجمی نے مکرر شروع کیا ہے اور ایک شہناز نبی کا رہروانِ ادب ہے جو کلکتہ سے نکلتا ہے۔ ہم سب کچھ پڑھیں گے اور سچ سچ کہیں گے۔ لو بھئی سیف میاں پھر ملیں گے اگر خدا لایا ۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •