میری کورونا کہانی- میں موت کے منہ سے کیسے واپس آئی
مارچ کے اوائل میں ایک دن مجھے محسوس ہوا کہ جسم درد سے ٹوٹ رہا ہے اور ہلکا بخار ہے۔ کورونا کا خوف ایسا کہ ہر علامت پر لگتا تھا کہ بس کورونا زدہ ہوچکے۔ میں نے اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کیا مگر میرے ڈاکٹر نے مجھے پابند کیا کہ میں اس وقت تک ہسپتال نہ جاؤں اور نہ ہی ٹیسٹ کراؤں جب تک وہ مجھے نہ کہیں اور احتیاطاً مجھے سیلف کورنٹین کرنے کا کہا۔ میں نے دوست اقارب میں ہرطرف کہا کہ مجھے لگتا ہے مجھے کورونا ہو چکا، دوست احباب کے احساس بھرے پیغامات ملے، مگر جس بات پر میں پابند رہی۔ وہ ڈاکٹر کی نصیحت کہ جب تک میں نہ کہوں ٹیسٹ کی ضرورت نہیں۔
Read more


