عمران خان کی شکست فاش پاکستان کے لئے برا شگون ہو گی

اس وقت دیکھا جائے تو قومی سیاست میں مسلم لیگ نون کی واحد مخالف تحریک انصاف ہی بن کر رہ گئی ہے۔ کسی وقت میں بھٹو کو اقتدار میں لانے والے لاہور اور اب پیپلز پارٹی کا گڑھ سمجھے جانے والے جنوبی پنجاب میں جس طرح پیپلز پارٹی ایک بہت بڑے فرق سے پیچھے رہ گئی ہے اور جماعت اسلامی ٹائپ انتخابی پرفارمنس دے رہی ہے، اسے دیکھتے ہوئے تحریک انصاف ہی مستقبل میں مسلم لیگ نون کے لئے واحد چیلنج دکھائی دیتی ہے۔
یہی چیلنج ہے جس کی وجہ سے اب مسلم لیگ نون کی وہ حکومت جس نے اپنی تاریخ میں کبھی بھی انسانی ترقی اور شہریوں کی فلاح کو اہمیت نہیں دی ہے، اپنے حالیہ جلسوں میں صحت اور تعلیم کے منصوبوں کا اعلان کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ بلاشبہ انفراسٹرکچر، سڑکیں اور ٹرانسپورٹ ملکی ترقی کے لئے اہم ہیں مگر ان سے بھی زیادہ اہم ملک کے شہری ہوتے ہیں۔ دنیا کی موجودہ معیشت زراعت پر نہیں بلکہ علم اور ایجادات پر تکیہ کرتی ہے۔ علم اور ایجادات تعلیم یافتہ، باشعور اور روادار انسانوں کا عطیہ ہوتے ہیں۔ اس میدان میں مسلم لیگ نون کی کارکردگی تقریباً صفر ہے۔ کیا وجہ ہے کہ جو نوجوان بھی اپنے میدان میں اچھا ہوتا ہے ملک سے باہر جانے پر مجبور دکھائی دیتا ہے؟
انفرا سٹرکچر کی بنیاد پر مسلم لیگ نون سیاست کرتی رہی ہے اور عمران خان اس کی شدید مخالفت کرتے رہے ہیں۔ دونوں کے رویوں میں اعتدال نہیں ہے۔ اب حکومت کے عین پانچویں برس تحریک انصاف نے مسلم لیگ نون کا میٹرو ماڈل اپنا لیا ہے۔ وہ اپنی پشاور میٹرو کی جتنی بھی تعریف کریں گے، ووٹر کو یہی بتائیں گے کہ وہ میاں نواز شریف کے منصوبوں کی توثیق کر رہے ہیں اور جو چیز نواز شریف کو چار برس پہلے سمجھ آ جاتی ہے وہ عمران خان کو چار سال بعد سمجھ آتی ہے۔
مسلم لیگ نون کی حکومتی کارکردگی بہت اچھی نہیں رہی ہے۔ عوام میں جس تیزی سے شعور پھیل رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے مسلم لیگ نون کی کارکردگی پر بہت سے سوالات اٹھتے ہیں۔ لیکن اس کے متبادل کے طور پر ابھرنے والی تحریک انصاف نے بھی مایوس کیا ہے۔ کیا عمران خان اس بات پر غور کریں گے کہ دھرنے تک ان کی اندھا دھند حمایت کرنے والے نوجوان اب ان سے لاتعلقی کیوں اختیار کر رہے ہیں؟ سوشل میڈیا پر بعض نوجوان جو تحریک انصاف کے خلاف ایک لفظ بھی سننا پسند نہیں کرتے تھے وہ اب الٹا مسلم لیگ نون کی حمایت کرتے کیوں دکھائی دیتے ہیں؟ کسی اگلی تحریر میں ہم عمران خان کی ان خوبیوں اور خامیوں کا ذکر کریں گے لیکن یہ عمران خان کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔
عمران خان سیاسی حرکیات سمجھنے سے قاصر ہیں۔ وہ نازک وقت پر انتہائی غلط فیصلے کر کے اپنی لٹیا ڈبو دیتے ہیں۔ لیکن اس سے بڑی خامی یہ ہے کہ وہ اپنی پارٹی میں موجود تجربہ کار افراد سے مشورہ لینے کے بھی قائل نہیں ہیں اور اپنی من مانی کرتے ہیں۔ سیاست ٹی ٹوینٹی کا میچ نہیں ہوتی جس میں ہر بال پر ٹلا لگا دیا جاتا ہے۔ یہ ٹیسٹ میچ ہے۔ کیا آپ نے نوٹ کیا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون چار برس سر ڈال کر سوئی رہیں اور جب انتخابات میں چھے ماہ رہ گئے تو اس وقت اچانک ان کا جلسے جلوسوں کا بھرپور پروگرام شروع ہوا جبکہ عمران خان پانچ برس دوڑ دوڑ کر ہانپ چکے ہیں اور ان کے پاس ووٹر کو کہنے کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے۔
اس وقت عمران خان اپنا سب سے مقبول نعرہ ”گو نواز گو“ گنوا چکے ہیں۔ نواز شریف کو گھر بھیجنے کے بعد اب وہ مزید کہاں بھیجیں گے؟ جب کہ نواز شریف کا وہ نعرہ جس پر ان کا خوب مذاق اڑایا گیا تھا، یعنی ”مجھے کیوں نکالا“، بظاہر ووٹروں کو متاثر کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ پاناما کیس میں شکست سے نواز شریف عوامی ہمدردی کی ایک بھرپور لہر پیدا کرنے میں کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔ وہ عوام میں یہ تاثر پیدا کر چکے ہیں کہ ان کے خلاف فیصلے شفاف نہیں ہیں اور وہ جمہوریت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ لاہور، چکوال اور اب تحریک انصاف کا گڑھ لودھراں اس لہر کا شاہد ہے۔
لودھراں میں شکست کی یہ تاویل دینا بہت آسان ہے کہ ادھر برادری یا دھڑے بندی کی وجہ سے نواز شریف کی جیت ہوئی ہے، مگر کیا دیہی انتخابات ہوتے ہی برادری اور دھڑے بندی کی بنیاد پر نہیں ہیں؟ اگر ادھر مسلم لیگ نواز دھڑے بندی کر کے جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے تو پنجاب کے باقی حلقوں میں کیا وہ اسی طرح نہیں جیتے گی؟
الیکشن سے عین پہلے پاناما کا مقدمہ کر کے تحریک انصاف نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے۔ اگر اس وقت نواز شریف وزیراعظم ہوتے تو عوام حکومتی کارکردگی کی بنیاد پر ان کا اسی طرح احتساب کر رہے ہوتے جیسے آصف زرداری کا 2013 میں ہوا تھا۔ لیکن اب ان کا پراکسی وزیراعظم حکومت بھی کر رہا ہے اور وہ خود وہ مظلومیت دکھاتے ہوئے تقریریں کر رہے ہیں جو روایتی طور پر انتخابات سے پہلے اپوزیشن لیڈر کیا کرتے تھے۔ اس فیصلے نے نواز شریف کی بری کارکردگی کو دھو کر ان کو ایک مرتبہ پھر سے زیرو میٹر کر دیا ہے۔ تحریک انصاف کے مقدمات اور سپریم کورٹ کے فیصلے نواز شریف کو ایک نئی سیاسی زندگی دینے کا باعث بن چکے ہیں۔
عمران خان کی عمر اس وقت پینسٹھ برس ہو چکی ہے۔ خدا ان کو زندگی صحت دے، مگر دکھائی یہی دے رہا ہے کہ 2018 کے انتخابات ان کے لئے وزیراعظم بننے کا آخری موقعہ ہیں۔ اس وقت نواز شریف اپنے لئے ہمدردی کی جو لہر بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں اس کے بعد ان انتخابات میں وہ پہلے سے بڑے مارجن سے جیتیں تو حیرت نہیں ہو گی۔ جہاں تک سزاؤں کی بات ہے تو طیارہ سازش کیس میں مشرف ان کو زیادہ بڑی سزا دے چکے ہیں مگر حکومت میں آنے کے بعد حکمران کی سزا کہاں قائم رہتی ہے؟ دوبارہ بھی نہیں رہے گی۔ سب سے بڑی بات کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے پاس 2023 کے الیکشن کے لئے مریم اور بلاول کی صورت میں جانشین موجود ہیں۔ کیا عمران خان اپنا ایسا کوئی جانشین چھوڑتے دکھائی دے رہے ہیں؟ عمران خان کو اس پر غور کرتے ہوئے 2023 کے انتخابات کے لئے ابھی سے تیار رہنا چاہیے۔ تحریک انصاف کو ایک توانا آواز کے طور پر سیاست میں موجود رہنا چاہیے تاکہ ملک یک جماعتی سیاسی نظام کا شکار نہ ہو جائے۔

