اترپردیش کے علاوہ دیگر کئی ریاستوں میں ’لوجہاد‘ کے خلاف قانون سازی عمل میں آئی ہے جس کا واحد مقصد اقلیتوں کو ہراساں کرنا ہے۔ ورنہ ’لوجہاد‘ کی زمینی حقیقت سے ملک کی حفاظتی سرکاری ایجنسیاں انکار کر چکی ہیں ، اس کے باوجود اس قانون کا عمل میں لانا اس بات کی دلیل ہے کہ سرکار ملک کی حفاظتی ایجنسیوں کی رپوٹ کو قابل اعتبار نہیں سمجھتی۔ اس قانون سازی کا ہدف بھی اکثریتی طبقے کے بڑے حلقے کو خوش کرنا ہے ۔
ملک کا بڑا حلقہ یہ سمجھتا ہے کہ مسلمان ’لو جہاد‘ کو فروغ دے رہے ہیں اور ہندو لڑکیوں کو عشق کے جال میں پھنسا کر شادیاں کرتے ہیں اور پھر ان کا مذہب تبدیل کروا دیا جاتا ہے ۔ حالانکہ ہندوستان میں بین المذاہب شادیوں کا مسئلہ کوئی نیا نہیں ہے۔ سیکڑوں سال سے ایسا ہوتا آیا ہے اور آئندہ بھی ضروری نہیں کہ یہ سلسلہ ختم ہو۔
ہندو مسلمان لڑکیوں سے شادی کرتے رہے ہیں اور مسلمان ہندو لڑکیوں سے۔ مگر کبھی ’لو جہاد‘ کی بات سامنے نہیں آئی بلکہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے سے پہلے کوئی اس اصطلاح سے واقف بھی نہیں تھا۔ آج اس فرضی اصطلاح کو قانونی حیثیت دے دی گئی ہے جو ملک کے عوام کے ساتھ فریب اور جعل سازی ہے۔
Read more