جانوروں کی حکومت اور انقلابی بھیڑیں

اینیمل فارم میں انگلینڈ کے ایک ایسے زرعی فارم کا نقشہ پیش کیا گیا ہے جس میں جانور اپنے حقوق کے لئے غاصب انسانوں سے چھٹکارا پانے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ آزادی اور حقوق کا یہ خواب دیکھنے والا ایک بوڑھا سور ہوتا ہے جو سب جانوروں کو جمع کر کے ان کے سامنے اپنے خیالات پیش کرتا ہے۔ وہ مر جاتا ہے تو اس کی جگہ دو نئے سور انقلاب کے لئے جدوجہد شروع کر دیتے ہیں۔ ایک کا نام سنوبال ہوتا ہے جو بہت ذہین ہوتا ہے مگر اسے چالبازیاں نہیں آتیں۔ دوسرے کا نام نپولین ہے جو ایک عیار اور چالباز کردار ہے۔ نپولین کے ساتھ ایک تیسرا سور مل جاتا ہے جس کا نام سکویلر (چیخنے والا) ہے۔ سکویلر کا کام نپولین کے حق میں پروپیگنڈا کرنا اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا ہے۔ اس کے اس بادشاہ کے بارے میں جانوروں میں مشہور ہے کہ وہ اپنے لفظوں سے سیاہ کو بھی سفید ثابت کر سکتا ہے۔
فارم میں سب سے زیادہ تعداد بھیڑوں کی تھی۔ یہ خود سے سوچنے سمجھنے یا کچھ نیا سیکھنے کی صلاحیت سے محروم تھیں۔ ان کو ان کے لیڈر جو بھی بتاتے اور سکھاتے یہ اس پر آنکھیں بند کر کے یقین کر لیتیں۔ ان میں نپولین بہت مقبول تھا۔ بھیڑوں کو انقلاب کے مقاصد کی سمجھ نہیں تھی مگر وہ انقلاب لانے کے جوش کو پسند کرتی تھیں۔ بھیڑیں سادہ سا سات نکاتی انقلابی منشور یاد رکھنے سے قاصر تھیں اس لئے نپولین نے بہت محنت سے ان کو ایک نعرہ یاد کرانے پر اکتفا کیا ”چار ٹانگیں اچھی، دو ٹانگیں بری“۔ جب بھی کسی جلسے میں سنوبال یا کوئی دوسرا نپولین پر تنقید کرنے کی کوشش کرتا تو سکویلر کی طرف سے ایک اشارہ ہوتا اور اچانک یہ بھیڑیں پھپھڑوں کا پورا زور لگا کر چیخنے لگتیں ”چار ٹانگیں اچھی، دو ٹانگیں بری“۔ یوں بولنے والے کی صدا ان کے شور میں گم ہو جاتی۔ انقلابی بھیڑوں کو یہ نعرہ اتنا بھایا کہ جس وقت وہ فارغ ہوتیں تو وہ وقت گزاری کے لئے نعرے لگانے لگتیں ”چار ٹانگیں اچھی، دو ٹانگیں بری“ اور کئی کئی گھنٹے یہ نعرے لگا کر اپنا خون گرماتی رہتیں۔
یہ انقلابی بھیڑیں سوچنے سمجھنے کی اہل نہ تھیں اور اپنے لیڈر کی کسی بات پر سوال نہیں اٹھاتی تھیں۔ ان کی خوشی صرف شور مچانے میں تھی۔ یہ اپنے لیڈر کے پیچھے ہجوم کا حصہ بن کر خود کو محفوظ سمجھتی تھیں اور یہ سوچ کر خوش رہتی تھیں کہ وہ ایک انقلاب لانے میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں اور انقلاب دشمن طاقتوں کو شکست دے رہی ہیں۔
رفتہ رفتہ ان کا انقلابی لیڈر نپولین اور اس کے ساتھی ان انسانوں جیسے ہی ہو گئے جن کے خلاف وہ انقلاب لائے تھے۔ بلکہ یہ نئے لیڈر جانوروں کے حق میں ان انسانوں سے بھی زیادہ برے ثابت ہونے لگے۔ ان کا رہن سہن بالکل ویسا ہی ہو گیا جیسا انقلاب سے پہلے فارم کے انسانی آقاؤں کا تھا۔ حتی کہ اب وہ چار ٹانگوں پر چلنے کی بجائے انسانوں ہی کی طرح دو ٹانگوں پر چلنے لگے۔ سکویلر نے اب بھیڑوں کو نیا نعرہ دے دیا۔ ”چار ٹانگیں اچھی دو ٹانگیں بہتر“۔
انقلابی بھیڑیں اپنا دماغ استعمال کرنے سے قاصر تھیں۔ ان کو تو جو نعرہ دیا جاتا تھا، وہ اسی کا الاپ شروع کر دیتی تھیں۔ اب وہ اسی جوش سے ہر جگہ نیا نعرہ لگاتی دکھائی دینے لگیں۔ ”چار ٹانگیں اچھی دو ٹانگیں بہتر“۔
یہ ناول روسی بالشویک انقلاب کے پس منظر میں لکھا گیا ہے مگر یہ کہانی کسی ایک انقلاب یا کسی ایک لیڈر کی نہیں ہے۔ یہ ان سب لیڈروں کی ہے جو اپنے مقاصد کے لئے بھیڑوں کو بے وقوف بنا کر استعمال کرتے ہیں۔ یہ انقلابی بھیڑیں درحقیقت انقلاب دشمن ثابت ہوتی ہیں اور حالات کو پہلے سے بھی زیادہ برا کرنے میں مددگار بن جاتی ہیں۔
آج آپ ان انقلابی بھِیڑوں کو سوشل میڈیا پر عام دیکھ سکتے ہیں جو کہیں سے کسی کا ایک کمنٹ یا مضمون اٹھا کر فکری مخالف کی پوسٹ یا کمنٹ کے جواب میں سوچے سمجھے بغیر آنکھیں بند کر کے چسپاں کرنے لگتی ہیں۔ کبھی ان بھیڑوں کو یہ نعرہ دیا جاتا ہے کہ "چار ٹانگیں اچھِی، دو ٹانگیں بری” اور یہ اسی کو الاپنے لگتی ہیں، اور جب ان کا راہنما یا پارٹی اپنے موقف سے پھر جاتی ہے تو ان کو "چار ٹانگیں اچھی، دو ٹانگیں بہتر” کا نعرہ اسی جوش و جذبے سے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یوں ان بھیڑوں کے سر پر جانوروں کی حکومت چلتی رہتی ہے۔ جانوروں کی حکومت ختم کرنی ہے تو خود سے اختلاف رکھنے والی آواز کو بھی سننا ہو گا اور اپنے لیڈر یا پارٹی یا فکری راہنما کے رویوں پر بھی تنقیدی نظر ڈالنی پڑے گی۔

