کراچی لٹریچر فیسٹیول میں رقص کی دیوانی میں!

مبشر زیدی سے ملاقات ہوئی تو مبشر علی زیدی کی کمی شدت سے محسوس ہوئی، نور الہدی شاہ سے ملی تو اپنی ماں کی یاد ستائی مگر جس شدت سے رامش فاطمہ کی کمی محسوس ہوئی وہ ناقابل بیان ہے۔ مجھے یقین ہے وہ آج ساتھ ہوتی تو ہر دوسرے لمحے میں کسی نا کسی ادب دوست کو وہاں دیکھ کر ملنے کے لئے دیوانہ وار اس کی طرف دوڑ لگا دیتی۔ لیکن اس سے بھی زیادہ اس بات کا یقین ہے کہ بہت سے لوگ اس سے مل کر خود کو خوش قسمت سمجھتے کیونکہ بلاشبہ محترمہ ایک مشہور لکھاری ہیں۔
سچ کہوں تو کسی بھی سیشن سے زیادہ مجھے کتھک کا انتظار تھا۔ جس طرح طبلے کی ہر تھاپ کے ساتھ انگلیوں کے زاویئے بدلتے تھے اور ہر لمحے تبدیل ہوتی موسیقی کی دھن کے ساتھ روح تک اسے محسوس کرتے ہوئے جسم کا زاویہ بدلتا تھا۔۔ میرا انگ انگ اس کے سحر میں جکڑا جاتا تھا۔ رقص ختم ہوا تو مجھے احساس ہوا کہ ابھی تو لطف آنا شروع ہوا تھا، طلب زیادہ تھی مگر پوری نہیں ہوئی۔ کتھک ہر شخص کے لئے نہیں ہے، ہر کوئی اس سے لطف اندوز نہیں ہوتا، سب کے دیکھنے کا نظریہ ایک جیسا نہیں ہوتا مگر یقین کریں میں نے جسم کے ہر تھرکتے حصے کے ساتھ خود کو رقص کرتا پایا۔
اب مجھے انتظار ہے آخری روز کا جب ایک اور کتھک پرفارمنس ہے کیونکہ مجھے ادب سے زیادہ رقص پسند ہے، میرا ایمان ہے کہ رقص ایک اور دنیا کا ادب ہے۔ دانشوروں کا نا سہی ہم جیسے دیوانوں کا سہی!
