وادی سون کی شنگریلا جھیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”اندازہ تو ہمیں تھا کہ بھارت کچھ کرے گا اور انہوں نے اچانک ایڈوانس کیا اور پاکستان کے کافی اندر تک پہنچ گئے لیکن ایک بار ہم نے پوزیشن سنبھال کر دفاع شروع کیا تو بھارتیوں کا ایڈوانس رک گیا۔ جنگ کے کچھ دنوں بعد صورت حال یہ تھی کہ بھارتی واپس بھاگ رہے تھے اور ہم ان کے پیچھے تھے۔ ایک دن صبح ہوئی تو ہم ایک بھارتی گاؤں کے پاس تھے۔ مقامیوں نے بتایا کہ فیروز پور یہاں سے دس میل دور ہے۔ پنجاب کے ہر سیکٹر پر ہماری فوج آگے بڑھ رہی تھی لیکن افسوس کہ جنگ بندی ہو گئی اور ہمیں فتح کیے ہوئے علاقے بھی واپس کرنا پڑے بے شمار جانیں قربان کر کے فتح کیے ہوئے علاقے واپس کرنے کا غم مجھے نہیں بھولتا“

یہ باتیں ہمیں وادی سون کے قصبہ سودھی زیریں کے ایک بزرگ خان محمد نے بتائیں جو انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں لاہور کے محاذ پر اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ وہ ایک دلچسپ شخصیت ہیں جن کے پاس بتانے کو بہت سی باتیں ہیں لیکن ہم اپنا ٹریک جلد شروع کرنے کے خواہشمند تھے۔

ہائیکنگ اینڈ ٹریکنگ سوسائٹی سون ویلی کے بینر تلے سترہواں ٹریک ہمارے لئے کئی لحاظ سے اہم تھا۔ سوسائٹی کے روح رواں عدنان عالم اعوان المعروف کمانڈر ایک مرتبہ پھر ہمارے ساتھ نہیں تھے۔ قزاقستان سے آئے ہوئے ہمارے دوست، یار، دلدار فہیم انور خان جنجوعہ اس ٹریک میں ہمارے ساتھ تھے۔ ہم صبح ساڑھے آٹھ بجے جوہر آباد سے روانہ ہوئے تھے اور لش پش کرتے نویں نکور روڈ پر سفر کرتے ہوئے سودھی بالا آن پہنچے تھے جہاں سے ہم نے ربنواز کو اپنے ساتھ لینا تھا۔ ربنواز صاحب نے پچھلے ٹریک میں بہت عمدہ طریقے سے ہمارا ساتھ دیا تھا اور دلچسپ باتیں کرتے ہیں۔ پاک فوج کے یہ جنگجو ہمیں ربنواز کے دارے پر چائے پینے کے دوران دلچسپ باتیں بتاتے رہے۔

اس بار ہماری ٹیم میں فہیم انور جنجوعہ، محمد دانش بٹ، محمد نیاز اعوان، عدنان احسن ملک اور یہ ناچیز اعجاز اعوان شامل تھے۔ یہ ایک بہت ہی روشن اور چمکدار صبح تھی۔ فہیم صاحب نے ٹیم کے لئے خصوصی طور پر شرٹس تیار کرائی ہیں جن کے پیچھے ٹیم کے ہر ممبر کا نام لکھا ہوا ہے۔ اور ایک ایک آئی ڈی کارڈ بنوایا ہے جس پر نام، تصویر اور کچھ دیگر معلومات ہیں۔ ہم اپنے ٹریک کے پہلے مرحلے میں ربنواز کو لے کر بھانڈر پہنچے جہاں سے ہم نے ٹریک کا آغاز کرنا تھا۔ عدنان احسن ملک بھی ہم سے آن ملے۔ نیلی شرٹس زیب تن کیے ہم نے گروپ فوٹو بنوائے۔ ٹریک بھانڈر سے شروع ہونا تھا۔ پہلے ذرا بھانڈر کے بارے کچھ بیان ہو جائے۔

نرم مٹی پر مشتمل زمین کا یہ ٹکڑا اپنے ارد گرد موجود دیگر پہاڑوں کی نسبت ذرا نشیب میں واقع ہے چنانچہ بارش اور بارش کی وجہ سے پہاڑوں سے بہہ کر آنے والے پانیوں نے اس زمینی ٹکڑے میں جگہ جگہ سے کٹاؤ پیدا کر دیے۔ نرم مٹی پانیوں کے ساتھ بہہ گئی۔ اور سخت جگہ اہرام جیسے منظر پیش کرنے لگی۔ دو مربع سے زائد جگہ پر پھیلے ہوئے یہ کھنڈر نما اہرام بھانڈر کہلاتے ہیں اور اونچائی سے ایک بھیانک منظر پیش کرتے ہیں۔ مسافر یہاں سے بہت تیزی سے گزر جاتے ہیں۔ کہیں کہیں ہموار جگہ پر کسانوں نے زمین ہموار کر کے کاشتکاری شروع کر رکھی ہے۔

سو ہم بھی بھانڈر کے پرائمری سکول کے پاس سے گزرتے ہوئے نیچے کو اُترے۔ اوربھانڈر کی ہموار سطح پر چلنے لگے۔ دونوں طرف جا بجا آسمان سے باتیں کرتی ہوئی اونچی چٹانیں تھیں جو مٹی کی بنی ہوئی تھیں۔ ایک جگہ نلکہ لگا دیکھ کر حیرت ہوئی کچھ لڑکیاں وہاں پانی بھرنے میں مصروف تھیں۔ یہاں تنگ رستے تھے جو مختلف سمتوں کو نکل جاتے تھے ربنواز نے بتایا کہ اگر گائیڈ کے بغیر یہاں آئیں تو نکلنے کا رستہ بہت مشکل سے ملتا ہے۔ ہم بھی گھومتے پھرتے بھانڈر کے دوسری طرف پہنچ گئے۔ یہاں گہرے سرخ رنگ کی پتھریلی چٹانیں تھیں۔ یہاں سے ایک رستہ نیچے سے ہو کر جاہلر کو نکل جاتا تھا اور دوسرا رستہ جنوبی پہاڑی کے اوپر سے ہو کر جاتا تھا۔ ہم جو بھانڈر کی گہرائیوں سے گھبرائے ہوئے تھے پہاڑی رستے کو ترجیح دی۔ ایک تنگ پتھریلے رستے سے ہوئے پہاڑی پر چڑھے۔ اور ایک دلکش نظارا دیکھا۔ بھانڈر اپنی پوری آب و تاب سے ہمارے سامنے بکھرا ہوا تھا۔ یہاں سے بہت دور تک کا نظارا کیا جا سکتا تھا۔ کہیں کہیں ڈیرہ جات بھی دکھائی دے رہے تھے حیرت ہوتی ہے کہ اتنے ویرانوں میں بھی لوگ کیسے رہ لیتے ہیں۔

یہاں ریفریشمنٹ کی گئی۔ دانش بٹ مالٹے لائے تھے تو نیاز بھائی حلوہ لائے تھے۔ فہیم بھائی کے بیگ میں بہت کچھ تھا۔ سب کچھ کھاتے پیتے ہوئے بہت سی باتیں کی گئیں۔ ربنواز صاحب نے واپس جانا تھا وہ ہمیں اگلا رستہ سمجھا کر واپس سودھی چلے گئے اور ہم آگے چلے۔ کچھ پالتو مویشی دکھائی دیے پھر ان کا راکھا دکھائی دیا۔ اس سے رستہ پوچھا گیا تو اس نے نیچے سے ہی ایک سیدھا رستہ دکھایا۔ یہ وہی رستہ تھا جس پر ہم چلنا نہیں چاہتے تھے۔ ہم پہاڑوں کی ٹریکنگ کرنے آئے تھے نہ کہ سیدھی سڑک پر چلتے ہوئے جاہلر جھیل پہنچ جاتے۔ یہاں ایک خوب صورت مگر چھوٹا سا تالاب تھا بارشیں نہ ہونے کے باوجود اتنی بلندی پر وہ تالاب اپنے اندر کافی پانی سموئے جانوروں کی پیاس بجھا رہا تھا۔ یہاں سے ہم پہاڑی سے نیچے اترے۔

بائیں طرف دو پہاڑیوں کے بیچ ایک سرسبزوشاداب درہ آگے کہیں گھوم کے جا رہا تھا۔ ہم بھی اسی جانب چل نکلے۔ ہم بہت آزاد ہو کر چل رہے تھے۔ گپ شپ لگ رہی تھی۔ فہیم بھائی بتا رہے تھے کہ وہ فیملی ممبرز کے ساتھ مری جانے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ ہم میں سے کسی نے کہاکہ بھئی ہنی مون کپل کو ہی جانا چاہیے تو انہوں نے یہ بتا کر حیران کر دیا کہ وہ تین سال پہلے اپنے ہنی مون پر بھی اپنے بھائی کو لے گئے تھے۔ اس بات پر بہت ہنسے ہم لوگ۔ خوشگوار موسم، نکھری ہوئی دھوپ، بے فکری کا عالم، تنہائی اور خاموشی، سب کچھ بہترین تھا۔ درہ آگے دائیں کو گھوم رہا تھا۔ وہاں درے کے عین بیچوں بیچ دیوار بنا کر منی ڈیم بنایا گیا تھا۔ ہر طرف جھاڑیاں اور سبزہ تھا۔ اسی درے میں ہم گھوم کر آگے چلتے گئے اور ایک لمبا چکر کاٹ کر جاہلر گاؤں کے سامنے کی طرف آ نکلے۔ یہاں سے پہاڑ جھیل سے دور ہوتے دکھائی دیتے تھے۔ یہاں چرواہوں کی بنائی گئی کچھ کوٹھڑیاں بھی موجود تھیں۔ اور یہاں سامنے ہی جاہلر گاؤں اور اس سے آگے جاہلر جھیل دکھائی دے رہی تھی۔ ہم کھیتوں سے ہوتے ہوئے گاؤں کے قریب ہوئے۔ گاؤں میں داخل ہوئے تو لوگ ہمیں عجیب نگاہوں سے گھورتے تھے۔ گاؤں میں ایک جگہ پوسٹ آفس کا بورڈ بھی دکھائی دیا۔ ایک طویل گلی سے نکلے تو دوسری طرف جاہلر جھیل دکھائی دی

جاہلر جھیل تین اطراف میں پہاڑوں سے گھری ایک خوب صورت نقشہ پیش کرتی ہے ہمارے ایک سیلانی دوست نے جب پہلی بار جاہلر جھیل کو دیکھا تھا تو کہا تھا کہ اس کے ایک طرف اگر دلکش قسم کا ریزارٹ بنادیا جائے تو یہ جگہ بالکل شنگریلا جھیل کی طرح معلوم ہو گی۔ وادی سون کی باقی دو جھیلوں کی نسبت یہ جھیل اگرچہ چھوٹی ہے لیکن ایک دلکش منظر پیش کرتی ہے۔ موسم سرما میں سائبیریا سے آئی سیاہ رنگ کی مرغابیوں اور دیگر پرندوں سے جھیل بھری ہوئی تھی۔ یہ پردیسی پرندے یہاں بہت سکون سے سردیاں گزارتے ہیں۔ شکار پر مکمل پابندی ہے اور جھیل میں کشتی رانی بھی نہیں ہوتی۔

ایک طویل سفر کے بعد ہم نے سایہ دار جگہ تلاش کی۔ بوٹ و جرابیں اتاریں اور بیٹھ گئے۔ فہیم بھائی نے اپنا بیس کلو وزنی بیگ کھولا اور اس میں سے سوغاتیں نکال نکال کر رکھنا شروع کر دیں۔ ٹیونا فش کے کباب، سالمن کباب، روسٹ چکن، پراٹھے۔ بٹ صاحب ایک بڑا پراٹھا بنو ا کر لائے تھے اور عدنان صاحب نے دہی سے بھرا باول نکالا۔ یہ ایک شاندار لنچ تھا۔ اس کے بعد ممبران ادھر اُدھر بکھر گئے۔ فہیم بھائی گھاس پر لیٹ گئے۔ کچھ دیر گپ شپ لگائی گئی۔ کمانڈر عدنان عالم صاحب کی کال آئی انہوں نے پہلے تواپنے نہ آنے کا افسوس کیا پھر ہمارے ہمت و حوصلے کو سراہا۔ چار بج رہے تھے۔ ہمارا آج کا ٹریک مکمل ہو چکا تھا۔ لیکن سوچا گیا کہ ابھی وقت ہے تو کیوں نہ جھیل کے گرد ایک چکر لگایاجائے۔ تو ہم جھیل کے ساتھ ساتھ چل پڑے۔ سورج ڈھل رہا تھا۔

جھیل کے گرد گھنی جھاڑیاں تھیں۔ اور ان سے آگے پہاڑ اوپر کو بلند ہو رہے تھے۔ ہم نے جھیل کے گرد اپنا چکر مکمل کیا۔ فوٹو گرافی کی گئی اور پھر اپنی کار کی جانب چل پڑے ایک بار پھر گاؤں کے اندر سے ہو کر چلے۔

اس سفر میں جو حیران کن بات دیکھی وہ یہ تھی کہ جاہلر سے کٹھوائی جانے کے لئے بھانڈر کے پاس سے گزار کر ایک نہایت عمدہ سڑک بنائی جا سکتی ہے لیکن جاہلر کے باسیوں کی بدقسمتی ہے کہ وہ ایک بہت اونچے پہاڑ پر بنی سڑک پر چڑھ کر دوسری جانب چکر کھاتی ہوئی سڑک کے ذریعے بہت زیادہ فاصلہ طے کر کے کٹھوائی پہنچتے ہیں۔
وادی سون ہائیکنگ، ٹریکنگ اینڈ آرکیالوجی کا یہ سترہواں ٹریک تھا۔ جو بہت یاد گار رہا۔ شام کو ہم سب لوگوں نے ایک دوسرے کو بہت گرمجوشی سے الوداع کیا۔ اور اگلے ٹریک پر ملنے کے وعدےکیے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).