ہوشیار باش! محبت کے اظہار کا دن آرہا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گلوبلائزیشن کے دور میں معاشروں میں تفاعل کا عمل لگ بھگ سات طریقوں سے ہوتا ہے، معاشی طور پر، ٹیکنالوجی، سیاسی، سماجی، ثقافتی، ماحولیاتی اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے۔ یہ ساتوں ذرائع جب ہمیں ایک دوسرے کے معاشروں سے جوڑ رہے ہوتے ہیں تو مندرجہ ذیل عوامل وقوع پذیر ہوتے ہیں۔
پھیلاؤ، چناؤ اور سرائیت۔

اس مضمون میں توجہ سماجی ثقافتی رسوم و رواج کے پھیلاؤ چناؤ اور سرائیت پر مرکوز رہے گی۔ معاشروں میں رسوم و رواج ”پھیلاؤ“ کے نتیجہ میں ہم تک پہنچتے ہیں۔ بہت سے رسوم و رواج میں سے ہم ”چناؤ“ کرتے ہیں کہ کون سے رسوم و رواج ایسے ہوں گے جو ہمارے معاشرے کی اقداروں سے تصادم نہ کھاتے ہوں یا کون سے رسوم و رواج بے ضرر ہیں کہ ان کو معاشرے میں اگر سرائیت کرنے دیا جائے تو کوئی مضا ئقہ نہ ہو گا۔ ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے ہمارا معاشرہ ابھی تذبب کا شکار ہے کہ یہ رسم“ پھیلاؤ ”کے نتیجے میں ہم تک پہنچ تو گئی ہے اور من چلے نوجوان اس کا ”چناؤ“ بھی کر چکے ہیں مگر کیسے ممکن ہو کہ اس کو اپنے معاشرے میں ”سرائیت“ کرنے سے روکا جائے۔ اب روکنا کیوں ضروری ہے بہت سے حلقے اس کے لئے بہت سے دلائل پیش کرتے ہیں جس میں سہر فرست یہ ہوتا ہے کہ یہ مغربی تہذیب یا غیر مسلم معاشروں کی پیداوار اور تہوار ہے اور مسلم معاشروں کو زیب نہیں دیا کہ وہ کافرانہ رسوم کا حصہ بنیں۔

اس کے لئے ہمارے معاشرے نے ”رسمی اور غیر رسمی“ دونوں طرح کے کنٹرول کے طریقوں پر عمل پیرا ہو کر دیکھا۔ غیر رسمی طور پر تو اپنی اولاد پر خصوصاً نظر رکھیں کہ 14 فروری کو ان کی حرکات و سکنات کیا ہیں، سے لے کر پشاور، کوہاٹ اور اسلام آباد میں عدالتی حکم کا نفاذ کہ ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی ہو گی۔ ہمارے ہاں اس دن کو منانے کے لئے دو طرح کے رویے پیش نظر آتے ہیں۔

”رسم سے لگاؤ اور رسم سے بے اتناہی“
رسم سے لگاؤ رکھنے والے افراد ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ اس رسم سے نفرت رکھنے والوں کو دقیانوسی قرار دیتے ہوئے ان کو چکمہ دے کر اس دن کو بھر پور انداز میں منایا جائے تو دوسری طرف رسم سے بے اتناہی رکھنے والے بھی بھر پور تیا ری سے میدان میں اترتے ہیں، اور یہ تیاری تو بعض اوقات ڈنڈا بردار افراد کی صورت میں بھی نظر آتی ہے جو مختلف چوراہوں پر اپنے دین اور ثقافت کی حفاظت کے لئے ہمہ تن چوکنے ہوتے ہیں۔ 14فروری کو ” حیا ڈے“ کا نام دیتے ہوئے باپردہ مجالس اور جلوس کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے جس میں کافرانہ رسم کو حتی المکان برا بھلا کہا جاتا ہے۔ مگر سچ تو یہ کہ اس رسم سے لگاؤ رکھنے والے چکمہ دینے میں ماہر افراد ہی ہوتے ہیں جو 14 فروری کو محبت کا اظہار کو اس کے تمام لوازمات کے ساتھ بھر پور انداز میں انجام دیتے ہیں۔

میرے اس مضمون کا مقصد ویلنٹائن کے حق میں دلائل دینا یا مخالفت پر اصرار نہیں ہے مگر ایک غیر جانبدار انہ تجزیہ کرنے کی کوشش ضرور ہے۔

حقیقا اگر آج کے ویلنٹائن ڈے پر نظر ڈالی جائے تو یہ ایک ” کارپوریٹ ہولی ڈے ” بن چکا ہے۔ اب محبت کے اظہار کو جوڑا جاتا ہے کہ اس دن کتنے مہنگے تحفہ لئے اور دیے گئے، کھانا کتنے ستاروں والے ہوٹل میں کھایا گیا، کس کے چاہنے والے نے دوسرے کے چاہنے والے سے بڑھ کر اس دن کا اہتمام کیا۔

جب رسمی اور غیر رسمی کنٹرول کے طریقوں کر سر انجام دینے کا سو چا جا رہا تھا وہاں ٹی وی دن رات ایسے اشتہارات دکھا رہا تھا جس میں ان تمام پیکجز کی تفصیلات تھیں جو اس دن کے حوالے سے آپ کا دل لھبا رہی تھی۔ مارننگ شوز میں ایسے ایسے سیٹ لگائے گئے کہ سرخ رنگ سے محبت ہو جائے اور رومانوی جوڑوں کو بلا کر محبتوں میں ایسے ایسے اظہار کرائے گئے کے اوسط طبقہ جوڑے ایک دوسرے کو شک بھری نگاہ سے دیکھنے لگیں۔ اور سننے کو ملے۔ ‘دیکھا ایسے ہوتے ہیں محبت کرنے والے تم نے آج تک کیا ہی کیا ہے‘

جارج چاپ مین ایک ماہر نفسیات ہیں جو محبت کے اظہار کے 5طریقے بیان کرتے ہیں۔
یہ پانچ طریقے ان کی کتاب (محبت کی پانچ زبانیں اور ان کا اظہار ) میں درج ہیں۔
1۔ تحائف کا تبادلہ۔
2۔ کوالٹی ٹائم (معیاری وقت کا تبادلہ )
3۔ باہمی لگاؤ کےجذبوں کے لیے اظہار کے‘ الفاظ‘۔
4۔ باہمی لگاؤ کیا اظہار کے لیے کیے جا نے والے ’ عمل‘
5۔ جسمانی تعلقات۔

اب انسانی نفسیات میں عین ممکن ہے کہ جوڑے میں سے ایک شخص باہمی لگاؤ کے اظہار کے‘ عمل‘ کے طریقے اور یقین رکھتاہو اور جوڑے کا دوسرا پارٹنر باہمی لگاؤ کے اظہار میں‘ الفاظ‘ کو اہم مانتا ہو۔ یہی عموما آپ کو اپنے سے پہلی نسل کے جوڑوں یا ہم عمر جوڑوں میں نظر آیا ہوگا جب شوہر کہتا ہے دیکھو بیگم میں نے تمارے لیے گھر تعمیر کرا دیا تمہاری اولاد کو پڑھا لکھا کر اپنے اپنے گھروں میں آباد کر دیا اور بیوی بولے یہ کمال آپ کے اکیلے کا تو نہیں اور جانے دیں کبھی پھول تو لائے نہیں، ‘آئی لو یو ’ تو بولا نہیں ساری عمر ماں بہن سے ڈرتے رہے۔

خیر ویلنٹان ڈے پر واپس آتے ہیں۔ جذبوں کے اظہار میں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہو گی کہ، کیا لفظوں کا اظہار ہی، تحفوں کا تبادلہ ہی محبت کہلائے گایا کسی کا محبت بھرا عمل چاہے وہ کتنا چھوٹا ہی کیوں نہ ہو اس کی محبت کا اظہار تصور ہوگا۔ کیا محبت کے اظہار کا عمل ’مقدار‘ کا محتاج ہوگا یا کم مقدار مگر ’معیار‘ اس جذبے کی خوبصورتی ٹھہرے گی۔
ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ ’خصوصاً‘ ایسے دن کو منانے سے ہم خود کو دو طرح کی مشکلات سے دوچار کرتے ہیں۔

اگر ہم سنگل ہیں تو یہ ذہنی طور پر آپ کا اکیلا محسوس کرانے کا برا ترین دن ہوگا۔ اور اگر آپ رشتے میں ہیں تو یہ آپ کو پا بند کر دیگاکہ محبت کے معیار کو کارپوریٹ معیار کے مطابق لایا جائے۔ یا میرا اپنے محبوب کو دیا گیا ڈنر اس کے لیے اچھے سماجی رتبے میں اضافے کا سبب بنے۔ پھر چاہے وہ میری معاشی حیثیت سے بڑھ کرہی کیوں نہ ہویا مجھے اس کے لیے ادھار ہی کیوں نہ لینا پڑے۔

سینٹ ویلنٹائن سے اگر پوچھیں تو اس کا جواب بھی اسی ’پیر‘ کی طرح ہو گا کہ مجھ سے محبت ضرور کریں۔ مگر میں نے یہ کب کہا تھا کہ ہر سال میرا عرس بھی منائیں۔
میں محبت کے اظہار کے خلاف نہیں یہ اس وقت بہترین ہو گا جب آپ اس کے منانے میں بناوٹ سے پاک ہوں۔ اگر 5 سٹار والے ہوٹلوں میں نہیں جاسکتے یا مہنگے تحفے نہیں خرید سکتے تو اظہار کے متبادل طریقوں کو اختیار کریں۔ آپ تو 5 ستاروں والے ہوٹلوں میں ہزاروں خرچ کر لیتے مگر پولیس عام غباروں والوں کو پولیس وین میں بھر لیتی ہے۔ عام پھول والے پولیس سے بھاگتے اور چھپتے نظر آتے ہیں اور بظاہر یہ پابندی ان پر ہی لاگو ہوتی بظر آتی ہے۔

رسمی اور غیر رسمی اداروں کو بھی یہ سمجھانا ہو گا کہ کسی ایک تاریخ کے لیے ہائپ بنا دینا کسی بھی طرح مناسب نہیں ورنہ 14تاریخ ہی گزرتی ہے تو آپ کو سننے کو بھی یہ مل سکتا ہے کہ ”جانو کسی اور دن ڈیٹ پر جائیں گے ویلنٹائن ڈے حرام ہے“

محبتوں پر یقین اور اس کے اظہار کی سب سے زیادہ ضرورت ہمارے جیسے معاشروں سے زیادہ کسی کو بھی نہیں مگراس کے چناؤ کا انتخاب آپ پر ہے کہ ہر اس رسم کو معاشرے میں سرائیت کرنے دیں جس سے رشتوں میں خوبصورتی آتی ہو۔ صرف ایک دن ہی محدود کیوں! کیوں نہ محبتوں کو اپنا معاشرتی رویہ بنا لیں۔

میرا حیا ڈے منانے والوں سے بھی ایک سوال ہے کہ کیا ایک دن کی ڈنڈا برداری معاشرے میں سدھار لے آئے گی؟ کیا دین کی حفاظت اسی میں پنہاں ہے کہ 14 فروری کو حتیٰ المکان لڑکا لڑکی کو آپس میں ملنے اور تحائف کے تبادلے سے روکا جائے؟ لازم ٹھہرا کہ محبت کے جذبے کو جنسیت کے ڈبوں میں بند کر کے اس پر پہرہ دینا ہے؟ چلیں ایک لمحے کو مان لیتے ہیں کہ اس کو جنسیت کے تناظر سے دیکھ لیں تو یہ ڈنڈے اس وقت کہاں ہوتے ہیں جب ایک بچی گھر والوں سے شکایت کرتی ہے کہ وہ کسی بہت ہی قریبی رشتے سے جنسی استحصال کا شکار ہے۔ جب ایک سکول جاتی لڑکی رو رو کر درخواست کرتی ہے کہ اس کو ابھی پڑھنا ہے اس کی کم عمری کی شادی نہ کی جائے۔ اس وقت ڈنڈے کہاں ہوتے ہیں جب بے جوڑ شادیاں ہوتی ہیں۔ جب لڑکیاں گھٹ گھٹ کر جیتی ہیں اور پدرانہ نظام سے بغاوت نہیں کر پاتی۔ جب لڑکا بچہ بازی کا شکار ہو جاتا ہے، تب یہ ڈنڈے پہرہ کیوں نہیں دیتے۔

حیا ڈے منانے والے نہ بھولیں کہ دین تو وہ ہے جو مسکراہٹ کو صدقہ جاریہ کہتا ہے۔ جو دو افراد کی تین روز سے زیادہ بات چیت پہ بندش کو گناہ تصور کرتا ہے۔ جو کوڑا پھینکنے والی کی عیادت کی مثال بنتا ہے۔ جو حثیت کے مطابق تحائف کے تبادلے کو باہمی محبت کا ذریعہ بتاتا ہے۔ جو محبت کا درس دینے پے آئے تو جنگ میں راہ چلتی چونٹیوں اور سایہ دار درختوں کی حفاظت کا کہتا ہے۔

جہاں دنیا جانوروں کے حقوق پر کام کر رہی ہے وہاں ہم اب تک اسی بحث میں کہ عورت آلہ کفر ہے اس سے بچتے بچاتے جنت کی حوروں کے تصور میں کھوئے رہو اور خواجہ سراؤں کو تو ویسے ہم نے حکم دیا کہ داڑھی بھی رکھیں وہ محبت کے قابل تھوڑی ہیں۔

محبت کے رشتے کو ڈبوں میں بندنہ کریں اس خوبصورت جذبے کو پروان چڑھنے دیں۔ دلوں میں احترام، مرضی کا شامل ہونا، مسکراہٹیں، اظہار تشکر دست شفقت، اپنائیت، جیسے احساسات کو پنپنے دیں۔ معاشرے میں باہمی برداشت کو فروغ دیں فتوے لگانے سے کچھ نہ ہوگا، اگر کسی بھی دن کا اہتمام آپ کو مادیت کے قریب کرتا ہے یا رشتوں میں مادیت کا باعث بنتا ہے تو ایسے رشتے مت بنائیں ایسے دن نہ منائیں۔

ہاں اگر سوچا ہے کہ ہر دن کوشش کر کے 3 سے 5 ایکٹ آف کائنڈنس کریں گے تو ہر دن محبت کا دن ہے باقی
کوئی فلسفہ نہیں عشق کا جہاں دل جھکے، وہاں سر جھکا
وہیں ہاتھ جوڑ کے بیٹھ جا، نہ سوال کر نہ جواب دے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •