صارفی نظام، معاشی زبوں حالی اور انسانی نفسیات

صارفیت زدہ عہد میں اس کے اثرات سے محفوظ رہ پانا آسان نہیں ہوتا۔ کیونکہ صارفی نظام جس منصوبہ اور پالیسی کے تحت اپنے اثرات مرتب کرتاہے وہ انسان کے دل و دماغ پر چھاجاتے ہیں۔ یعنی ہر وقت انسان اس پالیسی کا ذہنی طورپر شکاررہتاہے۔ چاہتے ہوئے بھی ہم اس کے اثرات سے خود کو بچانہیں پاتے کیونکہ وہ صارفی نظام ہماری تہذیب اور روزمرہ کی ضرورتوں پر مسلط ہوجاتاہے۔ مثال کے طور پر ہم ناشتہ میں گھر پر بنائی گئی روٹی کی جگہ بریڈ اور جیم یا بٹر کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ استعمال صحت کے نقطۂ نظر سے نہیں ہوتابلکہ ہمیں یہ یقین دہانی کرادی گئی ہے کہ بریڈ، جیم یا بٹر جیسی مصنوعات ہی آسان بریک فاسٹ ہیںاور صحت کے لئے فائدہ مند ہیں۔ آج کے عہد میں انسان اتنا مصروف ہوچکاہے کہ اس کے پاس اپنی صحت پر دھیان دینے کا بھی وقت نہیں ہے۔ اس مصروف نظام زندگی کا فائدہ صارفی نظام کو پہونچتا ہے۔ ان کے بزنس ایکسپرٹ اور مارکیٹ کے تجزیہ نگار ایسے پروڈکٹس کی پیداور کی کھپت کا یقین دلاتے ہیں جو اس مصروف نظام زندگی میں با آسانی انسانی ضرورتوں پر محیط ہوسکے اوراسکے وقت کے تحفظ میں معاون ہو۔
اسی لئے سپرمارکیٹ کا دائرہ مزید وسیع تر ہورہاہے کیونکہ انسان الگ الگ مارکیٹ اور مختلف دوکانوں پر جاکر سامان خریدنے میں وقت برباد کرنا نہیں چاہتاہے۔ وہ ایک ایسی مارکیٹ کا خواہشمند ہوتاہے جہاں اس کیضرورت کا ہر سامان کم وقت میں اس کیدسترس میں ہو۔ اس صارفی نظام نے ہمیں اس قدر سہل پسند اور مطمئن بنادیاہے کہ ہم چیزوں کے برانڈ کو دیکھ کر اس کیکوالٹی کا یقین کرلیتے ہیں جبکہ اس برانڈ کی اہمیت کی یقین دہانی پر کمپنیاں کروڑوں روپے خرچ کررہی ہوتی ہیںتاکہ اس کا پروڈکٹ بد اعتمادی کی بنیاد پر ریجیکٹ نہ کردیاجائے۔ سرمایہ دار انہ نظام مارکیٹ میں برانڈ کے اعتماد اور کوالٹی کے یقین پر ٹکا ہوا ہے۔ اگر یہ یقین بحال نہ ہو تو سرمایہ دارانہ نظام کسی بوسیدہ عمارت کی طرح ڈھہ کر رہ جائے۔ جبکہ کنزیومر اس حقیقت کے ادراک سے عاری ہوتا ہےکہ سرمایہ دارانہ نظام میں صرف پیداوار کے اضافہ پر نگاہ ہوتی ہے اس کیکوالٹی پر نہیں۔ اس نظام کی عمومی تعریف ہی اس طرح کی گئی ہے کہ ’’ ایک ایسا سماجی و معاشی نظام جو پیداوار کا ارتقاچاہتا ہے اور اس پیداوار کو ذاتی ملکیت میں بڑھوتری کی شرح برقرار رکھتے ہوئے اپنے منافع کی مقدار کو ذاتی معاشی افزودگی میں استعمال کرتا ہے، تاہم کولیٹرل بینیفٹ کے طور پر کچھ حصہ خودبخود معاشرے کے دیگر عناصر تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ نظام انفرادی اور کارپوریٹ سماجی اکائیوں کو اپنے مرتکز سرمایہ کی ملکیت کی آزادی دیتا ہے۔ ‘‘مارکیٹ کے اس سسٹم پر نگراں ریاستی سسٹم بھی پیدوار کے ان حقائق سے بخوی واقف ہوتاہے مگر ان کمپنیوں اور مارکیٹ سے حاصل شدہ ٹیکس کی بڑی رقم ریاستی نگراں سسٹم کو آنکھیں موندنے پر مجبورکردیتی ہے۔
مارکس نے ’’سرمایہ ‘‘ میں صارفیت پر بحث کی ہے۔ وہ لکھتاہے ’’چیزیں اگر نہ کی جائیں تو ان کے استعمال کا سوال ہی نہ اُٹھے۔ یعنی پیداوار صَرف کا باعث ہوتی ہے مگر صَرف بھی پیداوار کا سبب بنتا ہے۔ وہ یوں کہ اگر چیزیں استعمال میں نہ آئیں تو ان کو پیدا کیوں جائے؟ صَرف دو طریقوں سے پیداوار کا سبب بنتا ہے۔ پیداوار حقیقی معنی میں پیداوار کہلانے کی اسی وقت مستحق ہوتی ہے جب وہ استعمال میں آئے۔ استعمال کا عمل معاشرے کو نئی نئی چیزیں پیدا کرنے کی ترغیب دیتا ہے اور پیداوار کا داخلی سبب بنتا ہے۔ ‘‘
مارکس اپنی کتاب میں صارفیت کے اس نظام پر بحث کررہاہے جو طبعی نظام ہے۔ مارکس کے عہد تک ضرورت ایجاد کی ماں تھی مگر مارکس کو اس وقت یہ اندازہ نہیں تھا کہ مستقبل میں ایجاد بھی ضرورت کی ماں کا درجہ حاصل کرسکتی ہے۔ یعنی اگر کوئی چیز قابل استعمال نہیں ہے تب بھی اسے قابل استعمال بنایا جاسکتاہے۔ صارف کی ضرورت نہ ہو تب بھی وہ صارف پیدا کرسکتی ہے۔ پیداوار پر مسلط افراد صرف یہ سوچتے ہیں کیا اور کس قد ر پیدا کرنا ہے۔ انہیں صارف کی پرواہ نہیں ہوتی کیونکہ انہیں یقین ہوتاہے کہ پیداوار اپنا صارف خود پیدا کرلے گی۔ اس نظام نے قدیمی رسداور طلب کے نظام کو ختم کردیاہے۔ اب پیداوار کے مد نظر صارف پیداکیے جاتے ہیں نا کہ صارف کو ذہن میں رکھ کر پیداوار کی جاتی ہے۔ اس نظام کے پھلنے پھولنے میں میڈیا کا اہم کردار ہے۔ یا در حقیقت صارف کی اہمیت کوختم کرنا ہی میڈیا کا مقصد رہ گیاہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے پوری طرح طلب(ڈیمانڈ) پر حملہ کیاہے۔ اگر کوئی چیز صارف کے لئے غیر ضروری ہے تب بھی اسے اس کے استعمال پر مجبور کیا جاتاہے۔ صارف کی یہ مجبوری غذا، لباس جیسی اشیاء سے لے کر اسلحات کے استعمال تک ہے۔ اگر صارف ان چیزوں کے استعمال کو غیر ضروری تصورکرتاہے تو یہ نظام ان چیزوں کے استعمال کے لئے مختلف حیلے و ہتھکنڈے اپناتاہے تاکہ صارف ان چیزوں کو اپنی ضرورت کی فہرست میں شامل کرسکے۔
گلوبلائزیشن کے عہد میں ہر چیز کو خریدا اور بیچا جاسکتاہے۔ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو قابل استعمال نہ ہو۔ یہ عہد صارف کی پیدا وار کا عہد ہے۔ شے کی پیداوار کا عہد پرانا ہوچکاہے۔ اس لئے آج کا مارکیٹنگ سسٹم اور میڈیا شے کی پیداوار پر زور نہیں دیتا بلکہ شے کی پیداوار سے پہلے صارف پیدا کرلئے جاتے ہیں۔ جس چیز کو آپ آسانی سے حاصل کرسکتے ہیں اسے بیش قیمت بناکر پیش کیا جاتاہے تاکہ کوئی چیز صارف کی دسترس میں نہ ہو۔ یا دسترس میں ہوتے ہوئے بھی وہ ان چیزوں کے استعمال پر یقین نہ کرے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم برانڈیڈ چیزوں کے استعمال پر یقین رکھتے ہیں۔ خواہ وہ برانڈ کتنا ہی بے قیمت یا غیر ضروری ہی کیوں نہ ہو۔ ایک پانی کی بوتل سے لے کر انڈرویئر، اور ٹوتھ پیسٹ سے لے کر گاڑی تک ہم ہرچیز میں اچھا برانڈ تلاش کرتے ہیں۔ کیونکہ ہمیں یہ بارور کرادیا گیاہے کہ اگر صحت ضروری ہے اور سماج میں مہذب لوگوں کے ساتھ زندگی گزارنی ہے تو ان کے استعمال کی چیزوں کا اپنانا بھی لازمی ہے۔ اگر ہم تب بھی ان چیزوں کے استعمال سے پرہیز کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان چیزوں کو صارف تک منتقل کرنے کے لئے شہوت انگیزی کا سہارا لیا جاتاہے۔ بے لباس لڑکیاں جو پانی سے لے کر گاڑی تک کی مارکیٹنگ کرتی ہیں ہمارے لئے ہر چیز کو ضروری بنادیتی ہیں۔
سرمایہ دار جس چیز کی پیداوار کرتاہے اور میڈیائی تشہیر کے ذریعہ اس چیز کو صارف کی ضرورت بنادیتاہے اس پورے نظام میں فقط سرمایہ دار کا فائدہ مد نظر نہیں ہوتا۔ بلکہ سرمایہ دار اپنی پیداوار کو منافع بخش قیمت پر فروخت کرتاہے۔ اشتہار بنانے والی کمپنیاں اس پیداور کے منافع میں شریک ہوتی ہیں۔ اور میڈیا جو ان اشتہارات کو پیش کرتاہے وہ بھی اس منافع کا مالک ہوتاہے۔ اس طرح اشتہار ی کمپنیوںکا اہم کردار سامنے آتاہے کہ وہ کس طرح ایک پروڈکٹ کو انسانی ضرورت بناکر پیش کرتی ہیں۔ یعنی یہ پورا نظام تین اہم ستونوں پر ٹکا ہوا ہے۔ سرمایہ دار، پبلسٹی سسٹم اور میڈیا۔ یہ تین ستون انسانی ضرورتوں میں ردوبدل کرنے کے لئے خودمختار ہیں اور انسانی نفسیات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ اس طرح یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ میڈیا کا کام حقیقت دکھانا نہیں ہے۔ کیونکہ اگر میڈیا حقیقت دکھانے پر ذہن مرتکز کرتاہے تو اسے اشتہارات نہیں ملیں گے۔ اس طرح تمام میڈیائی ادارے بند ہوجائیں گے یہی وجہ ہے میڈیا اپنی بقا کے لئے اشتہارات کا محتاج ہے اور سرمایہ دار اشتہاری نظام کا۔ اس طرح یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ کس طرح انسان کو صارفی نظام نے اپنی گرفت میں لے رکھاہے۔
اگر ہم تازہ اعدادوشمار پر نظر ڈالیں جو سرمایہ دارانہ نظام کے دن بہ دن ارتقاء اور صارف کی معاشی تنزلی پر مبنی ہیں۔ ان اعدادو شمار کے مطابق سرمایہ دار کے سرمایہ میں اسی سسٹم کی بنیاد پر اضافہ ہوتا جارہاہے اور صارف معاشی بدحالی کا شکار اس لئے ہے کہ وہ اس سسٹم پر اعتبار کرتے ہوئے اپنی جمع پونچی کو خرچ کرنے میں بھی دریغ نہیں کرتا۔ گویا صارف کوریقینی کے گرداب میں الجھا ہوا ہے۔ اسے جو بارور کرادیا جاتاہے وہ بارورکرلیتا ہے۔ یہ صورتحال صارفی نظام کے لئے بہتر ہوسکتی ہے مگر صارف کے لئے خطرناک ترین صورتحال ہے۔

