عاصمہ جہانگیر میری فیس بک فرینڈ ہیں
گیارہ فروری کی شام کو یہ انکشاف مجھے نہال کر گیا کہ عاصمہ جہانگیر میری فیس بک فرینڈ ہیں۔ میں زندگی میں کبھی عاصمہ جہانگیر سے نہیں ملا نہ ہی میری کبھی ان سے بات ہوئی۔ پاکستان کے پچانوے فیصد عوام کی طرح میں نے بھی عاصمہ جہانگیر کو محض ٹیلی وژن اور اخبار کی حد تک دیکھ رکھا تھا۔ گیارہ فروری کی صبح عاصمہ جہانگیر اپنے خالق حقیقی سے جا ملی تھیں۔ یہ ایک افسوس ناک خبر تھی اور پوری قوم مجھ سمیت ایک نہایت شاندار پاکستانی کے چلے جانے کا غم منا رہی تھی۔ شام کو مگر جب میں نے اپنا فیس بک اکاؤنٹ کھولا تو میری وال پر عاصمہ جہانگیر کی تصویر کے ساتھ ایک عدد پوسٹ لگی ہوئی تھی۔
حیرت کے ابتدائی جھٹکے سے گذر کر جب میں نے غور سے پوسٹ کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ عاصمہ جہانگیر نے کسی اور نام سے اپنا فیس بک اکاؤنٹ بنا رکھا تھا مگر اپنی تصویر تبدیل کرنا شاید بھول گئی تھیں۔ اگلا دن گزرنے تک معلوم پڑا کہ عاصمہ جہانگیر نے کئی مختلف ناموں سے فیس بک اکاؤنٹ بنا رکھے ہیں اور وہ میری فرینڈ لسٹ میں بھی شامل ہیں۔ اچنبھا مگر مجھے اس بات سے ہوا کہ عاصمہ جہانگیر نے مختلف فیس بک اکاؤنٹ ان ناموں سے بنا رکھے تھے جن کو میں جانتا تھا اور ان سے میری بات چیت بھی رہتی تھی۔ اس سے اگلے دن یعنی تیرہ فروری کو مجھے یہ دیکھ کر دوبارہ جھٹکا لگا کہ عاصمہ جہانگیر کے ایک اکاونٹ کی تصویر تبدیل ہو گئی تھی اور اب وہاں میرے ایک دوست کی شکل دکھائی دے رہی تھی۔ یہ دوست وہی ہیں جن کے نام پر عاصمہ جہانگیر کا وہ فیس بک اکاؤنٹ تھا۔
پھر میں نے تحقیق شروع کی تو میرے علم میں یہ بات آئی کہ عاصمہ جہانگیر صرف میری ہی نہیں بلکہ بہت سارے لوگوں کی فیس بک فرینڈ ہیں اور ان کے بے شمار فیس بک اکاؤنٹ ہیں۔ تب جا کر یہ بات سمجھ میں آئی کہ عاصمہ جہانگیر کی تصویر پروفائل پکچر پر لگانا ہمارے سوشل میڈیا کا ٹرینڈ بنا ہوا ہے۔ اور عاصمہ جہانگیر سے عقیدت اور محبت کا رشتہ رکھنے والے لوگ اپنی پروفائل پکچر پر عاصمہ جہانگیر کی تصویر لگا رہے ہیں۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ عاصمہ جہانگیر کو میں پاکستان کی تاریخ کی شاندار شخصیات میں سے ایک سمجھتا ہوں اور ان کے انتقال کو پاکستان کے لیے بہت بڑا نقصان سمجھتا ہوں۔ بے اختیار میرا دل چاہا کہ میں بھی اس ٹرینڈ میں شامل ہو جاؤں اور اپنی پروفائل پر عاصمہ جہانگیر کی تصویر لگا دوں۔ یہ سوچ کر میں نے گوگل پر عاصمہ جہانگیر کا نام لکھا اور معلومات کا ایک جہاں میرے سامنے کھل گیا۔ جہاں عاصمہ جہانگیر کی تصاویر میرے سامنے آئیں وہیں ان کے بارے میں معلومات بھی میرے سامنے کھل گئیں۔ بے اختیار میں نے پڑھنا شروع کر دیا۔ عاصمہ جہانگیر کے بارے میں کچھ لکھنے کی ضرورت ہی نہیں۔ اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ اس سے زیادہ اور لکھنا شاید ممکن نہ ہو۔ لوگوں نے ان کے کارنامے بیان کیے۔ ان کی جد و جہد پر روشنی ڈالی۔ ان کی ان تھک محنت کو تسلیم کیا۔ ان کی عدالتی مہارت، انسانی حقوق کے لیے حساسیت اور جمہوریت کی وکالت سے ہم سب واقف ہو چکے ہیں۔
ابھی عاصمہ جہانگیر کے جانے کا دکھ تازہ ہے۔ ماتم جاری ہے۔ جذبات عروج پر ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کی تصاویر اپنی پروفائل پکچر پر لگانے کا سلسلہ جاری ہے۔ مگر یہ ہمیشہ جاری نہیں رہے گا۔ ایک ایک کر کے ان کی تمام تصاویر پروفائل پکچر سے اتر جائیں گی۔ کچھ عرصے کے بعد ٹرینڈ ختم ہو جائے گا اور عاصمہ جہانگیر تاریخ کا حصہ بن جائیں گی۔ پھر کیا ہو گا؟ کیا ہم عاصمہ جہانگیر کی چھوڑی ہوئی میراث کی حفاظت کر سکیں گے؟ کیا کوئی اور بلند ہمت فرد آگے بڑھ کر وہ جھنڈا اٹھائے گا جس جھنڈے کو اٹھائے عاصمہ جہانگیر نے اپنی زندگی کے اڑتالیس برس گذار دیئے۔ کیا عاصمہ جہانگیر کے بعد انسانی حقوق کا کوئی ایسا محافظ پیدا ہو گا جو دیوانہ وار ظالموں سے ٹکرا جانے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ کیا ڈنکے کی چوٹ پر غلط کو غلط قرار دینے والا کوئی سورما پیدا ہو گا؟
اپنی قوم پرایک نظر ڈالنے کے بعد میرا جواب افسوس کے ساتھ نہیں میں ہے۔ ڈیڑھ برس قبل ہم نے عبد الستار ایدھی کو کھویا تھا۔ قوم نے عبد الستار ایدھی کے انتقال کے بعد ان کی تصاویراپنی سوشل میڈیا کی پروفائل پر لگا دیں۔ ان کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا۔ لوگوں نے جذبات میں بڑے بڑے دعوے کیے۔ ایدھی کے مشن کو لے کر آگے بڑھنے کا عزم ظاہر کیا۔ اور پھر فیصل ایدھی نے ایک سال کے بعد یہ انکشاف کیا کہ عبدالستارایدھی کی وفات کے بعد ایدھی فاؤنڈیشن کے عطیات میں خاطر خواہ کمی آ رہی ہے۔ ہماری قوم کو یہ بات سمجھ ہی نہیں آئی کہ عبد الستار ایدھی چلے گئے مگر ان کی میراث قائم ہے۔ ان کا مشن لے کر فیصل ایدھی آگے بڑھنا چاہ رہے ہیں لیکن ہماری اپنی قوم نے ان کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دی ہیں۔ یہ المیہ ہے۔ یہ ایک ایسی قوم کا المیہ ہے جو محض گفتار کی غازی ہے۔ بلکہ معاف کیجیے گا۔ گفتار کی غازی تھی۔ اب تو ہمارے غازی وہ ہیں جو سر عام قتل کر کے مقدمے سے بری ہو جاتے ہیں۔ اور بری ہو کر نہ صرف اپنےجرم کا اقرار کرتے ہیں بلکہ دوبارہ ایسا جرم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کرتے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ ہم ڈسپوزایبل جذبات رکھنے والی ایک ایسی قوم ہیں جس کے لیے ہر سانحہ محض ایک واقعہ ہے اور ہر واقعہ کے بعد ہم صرف ٹرینڈ فالو کرتے ہیں۔ جب تک ٹرینڈ رہے ہمارے جذبات قائم رہتے ہیں۔ ٹرینڈ ختم ہو جائے تو کہانی ختم ہو جاتی ہے اور ہم اپنے ڈسپوزایبل جذبات کو استعمال شدہ ٹشو پیپر کی طرح کوڑے دان میں پھینک دیتے ہیں۔ پاکستان کے مظلوم طبقے کے ایک محسن عبدالستار ایدھی کی کہانی ان کا ٹرینڈ ختم ہوتے ہی ختم ہو گئی تھی۔ میرا دکھ یہ حقیقت جان کر سوا ہوتا جا رہا ہے کہ پاکستان کے مظلوم طبقے کی دوسری محسن عاصمہ جہانگیر کی کہانی بھی ان کا ٹرینڈ ختم ہوتے ہی ختم ہو جائے گی۔


